اس گروہ نے کی 50سے زائدخواتین کی عصمت دری، کئی لیڈروں پر بھی شک

Share Article

women-lured-and-sexually-1

چنئی: تمل ناڈو کے کوئمبٹور ضلع سے ایک سنسنی خیز معاملہ سامنے آیا ہے، جہاں کچھ ہوس کے درندوں نے نہ صرف خواتین کی عزت کے ساتھ کھلواڑ کیا بلکہ ان کا فحش ویڈیوز بھی بنا لیا۔ واقعہ کوئمبٹور ضلع کے پولاچی علاقہ کاہے، چنئی سے تقریباً 535 کلو میٹر دور پولیس نے اس معاملے میں چار ملزمان کو گرفتار کیا ہے، ساتھ ہی سب کے موبائل فونز ضبط کر کے جانچ کے لئے بھیج دیا ہے۔

women-lured-and-sexually-ha

تمل ناڈو پولیس نے چار ملزمان ترناوکاراسو، سبری راجن، وسنتکمار اور ستیش کو گرفتار کیا گیا ہے۔ گرفتاری سے پہلے چھپ کر رہنے والے ترناوکاراسو نے ایک ویڈیو میں کہا تھا کہ اس معاملے میں کئی سیاستدان بھی شامل ہیں۔ پولیس کا ماننا ہے کہ ملزمان نے اسی طرح سے 50 سے زیادہ خواتین کو نشانہ بنایا ہے۔ وہیں تنازعہ بڑھنے کے بعد ریاستی حکومت نے معاملے کی تفتیش مرکزی تفتیشی بیورو سی بی آئی سے کرانے کی بات کہی ہے۔

حکومت قصورواروں کو بچانے کی کوشش کررہی ہے:اپوزیشن کا سنگین الزام

ظاہر طور پر جب لیڈروں کا نام سامنے آیا ہے تو ملزمان کو بچانے کی کوشش بھی کی جائے گی، اپوزیشن پارٹیوں کی طرف سے حکمران پارٹی پر جرم میں مبینہ طور پر شامل اس کے اراکین کو بچانے کی کوشش کا دعویٰ کئے جانے کے بعد پارٹی نے پیر کو مقامی عہدیدار اے ناگ راج کو برطرف کر دیا۔ ناگ راج نے ایک متاثرہ کے بھائی کی پٹائی کی تھی۔

ایسے بنایا 50 سے زیادہ لڑکیوں کو شکار

12 فروری کو کوائمبٹور ضلع میں پولاچی کے قریب ایک گاڑی کے اندر چار لوگوں نے لڑکی کو مبینہ طور پر ہراساں کرنے کی کوشش کی اور اس واقعہ کا ایک ویڈیو بنا یا اور اسے بلیک میں کیا۔ غور طلب ہے کہ متاثرہ کی ایک ویڈیو لیک ہوا، جس میں اس کی چیخ سنی جا سکتی ہیں اور وہ حملہ آوروں کی مخالفت کر رہی ہے۔

سوشل میڈیا پر ہوتا تھا لڑکیوں کا انتخابات

پولیس کے مطابق، ملزم پہلے خواتین کو سوشل میڈیا پر دوست بناتے تھے اور ان کا اعتماد حاصل کرنے کے بعد وہ خواتین کو طے مقام پر ملنے کے لئے بلاتے تھے۔ جب لڑکی ان سے ملنے کے لئے پہنچتی تو وہ اس کا جسمانی استحصال کر ویڈیو بنا لیتے تھے پولیس کو خدشہ ہے کہ یہ جنسی اسکینڈل میں قریب15 مجرموں کے گروہ کام کر رہا تھا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *