بھارتیہ جنتا پارٹی کے سینئر لیڈر اور راجیہ سبھا رکن آر سنہا نے راجیہ سبھا میں عام بجٹ پر چل رہی بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے ایک حوصلہ افزا اور اصلاحی بجٹ پیش کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس بجٹ میں عوامی اعلانات بھلے نہ کئے گئے ہوں،لیکن اس کے دور رس نتائج سامنے آنے والے ہیں۔
Image result for budget 2019
راجیہ سبھا میں بجٹ پر چل رہی بحث کو آگے بڑھاتے ہوئے آر کے سنہا نے کہا کہ وہ چانکیہ کی نگری پاٹلی پتر سے آتے ہیں۔ چانکیہ نے کہا تھا کہ تمام چیزوں کی اصل میں ہی معنی ہے۔ اگر معنی نہیں ہے تو کچھ بھی آپ حاصل نہیں کر سکتے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر خزانہ نے چانکیہ کے اس فارمولے کو ذہن میں رکھ عام بجٹ تیار کیا ہے۔ سینئر لیڈر نے کہا کہ بحث کے دوران کچھ ارکان نے کہا ہے کہ بجٹ میں کسانوں پر کوئی توجہ نہیں دی گئی۔
 
Image result for budget 2019
انہوں نے کہا کہ ایک لاکھ 30 ہزار کروڑروپے سے زیادہ موجودہ حکومت نے اس بار زراعت اور کسان بہبود کے لئے مختصکیا ہے۔ جو رکن کہہ رہے ہیں کہ کسانوں کے لئے کچھ نہیں ہے، انہیں اپنے 10 سال کی حکمرانی میں کسانوں کے لئے مختص فنڈسے اوسط نکال لینا چاہئے، جبکہ مودی حکومت نے کسانوں کے لئے پیشرو حکومتوں سے پانچ گنا زیادہ بجٹ کا انتظام کیا ہے۔ سنہا نے کہا کہ اگر کسانوں کی لاگت کم کر دیں تو ان کی آمدنی اپنے آپ دوگنی کرے گا اور اس کے لئے حکومت صفر بجٹ زراعت لے کر آئی ہے، جس سے کسانوں کو فائدہ ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ جب بیج، کھاد اور جراثیم کش ادویات کی ضرورت نہیں ہوگی تو قیمت کم ہو گی اور آمدنی دوگنی ہو جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں انٹیگریٹڈ ایگریکلچر کی طرف جانا ہوگا اور مویشی کے فضلہ پر مبنی اور پرانی دیسی گایوں کی طرف جانا پڑے گا، جس سے سائیڈ افیکٹ سے پاک اناج پیدا کر سکیں۔ راجیہ سبھا رکن نے کہا کہ حکومت نے اس بجٹ میں اسفورتی منصوبہ بنایاہے، جس سے گاؤں کی تباہ یا بند ہو چکی روایتی صنعتوں اورکاروباروںکو بحال کیا جا سکے۔ سینئر لیڈر نے کہا کہ یہ بجٹ ملک اور گاؤں کے حالات میں بہتری لائے گا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here