مودی کو استعمال کر کے خود وزیر اعظم بننا ہی مودی کا اصل کھیل

Share Article

روبی ارون 
اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ راجناتھ سنگھ نے نہایت فراخ دلی سے نریندر مودی کو بی جے پی کی انتخابی کمیٹی کا چیئر مین بنا کر، ان کے لیے وزیر اعظم کے عہدہ کی امیدواری کی راہ آسان کر دی ہے، تو یہ آپ کی بھول ہے۔ دراصل، راجناتھ سنگھ کی یہ چال، ان کی اپنی راہ سے سبھی روڑے ہٹانے کی تھی۔ راجناتھ سنگھ نے بڑی ہی چالاکی سے اپنی بساط بچھائی اور اس پر مودی کے بہانے لال کرشن اڈوانی کو قربان کر دیا۔ سشما سوراج اور ارون جیٹلی خود بخود پیچھے کھڑے ہو گئے۔ نریندر مودی کے نام پر اختلاف رائے کی وجہ سے این ڈی اے بکھر گیا، لیکن راجناتھ سنگھ نے اپنی خاموشی برقرار رکھی۔ اور اب، جب سب کچھ راجناتھ کی نیت کے حساب سے ہو رہا ہے، تب راجناتھ بے حد ہوشیاری کے ساتھ نریندر مودی کی کاٹ میں لگ چکے ہیں۔

p-3راج ناتھ سنگھ خود کو اٹل بہاری واجپئی کی جگہ قائم کرنا چاہتے ہیں، کیوں کہ انہیں لگتا ہے کہ وہ واجپئی کی طرح بولنے میں ماہر ہیں اور پارٹی میں سب کے لیے قابل قبول بھی ہیں۔ سب کے لیے قابل قبول ہونے کے اسی کھیل میں وہ بڑی ہی صفائی سے نریندر مودی کو مات دینا چاہتے ہیں۔ لکھنؤ سے انتخاب لڑنے کی ان کی سوچ اسی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ اپنے منصوبہ کو کامیاب بنانے کے لیے راجناتھ سنگھ نہ صرف پوری مہارت کے ساتھ سیاسی داؤں پیچ چل رہے ہیں، بلکہ اس کی خاطر وہ پنڈتوں اور نجومیوں کی بھی مدد لے رہے ہیں۔ پوجا پاٹھ اور تنتر منتر کے ذریعے ملک کے سیاسی حالات کو اپنے حق میں کرنے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔ ستاروں کی چال کے اعداد و شمار کے سہارے ایسی کوئی راہ نکالنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ 2014 کے لوک سبھا الیکشن اپنے طے وقت سے پہلے، اسی سال نومبر میں ہو جائیں۔ اس کے لیے کسی ایسے ایشو کی تلاش کی جا رہی ہے، جسے ہوا دے کر پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس میں اتنا اُبال پیدا کر دیا جائے کہ یا تو لوک سبھا تحلیل ہو جائے یا پھر دباؤ میں آکر یو پی اے سرکار انتخابات کا اعلان کردے۔ اور یہ سب کچھ اس لیے، تاکہ بی جے پی کے وزیر اعظم کے عہدہ کے امیدوار کے روپ میں دیکھے جانے والے نریندر مودی کے پاس اتنا وقت ہی نہ رہے، جس میں وہ اپنے نام پر لوگوں کو متحد کر سکیں یا پھر اپنی جیت کو یقینی بنانے کی خاطر ٹیم کی حکمت عملی بنا سکیں۔ اگر راجناتھ سنگھ کے منصوبوں کے مطابق عام انتخابات نومبر میں ہو جاتے ہیں، تو یقینا نریندر مودی وقت کے کمی کے سبب، 2002 کے گجرات فسادات کے چلتے بنی اپنی تقسیم کرنے والے لیڈر کی شبیہ پوری طرح بدل پانے میں کامیاب نہیں ہو پائیں گے۔ اور تب، اگر این ڈی اے کسی طرح اقتدار کے قریب پہنچ بھی جاتا ہے، تب بھی شاید نریندر مودی کے نام پر بی جے پی اور اس کی حلیف پارٹیوں میں ایک رائے نہ بن سکے۔ ایسی آناً فاناً اور رسہ کشی کے عالم میں راجناتھ سنگھ کے لیے بے حد آسان ہوگا کہ وہ اچانک اپناسر تاجپوشی کے لیے آگے کر دیں۔ اس بات سے اتفاق نہ رکھنے والے لوگوں کے لیے اس سلسلے میں یہاں یہ یاد رکھنا بے حد موزوں اور مناسب ہوگا کہ کیسے، ایسی ہی چالبازی کے سبب راجناتھ سنگھ اچانک بی جے پی کے قومی صدر بن گئے تھے۔

جو لوگ راجناتھ سنگھ کو جانتے ہیں، انہیں یہ بات اچھی طرح معلوم ہے کہ راجناتھ سنگھ کو کانٹے سے کانٹا نکالنا خوب آتا ہے۔ جب راجناتھ سنگھ مرکز میں روڈ ٹرانسپورٹ منسٹر تھے، تب بھی یو پی میں انہوں نے کیسری ناتھ ترپاٹھی، کلراج مشرا اور لال جی ٹنڈن کو درکنار کرکے وزیر اعلیٰ کے عہدہ پر قبضہ کر لیا گیا تھا۔ راجناتھ سنگھ جب اتر پردیش بی جے پی کے صدر تھے، تب انہوں نے کلیان سنگھ کے خلاف ایسا ماحول بنا دیا کہ کلیان سنگھ سیدھے سیدھے اٹل بہاری واجپئی سے بغاوت کرکے پارٹی سے باہر ہو گئے۔ اس لیے یہ کہنا بالکل غلط نہیں ہوگا کہ فی الحال راجنا تھ سنگھ نریندر مودی کو صرف اور صرف ہندوؤں کے پولرائزیشن کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ ان دنوں ایک لبرل لیڈر کے طور پر خود کو پیش کرتے راجناتھ سنگھ کو معلوم ہے کہ نریندر مودی کو بی جے پی کی انتخابی حکمت عملی کے مرکز میں رکھنے سے ملک کی سیاست میں زبردست پولرائزیشن دیکھنے کو ملے گا۔ خاص کر بہار، اتر پردیش، آندھرا پردیش اور مغربی بنگال میں، جہاں اقلیتوں کی بڑی آبادی ہے اور جو لوک سبھا سیٹوں کے نتیجے طے کرتی ہے۔ وہاں یہ پولرائزیشن فیصلہ کن ثابت ہوگا اور تب ملک کا اگلا لوک سبھا انتخاب سیکولرازم کے ایشو پر لڑا جائے گا۔ ایسے میں بی جے پی میں جو سیکولر چہرہ نظر آئے گا، وہ راجناتھ سنگھ کا ہی ہوگا اور تب مودی کو اپنی ’وِکاس پروش‘ والی امیج کا فائدہ بھی نہیں مل پائے گا۔

نریندر مودی کے ساتھ کھڑے رہ کر بھی راجناتھ سنگھ کس صفائی سے ان کی جڑیں کاٹ رہے ہیں، اس کا اندازہ آپ اس بات لگائیں کہ راجناتھ سنگھ کے مودی نام کا وظیفہ پڑھنے سے بی جے پی کی انتخابی کمیٹی کے انچارج، مودی کا قد اچانک ہی پارٹی سے بڑا ہو چکا ہے۔ بی جے پی میں ایسا تو پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔ بی جے پی کی تاریخ میں پہلے تو کبھی اس جلد بازی اور ہڑبڑی میں انتخابات کے سال بھر پہلے کسی بھی لیڈر کو انتخابی کمیٹی کی کمان نہیں دی گئی تھی، نہ ہی پہلے کبھی اس مسئلے پر پارٹی کے کسی صدر نے یا پارلیمانی بورڈ نے اتنی جدوجہد ہی کی تھی۔ عموماً انتخاب ہونے سے چار پانچ ماہ قبل بی جے پی میں یہ ذمہ داری طے کرنے کی روایت سی رہی ہے۔
ویسے اب پارٹی کے زیادہ تر لوگ راجناتھ سنگھ کے مقصد کے پیچھے کے مفادات کو جاننے سمجھنے لگے ہیں۔ اتنی بات تو بی جے پی کے سرکردہ لیڈروں کی سمجھ میں آ چکی ہے کہ راجناتھ سنگھ اب خود کو اٹل بہاری واجپئی سمجھنے لگے ہیں۔ جس لکھنؤ سے اٹل جی نے پانچ دفعہ جیت حاصل کی، اس جگہ کو وہ اپنے نام کرنا چاہتے ہیں۔ حالانکہ اپنے نجومیوں اور پنڈتوں کی صلاح پر ان کا من کچھ ڈگمگا سا بھی رہا ہے۔ ان کے نجومیوں کا حساب یہ کہتا ہے کہ اگر وہ لکھنؤ کی بجائے امبیڈکر نگر سیٹ سے الیکشن لڑیں گے، تو ان کی زبردست جیت یقینی ہے۔
راجناتھ سنگھ یہ بات بہت اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ ملک کا اگلا وزیر اعظم اتر پردیش ہی طے کرے گا اور انہیں یہ مغالطہ ہے کہ بی جے پی کے لیے اتر پردیش سے ان سے بہتر وزیر اعظم کے عہدہ کا امیدوار نہیں ہو سکتا۔ حالانکہ نریندر مودی کی خواہش بھی لکھنؤ سے ہی الیکشن لڑنے کی تھی، پر راجناتھ سنگھ نے انہیں ہندوتوا اور دھرم نگری کا حوالہ دیتے ہوئے بنارس کی لوک سبھا سیٹ سے لڑنے کو تیار کر لیا۔
جو لوگ راجناتھ سنگھ کو جانتے ہیں، انہیں یہ بات اچھی طرح معلوم ہے کہ راجناتھ سنگھ کو کانٹے سے کانٹا نکالنا خوب آتا ہے۔ جب راجناتھ سنگھ مرکز میں روڈ ٹرانسپورٹ منسٹر تھے، تب بھی یو پی میں انہوں نے کیسری ناتھ ترپاٹھی، کلراج مشرا اور لال جی ٹنڈن کو درکنار کرکے وزیر اعلیٰ کے عہدہ پر قبضہ کر لیا گیا تھا۔ راجناتھ سنگھ جب اتر پردیش بی جے پی کے صدر تھے، تب انہوں نے کلیان سنگھ کے خلاف ایسا ماحول بنا دیا کہ کلیان سنگھ سیدھے سیدھے اٹل بہاری واجپئی سے بغاوت کرکے پارٹی سے باہر ہو گئے۔ اس لیے یہ کہنا بالکل غلط نہیں ہوگا کہ فی الحال راجنا تھ سنگھ نریندر مودی کو صرف اور صرف ہندوؤں کے پولرائزیشن کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ ان دنوں ایک لبرل لیڈر کے طور پر خود کو پیش کرتے راجناتھ سنگھ کو معلوم ہے کہ نریندر مودی کو بی جے پی کی انتخابی حکمت عملی کے مرکز میں رکھنے سے ملک کی سیاست میں زبردست پولرائزیشن دیکھنے کو ملے گا۔ خاص کر بہار، اتر پردیش، آندھرا پردیش اور مغربی بنگال میں، جہاں اقلیتوں کی بڑی آبادی ہے اور جو لوک سبھا سیٹوں کے نتیجے طے کرتی ہے۔ وہاں یہ پولرائزیشن فیصلہ کن ثابت ہوگا اور تب ملک کا اگلا لوک سبھا انتخاب سیکولرازم کے ایشو پر لڑا جائے گا۔ ایسے میں بی جے پی میں جو سیکولر چہرہ نظر آئے گا، وہ راجناتھ سنگھ کا ہی ہوگا اور تب مودی کو اپنی ’وِکاس پروش‘ والی امیج کا فائدہ بھی نہیں مل پائے گا۔ اس قسم کے حالات کانگریس کو بھی بہت راس آئیں، کیوں کہ بدعنوانی، مہنگائی، گھوٹالوں کے الزامات سے دوچار کانگریس بھی سیکولر ازم کی آر میں اپنے سارے گناہ چھپانے کی کوشش کرے گی۔
دوسرا امکان یہ بھی ہے کہ اس پولرائزیشن اور بنارس کی گنگا جمنی تہذیب کی بنیاد پر اگر نریندر مودی بنارس سے انتخاب ہار جاتے ہیں، تب راجناتھ سنگھ کے لیے ان کی وزیر اعظم کے عہدہ کی امیدواری پر دعویداری اور بھی آسان ہو جائے گی۔
دراصل، راجناتھ سنگھ اِن دنوں مودی کے نام کی مالا جپ کر ان کا بھلا نہیں کر رہے، بلکہ وہ ایسا کرکے مودی کے مخالفین کو اور ہوا دے رہے ہیں۔ راجناتھ سنگھ اِن دنوں نہ تو رام مندر کے ایشو پر کچھ بول رہے ہیں او رنہ ہی سخت گیر ہندوواد کی حمایت ہی کر رہے ہیں۔ اقلیتوں سے جڑے معاملوں پر بھی راجناتھ سنگھ کا رخ لچیلا نظر آ رہا ہے، جس کی مثال حالیہ دنوں میں خوب دیکھنے کو مل رہی ہے۔ راجناتھ سنگھ نہایت موزوں اور نپے تلے انداز میں اپنی آرزوؤں کو پروان چڑھا رہے ہیں۔
جب نریندر مودی کے سپہ سالار امت شاہ اتر پردیش میں جا کر رام مندر کا ایشو اچھالتے ہیں، تو راجناتھ خاموش رہتے ہیں، لیکن دوسری جانب جے پور میں اقلیتوں کو درپیش چیلنجز پر منعقدہ سیمینار میں جاکر وہ مسلمانوں کے تئیں اپنے لچیلے رخ کا مظاہرہ کر آتے ہیں۔ راجناتھ سنگھ جانتے ہیں کہ بی جے پی کی مقبولیت میں تیزی سے کمی آ رہی ہے، جسے روکنا خود ان کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔ لہٰذا خود کو بچاتے ہوئے انہوں نے نریندر مودی کو ہی این ڈی اے کا دائرہ بڑھانے کی اس ’اگنی پریکشا‘ میں جھونک دیا ہے۔ نریندر مودی کی واہ واہی کرکے، ان کو پارٹی کا سب سے دمدار لیڈر بتاکر راجناتھ سنگھ نے کس چالاکی سے انہیں ناموافق حالات میں مبتلا کر دیاہے، اس کا اندازہ فی الحال نریندر مودی کو بھی نہیں ہے۔
غور کیجئے، ابھی تک بی جے پی تین بار مرکزی اقتدار پر قابض ہو چکی ہے، لیکن اسے لوک سبھا میں کبھی اکثریت نہیں مل سکی ہے، وہ 200 سیٹوں سے اوپر نہیں جا پائی ہے۔ اس پر طرہ یہ کہ 2004 کے بعد سے این ڈی اے کا کنبہ لگ بھگ بکھرتا جا رہا ہے۔ حلیف پارٹیاں ایک ایک کرکے این ڈی اے سے الگ ہوتی جا رہی ہیں۔ ابھی این ڈی اے میں شو سینا، ہریانہ جن ہت کانگریس، اسم گن پریشد اور اکالی دل ہی بی جے پی کے ساتھ ہیں۔ ظاہر ہے، مودی کو پرانے ساتھیوں کو اپنے ساتھ بنائے رکھنے کے علاوہ نئے ساتھیوں کی تلاش کرنے جیسی مشقت اٹھانی پڑ رہی ہے۔ پرانے ساتھی رہے نوین پٹنائک اور ممتا بنرجی کی واپسی کے کوئی اشارے فی الحال نہیں مل رہے ہیں۔ اس کے علاوہ بی جے پی نے ہماچل، اتراکھنڈ اور کرناٹک میں اپنا اقتدار گنوایا ہی ہے۔ اگر ہم لوک سبھا سیٹوں کی بنیاد پر بھی تجزیہ کریں، تو ہریانہ کی 10، مغربی بنگال کی 42، اڑیسہ کی 21، آندھرا پردیش کی 42، کیرالہ کی 20 اور تمل ناڈو کی 39، یعنی کل 174 سیٹوں پر بی جے پی کی موجودگی صفر ہے۔ شمال مشرقی ریاستوں اور آسام میں بھی پارٹی کی موجودگی بس نام کی ہے۔ یہ سارے حالات مودی کے لیے ایسا ’چکرویوہ‘ بناتے ہیں، جن سے پار پانا ناممکن نہیں تو بے حد مشکل ضرور ہوگا۔
بات یہیں ختم نہیں ہوتی۔ نریندر مودی کی پیٹھ تھپتھپا کر، ان کے ساتھ ہم قدم ہو کر بھی راجناتھ سنگھ ان کے لیے کس قدر مشکلیں بڑھا رہے ہیں، اس کی مثال راجناتھ سنگھ کے بیان سے دیکھئے۔ راجناتھ سنگھ فرماتے ہیں کہ بی جے پی کا انتخاب سے قبل کسی سے اتحاد کرنے کا ارادہ بالکل نہیں ہے۔ اب بغیر کسی سے اتحاد بنائے بھلا مودی اپنی قیادت میں بی جے پی کو 200 سیٹیں دلوا پائیں گے؟
سنگھ، یعنی آر ایس ایس بھی اس صورتِ حال سے پوری طرح واقف ہے، لہٰذا وہ ابھی بھی مودی کی حمایت میں کھل کر سامنے نہیں آ رہا۔ مرکز میں بی جے پی کی پہلی سرکار صرف 13 دن ہی چل پائی تھی، کیوں کہ وہ ایوان میں اپنی اکثریت ثابت نہیں کر پائی تھی، حالانکہ اس کے پاس اٹل بہاری واجپئی جیسا لبرل چہرہ تھا۔ دوسری بار بھی بی جے پی سرکار کی مدت صرف 13 ماہ تک کی ہی تھی۔ تیسری بار بی جے پی سرکار نے پوری مدت، یعنی پانچ سال تک حکومت تو کی، لیکن اس کے پاس اپنی صرف 183 سیٹیں ہی تھیں۔ 2009 میں جب بی جے پی لال کرشن اڈوانی کی قیادت میں انتخابی میدان میں اتری، تب اس کے پاس 2004 میں ملی کل 137 سیٹیں تھیں، لیکن اس کے حصے میں لوک سبھا کی صرف 116 سیٹیں ہی آسکیں۔ ظاہر ہے، اس لحاظ سے نریندر مودی کے سامنے اِس بار چیلنجز بہت بڑے ہیں۔ اگر بی جے پی دیگر پارٹیوں کے ساتھ مل کر انتخاب لڑتی ہے، تو پچھلی بار کی طرح ہی اس بار بھی اسے 543 میں سے 365 سیٹوں پر ہی قسمت آزمائی کا موقع مل سکے گا اور بقیہ سیٹیں اسے اپنی حلیف پارٹیوں کو دینی پڑیں گی۔ اگر این ڈی اے کی توسیع کی جاتی ہے، تو بھی 200 کی عدد کو 262 کی جادوئی عدد تک لے جانا بے حد مشکل ہوگا۔
ایسے میں یہ سوال فطری ہے کہ پارٹی کو بھلا کیسے 200 سیٹیں حاصل ہوں گی اور کیسے کوئی بقیہ 72 ممبرانِ پارلیمنٹ کا انتظام کرے گا اور کیسے مودی کے نام پر ضروری اتفاقِ رائے بنے گا؟ اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ مودی کی قیادت میں 180 سیٹیں آ بھی جاتی ہیں، تو کیا این ڈی اے کی سرکار بن پائے گی؟ نتیش کمار، چندر بابو نائڈو، ممتا بنرجی، نوین پٹنائک، جو مودی کی وجہ سے دور چلے گئے، کیاو ہ واپس آ پائیں گے؟
راجناتھ سنگھ اس انتخابی جمع اور ضرب کا حساب لگا کر ہی اپنی بازی مودی کے نام سے کھیل رہے ہیں۔ چند دنوں قبل ہی انہوں نے اپنے ایک بے حد قریبی ماہر نجوم دوست سے درخواست کرتے ہوئے کہا کہ مغربی بنگال، شمال مشرق اور جنوبی ہند میں بی جے پی کوئی بڑی طاقت تو ہے نہیں، پھر نریندر مودی نے اپنے جس خاص آدمی، یعنی امت شاہ کو اتر پردیش کا انچارج بنا کر بھیجا ہے، وہ اتنے کم وقت میں سماجوادی پارٹی اور بی ایس پی کی پکڑ والے علاقوں کی زمینی حقیقت بھلا کیسے بدل پائیں گے؟ ایسے میں مودی کی لڑائی بے حد کٹھن ہو جائے گی۔
بی جے پی کے ایک بڑے قد آور لیڈر کہتے ہیں کہ راجناتھ سنگھ نے یہ سارا حساب لگانے کے بعد ہی مودی کے نام کو آگے کیا ہے، کیوں کہ وہ قطعی یہ نہیں چاہتے کہ بی جے پی کی ناکامی کا ٹھیکرا ان کے سر پھوٹے۔ اگر بی جے پی کی شکست ہوتی ہے، تو یہ بدنامی مودی کے ہی نام لگے۔
انھیں تشویشوں سے پریشان ہو کر پہلی بار سنگھ نے بی جے پی کی انتخابی سیاست میں سیدھا دخل دیا ہے اور اس بات کے صاف اشارے دیے کہ کوئی بھی کارکن یا لیڈر سنگھ یا پارٹی سے بڑا نہیں ہو سکتا، بھلے ہی وہ نریندر مودی ہی کیوں نہ ہوں۔ آر ایس ایس آج کی تاریخ میں بی جے پی کو اپنے حساب سے چلانا چاہتا ہے۔ راجناتھ سنگھ کو سنگھ کا بھروسہ حاصل ہے، کیوں کہ بی جے پی کے بڑے لیڈروں میں سے ایک صرف وہی ہیں، جنہوں نے کبھی آر ایس ایس کا ساتھ نہیں چھوڑا۔
ایسا بھی نہیں ہے کہ مودی اِن ساری باتوں سے پوری طرح انجان ہیں۔ انہیں اپنی چنوتیوں کا اندازہ ہے، اس لیے انہوں نے بھی بغیر کسی شور شرابے کے اپنی شبیہ کو بدلنا شروع کر دیا ہے۔ اب مودی کی تقریروں میں کامن سول کوڈ، ایودھیا، دفعہ 370 جیسے متنازع ایشو نہیں ہوتے۔ وہ گجرات میں سدبھاونا یاترا پر نکلے ہیں، مسلمانوں کے لیے وژن ڈاکیومنٹ بنا رہے ہیں، مسلم کانفرنس بھی کر وا رہے ہیں۔ وہ ہندوازم اور لبرل ازم کا ملا جلا چہرہ بننا چاہتے ہیں۔ مودی کے بارے میں چاہے جتنے شکوک و شبہات ظاہر کیے جائیں، وہ خود کے بارے میں کافی پر اعتماد دکھائی دیتے ہیں اور وہ ہر طرح سے سیاسی لہر پیدا کرنے کی کوشش میں ہیں، جب کہ دوسری طرف راجناتھ سنگھ کو معلوم ہے کہ اعداد و شمار بی جے پی کے حق میں نہیں ہیں۔ بی جے پی اگر ہار جاتی ہے تب، یا پھر بہ مشکل حلیف پارٹیوں کے سہارے بی جے پی سرکار بنانے کی حالت میں آتی ہے تب، دونوں ہی صورتوں میں مودی کا وزیر اعظم بننا مشکل دکھائی دے رہا ہے۔ اس کے برخلاف، یہ دونوں ہی حالات راجناتھ سنگھ کے حق میں ہوں گے۔

روبی ارون

روبی ارون سیاسی ، جرائم اور سماجی سروکاروں کی خبروں کو اپنی قلم کے ذریعہ گزشتہ 18سال سے اٹھاتی آ رہی ہیں۔ عام عوام کے مفاد اور صحافت کے لئے ہمیشہ جدو جہد کرنے والی روبی ارون ”چوتھی دنیا“ میں ایڈیٹر( انویسٹی گیشن)کا عہدہ سنبھال رہی ہیں۔
Share Article

روبی ارون

روبی ارون سیاسی ، جرائم اور سماجی سروکاروں کی خبروں کو اپنی قلم کے ذریعہ گزشتہ 18سال سے اٹھاتی آ رہی ہیں۔ عام عوام کے مفاد اور صحافت کے لئے ہمیشہ جدو جہد کرنے والی روبی ارون ”چوتھی دنیا“ میں ایڈیٹر( انویسٹی گیشن)کا عہدہ سنبھال رہی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *