سنتوش بھارتیہ
mastچھ نومبر’گرو پَرو‘ (گرونانک جینتی) کا دن تھا اور اسی دن سماجوادی لیڈر اتر پردیش کے کئی بار وزیر اعلیٰ رہے اور مرکزی حکومت میں وزیر رہے ملائم سنگھ یادو نے اپنے گھر پر اپنے پریوار کے لوگوں کی میٹنگ بلائی۔ ملائم سنگھ کے پریوار کا مطلب جنتا پریوار سے ہے۔ ایک زمانے میں جنتا پریوار نے ملک میں راج کیا۔ چار وزرائے اعظم شری وشو ناتھ پرتاپ سنگھ، شری چندر شیکھر، شری ایچ ڈی دیوے گوڑا اور شری اندر کمار گجرال دیے۔ کئی ریاستوں میں سالوں سال جنتا پریوار کے لوگوں کی سرکار رہی، لیکن ایک مرض گھُن کی طرح جنتا پریوار میں لگ گیا۔ آپس میں نظریات کو سامنے رکھ، نظریات کی ڈھال بنا، ذاتی مفادات کا ایک ایسا گھن، جس نے آپس میں سب کو توڑ دیا۔ ٹوٹتے ٹوٹتے اب سب آخری شکل میں ٹوٹنے کا خطرہ دیکھنے لگے۔ تقریباً تین گھنٹے چلی میٹنگ میں، جس میں خود شری ملائم سنگھ یادو، ملک کے سابق وزیر اعظم شری دیوے گوڑا، بہار کے دو سابق وزرائے اعلیٰ رہے شری نتیش کمار اور لالو پرساد یادو، شری رام گوپال یادو، شری شو پال یادو، ہریانہ کے سابق وزیر اعلیٰ اوم پرکاش چوٹالہ کے پوتے اور رکن پارلیمنٹ دُشینت چوٹالہ اور مرکز میں وزیر رہے اور سماجوادی جنتا پارٹی کے صدر شری کمل مرارکا شامل تھے۔ تین گھنٹے چلی بات چیت میں بغیر کسی بحث کے سب نے تقریباً ایک ہی نقطہ نظر سے باتیں رکھیں اور وہ باتیں تھیں کہ ہمیں اتحاد کی سمت میں بڑھنا چاہیے۔
اس میٹنگ میں کس نے کیا کہا اور کیوں کہا، اس کے بارے میں جاننے سے پہلے یہ جانتے ہیں کہ آخر اتحاد کی یہ بات شروع کہاں سے ہوئی۔ دراصل، جب لوک سبھا کے انتخابات ہو رہے تھے، تب دو لوگوں کے دماغ میں ایک ساتھ یہ بات آئی۔ ان میں پہلے بہار کے اس وقت کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار اور سماجوادی جنتا پارٹی کے صدر کمل مرارکا شامل تھے۔ ان دونوں نے الگ الگ جنتا پریوار کے ایک ہونے کے امکانات کو تلاش کرنا شروع کیا۔ بہت جلدی دونوں کو یہ پتہ چل گیا کہ دونوں ایک ہی سمت میں بات کر رہے ہیں۔ نتیش کمار لوک سبھا الیکشن کی کارروائی کے دوران اس بات کے لیے بے تاب تھے کہ نوین پٹنائک اور ممتا بنرجی کے ساتھ مل کر ایک وسیع محاذ بنایا جائے۔ لیکن اُس وقت نوین پٹنائک اور ممتا بنرجی وسیع محاذ پر موزوں جواب دینے سے چوک گئے اور تب نتیش کمار کو لگا کہ سب سے پہلے جنتا پریوار کو اکٹھا کرنا چاہیے اور جنتا پریوار اکٹھا ہو جاتا ہے، تو ہم لوک سبھا میں بھارتیہ جنتا پارٹی کا اچھی طرح مقابلہ کر سکتے ہیں۔ اس ساری کارروائی کے دوران کانگریس اپنی عقلمندی کی انتہا پر تھی اور وہ اپنے بیانات، اپنے پرچار کے طریقے اور امیدواروں کے غلط سلیکشن کی وجہ سے بھارتیہ جنتا پارٹی یا آج کے وزیر اعظم شری نریندر مودی کو ایک طرح سے واک اووَر دیتی چلی جا رہی تھی۔ نتیش کمار چاہتے تھے کہ ان کی بات ملائم سنگھ یادو یا اکھلیش یادو سے ہو، تاکہ جنتا پریوار کو ایک کرنے کی مہم کو آگے بڑھایا جا سکے اور سبھی اپنی اپنی ریاستوں میں بری طرح سے مصروف تھے۔ سابق وزیر اعظم شری ایچ ڈی دیوے گوڑا اس وقت چاہتے تھے کہ سبھی مل کر انتخاب لڑیں، لیکن ایک محاذ کی تشکیل نہیں ہو پائی اور اس کا نتیجہ تقریباً سبھی نے دیکھ لیا۔ ملائم سنگھ چار پر سمٹ گئے، لالو یادو بھی چار پر سمٹ گئے، نتیش کمار کو دو سیٹیں ملیں، دیوے گوڑا جی کو بھی دو سیٹیں ملیں اور تب ان سب کی سمجھ میں آنے لگا کہ اگر ہم ایک نہیں ہوتے ہیں، تو انہیں ایک ایک کرکے نریندر مودی کا لقمہ بننا پڑے گا۔

دراصل، جب لوک سبھا کے انتخابات ہو رہے تھے، تب دو لوگوں کے دماغ میں ایک ساتھ یہ بات آئی۔ ان میں پہلے بہار کے اس وقت کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار اور سماجوادی جنتا پارٹی کے صدر کمل مرارکا شامل تھے۔ ان دونوں نے الگ الگ جنتا پریوار کے ایک ہونے کے امکانات کو تلاش کرنا شروع کیا۔ بہت جلدی دونوں کو یہ پتہ چل گیا کہ دونوں ایک ہی سمت میں بات کر رہے ہیں۔ نتیش کمار لوک سبھا الیکشن کی کارروائی کے دوران اس بات کے لیے بے تاب تھے کہ نوین پٹنائک اور ممتا بنرجی کے ساتھ مل کر ایک وسیع محاذ بنایا جائے۔ لیکن اُس وقت نوین پٹنائک اور ممتا بنرجی وسیع محاذ پر موزوں جواب دینے سے چوک گئے اور تب نتیش کمار کو لگا کہ سب سے پہلے جنتا پریوار کو اکٹھا کرنا چاہیے اور جنتا پریوار اکٹھا ہو جاتا ہے، تو ہم لوک سبھا میں بھارتیہ جنتا پارٹی کا اچھی طرح مقابلہ کر سکتے ہیں۔ اس ساری کارروائی کے دوران کانگریس اپنی عقلمندی کی انتہا پر تھی اور وہ اپنے بیانات، اپنے پرچار کے طریقے اور امیدواروں کے غلط سلیکشن کی وجہ سے بھارتیہ جنتا پارٹی یا آج کے وزیر اعظم شری نریندر مودی کو ایک طرح سے واک اووَر دیتی چلی جا رہی تھی۔ نتیش کمار چاہتے تھے کہ ان کی بات ملائم سنگھ یادو یا اکھلیش یادو سے ہو، تاکہ جنتا پریوار کو ایک کرنے کی مہم کو آگے بڑھایا جا سکے اور سبھی اپنی اپنی ریاستوں میں بری طرح سے مصروف تھے۔ سابق وزیر اعظم شری ایچ ڈی دیوے گوڑا اس وقت چاہتے تھے کہ سبھی مل کر انتخاب لڑیں، لیکن ایک محاذ کی تشکیل نہیں ہو پائی اور اس کا نتیجہ تقریباً سبھی نے دیکھ لیا۔

ہریانہ کا الیکشن سامنے تھا اور اوم پرکاش چوٹالہ نے پہل کرکے 14 ستمبر کو اپنے گھر پر ایک میٹنگ بلائی، جس میں انہوں نے ملائم سنگھ یادو، شو پال یادو، شرد یادو، نتیش کمار، کے سی تیاگی، ایچ ڈی دیوے گوڑا اور کمل مرارکا کو مدعو کیا۔ یہ سب لوگ اوم پرکاش چوٹالہ کے گھر پر ملے، جس میں اوم پرکاش چوٹالہ اور ان کے والد ابھے چوٹالہ شامل تھے۔ اس میٹنگ میں یہ طے ہوا کہ ہمیں ایک ہونے کی سمت میں آگے بڑھنا چاہیے اور ہریانہ میں اوم پرکاش چوٹالہ کی مدد کرنی چاہیے۔ اس فیصلہ کے نتیجہ کے طور پر نتیش کمار، ملائم سنگھ کے بھائی شو پال یادو، کے سی تیاگی اور شرد یادو چناؤ پرچار میں ریلیاں کرنے کے لیے تیار ہو گئے۔ اوم پرکاش چوٹالہ کو الیکشن کے دوران ہی عدالت کے حکم پر جیل واپس جانا پڑا۔ ہریانہ کا الیکشن اوم پرکاش چوٹالہ کی پارٹی بری طرح ہاری اور جب اس ہار کا تجزیہ سب لوگوں نے کیا، تب انہیں سمجھ میں آیا کہ اگر وہ سب ایمانداری سے ایک نہیں ہوتے، تو سب کی حالت ہریانہ جیسی ہو سکتی ہے۔
لالو یادو کے دل کا آپریشن ممبئی میں ہوا تھا اور وہ صحت یاب ہو رہے تھے اور صحت یاب ہونے کے بعد وہ دہلی لوٹ آئے۔ نتیش کمار لگاتار اس بات کی کوشش کر رہے تھے کہ جنتا پریوار کے سبھی لوگوں کو جلدی سے جلدی بیٹھنا چاہیے اور اس میں ان کا ساتھ ایچ ڈی دیوے گوڑا پوری طرح دے رہے تھے۔ پہلے یہ طے ہوا کہ 6 نومبر کو، یعنی ’گرو پرو‘ کے دن کھانے پر سبھی لوگ دہلی میں لالو یادو کے گھر پر ملیں۔ لالو یادو کے گھر پر اس لیے، کیوں کہ لالو یادو کے دل کا آپریشن ہوا تھا اور وہ صحت یاب ہو رہے تھے اور کہیں جا نہیں سکتے تھے۔ نتیش کمار کی اس تجویز کے اوپر لالو یادو نے ایک دور اندیش فیصلہ لیا اور ان کی صلاح کی بنیاد پر شری ملائم سنگھ یادو کے دہلی میں واقع گھر پر اس میٹنگ کا ہونا طے پایا۔
اس سارے پروگرام میں سب سے اہم رول شو پال یادو کا تھا اور دوسرا رول کے سی تیاگی کا تھا۔ شو پال یادو نے ملائم سنگھ یادو کو سارے سیاسی تضادات کے بارے میں سمجھایا اور ملائم سنگھ یادو اپنے گھر پر سب کو مدعو کرکے میٹنگ کرنے کے لیے تیار ہو گئے۔ خود ملائم سنگھ یادو کے کہنے پر شو پال یادو نے سب کو فون بھی کیا اور تحریری دعوت نامہ بھی بھیجا۔ ایک دوسرے کے رابطہ میں یہ سارے لیڈر تھے، لیکن کوئی بھی آپس میں کھلی بات چیت نہیں کر رہا تھا۔ اس میں لالو یادو کا یہ کہنا تھا کہ ہمیں فوراً بیٹھ کر کیا کیا ہو سکتا ہے اور کیا کیا کرنا چاہیے، ان سب پر کھلے ذہن سے بات کرنی چاہیے۔
جب 6 تاریخ کو میٹنگ شروع ہوئی، تو سب سے پہلے ملائم سنگھ یادو نے نتیش کمار سے کہا کہ وہ بتائیں کہ ان کے دماغ میں کیا ہے۔ نتیش کمار نے سب سے بہت صاف انداز میں کہا کہ کیا ہمارے پاس ایک ہونے کے علاوہ کوئی راستہ بچتا ہے؟ نتیش کمار کا یہ کہنا تھا کہ ہمیں ایک پارٹی کی سمت میں آگے بڑھنا چاہیے اور جب ہم ایک پارٹی بنائیں گے، تبھی ہم ملک کو پیغام دے پائیں گے۔ نتیش کمار کا یہ بھی کہنا تھا کہ کانگریس پارٹی اپنے اپوزیشن کا رول بھول چکی ہے اور اپنے لیے کوئی رول طے نہیں کر پا رہی ہے۔ دوسری طرف نظریاتی مخالفت کی کمی میں نریندر مودی پورے ملک میں ایک بھرم کا ماحول پیدا کرکے لوگوں کو بنیادی مدعوں سے بھٹکاتے جا رہے ہیں۔ نتیش کمار کی پہلی تقریر میں یہ واضح تھا کہ اگر سب ایک نہیں ہوں گے، تو سبھی اپنے یہاں سمٹ جائیں گے۔ نتیش کمار کے اس لہجہ نے میٹنگ کا ایجنڈا طے کر دیا۔
اس کے بعد میٹنگ میں لالو یادو، دیوے گوڑا، شرد یادو، دُشینت چوٹالہ اور کمل مرارکا بولے۔ سبھی نے ایک آواز میں ملائم سنگھ یادو سے گزارش کی کہ وہ آگے بڑھیں اور سب لوگوں کو آپس میں اکٹھا کرنے میں سب سے سینئر لیڈر ہونے کے ناتے اپنا تاریخی رول نبھائیں۔ شری دیوے گوڑا کی تقریر بہت ہی مدلل اور سیاسی سچائیوں سے لبریز تھی۔ یہ فیصلہ ہوا کہ لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں سب ایک دوسرے سے مل کر مدعے اٹھائیں گے اور متحد ہو کر سرکار کو آئینہ بھی دکھائیں گے۔ سوال چاہے کالے دھن کا ہو، سوال چاہے کسانوں کی زمین کو تحویل میں لینے کا ہو، سوال چاہے بے روزگاری کا ہو یا سوال مہنگائی اور بدعنوانی کا ہو، سب پر سب لوگ لگاتار رابطے میں رہیں گے اور لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں ایک ٹھوس آواز بلند کریں گے۔ سب نے یہ مانا کہ ان کے چالیس سے زیادہ ایم پی راجیہ سبھا اور لوک سبھا میں ہو جاتے ہیں اور اگر یہ چالیس ایم پی ایک ساتھ لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں بحث کرتے ہیں، تو پھر بھارتیہ جنتا پارٹی کے ذریعے پیدا کی گئی بھرم والی تصویر کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔
اس میٹنگ کی سب سے بڑی خاصیت یہ رہی کہ کسی نے کسی کی مخالفت نہیں کی اور میٹنگ کے بعد باہر آنے کے بعد بھی سبھی نے ایک آواز سے ایک بات کہی۔ جس جنتا پریوار میں پہلے ’میں بڑا یا تو بڑا‘ کی بحث چلتی تھی اور یہ بیماری توڑ دیتی تھی، وہاں سب نے ایک آواز سے ملائم سنگھ یادو کے سر پر یہ ذمہ داری سونپ دی کہ وہ سب کو ایک ساتھ لے کر آگے بڑھیں۔ پہلے یہ طے ہوا کہ پریس کو کے سی تیاگی بریف کریں گے، مگر شرد یادو نے کہا، نہیں، نتیش کمار کو پریس کو بریف کرنا چاہیے۔ نتیش کمار نے پریس کو بریف کرتے ہوئے صاف کہا کہ آج ہم پہلی بار ملے، لیکن ہم ایک پارٹی کی سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ نتیش کمار نے میٹنگ میں ہونے والی بنیادی باتوں کی جانکاری صحافیوں کو دی۔ اس واقعہ نے کم سے کم یہ بتایا اور شاید پچھلے بیس سالوں میں پہلی بار بتایا کہ جنتا پریوار کے پرانے لوگ آپس میں ایمانداری سے بات چیت کرنے کا فیصلہ کر چکے ہیں۔
اس میٹنگ میں جنتا پریوار کے دو لوگ شامل نہیں تھے۔ پہلے اجیت سنگھ اور دوسرے مفتی محمد سعید۔ دراصل، ان دونوں کو اس میٹنگ میں مدعو نہیں کیا گیا تھا، کیو ںکہ سیاسی بھرم پیدا ہوتے رہتے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ اگلی میٹنگ میں اگر سب کچھ ٹھیک چلتا رہا اور ملائم سنگھ یادو کے ہاتھ میں پہل کرنے کی ذمہ داری رہی، تو ان دونوں لوگوں سے بھی بات چیت کرکے ان کے شامل ہونے کا کوئی راستہ شاید نکل پائے۔
دیوے گوڑا جی کا ماننا ہے کہ جب ہم ایک ہو جائیں گے، تو ممتا بنرجی کے، جے للتا کے اور نوین پٹنائک کے ممبرانِ پارلیمنٹ کو ملا کر ہم لوگ سو کے آس پاس ہو جاتے ہیں، یعنی جنتا پریوار کی قیادت میں بننے والے ایک نئے فرنٹ میں تقریباً 100 ممبرانِ پارلیمنٹ کا گروپ عوام کے سوالوں کو اٹھانے کی کوشش کر سکتا ہے۔ ان لوگوں کا یہ بھی ماننا تھا کہ تقریباً 30 فیصد ووٹ پر ایک شخص وزیر اعظم بنا ہے اور تقریباً 70 فیصد ووٹ اس کے حق میں نہیں ہے۔ انہیں یہ بھی لگا کہ نریندر مودی دھیرے دھیرے مدعوں کو بدل رہے ہیں، لیکن یہ سیاسی تجزیہ نگاری کا موضوع ہو سکتا ہے۔ اس میں سب سے اہم نکتہ دوسرا ہے۔ وہ نکتہ ہے ملک میں اپوزیشن کی خالی جگہ کو بھرنے کا عزمِ مصمم۔
جمہوریت میں ہمیشہ حزبِ اختلاف کی اتنی ہی اہمیت رہی ہے، جتنی کی حزبِ اقتدار کی۔ اور یہ کئی موقعوں پر دیکھا گیا ہے کہ اپوزیشن اپنا صحیح رول ادا کرے، لوگوں کے مدعے اٹھائے، تو سرکاروں کو صحیح فیصلے لینے کے لیے مجبور کیا جا سکتا ہے۔ اگر اپوزیشن رہے ہی نہیں، تو سرکار بے لگام طریقے سے غیر منطقی فیصلے لے سکتی ہے۔ اس لیے جنتا پریوار کے اتحاد کو گہری نگاہوں سے دیکھیں، تو ملک کے عوام کو متحد کرنے کی ایماندارانہ کوشش ہو سکتی ہے۔ دراصل، پچھلے دس سالوں میں لوگوں کی تکلیفوں کا مذاق اڑا اور جس طرح سے گاؤں گاؤں میں بدعنوانی پھیل گئی، اس نے عوام کو کانگریس کے خلاف بغاوت کرنے پر مجبور کیا۔ عوام کے مفاد کے لیے بنی اسکیمیں، جن میں منریگا جیسی اسکیمیں شامل ہیں، اس نے پنچایتوں کو بدعنوانی کے بھائی چارے میں شامل کر دیا اور بدعنوانی کے اس بھائی چارے کے کھیل میں گرام پنچایت کے خلاف گاؤں کی بغاوت ہو گئی اور کسی بھی متبادل کی کمی میں انہوں نے ایک پارٹی کو نہیں، بلکہ ایک شخص کو ووٹ دے دیا اور اس شخص کا نام نریندر مودی تھا۔ نریندر مودی کی زبان، پرچار، ملک بھر میں گھومنا اور یہ کہنا کہ میں ساری پریشانیوں سے آزادی دلا دوں گا، لوگوں کو بھا گیا۔ اور شاید یہی جنتا پریوار کو لگا ہوگا کہ اگر ہم متحد ہوتے اور پورے ملک میں الیکشن لڑتے، تو عوام ہمیں بھی حمایت دے سکتے تھے، کیوں کہ اس پریوار میں سابق وزیر اعظم ہیں، لالو یادو ہیں، جنہوں نے اپنے شروع کے پہلے پانچ سال میں ہندوستان کے غریبوں کو عزت کے ساتھ کھڑے ہونے کو سیاسی سوال بنایا۔ اس میں ملائم سنگھ یادو ہیں، جن کی سماجوادی ایمانداری میں کبھی کوئی شک نہیں رہا، اگر ان پر کوئی الز ام لگ رہے ہیں، تو یہ ویسے ہی الزام ہیں، جو اس ملک میں سیاست کے تقریباً ہر لیڈر پر لگ رہے ہیں۔ ویسے یہ الزام بھی نہیں لگنے چاہیے۔ انہیں اپنی شبیہ دوسروں سے الگ دکھانی چاہیے۔
یہ مانا جا سکتا ہے کہ ملائم سنگھ کے گھر پر ہوئی جنتا پریوار کی میٹنگ ملک میں ایک نئی سیاست کی شروعات ہو سکتی ہے۔ اگر ملائم سنگھ یادو، نتیش کمار، لالو یادو، دیوے گوڑا جی اور اوم پرکاش چوٹالہ ایمانداری سے ایک پارٹی کی سمت میں آگے بڑھتے ہیں، تو وہ پارٹی ملک کی روایتی سیاسی پارٹیوں، جن میں بی جے پی اور کانگریس دونوں ہیں، ان کے لیے نئی چنوتیاں پیش کر سکتی ہیں۔ اگلے دو مہینے دیکھنے لائق ہو سکتے ہیں، کیوں کہ بھارتیہ جنتا پارٹی اور اس سے جڑے ہوئے کچھ ترجمان مانتے ہیں کہ یہ یاترا بہت دور تک ساتھ ساتھ نہیں چلے گی، لیکن بہت سارے لوگ یہ بھی مانتے ہیں کہ یہ یاترا بہت لمبی چلے گی اور اس بار وہ اندرونی تضاد شامل نہیں ہوں گے، جنہوں نے سماجوادی یا کہیں لوک نائک جے پرکاش اور ڈاکٹر رام منوہر لوہیا کی آئڈیا لوجی کو مندمل کر دیا تھا۔ ہوسکتا ہے ملک میں ایک بار پھر نظریاتی بحث کی شروعات ہو سکے اور جس کا سہرا ملائم سنگھ یادو اور نتیش کمار کے سر پر بندھے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here