ماں کے کام تو ختم ہی نہیں ہوتے

Share Article
Mother washing home

میونسپل کمیٹیاں شہر کی سڑکوں اور راستوں کو صاف رکھنے کیلئے کوڑاکرکٹ اُٹھانے کا انتظام کرتی ہیں۔‏لیکن بعض علاقوں میں کوڑےکرکٹ کے ڈھیر لگ رہے ہیں جو عوام کی صحت کیلئے خطرناک ہے۔‏جگہ جگہ کوڑےکرکٹ کے ڈھیر لگانے سے چوہے،‏ لال، بیگ اور دیگر کیڑےمکوڑے پیدا ہو جاتے ہیں جو بہت سی بیماریوں کا سبب بنتے ہیں۔‏کیا ان مسائل کے حل کیلئے آپ کچھ کر سکتے ہیں؟‏جی‌ہاں،‏اپنے گھر اور گردوپیش کو صاف رکھیں۔‏

 

 

 

 

بعض لوگوں کا خیال ہے کہ غریب اشخاص کیلئے اپنے گھر اور گردونواح کو صاف‌ستھرا رکھنا مشکل ہے۔‏لیکن ایسی بات نہیں ہے۔‏مانا کہ چیزوں کی کمی صفائی کرنا مشکل بنا سکتی ہے۔‏لیکن ایک ہسپانوی کہاوت بیان کرتی ہے کہ ”‏غربت اور صفائی کے درمیان کوئی اختلاف نہیں۔‏“‏ اس کے برعکس،‏کسی شخص کا امیر ہونا اس بات کی ضمانت نہیں ہے کہ وہ اپنے اردگرد کے ماحول کو صاف‌ستھرا رکھے گا۔‏
اپنے گھر اور گردونواح کو صاف رکھنے کا انحصار ہماری اپنی سوچ پر ہے جو ہمیں گھر صاف رکھنے پر اُکساتی ہے۔‏درحقیقت گھر کی صفائی کا دارومدار بڑی حد تک خاندان کے تمام افراد کے ذہنی رُجحان پر ہے۔‏اس لئے خاندان کے ہر فرد کو خود سے پوچھنا چاہئے،‏ میں اپنے گھر اور اس کے آس‌پاس کے حصے کو صاف‌ستھرا رکھنے کیلئے کیا کر سکتا ہوں؟‏

 

 

سنگین بیماریوں سے بچنے کیلئے زبان کوضرورصاف رکھیں

 

 

 

ایسا لگتا ہے کہ ماں کے کام تو ختم ہی نہیں ہوتے۔‏وہ صبح سویرے اُٹھتی،‏ ناشتہ تیار کرتی،‏ بچوں کو اسکول بھیجتی اور بعد میں گھر اور سامنے والے حصے کو صاف کرتی ہے۔‏ کیا آپ نے اکثر اس بات پر غور نہیں کیا کہ ماں بچوں کے اسکول چلے جانے کے بعد اُنکے ادھر اُدھر پڑے گندے کپڑوں کو اُٹھاتی اور دیگر چیزوں کو سمیٹتی ہے؟‏صفائی کا ایک اچھا شیڈول ترتیب دینے سے ماں کے بوجھ کو ہلکا کِیا جا سکتا ہے۔‏بعض عورتوں نے اس بات کا فیصلہ کیا ہے کہ کچھ کام ہر زور کرنے کی ضرورت ہے جبکہ دیگر ہفتے یا مہینے میں ایک مرتبہ کئے جا سکتے ہیں۔‏درحقیقت بعض کام تو ایسے ہیں جنہیں سال میں ایک مرتبہ کرنا مناسب ہوتا ہے۔

 

 

ہڈیوں کا علاج انڈے کے چھلکے سے

 

 

گھر کے اندر غسل‌خانے اور ٹائلٹ ایسی جگہ ہیں جہاں صفائی نہ کرنا صحت کیلئے خطرناک ہو سکتا ہے۔‏ہلکی پھلکی صفائی ہر زور کی جانی چاہئے۔‏اس کے علاوہ،‏ہفتہ میں ایک مرتبہ مکمل طور پر اچھی صفائی کرنے کی ضرورت ہو سکتی ہے تاکہ جراثیم کو پیدا ہونے سے روکا جا سکے۔‏تاہم،‏بعض کے خیال میں ڈبلیو سی پر لگے داغ دھبوں کو جتنا بھی صاف کِیا جائے وہ صاف ہونے کا نام ہی نہیں لیتے۔‏تاہم آپ نے ایسے گھر ضرور دیکھے ہوں گے جہاں ٹائلٹ صاف‌ستھرے اور چمکتے نظر آتے ہیں۔‏اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ وہ صفائی پر توجہ دیتے اور صفائی‌ستھرائی کا مناسب سامان استعمال کرتے ہیں۔‏

 

 

جے این یومعاملہ:دوسال بعد چارج شیٹ داخل کرے گی دہلی پولیس

باورچی‌خانے کی صفائی پر خاص طور پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔‏اگرچہ آپ ہر روز برتن،‏ چولہا یا سلپ وغیرہ صاف کرتے ہیں توبھی مہینے میں کم ازکم ایک مرتبہ چولہے اور فریج کو اندر اور باہر سے نیز سنک کے نیچے والی جگہ کو بھی صاف کرنا چاہئے۔‏ جب ہم الماریوں اور اسٹور کو باقاعدگی سے صاف کرتے ہیں تو یہ جگہیں لال‌بیگ اور دیگر کیڑےمکوڑوں کا گھر نہیں بنتی۔‏

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *