آزادی کا دن قومی وقار کا دن ہے، اس سے کوئی کھلواڑ نہیں

Share Article

وسیم راشد 
ترقی پذیر اور سیکولر ہندوستان میں فرقہ پرستی کے لئے کوئی جگہ نہیں یہ الفاظ 15اگست کے موقع پر لال قلعہ کی فصیل سے ہمارے وزیر اعظم نے کہے ہیں۔ ظاہر ہے یہ سننے میں بہت اچھے لگ رہے ہیں ،لیکن اصلیت میں ہندوستان میں اس وقت جو سیاست کام کر رہی ہے ، اس میں فرقہ پرستی کا زہر بہت پھیل چکا ہے، لیکن اس وقت ہمیں اس مسئلہ پر، اس بیان پر بات نہیں کرنی ہے۔ یوم آزادی ہمارے لئے فخر کا دن ہے۔ 67سال بعد بھی ہماری آزادی وہ نہیں ہے جسکا ہم نے تصور کیا تھا ،لیکن پھر بھی یہ ہمارا قومی دن ہے اور ہمیں اس دن کا احترام کرنا ہی چاہئے ، ہمارے وزیر اعظم اس دن پوری دنیا کے لئے ہندوستان کی نمائندگی کرتے ہیں۔ سیاسی پارٹیوں یا حکمراں پارٹی سے ملک کے عوام کے یا اپوزیشن کے جو بھی اختلافات ہوتے ہوں مگر آزادی کا دن ہم سب کے لئے احترام کا دن ہوتا ہے اور ہمارا وزیر اعظم پوری طرح ہماری نمائندگی کرتا ہے اور یہ وہ واحد دن ہے جو اب تک سیاست سے پاک ہوا کرتا تھا اور وزیر اعظم کی تقریر کو قومی آواز تصور کیا جاتا تھا۔ لیکن افسوس کا مقام ہے کہ اس دن کو بھی سیاسی دنگل میں بدل دیا گیا اور یہ حرکت کی ہے وزیر اعظم بننے کا دعویٰ رکھنے والے گجرات کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی نے۔
ہم سوچ رہے ہیں کہ سیاست کیا اتنا گھنائونا رخ بھی اختیار کر لیتی ہے کہ ہم ملک ، قوم اور عوام کے مفاد سے خود کو الگ کر کے صرف اور صرف اپنے مفاد کے لئے کام کرتے ہیں۔ پندرہ اگست کا دن ہندوستان کا قومی دن ہے۔ آزادی بھلے ہی کیسی بھی ہو ، بھلے ہی عوام ہنگائی، بے روزگاری اور بدعنوانی کے بوجھ سے دبی جا رہے ہوں، لیکن اس دن کی اہمیت ان تمام مسائل سے کم نہیں ہو جاتی ۔ اس دن کی اہمیت اور اس کا احترام کرنا ، سب کی ضرورت ہے ، چاہے وہ کوئی بھی ہو۔ لیکن جس طرح نریندر مودی نے وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کے لال قلعہ کے خطاب سے جوابی خطاب کیا ہے، وہ قابل مذمت ہے۔پورا ملک اس دن لال قلعہ کی طرف دیکھتا ہے کہ ہمارے وزیر اعظم کیا کہیں گے ۔ کون کون سی نئی اسکیمیں اور پالیسیاں بنائی جائیں گی۔ اس کے علاوہ ملک کے مختلف مسائل پر بھی وزیر اعظم کیا بیان دیں گے۔ اس کا سبھی انتظار کرتے ہیں۔ ملک کی تمام ریاستوں کے وزیر اعلیٰ، گورنر بھی اپنی اپنی ریاستوں میں جھنڈا سلامی لیتے ہیں اور تقریر یں کرتے ہیں، لیکن ان تقریروں کو وزیر اعظم کے بمقابلہ کبھی نہیں رکھا جاتا ۔ مودی نے خود کو وزیر اعظم کے ہم رتبہ سمجھ لیا شاید کہ وہ لال قلعہ کے خطاب کے ساتھ ساتھ خود بھی تقریر کرتے رہے بلکہ انھوں نے پہلے ہی یہ اعلان کر دیا تھا کہ ایک طرف وزیر اعظم کی تقریر ہوگی اور دوسری طرف ان کی وزیر اعظم جس وقت اپنی تقریر ختم کر رہے تھے۔ مودی اپنی تقریر کی تیاری کر کے بالکل وزیر اعظم کی تقریر کے انداز میں ڈائس کی طرف بڑھ رہے تھے۔ 9بجے بالکل وزیر اعظم کے انداز میں انھوں نے خطاب کیا۔ مودی نے جو بھی کیا ، ہمیں اس بارے میں کوئی بات نہیں کرنی صرف دن اور وقت کا انتخاب غلط تھا۔ ہمیں یہی بات کرنی ہے ۔ خود بی جے پی کے سب سے سینئر لیڈر اڈوانی جی نے مودی کی مذمت کی اور یہ یقینا قابل تعریف ہے۔ یہ جذبہ جو اڈوانی نے دکھایا وہ کوئی سینئر اور وہی لیڈر دکھا سکتا تھا جو حقیقت میں سچے دل سے وطن اور قوم سے محبت کرتا ہو یعنی محب وطن ہو اور اڈوانی جی بے شک ایک سچے وطن پرست ہیں۔ اڈوانی جی نے جس طرح مودی کی تقریر پر اعتراض کیا اور کہا کہ آج کے دن کا احترام ضروری ہے۔ آج بھائی چارے کا دن ہے اور اس دن کسی کی بھی کھنچائی نہ کر کے ساتھ ساتھ چلنا چاہئے۔
شیو سینا کے ترجمان سنجے رائوت کا بھی ہم اس تنقید کے لئے احترام کرتے ہیں۔ انھوں نے بھی مودی کی مخالفت کی اور یہی کہا کہ آج کا دن ضبط کا دن ہوتا ہے۔ملک کے وزیر اعظم پر تنقید کرنے کے لئے پورا سال پڑا ہے۔ آج وزیر اعظم کی بات سننی چاہئے کیونکہ اس دن پوری دنیا وزیر اعظم کی بات سنتی ہے۔ سنجے راوت کے اس بات کے ساتھ ساتھ ایک اور بات بھی کہنی ضروری ہے اور وہ یہ کہ اگر وہ شخص جو ملک کا وزیر اعظم بننے کا دعویٰ کرتا ہے وہ اگر سطحی جذبات ، احساسات اور سطحی خیالات سے اوپر نہیں اٹھے گا تو پھر وہ وزیر اعظم بننے کے لئے یقینا اہل نہیں ہے ۔ جو لیڈر یہ نہ سمجھ سکے کہ اس کو کس وقت کس بات پر بولناہے، وہ ہر گز بھی وزیر اعظم بننے کے لائق نہیں ہے۔ یہ مودی کا بے حد شرمناک عمل ہے ۔کیونکہ ہندوستان کی تاریخ میں ایسا کبھی نہیں ہوا کہ15اگست کے روز کسی لیڈر نے وزیر اعظم کی اس طرح توہین کی ہو۔ اس عمل سے مودی نے خود کو بے حد کم تر کر لیا ہے۔ وزیر اعظم منموہن سنگھ نے یوں تو اپنی 15اگست کی تقریر میں کوئی خاص باتیں نہیں کی ہیں ۔ وہی پرانی گھسٹی پٹی باتیں ہیں اور ہمارے خیال میں اب تک کی سب سے کمزور تقریر ہے۔ انتخابی دورسے پہلے کی جو تقریر ہونی چاہئے وہ بالکل ویسی ہی ہے۔مگر بحث اس بات سے نہیں ہے ۔ وزیر اعظم کی تقریر پر تو پھر بھی بات کی جا سکتی ہے ۔ ہمیں اس وقت صرف اور صرف اپنے قومی دن کی اہمیت اور اپنے وزیراعظم کی تقریر کی اہمیت پر ہی بات کرنی ہے۔ بی جے پی کا وزیر اعظم کا امیدوار ایک سینئر لیڈر یہ کیسے بھول گیا کہ یہ دن صرف شہیدوں کو یاد کرنے کا دن ہے۔ یہ دن ملک کی عظمت کا دن ہے۔ ایسے میں میڈیا کے رول پر بھی بات کرنا چاہئے۔ میڈیا نے جس طرح اس تقریر کو وزیراعظم کے روبرو لاکر دکھایا اور جس طرح وزیر اعظم کے ہر بیان کے جواب میں نریندر مودی کو دکھایا وہ انتہائی شرمناک ہے۔ میڈیا نے اور کسی ریاست کے وزیر اعلیٰ کو تو تقریر کرتے ہوئے کیوں نہیں دکھایا؟ جبکہ زیادہ تر صوبوں کے وزراء اعلیٰ نے اپنی اپنی ریاست کے ترقیاتی کاموں کو شمار کرایاہے۔ یو پی کے وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو نے دعویٰ کیا کہ ان کی ریاست ترقی کے میدان میں سب سے آگے ہے۔ بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے بھی اپنی ریاست کے لئے کئی ترقیاتی منصوبوں کا اعلان کیا اور اپنے کاموں کی سراہنا کی ۔ پانڈیچری کے وزیر اعلیٰ این رنگا سوامی نے بھی مکمل ریاست کے درجہ کی مانگ کرتے ہوئے اپنے کاموں کو سراہا۔تمل ناڈو کی وزیر اعلیٰ جے للتا نے بھی کئی ترقیاتی اسکیمیں لاگو کرنے کا اعلان کیا۔مگر کیا میڈیا نے ان سبھی وزر ائے اعلیٰ کے بیانات اس طرح کٹ ٹوکٹ دکھائے ہیں؟ ان میںمیڈیا کا رول سب سے شرمناک ہے۔ تقریباً سبھی چینلز نے خوب جم کر مودی اور وزیرا عظم کو دکھایا۔ ہر بیان پر مودی کو روبرو کیا ۔ یہ ایک جمہوری ملک کی سب سے داغدار شبیہ ہے۔ مودی نے بھی ذاتیات پر جو بھی حملے کئے، وہ کسی بھی جمہوری ملک کے یوم آزادی کے لئے نہایت نامناسب الفاظ تھے۔ ساس، داماد اور بیٹے کے سیریل پر مودی کا بیان کسی اور دن ہوتا تو سب محظوظ ہوتے لیکن ہندوستان کے سب سے اہم دن ، جب شہیدوں کو خراج عقیدت پیش کیا جاتا ہے، جب ہمارے بزرگوں کی قربانیوں کو یاد کیا جاتا ہے۔ ایسے میں وزیر اعظم بننے کی ہوس میں آنکھوں پر پردہ پڑ نا نہایت ہی شرمناک ہے۔ ہم سب ہندوستانی مودی کے اس عمل کی سخت مذمت کرتے ہیں۔ ہمیں فخر ہے ایسے ہندوستانی ہونے پر ، ہمیں فخر ہے اپنیملک کی سا لمیت اور اس کے سیکولر کردار پر ۔ ہم کم سے کم اپنی آزادی کے دن کو اپنے قومی دن کو داغدار ہوتے نہیں دیکھ سکتے۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *