وزیر اعظم نریند مودی کے ون نیشن، ون الیکشن (ایک ملک ایک انتخاب) کے خیال کی تنقید کرتے ہوئے بی ایس پی سپریمو مایاوتی نے بدھ کو کہا کہ عوام کو درپیش اہم مسائل سے دھیان بھٹکانے کے لئے بھارتیہ جنتا پارٹی اس طرح کی کوششیں کررہی ہے۔
 
مایاوتی نے کہا کہ وہ ایک ملک ایک انتخاب کے مسئلے پر وزیر اعظم نریندر مودی کے ذریعہ بلائی گئی آل پارٹی میٹنگ میں شرکت نہیں کریں گی۔ انہوں نے کہا کہ مودی اگر ای وی ایم کے بجائے بیلٹ پیپر سے انتخاب کرانے سے متعلق معاملے میں بلاتے تو اس میں وہ ضرور شرکت کرتیں۔بی ایس پی سربراہ نے ٹوئٹ کیا کہ ’’کسی بھی جمہوری ملک میں انتخابات کبھی بھی کوئی مسئلہ نہیں ہوسکتے ہیں اور نہ ہی انتخابات کو کبھی بھی دولت کے اخراجات سے موازنہ کرنا چاہئے۔ ملک میں’’ ایک ملک۔ایک انتخاب‘ کی بات در حقیقت غریبی، مہنگائی، بے روزگاری، بڑھتے تشدد جیسے بڑے مسائل سے دھیان ہٹانے کی کوشش و محض ایک چھلاوا ہے۔‘‘
 
انہوں نے مزید کہا کہ ’’بیلٹ پیپر کے بجائے ای وی ایم کے ذریعہ انتخاب کرانے کی سرکاری ضد سے ملک کے جمہوریت و آئین کو اصلی خطرات کا سامنا ہے۔ ای وی ایم کے تئیں عوام کے اعتماد میں قبل فکر حد تک گھٹ گیا ہے۔ ایسے میں اس مہلک مسئلہ پر غور کرنے کے لئے آج کی میٹنگ بلائی گئی ہوتی تو میں اس میں ضرور شرکت کرتی۔‘‘

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here