کسانوں کی تحریک، قومی سیاست میں تبدیلی کا اشارہ

Share Article

آدتیہ پوجن
کسانوں کی زمین سستے داموں پر لے کر بڑے بڑے صنعت کار اور بلڈروں کو فروخت کرنے سے کسان ناراض ہیں۔ یہ صنعت کار اور بلڈر اس زمین پر ٹاؤن شپ، مال، ہوٹل اور کلب بنانے کی تیاری میں ہیں۔ کسانوں کو آج جس زمین کے لیے 425روپے فی مربع میٹر کی قیمت دی جارہی ہے، آئندہ 20برسوں میں اس کی قیمت 5000روپے سے زیادہ ہوجائے گی۔ صنعتی دنیا میں آج کل مستقبل کی سرمایہ کاری کا کریز ہے۔ زمین کسان کی اور فائدہ صنعت کار اور بلڈروں کا، یہ سراسر بے ایمانی ہے۔ اس استحصال کی ذمہ دار حکومت اور اس کے ذریعہ تیار کردہ پالیسیاں ہیںجو اونے پونے داموں پر غریب کسانوں کی زمین ہڑپ رہی ہے۔ کسانوں کو یہ محسوس ہونے لگا ہے کہ حکومت ان کی ہمدرد نہیں ہے۔ وہ ایک دلال کے رول میں ہے اور کسانوں کے غصے کی اصل وجہ یہی ہے۔
حکومت کے خلاف بچے ،بوڑھے ،جوان اور خواتین یعنی سماج کا ہر طبقہ لاٹھی ڈنڈے لیے ہوئے ایک ساتھ کھڑا تھا۔ کسانوں کی تحریک کی یہ آگ آگرہ، متھرا اور علی گڑھ کے راستے پورے مغربی اترپردیش میں پھیل گئی۔ کسانوں کی اس زبردست مخالفت کے پیچھے حکومت کا غیرجانب دارانہ رویہ ہے، جو 10ہزار کروڑ روپے کے یمنا ایکسپریس وے پروجیکٹ کے لیے ان کی زمین کو اونے پونے داموں پر ایکوائر کرنا چاہتی ہے، لیکن یہ تو صرف شروعات ہے۔ ریاست کے مختلف حصوں میں کم سے کم 8ایکسپریس وے کی تعمیر کی تجویز ہے۔ ریاست کی تیز ترقی کے ارادے سے مجوزہ پروجیکٹوں کے لیے کافی ساری زمین کی ضرورت ہے، جس سے لاکھوں کسان متاثر ہوسکتے ہیں، لیکن علی گڑھ، متھرا اور آگرہ کے کسانوں کی مخالفت دیکھنے کے بعد یہی لگتا ہے کہ اترپردیش میں کسانوں کی تحریک کا نیا دور شروع ہونے والا ہے۔
اترپردیش میں یمنا ایکسپریس وے کے علاوہ گنگا ایکسپریس وے، اپر گنگا کینال پروجیکٹ، جھانسی-کانپور، لکھنؤ- گورکھپور ایکسپریس وے، آگرہ- کانپور ایکسپریس وے، بجنور- مرادآباد ایکسپریس وے، لکھنؤ -بارہ بنکی- نانپارہ ایکسپریس وے اور نرورہ سے اتراکھنڈ کے ایکسپریس وے کی تعمیر کی تجویز ہے۔ ایک اندازے کے مطابق ان پروجیکٹوں کے لیے زمین ایکوائر کے عمل سے ریاست کے 23ہزار 511گاؤں متاثر ہوںگے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ریاست میں 1.08لاکھ گاؤں میں سے تقریباً ایک چوتھائی پر اثر پڑے گا۔ راشٹریہ لوک دل کے کوکب حمید کے ذریعہ اسمبلی میں پیش کردہ اعداد وشمار کے مطابق گنگا ایکسپریس وے کے راستے میں آنے والے 2160گاؤں کا وجود ختم ہوجائے گا۔ اسی طرح یمنا ایکسپریس وے کی تعمیر سے 1191، اپر گنگا کینال پروجیکٹ سے 1562، جھانسی -کانپور، لکھنؤ -گورکھپور ایکسپریس وے5300، آگرہ- کانپور ایکسپریس وے، بجنور مرادآباد ایکسپریس و لکھنؤ-بارہ بنکی-نانپارہ ایکسپریس وے سے 2160اور نرورہ اتراکھنڈ ایکسپریس وے کے راستے میں آنے سے 1440گاؤں کے وجود پر خطرہ پیدا ہوسکتا ہے۔ حالانکہ سرکاری افسران ان اعداد و شمار کو ماننے سے انکار کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان میں سے بیشتر پروجیکٹ ابھی تیاری کی سطح پر ہی ہیں اور متاثر ہونے والے گاؤں کی حقیقی تعداد کے بارے میں ابھی کچھ نہیں کہا جاسکتا، لیکن وہ یہ قبول کرتے ہیں کہ ان کے لیے ایکوائر کی جانے والی بیشتر زمین گاؤں کے لوگوں کی ہی ہوگی۔
کسان اسی کی مخالفت کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کی زمین ان کی روزی روٹی کا ذریعہ ہے، ان کی زندگی ہے۔ ان کے معاشرتی وقار کی بنیاد بھی یہی ہے۔ وہ بھلا اسے حکومت کو کیوں دیں۔ زمین کے بدلے ملنے والی رقم کے ان کے لیے کوئی معنی نہیں ہے۔ یمنا ایکسپریس وے کے خلاف مخالفت کی آواز اٹھی تو ریاستی حکومت نے معاوضے کی رقم بڑھانے کی تجویز کی بھی پیش کش کی تھی۔ حکومت نے ان کے اہل خانہ کو ان پروجیکٹوں میں ملازمت فراہم کرانے کی یقین دہانی بھی کرائی، لیکن کسانوں کی دلیل ہے کہ وہ اپنی زمین کے مالک ہیں، پھر ا س پر بننے والے پروجیکٹ میں چپراسی کیوں بنیں۔ حقیقت یہ ہے کہ کسان معاوضے سے خوش نہیں ہیں۔ مالی سال 2009-10میں 412روپے فی مربع میٹر شرح طے کی گئی تھی۔ ا س کے علاوہ فی مربع میٹر زمین کے لیے 24روپے ایکس گریسیا کسانوں کو دیا جانا تھا۔ اس سال معاوضہ کی رقم کو بڑھا کر 425روپے فی مربع میٹر کردیا گیا اور ایکس گریسیا کو برقرار رکھا گیا۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ ا س کاکسانوں کے ساتھ معاہدہ ہوچکا تھا اور زمین ایکوائر کرنے کا عمل شروع ہوچکا تھا۔ کسان بہکاوے میں آکر اپنی زبان سے مکر رہے ہیں۔اس نے معاوضہ کی رقم میں مزید اضافہ کی تجویز پیش کی، لیکن کسان اس کے لیے راضی نہیں ہیں۔ کسانوں کے غصے کی ایک بڑی وجہ ایکسپریس وے کے کنارے بننے والے انفرااسٹرکچر پروجیکٹس ہیں۔ یمنا ایکسپریس وے پر گریٹر نوئیڈا کے پاس ایک ٹاون شپ بنانے کا منصوبہ ہے، جس کے لیے مشہور و معروف ریئل اسٹیٹ کمپنی سپر ٹیک 2000کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کر رہی ہے۔ اس کے لیے 100ایکڑ زمین ایکوائر کیے جانے کا منصوبہ ہے۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ حکومت ان سے سستی شرح پر زمین لے کر نجی کمپنیوں کو زمین دے رہی ہے اور کروڑوں کی کمائی کر رہی ہے۔ کسان اسے ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ وہ حکومت کی بات ماننے کو تیار نہیں ہیں، کیوں کہ حکومت ان کے مفادات کو نظرانداز کر کے نجی کمپنیوں کے ایجنٹ کی شکل میں کام کر رہی ہے۔
سوال صرف حکومت کے کردار کا ہی نہیں بلکہ سرکاری افسران کے نظریے کا بھی ہے۔ 165کلو میٹر لمبا یمنا ایکسپریس وے ریاست کے 6اضلاع گوتم بدھ نگر، بلندشہر، علی گڑھ، متھرا ، مہامایا نگرو آگرہ سے ہو کر گزرے گااور اس کے لیے ان اضلاع سے تقریباً 400گاؤں سے 45ہزار ایکڑ زمین ایکوائر کی جائے گی اور قریب 7لاکھ کی آبادی اس سے متاثرہوگی۔ ایکسپریس وے کے دیگر پروجیکٹ بھی جن علاقوں سے ہو کر گزرتے ہیں، وہاں کی زمین کو زرخیز مانا جاتا ہے۔ اس ایکسپریس وے کی تعمیر سے نئی دہلی سے آگرہ محض 2گھنٹے میں پہنچنا ممکن ہوسکے گا، لیکن اس سے کسانوں کا کیا فائدہ ہوگا۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ حکومت ایسے پروجیکٹوں کے لیے ان علاقوں کو منتخب کیوں نہیں کرتی، جہاں فصل اچھی نہیں ہوتی۔ ان کے دلائل میں دم ہے اور اس سے حکومت و اس کے افسران کی سوچ پر سوالیہ نشان لگ جاتا ہے۔
یمنا ایکسپریس وے کے خلاف کسانوں کی مخالف کے صرف معاشرتی، اقتصادی اور سرکاری پہلو ہی نہیں ہیں، بلکہ یہ سیاسی طور پر بھی کافی اہم ہیں۔ مخالفت کا یہ طریقہ جس طرح اپنایا گیا، وہ حقیقتاً چونکانے والا ہے۔ اس سے بھی زیادہ حیران کن بات یہ ہے کہ اسے کوئی سیاسی قیادت حاصل نہیں تھی۔ مطلب یہ کہ اس کی شروعات کسی سیاسی بینر تلے نہیں ہوئی تھی۔ کسان خود ہی اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے سڑکوں پر اتر آئے۔ ریاست کی سیاسی جماعتوں نے اسے اپنے قبضے میں لینے کے لیے بھر پور کوشش کی۔ کانگریس کے راہل گاندھی سے لے کر سماجوادی پارٹی کے سربراہ ملائم سنگھ یادو، راشٹریہ لوک دل، بی جے پی، لوک جن شکتی پارٹی اور بایاں بازو تک ایک کے بعد ایک کر کے کسانوں کی حمایت میں اتر آئے، لیکن کسانوں نے انہیں بھاؤ نہیں دیے اور سیاسی جماعتیں کسانوں کے اسی رخ سے سہمی ہوئی ہیں۔ انہیں لگتا ہے کہ کسانوں کی بات نہیں مانی گئی تو وہ اپنے معاشرتی اور اقتصادی مطالبات کو سیاسی شکل دے سکتے ہیں۔ اگر 23ہزار سے بھی زیادہ گاؤں کے کسان سیاسی طور پر متحدہوگئے تو ریاست کا سیاسی منظر نامہ پوری طرح بدل جائے گا۔اقتدار کی چابی اسی جماعت کے پاس ہوگی جسے کسانوں کی حمایت حاصل ہوگی۔ یہاں سوال صرف اترپردیش کا ہی نہیں، بلکہ پورے ہندوستان کا ہے۔ اس طرح کے پروجیکٹ ملک کے دیگر حصوں میں بھی چل رہے ہیں، جن کے لیے کسانوں کی زمین کی ضرورت ہے۔ آندھراپردیش میں پاور پلانٹ کے لیے اپنی زمین لیے جانے سے غصہ ہوئے کسان پہلے ہی پولس کی گولی کا شکار ہوچکے ہیں۔ اڑیسہ میں جنگلوں سے منتقلی کے خلاف احتجاج کر رہے غریب قبائلیوں پر بھی گزشتہ کچھ ماہ کے دوران گولیاں چل چکی ہیں۔ مہاراشٹر میں بھی ایسا ہوچکا ہے اور اترپردیش میں ایسا ہو رہا ہے۔ اگر کسان اور قبائلی طبقے اپنے مطالبات کے حوالے سے سیاسی طور پر متحدہوجاتے ہیں تو قومی سیاست کا خاکہ بھی پوری طرح تبدیل ہوسکتا ہے۔
1950کے بعد سے صنعت کاری کے نام پر مسلسل کسانوں کو بے زمین بنا کر منتقل ہونے کو مجبور کیا جاتا رہا ہے۔ حکومت یہ نہیں سوچتی کہ ترقی کے اس خراب عمل کے سبب لائق کاشت زمین ویسے ہی کم ہوتی جارہی ہے، پھر اس طرح کے پروجیکٹوں کا کیا جواز ہے، لیکن اب اسے کسانوں کے مطالبات پر توجہ دینی ہی ہوگی۔ اس کے پاس نہ ہی زیادہ وقت ہے اور نہ ہی زیادہ متبادل۔ اسے کسانوں کے مفادات کے تحفظ کے لیے فوری طور پر لازمی اقدام کرنے ہوںگے اور ا س کے لیے پہلی ضرورت ہے زمین ایکوائرایکٹ 1884میں تبدیلی لانا۔ انگریزوں کے ذریعہ بنائے گئے اس قانون میں حکومت نجی کمپنیوں کے ایجنٹ کی شکل میں کام کرتی ہے۔ اس میں تبدیلی کرنی ہوگی، تاکہ زمین کے ایکوائرمنٹ کا عمل شفاف اور واضح ہوسکے۔ ساتھ ہی کسانوں کو ملنے والے معاوضے کی رقم ان کی زمین کی 20سال بعد ہونے والی قیمت پر طے کی جائے۔ سنگور اور نندی گرام میں غریب کسانوں کی مخالفت نے یہ اشارے دیے ہیں کہ ملک میں کسان اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے کسی بھی سطح پر جانے کو تیار ہوچکے ہیں۔ حکومت نے اپنے رویے میں تبدیلی لا کر زمین ایکوائر منٹ قانون میں بدلاؤ نہیں کیا تو کسانوں کی یہ مخالفت ملک کی سیاست کا رخ موڑ سکتی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *