مودی کا دورہ ایران اظہار یکجہتی کی علامت

Share Article

وزیر اعظم نریندر مودی کا ایران دورہ بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ اس دورے سے انہوں نے جہاں بیرونی سیاست کو بہتر بنانے کی طرف ایک بہتر قدم اٹھایا ہے ،وہیں عالمی اور قومی سطح پر مختلف مذاہب اور طبقوں کے درمیان ہم آہنگی اور اتحاد کا پیغام بھی دیا ہے۔ سعودی عرب کے بعد ایران کا دورہ اور تہران میں ایک گوردوارے میں ان کی حاضری اظہار یکجہتی کا پتہ دیتی ہے۔

وسیم احمد
p-8گزشتہ دنوں ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی نے ایران کا تاریخی دورہ کیا۔وزیر اعظم کا یہ دورہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے ماضی قریب میں مشرق وسطیٰ کے کئی مسلم ممالک جیسے سعودی عرب اور امارات کے دورے کئے ہیں اور اب انہوں نے ایران کا رخ کیا ہے ۔ سعودی عرب کے بعد وزیر اعظم کے ایران دورے کو کئی اعتبار سے اہمیت دی جارہی ہے۔دراصل خلیجی خطے میں ایران اور سعودی عرب دو بڑے حریف ہیں اور ان کی آپس میں برتری کی سرد جنگ جاری رہتی ہے ۔ایسے میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے بعد دوسرے حریف یعنی ایران کا دورہ کرنا خارجی پالیسی کے اعتبار سے ضروری تھا اور اسی نقطے کو مد نظر رکھتے ہوئے وزیر اعظم نے ایران کا دورہ کیا۔ اس دورے کے پیچھے ایک اور وجہ بتائی جاتی ہے اور وہ یہ ہے کہ ہندوستان کی آبادی میں مسلمانوں کی تعداد 15 کروڑ سے زیادہ ہے جس میں تقریبا 25فیصد شیعہ مسلمان ہے جو ایران کے بعد کسی بھی دوسرے ملک میں اہلِ تشیع کی سب سے بڑی تعداد ہے۔وزیر اعظم نے سعودی عرب کا دورہ کیا جو کہ ایک سنی ملک ہے تو ایسی صورت میں ایران کا دورہ کرنا بھی ضروری تھا جو کہ شیعہ مکتبہ فکر کا مرکز ہے۔ غرضیکہ وزیر اعظم مودی نے ایران کا دورہ کرکے جہاں خلیج کے دونوں حریفوں کے بیچ توازن قائم کیا ہے وہیں ملک کے اندر شیعہ اور سنی مسلمانوں کو یکجہتی کا پیغام بھی دیا ہے۔
اس دورہ میں وزیر اعظم مودی نے ہند- ایران کے بیچ دیرینہ تعلقات کے اظہار کے لئے ایرانی صدر کوکچھ نادر تحاف پیش کئے جن میں کہانی کا ایک مجموعہ کلیلہ و دمنہ بھی شامل ہے۔اس کہانی کے مجموعے کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس میں ہندوستان کی اساطیری کہانیاں ہیں جو پنچ تنتر کے نام سے جانی جاتی ہیں۔اپنے دو روزہ دورے میں نریندر مودی نے ایران کے روحانی رہنما آیت اللہ خامنہ ای کو قرآن کے ایک نایاب نسخے کی کاپی تحفے میں دی اور غالب کے فارسی کلام کا ایک نسخہ بھی پیش کیا۔خامنہ ای کو پیش کیے جانے والے اس قرآن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ حضرت علی کے ہاتھوں کا تحریر کردہ ہے۔
بہر کیف 15 برس بعد بار ہندوستان سے وزیر اعظم کی سطح پر ایران کا پہلا دورہ ہے۔انہوں نے یہ دورہ ایرانی صدر حسن روحانی کی سرکاری دعوت پر کیا ہے۔ایران پر عالمی پابندیاں ہٹائے جانے کے بعد یہ دورہ دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات کے اعتبار سے انتہائی معنی خیز ہے۔کیونکہ 2009 میں ہندوستا ن نے جوہری توانائی کے عالمی ادارے میں ایران کے خلاف ووٹ دیاتھا۔ایران کو ہندوستان کے اس موقف کی توقع نہیں تھی۔جس کے بعد دونوںملکوں کے درمیان تعلقات میں گرمجوشی نہ رہی۔ لیکن ہندوستانی وزیراعظم نریندر مودی ایک ایسے وقت ایران کے دورے پر پہنچے ہیں جب ایران پر سے پابندیاں ہٹائی جا چکی ہیں اور وہاں غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے ایک نیا ماحول بن چکا ہے اور اس منظر میں ایرانی تیل کا پرانا اور بڑا خریدار ہندوستان ایران کی زمین پر اترا ہے۔ظاہر سی بات ہے کہ ہندوستان کی اس دلچسپی سے جہاں ایک طرف ہندوستان کو اپنے پرانے دوست کے رشتے میں پھر سے گرمجوشی پیدا ہوگی، وہیں ایران کو نہ صرف تیل کا ایک بڑا خریدار مل جائے گا بلکہ ہندوستان کی مختلف شعبوں میں سرمایا کاری کرنے کی وجہ سے وہاں روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔
ایران کو اس وقت بیرونی سرمایہ کاری کی ضرورت ہے ،لہٰذا ہندوستانی سرمایہ کاری اور تعاون کا ایران کو بڑا فائدہ ہو گا اور وہاں کے شہریوں کے لیے ملازمتوں کے مواقع پیدا ہوں گے۔ ہندوستان اس سے قبل بھی ایران کی اہم بندرگاہ کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی پر 50 کروڑ ڈالر تک کی سرمایا کاری کرنے کا ارادہ ظاہر کرچکا ہے ، اس کے علاوہ ایران میں کئی مشترکہ منصوبوں پر سینکڑوں ملین ڈالر خرچ کرنے کا منصوبہ ہے ۔ظاہر ہے ہندوستان کے ان اقدامات سے نہ صرف دونوں ملکوں کے تعلقات مضبوط ہوں گے بلکہ ایرانی نوجوانوں کو روزگار بھی ملیں گے۔قابل ذکر ہے کہ ہندوستان ایران سے سالانہ 12 ملیں ٹن کے لگ بھگ خام تیل خریدتا ہے اور سرمایہ کاری کے لحاظ سے ہندوستان ایران کا دوسرا بڑا حصہ دار ہے۔
اس دورے کو سیاسی اور مذہبی دونوں نقطہ نظر سے دیکھا جارہا ہے۔سیاسی اعتبار سے وزیراعظم مودی کے دورے کا بڑا مقصد ایران کے جنوبی ساحل پر چاہ بہار بندر گاہ کی تعمیر کے سہ فریقی معاہدے پر دستخط ہیں ۔ہندوستان اس بندر گاہ کی تعمیر کے پہلے مرحلے میں دوسو ملین ڈالر کے سرمائے سے ٹرمینل اور گوداموں کی تعمیر کرے گا۔ وزیراعظم نریندر مودی نے ایران کے دو روزہ دورے کے دوران ثقافتی تعاون، سائنس و ٹیکنالوجی اور ثقافتی سمیت جن مختلف شعبوں میں 12 معاہدے کیے ہیں، ان میں خطے میں کے لیے سیاسی طور پر سب سے اہم چابہار کی بندرگاہ کی تعمیر کا منصوبہ ہے۔نیز دہشت گردی، بنیاد پرستی، منشیات کی اسمگلنگ اور سائبر جرائم کے خطرے سے نمٹنے کے لیے بھی دونوں ملک باقاعدہ تبادلہ خیال پر متفق ہوئے ہیں۔
وزیراعظم مودی کے دورہ ایران اور اس موقعے پر بھاری سرمایہ کاری اور تعاون کا اعلان اور افغانستان کے تناظر میں ایرانی بندر گاہ چابہار اہم بن گئی ہے۔چابہار کی بندرگاہ پاکستان کی گوادر کی بندرگاہ سے تقریباً سو میل مغرب میں واقع ہے اور یہ ہندوستان کو افغانستان اور وسطی ایشیائی ریاستوں کے لیے سمندروں کے ذریعے تجارت کرنے کا متبادل راستہ فراہم کر سکتی ہے۔بحیرہ اومان کے دہانے پر موجود چابہار بندرگاہ پاکستان میں چین کے تعاون سے تیار کی جانے والے گوادر بندرگاہ سے زیادہ دور نہیں ہے۔ہندوستان کو امید ہے کہ چابہار بندرگاہ تعمیر ہوجانے کی صورت میں اسے پاکستان کو بائی پاس کرتے ہوئے افغانستان اور وسطی ایشیا تک رسائی حاصل ہو جائے گا۔
اس دورے کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ نریندر مودی اور اشرف غنی کے ساتھ بیٹھے ہوئے حسن روحانی نے اپنی تقریر میں کہا کہ ’ تینوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مضبوط کرنے کے لیے آج کا دن تاریخی اہمیت کا حامل ہے۔‘انھوں نے مزید کہا کہ تہران، دہلی اور کابل سے یہ پیغام دیا جا رہا ہے کہ خطے کے ممالک کی ترقی کی راہ باہمی تعاون اور وسائل کے مشترکہ استعمال سے ہی آگے جاتی ہے۔نریندر مودی نے کہا کہ وہ دنیا کو جوڑنا چاہتے ہیں لیکن خطے کے ملکوں میں باہمی رابطہ ترجیحی بنیاد پر ہونی چاہیے۔اشرف غنی نے کہا کہ باہمی رابطے کا آغاز چابہار سے ہو رہا ہے لیکن اس کا اختتام وسیع پیمانے پر ترقی اور اقتصادی اور ثقافتی تعاون پر ہو گا
مودی کے اس دورے کو مذہبی اعتبار سے بھی دیکھا جارہاہے ۔اس دورے میں جہاں مودی نے ملک کے سنی مسلمانوں کی نمائندگی کرتے ہوئے سعوی عرب اور یو اے ای کا دورہ کیا اور شیعہ مسلمانوں سے اظہار یکجہتی کے لئے ایران کا کامیاب دورہ کیا اور وہاں ایرانی صدر کو قرآن کا نسخہ پیش کیا تو وہیں تہران میں ایک گردوارے میں حاضری دے کر سکھوں سے بھی اظہار یکجہتی کی۔ایک اندازے کے مطابق تہران میں تقریباً ایک ہزار سکھ آباد ہیں۔ نریندر مودی اپنی آمد کے فوراً بعد گوردوارہ گنگاسنگھ سبھا گئے تھے۔غرضیکہ وزیر اعظم مودی نے اپنے اس دورے سے جہاں دونوں ملکوں کے بیچ رشتے کو مضبوط کرنے اور معاشی اعتبار سے فائدہ پہنچانے کا کام کیا ہے ،وہیں مختلف مذاہب اور طبقوں کے درمیان یکجہتی کا پیغام بھی دیا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *