p-8bوزیر اعظم نریندر مودی کو ان کے بیرونی سفر کو لے کر خوب تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ہر آدمی اپنے اپنے طریقے سے تبصرہ کرتا ہے۔کوئی کہتا ہے کہ ملک کا پیسہ برباد ہورہا ہے تو کوئی کہتا ہے کہ جو کام وزیر خارجہ کا ہے وہ کام وزیر اعظم خود کررہے ہیں مگر یہ جان کر آپ کو حیرت ہوگی کہ وزیر اعظم مودی کا بیرونی سفر یقینا مثبت نتیجہ سامنے لارہا ہے۔ خارجی سطح پر ان کی مقبولیت میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے اور یوروپین ممالک سمیت مسلم ملکوں میں بھی ان کی خوب پذیرائی ہورہی ہے۔
ملک کے اندر وزیر اعظم نریندر مودی کی پالیسی کامیاب ہورہی ہو یا نہیں لیکن خارجی سطح پر یہ ماننا پڑے گا کہ ان کی خارجہ پالیسی کی ساری دنیا قائل ہوتی نظر آرہی ہے۔ ان کی خارجہ پالیسی کے نتیجے میں جہاں امریکہ، یوروپ اور برطانیہ جیسے ممالک ہندوستان کے قریب آئے ہیں وہیں اسلامی ممالک بھی ہندوستان کے بہت قریب آئے ہیں جس کی وجہ سے ملک میں اربوں روپے کی سرمایہ کاری آنی شروع ہوگئی ہے اورمسلم ملکوں کو بھی ’ہندوستان کے اچھے دن’ نظر آنے لگے ہیں۔سعودی عرب کے شہنشاہ کا وزیر اعظم مودی کو دیا گیا وہاں کا اعلی ترین شہری اعزاز ‘کنگ عبدالعزیز ایوارڈ’افغانستان کے اعلی شہری اعزاز ‘امیر امان اللہ خان ایوارڈ’ ، ابوظہبی، دوبئی، قطر اور ایران جیسے اہم مسلم ملکوں میں مودی کے تئیں بڑھتے ہوئے یقین اور دوستی کو ہندوستان کے سفارتی تعلقات میں آنجہانی وزیراعظم پنڈت نہرو کے زمانے کے بعد کی بڑی، شاندار اور کامیاب خارجہ پالیسی کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔یہی نہیں بلکہ یمن، شام، مصر، کویت جیسے دیگر مسلم ممالک کے نمائندوں اور سربراہوں کے علاوہ گزشتہ دنوں ہندوستان آئے تقریباً 38 افریقی مسلم ملکوں کے سربراہان مملکت کا وزیر اعظم مودی کے ساتھ ملنا اور ہندوستان کے تئیں مثبت خیالات کا اظہار کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ وزیراعظم مودی جہاں دنیا کے تمام ملکوں کے پسندیدہ لیڈر بن گئے ہیں وہیں مسلم ملکوں کے ساتھ شاندار رشتوں کے رہبر اور علمبردار بھی بن کر ابھرے ہیں۔سعودی عرب، ایران، متحدہ عرب امارات اور قطر جیسے طاقت ور مسلم ملکوں کے ہندوستان کے ساتھ اقتصادی، سفارتی، ثقافتی اور سکیورٹی کے شعبے میں ہوئے مختلف تاریخی سمجھوتوں نے ہندوستان اور ان مسلم ملکوں کے درمیان کمزور پڑنے والے رشتوں کی ڈور کو مضبوط کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ان اسلامی ملکوں میں کام کرنے والے لاکھوں ہندوستانیوں کو عزت اور تحفظ کا مضبوط احساس دلایا ہے کیونکہ مودی جب بیرونی ممالک کے دورے پر جاتے ہیں تو وہاں مقیم ہندوستانیوں سے ملنا ان کی ترجیحات میں شامل ہوتا ہے جس کا مقصد انہیں اپنا پن اور تحفظ کا احساس دلانا ہوتا ہے۔

سعودی عرب کے شہنشاہ کا وزیر اعظم مودی کو دیا گیا وہاں کا اعلی ترین شہری اعزاز ‘کنگ عبدالعزیز ایوارڈ’افغانستان کے اعلی شہری اعزاز ‘امیر امان اللہ خان ایوارڈ’ ، ابوظہبی، دوبئی، قطر اور ایران جیسے اہم مسلم ملکوں میں مودی کے تئیں بڑھتے ہوئے یقین اور دوستی کو ہندوستان کے سفارتی تعلقات میں آنجہانی وزیراعظم پنڈت نہرو کے زمانے کے بعد کی بڑی، شاندار اور کامیاب خارجہ پالیسی کے طور پر دیکھا جارہا ہے

مودی کے دوروں سے ہندوستان کے ساتھ اسلامی ملکوں سے مضبوط ہوئے رشتوں کا اثر نظر آنے لگا ہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ گزشتہ ایک برس میں اربوں روپے کی غیر ملکی سرمایہ کاری کووزارت خزانہ نے منظوری دے دی ہے اور جلد ہی اربوں روپے کی سرمایہ کاری منظور کی جانے والی ہے۔ایران کے ساتھ چابہار سمجھوتہ نہ صرف ہندوستان بلکہ افغانستان اور وسطی ایشیا کے لئے کامیاب اور خوشگوار تجارتی راستہ کھولے گا بلکہ اسے ‘امن، ترقی اور خوشحالی کے کوریڈور’ کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔ہندوستان غیر ملکی سرمایہ کاری کا محفوظ مقام بن رہا ہے۔ اس کام میں اسلامی ممالک بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہوئے نظر آرہے ہیں اور اگر گزشتہ ایک برس کے سرمایہ کاری کے اعداد شمار دیکھے جائیں تو اسلامی اور عرب ممالک کے لوگ یوروپی ملکوں کے مقابلے ہندوستان میں سرمایہ کاری کو ترجیح دے رہے ہیں جبکہ یہ ممالک اس سے پہلے امریکہ اور یوروپی ملکوں کو سرمایہ کاری کے لئے زیادہ بہتر جگہ تصور کرتے تھے۔ لیکن وزیراعظم مودی کی شاندار خارجہ پالیسی اورغیر ملکی سرمایہ کاری کی بہترین پالیسی نے ان مسلم ممالک کے سرمایہ کاروں کی نظر میں ہندوستان کو پسندیدہ ملک بنادیا ہے۔امریکہ اور کچھ بڑی یوروپی طاقتوں سے پریشان اور دہشت گردی کا الزام جھیلنے والے کچھ اسلامی ملکوں کے لئے وزیراعظم مودی ایک مضبوط ‘امن اور خوشحالی کے مسیحا’ کے طو رپر ابھرے ہیں۔تمام مسلم ممالک مودی کے امن اور ترقی کے پیغام اور عہد کے قائل ہورہے ہیں۔
 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here