مودی کی مسلم مخالف پالیسی ہندو ازم پر بھی داغ ہے

Share Article

وسیم راشد
لیجئے پھر گجرات فسادات سے متعلق بیان سامنے آ گیا۔ اس بیان کی اہمیت اس لئے نہیں کہ9 سال بعد آیا ہے بلکہ اس لئے ہے کہ اب مسلمانوں کے زخم کچھ بھرنے لگے تھے اور یہ امید کی جا رہی تھی کہ بے گناہ لوگوں کو بچایا جا سکے گا۔یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب بدعنوانی کے خلاف بھوک ہڑتال کر رہے ہمارے انا جی نے مودی کی تعریف اس طرح کی کہ مسلمان جو انا ہزارے کے ساتھ جنتر منتر پر موجود تھے اور ان کے لئے ڈھونڈھ ڈھونڈھ کر اچھے اچھے اور بڑے بڑے شعراء کے اشعار لا رہے تھے او رمیڈیا کے سامنے جوش و خروش سے پڑھ رہے تھے ، ان کے جذبات بھی سرد پڑ گئے۔دراصل مودی کا ایشو ہندوستانی مسلمانوں کے لئے وہ ناسور ہے جس کا علاج تو ممکن نہیں ہے مگر طرح طرح کی دوائیوں سے اس کی تڑپ اور درد کو ہلکا کیا جاتا ہے۔ یاد رہے کہ اس فساد میں تقریباً1044لوگ مارے گئے تھے جس میں 790مسلمان اور 25ہندو تھے (افسوس ہے کہ مرنے والوں کی فہرست ہندو مسلمان کی فہرست سمجھ کر بنانی پڑ رہی ہے جبکہ ہونا یہ چاہئے تھا کہ اتنے ہندو یا مسلمان نہیں اتنے انسان مرے۔) 223سے 250تک لوگ اس فساد میں ایسے کھوئے کہ ابھی تک پتہ نہیں چل پایا۔  2548کے قریب زخمی ہوئے تھے۔ ایک ہزار کے قریب عورتیں بیوا اور 606بچے یتیم ہو گئے تھے۔ایسا فساد جس سے پوری دنیا ششدر رہ گئی اور جس نے جلیاں والا حادثہ کو پھر سے تازہ کر دیا اور مودی کی شبیہ ایسی داغدار ہوئی کہ بیرون ممالک میں جانے کے لئے ویزا تک نہیں ملا ۔
ہاں یہ سلوک مودی کے ساتھ غیروں نے کیا۔ ہمارے اپنوں نے تو ان کو ایک بار نہیں بلکہ دو بار پھر سے اسی ریاست کا وزیر اعلیٰ بنا دیا۔گویا اس بات پر مہر ثبت کر دی کہ جو بھی مودی نے کیا وہ اس کا حق تھا ۔ بی جے پی یہ بھول گئی کہ مودی کی مسلم مخالفت دراصل ہندو ازم کی شبیہ خراب کرنا ہے۔کیونکہ پوری دنیا میں ہندو مذہب بھی اپنی روایت کی پاسداری ، حسن سلوک اور انسانی ہمدردی کے لیے جانا جاتا ہے۔مودی کے اس اینٹی مسلم کردار سے ایک طرح سے وہ اینٹی ہندو ازم کی مثال بن جاتے ہیں۔ مودی سے متعلق مختلف بیانات پھر سے سامنے آرہے ہیں اور اس بار گجرات کے ہی ایک سینئر پولس افسر سنجیو بھٹ نے سپریم کورٹ میں داخل کئے گئے اپنے حلف نامہ میں وزیر اعلیٰ نریندر مودی پر یہ الزام لگایا ہے کہ انھوں نے گودھرا کی ٹرین میں کار سیوکوں کو جلائے جانے کے واقعہ کے بعد اعلیٰ پولس افسروں سے کہا تھاکہ وہ ہندئوںکو اپنا غصہ نکالنے دیں۔
سنجیو بھٹ 2002میں فسادات کے وقت انٹیلی جنس کے ڈپٹی کمشنر تھے۔ بھٹ کا یہ بیان بے حد اہم ہے کیونکہ بھٹ نے27فروری 2002کو گودھرا کے واقعہ کے بعد احمد آباد میں جب اعلیٰ پولس افسران کی میٹنگ بلائی تو مودی نے پولس سے کہا کہ ’’وہ فسادیوں کو نہ روکیں اور مسلمانوں کی طرف سے مدد کی التجائوں پر توجہ نہ دیں‘‘ یہ ہے مودی کی مسلم دشمنی کا جیتا جاگتا ثبوت۔ مسلمانوں پر یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ وہ خود کو نیشنل ایشوز سے نہیں جوڑتے۔ان پر یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ وہ دہشت گردی میں ملوث رہتے ہیں۔ان کی داڑھی، ٹوپی پر بار بار نکتہ چینی کی جاتی ہے مگر کوئی یہ نہیں دیکھتا کہ مسلمانوں نے تو جنگ آزادی سے لے کر آج تک بار بار اپنے وطن عزیز کے لئے قربانیاں دی ہیں۔مگر اسی ملک نے ایک مودی تک کی قربانی نہیں دی۔ جس کی وجہ سے مسلمانوں کے زخم ہمیشہ ہی ہرے رہے۔18صفحات پر مشتمل اپنے حلف نامہ میں سنجیو بھٹ نے سپریم کورٹ کو یہ تفصیلات فراہم کیں کہ اس میٹنگ میں آٹھ افسران شامل تھے اور ان سے مسٹر مودی نے کہا کہ’’ ایک طویل عرصہ سے گجرات پولس اب مذہبی فسادات میں ہندوئوں اور مسلمانوں کے خلاف کارروائی کرنے میں ہمیشہ balanced رہی ہے لیکن اس بار ایسی صورتحال ہے کہ مسلمانوں کو ایسا سبق سکھایا جائے کہ کبھی ایسا واقعہ دوبارہ نہ ہونے پائے۔‘‘مسٹر سنجیو بھٹ نے اپنے حلف نامہ میں یقینا سچائی سے کام لیا ہوگا۔اب یہ سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ آخر 9سال بعد سنجیو بھٹ کا ضمیر جاگا ہے، کیونکہ جس وقت رپورٹرس نے ان سے سوال کیا کہ آخر ان کا یہ سب اس وقت کرنے کا کیا مقصد ہے تو انھوں نے جواب دیا کہ میرا کوئی مقصد نہیں ہے میں اپنا فرض ادا کر رہا ہوں۔اس جواب سے ایک عام مسلمان تو مطمئن ہو سکتا ہے مگر ایک صحافی کے دل میں ضرور شک و شبہات پیدا ہو ں گے کہ آخر اس فرض کو پہلے ادا کیوں نہیں کیا گیا؟ رپورٹر نے ان سے یہ سوال بھی کیا کہ ان کو کبھی دھمکی بھی ملی ہے تو بھی بھٹ نے جواب دیا کہ انہیں جو بھی کہنا ہے وہ سپریم کورٹ میں کہیں گے۔ ہاں یہ ضرور انھوں نے کہا کہ دسمبر 2002سے 2009تک نہ کورٹ نہ کمیشن نے نہ کسی ایجنسی نے ان کو بلا کر کچھ پوچھا ۔ سنجیو بھٹ نے ایس آئی ٹی کو بھی یہ باتیں بتائی تھیں لیکن اس نے ان کے بیان پر کوئی نوٹس نہیں لیا۔ ایسا ہی آر بی سری کمار کے ساتھ بھی ہوا تھا کہ انھوں نے نریندر مودی کے خلاف آواز اٹھائی تھی اور ایک حلف نامہ گجرات فساد پر جمع کرایا تھا لیکن تب بھی کوئی نوٹس نہیں لیا گیا۔آر بی سری کمار بھی انٹیلی جنس بیورو میں تھے ۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ بھٹ کے ذریعہ داخل کیا گیا حلف نامہ ان کے حلف نامہ کو اور بھی پختہ کرتا ہے۔دیکھئے کیا رول ہے ہماری انٹیلی جنس بیورو کا کہ بار بار ایک شخص کے خلاف حلف نامے داخل ہو رہے ہیں،مگر اس شخص کا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکا۔
بھٹ 1988کے بیچ کے آئی پی ایس آفیسر ہے اور اس وقت جونا گڑھ اسٹیٹ ریزرو پولس ٹریننگ سینٹر میں پرنسپل کے عہدہ پر فائز ہیں۔ بھٹ کو یہ بھی حیرانی ہے کہ 27اپریل کو دوسرے اور معاملات کے ساتھ اس حلف نامہ کو سامنے آنا تھا یہ میڈیا میں پہلے سے کیسے لیک ہو گیا۔ یہ ہندوستان ہے جناب یہاں پیٹ میں لڑکا ہے یا لڑکی یہ تک پہلے سے پتہ لگا کرپتہ لگا کر اگر لڑکی ہے تو اسے پیٹ میں ہی مار دیا جاتا ہے جو بہت بڑا قانونی جرم ہے تو پھر میڈیا میں یہ رپورٹ آ جانا کون سی بڑی بات ہے۔ہاں ایک مثبت بات ضرور ہوئی کہ بھٹ کے اس حلف نامہ کے مواد پر گجرات کانگریس صدر ارجن مودھ واڑیا نے بی جے پی اور اس کے اعلیٰ افسران سے جواب طلب کیا ہے اور ان کی یہ بات حق بجانب ہے کہ بی جے پی وزیر اعظم سے استعفیٰ کا مطالبہ کر رہی ہے۔ پر اتنے بڑے ایشوپر بی جے پی خود قوم کو کیا جواب دے گی۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر بی جے پی نے بھی ایک صحیح اپوزیشن کا کردار ادا کیا ہوتا تو آج کانگریس حکومت کی سبھی بدعنوانیاں سامنے آتی جاتیں اور حکومت اپوزیشن کو جواب دہ ہوتی۔مگر اٹل بہاری واجپئی کے بعد بی جے پی میں لیڈر شپ کا فقدان ہے ، اڈوانی جی نتن گڈکر ی کے ہاتھوں کھیل رہے ہیں۔سشما سوراج صرف گرجنے کے لئے ہیں۔ بڑی ہنسی آتی ہے سینئر بی جے پی لیڈر ارون جیٹلی کے اس بیان پر جو انھوں نے بھٹ کے بیان کے بعد دیا ہے کہ جوڈیشیل میکانزم اس پورے معاملہ کو دیکھے گا۔ اس لئے اس کو اس پر چھوڑ دینا چاہئے۔آفریں ہیںتیستا سیتلواڑ پر جو گجرات فسادات کے بعد برابر مسلمانوں کے حقوق کے لئے ان کو انصاف دلانے کے لئے لڑ رہی ہیں ۔ انھوں نے خود بھی اس بات کو مانا ہے کہ ایسا پہلی بار ہو رہا ہے کہ براہ راست کسی ایسے شخص کی طرف سے جو وہاں خود موجود ہو سچائی سامنے آئی ہے اور وہی بات انھوں نے کہی ہے جو مسلمانوں کے دل ودماغ میں ہے اور جس کو وہ چیخ چیخ کر کہنا چاہتے ہیں اور جس کی کوئی سنوائی نہیں کہ ایسے چیف منسٹر کو دو بار منتخب کیا گیا جس کو گجرات فساد کے بعد ہرگز دوبارہ نہیں بنانا چاہئے تھا ۔ جو خود گجرات کا مالک ہے ، وہاں کا حکمراں ہے ، وہ کیسے تفتیش کو غیر جانبدار رہنے دے گا۔ تیستا کے اس بیان سے یہ بات صاف ظاہر ہے کہ گجرات فساد کی آج بھی صحیح تفتیش نہیں ہو پائی ہے۔ ابھی تو اور نہ جانے ایسے کتنے عقدے کھلیں گے ۔ سابق آئی پی ایس افسر جی ایس راج گڑھ جو کہ گجرات میںتعینات تھے۔ ان کا یہ کہنا کہ فروری 2002میں جب میٹنگ رکھی گئی وہ چھٹی پر تھے۔ اس لئے انہیں پتہ نہیں کیا ہوا۔یہ بھی ایک سوال ہے؟کہ آخر وہ چھٹی پر کیوں تھے، ایسے میںجبکہ پورا ملک ، پوری ریاست جل رہی ہو اور اتنے اہم ایشو پر میٹنگ بلائی جا رہی ہو۔ ایک سینئر پولس آفیسر کا چھٹی پر جانا چہ معنی دار ؟ادھر ذکیہ جعفری کے ذریعہ بار بار یہ الزام لگایا گیا کہ مودی سمیت سینئر پولس آفیسر اور سینئر بیوروکریٹس سبھی اس فساد میں شامل تھے۔یہ ضرور ہے کہ ایسا پہلی بار نہیں ہوا بار بار مختلف اداروں، تنظیموں، این جی اوز ، صلاح کار کمیٹیوں اور فلاحی تنظیموں کے ذریعہ گجرات فساد کے انصاف پر سوالیہ نشان لگتے رہے ہیں لیکن اس بار یہ ضرور ہے کہ اس حلف نامہ نے بی جے پی کو مجبور کر دیا ہے کہ پھر سے مودی کے بارے میں سوچا جائے اور قوم بھی اڈوانی سے کچھ امید رکھتی ہے۔ہاں کچھ سوال ضرور اس تعلق سے ایک ادنیٰ صحافی کے دماغ میں کلبلا رہے ہیں، جن کا جواب آپ کو بھی چاہئے۔
٭    پہلا سوال یہ ہے 9سال بعد ہی سنجیو بھٹ کو یہ خیال کیوں آیا ؟
٭    جو ثبوت وہ سپریم کورٹ میں پیش کرنے والے ہیں، وہ ان کے پاس پہلے سے موجود رہے ہوں گے، ان میں کتنی سچائی ہے؟
٭    27فروری 2002کی میٹنگ میں بھٹ کی موجودگی سے مودی حکومت کیوں انکار کر رہی ہے؟
٭    27فروری کی میٹنگ میںاور آفیسر بھی موجود رہے ہوں گے ، انھوں نے کیوں خاموشی اختیار کی، کیا سبھی کا ضمیر مردہ ہے؟
٭    ناناوتی کمیشن جو گجرات فسادات کی جانچ کر رہا ہے ، اس نے بھٹ سے کیوں پوچھ تاچھ نہیں کی؟
٭    ایک آخر ی لیکن ذرا چبھتا ہوا سوال، وہ یہ کہ سنجیو بھٹ کب ریٹائر ہو رہے ہیں، کہیں یہ مستقبل کی کوئی پلاننگ تو نہیں ہے؟
اپنے آخری سوال پر ہم خود شرمندہ ہیں، کیونکہ ابھی تک تو سنجیو بھٹ نے بڑی ہمت اور جواں مردی سے یہ دعویٰ کیا ہے کہ اگر انہیں کسی پینل یا عدالت کے سامنے طلب کیا گیا تو وہ سارے ثبوت پیش کر دیں گے۔ خدا کرے سنجیو بھٹ کی شکل میں مسلمانوں کا کوئی سچا ہمدرد سامنے آئے اور ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ ایک سنجیو بھٹ کیا ایسے نہ جانے کتنے ہی سنجیو بھٹ سامنے آ جائیں اور مودی کی مسلم مخالفت کھل کر سامنے آجائے اور سرکردہ اور تعلیم یافتہ ہندوبھائیوں کو بھی اس کا بات کا احساس ہوجائے کہ کہیں نہ کہیں مودی سے ان کے ہندوازم پر بھی داغ لگ رہاہے۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *