مودی جی! مسلمانوں میں اعتماد سازی کا یہ بہترین موقع ہے

Share Article

اے یو آصف

بی جے پی کے 2014 کے پارلیمانی انتخابات کے مینی فیسٹو میں یونیفارم سول کوڈ، رام مندر کی تعمیر اور دفعہ 370 جیسے متنازع فیہ ایجنڈے شامل ہیں مگر 9 جون 2014 کو پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس میں صدر جمہوریہ ہند کے خطبہ میں نریندر مودی کی سربراہی میں این ڈی اے حکومت کے ایجنڈے میں مذکورہ بالا متنازع فیہ نکات کا نہ رہنا اور اقلیتوں کی عصری و دینی دونوں تعلیم پر توجہ دینا خوش آئند ہے۔ توقع کی جاسکتی ہے کہ مودی حکومت اپنے ’’سب کاوکاس‘‘ ایجنڈا کے تحت بحیثیت مجموعی مسلمانوں کی پسماندگی کو دور کرکے اور ان کے اندر سے عدم تحفظ کے احساس کو ختم کرکے ان میں اعتماد بحال کرے گی اور اپنے حق میں فضا کو ہموارکرنے کا یہ بہترین موقع استعمال کرے گی۔اس تجزیہ میں انہی سب نکات کو اجاگر کیا گیا ہے۔

p-3مرکزی حکومت کسی بھی پارٹی یا اتحاد کی ہو، اس کے نزدیک ہندوستان کی سب سے بڑی اقلیت13.4 فیصد مسلم آبادی کی ترقی کا ایشو اہم ہوتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس میں صدر جمہوریہ ہند پرنب مکھرجی کے خطبہ میں مسلمانوں سمیت اقلیتوں کی عصری اور دینی دونوں تعلیم پر خاص توجہ کی بات کرتے ہوئے کہا گیا کہ حکومت اقلیتوںکو ترقی میں برابر کی پارٹنرس ماننے کی پابند ہے اور یہ اقلیتی فرقوں میں جدید و تکنیکی تعلیم کو آگے بڑھانے کے لئے کیے جارہے اقدامات کو مستحکم کرے گی۔ نیز اسی کے ساتھ ساتھ نیشنل مدرسہ موڈرنائزیشن پروگرام کو شروع کرے گی۔ پھر جب مذکورہ خطبہ پر بحث کے دوران پارلیمنٹ کے اراکین نے اظہار خیال کرتے ہوئے مسلمانوں کی بحیثیت مجموعی ترقی سے متعلق متعددسوالات اٹھائے تو بی جے پی قیادت والی این ڈے اے حکومت کے سربراہ نریندر مودی نے کھل کرجواب دیے اور ان کے امپاورمنٹ کے بارے میں یقین دہانی کرائی۔انہوں نے کہا کہ ’’ جب میں نوجوان تھا، تب میں نے ایک مسلم شخص کو سائیکل کو مرمت کرنے والی ایک دوکان میں کام کرتے ہوئے دیکھا تھا۔آج اس شخص کی تیسری نسل بھی وہی کام کررہی ہے۔ اس صورت حال کو بدلنے کی ضرورت ہے‘‘۔انہوں نے ملک کی ترقی میں مسلمانوں کے رول کے تعلق سے کہا کہ ’’ اگر جسم کا ایک حصہ مفلوج ہوجاتا ہے تو پورا جسم چست اور صحت مند نہیں رہ سکتا۔ملک کو ترقی دینے کے عمل میںحکومت مسلمانوں سمیت سماج کے ہر ایک طبقہ کو آگے بڑھائے گی۔یہ صحیح ہے کہ یہ کمیونٹی سماج کے دوسرے طبقات کے ساتھ (ترقی کی دوڑ میں )چلنے میں ناکام رہی ہے کیونکہ ان کی طرز زندگی میں بہت کم ترقی ہوئی ہے۔مسلمانان ہند کی آزادی کی سات دہائیوں کے بعد بھی حالت دگر گوں ہے۔ تعلیم، صحت ، ملازمت جیسے اہم شعبوں میںیہ کمیونٹی پسماندگی کا شکار ہے‘‘۔
پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں بحث کے دوران مسلمانوں کے عدم تحفظ کا مسئلہ بھی اٹھا اور فرقہ وارانہ فسادات کے خلاف مؤثر اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔نیز فرقہ وارانہ تشدد کے انسداد کے قانون کو بنانے کی بھی بات اٹھائی گئی۔غرضیکہ اقلیتوںبشمول مسلمانوں کی مجموعی ترقی اور جان و مال کی حفاظت کی بات اس اہم و غیر معمولی مشترکہ اجلاس میں موضوع بحث بنی۔
صدر جمہوریہ ہند پرنب مکھرجی کے خطبہ اور وزیر اعظم نریندر مودی کے جواب سے ملک کی مسلم اقلیت کو توقع ہے کہ ترقی کی دوڑ میں ان پر یقینا توجہ خاص دی جائے گی اور سب کے ’وکاس‘(ترقی)کے ساتھ ان کا بھی وکاس ہوگا۔ جہاں تک فرقہ وارانہ فسادات کا معاملہ ہے، یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں ہے کہ فی الوقت پارلیمنٹ کی ایوان زیریں میں لوک سبھا کے 87 ارکان جن کے خلاف ملک کی مختلف عدالتوں میں فسادات سے متعلق مقدمات چل رہے ہیں، میں سے 13 ایسے ہیں جن پر مذہب اور کمیونٹی کی بنیادپر مختلف گروپوں کے درمیان عداوت کو بڑھانے اور شہہ دینے کے الزامات ہیں اور ان میں 10 کا تعلق بی جے پی سے ہے۔ ظاہر سی بات ہے کہ جب قانون سازوں میں سے ہی ایک قابل ذکر تعداد پر فرقہ وارانہ فسادات سے متعلق الزامات ہیں تو پھر اقلیتوں بشمول مسلمانوں میں عدم تحفظ کا احساس پایا جانا فطری بات ہے۔لہٰذا وزیر اعظم نریندر مودی اور ان کی حکومت کی اس تعلق سے ذمہ داری بڑھ جاتی ہے۔
مسلمانوںمیں ملک کی بعض ریاستوں میں ہورہے فرقہ وارانہ فسادات کے علاوہ 2001میں پوٹا کے بننے کے بعد سے مسلم نوجوانوں کی گرفتاری کے شروع ہوئے سلسلے سے بھی مستقل عدم تحفظ پایا جاتا ہے۔عجب بات تو یہ ہے کہ پوٹا کو کانگریس قیادت والی گزشتہ یو پی اے حکومت کے دوران ختم کردیا گیا مگر اب بھی اس سے متاثر ہوئے افراد آہنی سلاخوں سے باہر نہیں آسکے ہیں اور جو افراد وقتاً فوقتاً پوٹا و دیگر قوانین کے تحت گرفتار کیے گئے، ان میں سے متعدد افراد کسی الزام کے ثابت نہ ہونے پر برسوں جیل میں رہنے بعد یکے بعد دیگرے رہا بھی ہوتے جارہے ہیں۔عیاں رہے کہ گرفتار شدگان میں ایسی قابل ذکر تعداد ہے جس کا تعلق نام نہاد انڈین مجاہدین سے بتایا گیا تھا۔ مسلمانوں میں اس بات کا خاص نوٹس لیا گیا ہے کہ نریندر مودی کے برسراقتدار ہوتے ہی ڈاکٹر منموہن سنگھ کے دور میں انڈین مجاہدین کا جو ہوّا کھڑا کیا گیا تھا وہ اچانک ختم ہوتا ہوا محسوس ہوا۔ اس دوران اقتدار کی تبدیلی کے ساتھ یہ خبرآئی کہ انڈین مجاہدین کا اڈہ ہی اب ختم ہوگیا ہے۔ مسلم کمیونٹی کے لئے یہ اچھی خبر ہے کہ کانگریس قیادت والی یو پی اے کے ساتھ ساتھ انڈین مجاہدین کی بلاء بھی رخصت ہوگئی۔
جہاں تک مسلم نوجوانوں کی گرفتاری کا معاملہ ہے، اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ یہ مرکز میں کانگریس قیادت والی یو پی اے حکومت کے دور (2004-2014) میں سب سے زیادہ ہوئی ہے جبکہ اس کا سلسلہ اواخر 2001 میں مسلم نوجوانوں کی تنظیم اسٹوڈینٹس اسلامک موومنٹ آف انڈیا پر عائد کی گئی پابندی کے بعد ہی شروع ہو چکا تھا۔ عیاں رہے کہ این ڈی اے حکومت نے ستمبر 2001 میں انلاء فل ایکٹی ویٹیز (پریوینشن) ایکٹ ( یو اے پی اے) 1967 کے سیکشن (1)3کے تحت اسے غیر قانونی تنظیم قرار دیا تھا اور اس پر 2 سال کے لئے پابندی عائد کردی۔ اس کے بعدلگاتار 6بار اس پابندی کی توسیع کی گئی۔ 2008 میں جسٹس گیتا متّل کی سربراہی والے ٹریبونل نے اس بنیاد پر پابندی کو کالعدم قراردیا کہ مرکز کا نوٹیفکیشن لفظ بہ لفظ 2006 کے نوٹیفکیشن کی طرح (Identical)تھا۔مگر یو پی اے حکومت نے اس حکم پر روک لگادی اور سپریم کورٹ میں ایک خصوصی عرضی دائر کی جو کہ ہنوز التوا میں ہے۔ یو پی اے حکومت نے اپنے آخری دور میں یکم فروری 2014 کو اس پابندی کے تعلق سے 7ویں بار نوٹیفکیشن جاری کیا ۔ اسی دوران اس نے دہلی ہائی کورٹ کے جج جسٹس سریش کیٹ کی سربراہی میں ٹریبونل بنا کر پابندی پر رائے مانگی ۔ مذکورہ ٹریبونل ملک گیر دورہ کرکے اس تعلق سے اپنی تحقیق و تفتیش کر رہا ہے۔ توقع ہے کہ یہ اس ضمن میں جلد کوئی رائے دے گا۔ دریں اثنا دسمبر 2012 میں یو پی اے حکومت نے یو اے پی اے میں ترمیم کرکے پابندی کی میعاد کو 2 برس سے بڑھا کر 5برس کردیا ۔ اسی دوران 2مئی 2014 کو سپریم کورٹ نے ایک عرضی کو منظور کیا جس میں پابندی کی مدت کی توسیع کو غیر آئینی کہا گیا ہے۔ اس تعلق سے دیگر 6عرضیوں کے ساتھ اس عرضی کی سماعت آئندہ 14اگست کوہوگی۔ انگریزی پندرہ روزہ میگزین’ فرنٹ لائن‘ (30مئی) کے مطابق،ایک اقلیتی تنظیم پر بغیر کسی ثبوت کے پابندی کو جاری رکھنا آئین کی دفعہ 19 کے تحت فراہم کردہ بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے جس کے ذریعے دفعہ 19(1)(C) کے تحت تنظیم بنانے اور دفعہ 19(1)(A) کے تحت آزادیٔ تقریر اور اظہارِ خیال کرنے کااختیار حاصل ہے۔ مذکورہ تنظیم طلباء اورنوجوانوں کے لئے چیریٹی اور خدمت خلق پر زور ڈالتے ہوئے 1977 میں بنائی گئی تھی۔ توقع ہے کہ مودی حکومت آئین ہند کی بالادستی اور وقار کو بحال رکھتے ہوئے اس جانب یقینا توجہ دے گی اور حق و انصاف کا پرچم بلند کرے گی۔ دراصل یو پی اے حکومت کے دور میں مذکورہ پابندی کی مستقل توسیعاور مسلم نوجوانوں کی مسلسل گرفتاری جس کا کوئی جواز اب تک عدالت میں ثابت نہ کیا جاسکا ہے ، سے مسلم اقلیت میں عدم تحفظ اور عدم اعتماد بڑھا ہے۔ لہٰذا اگر اس جانب موجودہ حکومت قانون کے دائرے میں قدم آگے بڑھاتی ہے تو یہ ملک کی سب سے بڑی اقلیت میں زبردست اعتماد بحال کرسکتی ہے اور نام نہاد سیکولر پارٹیوں کی اقلیتوں کے تئیں جھوٹی ہمدردی کا مقابلہ کرسکتی ہے۔ابھی حال میں پونے میںمحسن صادق شیخ کا جو قتل ہوا ہے، اس سلسلے میں بھی اس حکومت کو ہندو راشٹرسینا پر پابندی لگا کر اور اس مذموم حرکت کے ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی کرکے حق و انصاف کے تقاضہ کو پورا کرنا چاہئے(بحوالہ’ محسن صادق شیخ کا قتل‘از ڈاکٹر وسیم راشد،’چوتھی دنیا‘23تا29 جون 2014) ۔یو پی اے حکومت نے اپنے 10سالہ دور میں سچر کمیٹی اور جسٹس رنگ ناتھ مشرا کمیشن بنایا تاکہ مسلمانوں کی صحیح صورت حال اور اقلیتوں کی مجموعی صورت حال سامنے آسکے۔ اس نے اس تعلق سے اس کی سفارشات پر نفاذ کے لئے قدم بھی بڑھایا مگر اس سے زمینی سطح پر کوئی واضح فرق نہیں پڑا۔دراصل حکیم فہیم بیگ نے اسی تعلق سے 23جنوری 2014 کو وگیان بھون ،نئی دہلی میں وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ اور یو پی اے چیئر پرسن و صدر کانگریس سونیا گاندھی کے سامنے احتجاج کیا تھا اور کہا تھا کہ مزید اسکیمیں اور پروگراموں کے اعلان کے بجائے پہلے سے اعلان کردہ اسکیموں پر عمل کرائیں۔ اس ضمن میںانہوں نے نئی دہلی کے ضلع شاہدر ہ جہاں کے وہ باشندہ ہیں اور جو کہ 90 اقلیتی گھنی آبادی والے اضلاع میں سے ایک ہے میں اس کے تحت اسکیموں پرعمل نہ کرنے کا سوال اٹھایاتھا(بحوالہ’’ دس برسوں کے وعدوں کا حساب چاہئے‘‘از اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ 10تا 16فروری2014)۔اس وقت حکیم بیگ کی آواز کو جبراً دبا دیا گیا تھا مگر یہ آواز محض ایک شخص کی آواز نہیں تھی بلکہ مسلم اقلیت کی مجموعی آواز کی ترجمانی تھی جس کا عملی اظہار گزشتہ پارلیمانی انتخابات کے دوران ہوا اور کانگریس ؍یو پی اے دونوں کو سبق بھی مل گیا۔
ڈاکٹر منموہن سنگھ کی یو پی اے حکومت تو جاچکی ہے اور اب نریندر مودی کی این ڈی اے حکومت مرکز میں برسر اقتدار ہے۔ مسلمانوں سمیت تمام اقلیتوں و دیگر طبقات اور حاشیہ پر رہ رہے افراد کو اس حکومت سے امید ہے کہ’ سب کا وکاس ‘ایجنڈا کے تحت انہیں بھی اچھے دن دیکھنے کو ضرور ملیں گے۔موجودہ حکومت کے سامنے سچر کمیٹی رپورٹ اور نیشنل سمپل سروے و دیگر رپورٹیں ہیں۔مشرا کمیشن رپورٹ جو ہنوز پارلیمنٹ کی میز کی زینت نہیں بن سکی ہے اور جسے ’چوتھی دنیا‘ نے شائع کرکے جمہوریت کے چوتھے ستون کی اہم ذمہ داری ادا کی تھی اور اندرون و بیرون پارلیمنٹ پذیرائی حاصل کی تھی، بھی اس دن کی منتظر ہے جب یہ نئی حکومت اسے سرد خانے سے نکال کر پارلیمنٹ میں موضوع بحث بنائے گی اور اس سلسلے میں اسی طرح کا عملی قدم اٹھائے گی جس طرح کا قدم آنجہانی وی پی سنگھ نے سرد خانے میں پڑی منڈل کمیشن کی رپورٹ کے سلسلے میں اٹھایا تھا اور دبے کچلے طبقات کو انصاف ملا تھا۔ یہ این ڈی اے کی اس حکومت کے حق میں ہوگاکہ یہ یونیفارم سول کوڈ، رام مندر کی تعمیر اور دفعہ 370 جیسے متنازعہ فیہ ایشوز کے بجائے اقلیتوں کے وکاس پر توجہ دے۔مسلم اقلیت منتظر ہے’سب کا وکاس‘فلسفہ میں یقین رکھنے والے نریندرمودی کے ان اقدامات کا جن سے اس کا بھی وکاس ہو سکے۔ یہ یقینا ایک ایسا لمحہ ہے جس کا استعمال اگر نریندر مودی کرسکیں تو تاریخ ہند میں اقلیتوں کی ترقی کے تعلق سے بھی ان کا نام ہمیشہ کے لئے محفوظ ہوجائے گا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *