کمل مرارکا
p-1وزیر اعظم نے حال ہی میںکہا ہے کہ میڈیا کاایک خاص طبقہ انھیںاقتدار میںنہیںآنے دینا چاہتا تھایا کہہ سکتے ہیںکہ میڈیا کو یہ امید نہیںتھی کہ وہ اقتدار میں آسکتے ہیں۔ ان کی سب سے بڑی چنوتی یہی ہے کہ وہ میڈیا کے اُس طبقے کا ابھی تک دل نہیںجیت سکے ہیں۔ وزیر اعظم کے ذریعہ دیا گیایہ ایک بہت اہم بیان ہے۔ میںانھیںایک تجویزدینا چاہتا ہوں۔ حالانکہ، میںان کے گروپ سے نہیں جڑا ہوں، ا س لیے امیدہے کہ میری تجویز کو صحیح معنی میں نہیںلیا جائے گا۔
سب سے پہلے تو کہنا چاہوںگا کہ میڈیا کو لے کر ان کا تجزیہ غلط ہے۔ وہ میڈیا کے جس طبقے کی بات کررہے ہیں، ان لوگوں کے دل میںان کے خلاف کچھ بھی نہیںہے۔ سوال یہ نہیں ہے کہ میڈیا انھیںاقتدار میںنہیں دیکھنا چاہتا تھا۔ اس طرح کی سوچ یا بحث بے معنی ہے۔ اس میں کوئی صحیح ہوسکتا ہے، تو کوئی غلط بھی ہوسکتا ہے، لیکن ایک بات طے ہے کہ انھیںاقتدار میںآتے ہوئے نہیںدیکھنے کی خواہش رکھنے والا بیان غلط ہے۔ جمہوریت میں اگر فری اینڈ فیئر(بے خوف اور منصفانہ) انتخاب ہوتے ہیں، تو جو بھی اقتدار میںآتا ہے، اسے آپ کوقبول کرنا ہوتا ہے، بھلے ہی آپ نے اسے ووٹ دیا ہو یا نہیںدیا ہو۔ یہ سوال ہی نہیںاٹھتا ہے کہ میڈیا ان کے وزیر اعظم بننے سے ناخوش ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ وزیر اعظم میڈیاکے جس طبقے کی بات کررہے ہیں، وہ لوگ آخر کیا سوچتے ہیں، ان کے احساسات کیا ہیں؟ آئیے اس کا تجزیہ کرتے ہیں۔۔۔
میڈیا کے اس خاص حصے کی بنیاد آئین کے ذریعہ فراہم کردہ بنیادی حقوق کی ضمانت پر ٹکی ہے۔ وہیں آئین میںڈائریکٹو پرنسپلز آف اسٹیٹ پالیسی کا بھی تذکرہ ہے، جن میںبتایا گیا ہے کہ ملک کی پالیسی کس سمت میںجائے گی یا جانی چاہیے۔ ان کے دل میں جو سوال یا تشویش ہیں،وہ یہ ہیںکہ بی جے پی اور خاص طورسے اس کی مادری تنظیم آر ایس ایس کے کئی نظریے آئین کی اصل روح سے میل نہیں کھاتے ہیں۔ ایسے میںتشویش اس بات کی تھی کہ اگر ایسی تنظیم سے تعلق رکھنے والا شخص اقتدار میںآتا ہے،تو وہ چیزوں کو بگاڑنے کی کوشش کرسکتا ہے۔ وزیر اعظم نے صحیح کہا ہے کہ ملک کا سب سے مقدس گرنتھ آئین ہے،جس کی تعمیل کی جانی چاہیے۔ انھوںنے ایسا کہہ کر سشما سوراج کی اس تجویز کو خارج کر دیا کہ بھگود گیتا کو ملک کا قومی گرنتھ ڈکلیئر کیا جائے۔ سشما سوراج ان کی کابینہ کی رکن ہیں، لیکن آر ایس ایس بہت خوش ہوگا کہ اگر بھگود گیتا کو قومی گرنتھ ڈکلیئر کردیاجائے۔ کچھ ایسے سوال ہیں، جن کا جواب وزیر اعظم کو دینا ہے۔ وزیر اعظم اگر سچ مچ ان کا دل جیتنا چاہتے ہیں،جنھوںنے انھیںووٹ نہیںدیا اور جن کے دل میں ان کی پالیسیوںکو لے کر خدشات ہیں، تو انھیںایسے لوگوںپر لگام لگانا ہوگا ، جو بیف بین کراناچاہتے ہیں،گیتا کو قومی گرنتھ ڈکلیئر کرانا چاہتے ہیں اور ایسی تجاویز دیتے ہیں جن کا ملک کی پالیسی سے کوئی تعلق نہیںہے۔
صاف صاف الفاظ میں کہیں، تو دو سال کی مدت کار میں وزیر اعظم نے ایسا کچھ بھی نہیںکیاہے، جو اسٹیٹ پالیسی اور آئین کے دائرے سے باہر ہو۔ پریشانی تب پید اہوتی ہے،جب سادھویاں ،یوگی آدتیہ ناتھ او رساکشی مہاراج جیسے لوگ ایسے غیر عملی بیان دیتے ہیں، جنھیںلاگو کرنا ممکن نہیں ہے۔ وہ نہ صرف غیر ہندوؤں،بلکہ ان ہندوؤںمیںبھی خوف کا ماحول پیدا کرتے ہیں،جو ان کے ساتھ نہیں ہیں۔ مثال کے طور پر،بیف بین کا معاملہ۔ مجھے کوئی یہ نہیں دکھا سکتا کہ ہندو دھرم شاستروںمیںکہیں بھی بیف کھانے پر پابندی کی بات لکھی گئی ہو۔ دراصل سناتن دھرم کے شاستروں میں بیف کھانے پرپابندی کی بات نہیں کی گئی ہے۔ بہت بعد میںمویشیوں کو بچانے اور دیگر اسباب سے یہ فیصلہ لیا گیا کہ ہمیں گایوں کی ہتھیا نہیںکرنی چاہیے۔ اس میںکوئی حرج کی بات نہیںتھی، لیکن بیف بین کرنے کے لیے مذہب کاسہارا لینے سے ایک تو کوئی مقصد پورانہیںہوگا، دوسرے اس سے کئی پریشانیاںپیدا ہوںگی۔ممبئی میںسرکار نے بیف پر بین لگادیا ۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ممبئی میں جتنی بین الاقوامی کانفرنسیںہوتی تھیں، وہ اب گووا میں ہونے لگیں۔ اس سے کون سا مسئلہ حل ہوگیا،کون سا مقصد پورا ہوا،یہ سمجھ سے باہر ہے۔
بی جے پی اور اس کے حامی بار بار نہرو کی معتبریت ختم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ سیاسی طور پر ایسا کرنا غلط نہیںہے، لیکن وزیر اعظم کویہ احساس ہونا چاہیے کہ سچ کیا ہے؟ مجھے یقین ہے کہ وہ اسے محسوس کریںگے، کیونکہ ان کی رسائی سارے سرکاری کاغذات تک ہے۔ وزیر اعظم آسانی سے ساری معلومات لے سکتے ہیں۔ وزیر اعظم جواہر لعل نہرو کو معلوم تھاکہ اگر ہندوستان کو ترقی کی راہ پر لے جانا ہے، تو توہم پرستی،مذہبیتعصب ،جس میں لوگ گلے تک ڈوبے ہیں، کو دورکرنا ہوگا۔دس سال تک جیل میںرہنے، پوری دنیا دیکھنے اور ایک آزاد خیال شخص ہونے کے ناتے وہ اس ملک کو پوری طرح سمجھتے تھے۔ انھوںنے ایک بہترین تصور دیا کہ اگر آپ ہندوستان کو جدید ملک بنانا چاہتے ہیں، تو آپ کو نئی امید و جوش کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا۔ انھوںنے بھاکڑا- نانگل، اسٹیل پلانٹ، ایٹمک انرجی جیسی جدید چیزوں کی بنیادیںرکھیں۔ انھوںنے سوچا کہ اگر وہ لوگوںکو روزگار دینے میں کامیاب ہوئے،تبھی سماج میں پھیلے مذہبی تعصب اور توہم پرستی کو دور کرپائیں گے۔ لیکن روزگار پیدا کرنے کے مقابلے میں بدقسمتی سے آبادی زیادہ تیزی سے بڑھی۔ 1964 تک (جب تک نہرو جی وزیر اعظم رہے)اس میںمحدود کامیابی ہی ملی اور بعد کی کانگریسی سرکاروں نے بھی ان ہی کی راہ پر چلنے کی کوشش کی۔
بے شک نہرو نے دو بڑی غلطیاں کیں، جن کا پتہ بعد میںچلا۔ آج لوگ کہتے ہیں کہ اس وقت کیا ہونا چاہیے تھا؟ آج کیا ہونا چاہیے،ا س کے بارے میں کوئی نہیں سوچتا ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ کشمیر کے مدعے کو لے کر نہرو کو اقوام متحدہ نہیں جانا چاہیے تھا۔ نہرو ایک شریف آدمی تھے۔ انھوںنے سوچا کہ اقوام متحدہ میں جانے سے ایک مناسب حل نکلے گا۔ بے شک سردار پٹیل انھیںبول سکتے تھے کہ ایسا کرناصحیح نہیں ہوگا۔ اقوام متحدہ نے کوشش کی، لیکن اس کی تجویز کا کوئی اثر نہیں ہوااور کشمیر آج بھی ایک مسئلہ بنا ہوا ہے۔ اُسی طرح سے چین کا معاملہ ہے۔ اندراگاندھی نے بھی نہرو سے کہا تھا کہ اگر چین ایمانداری نہیں دکھا رہا ہے اور جیسا کہ اس کے قول و فعل میںتضاد ہے، تو اس کی بات ہمیںنہیں ماننی چاہیے۔ جیسے ہی چین نے حملہ کیا، نہرو اس دھوکے کو برداشت نہیںکرپائے۔ وہ ٹوٹ گئے او ران کی جلدی ہی موت واقع ہوگئی۔ غلطیاںکسی سے بھی ہوسکتی ہیں۔ جواہر لعل نہرو نے بھی کچھ غلطیاں کیں، لیکن ملک کو جس راہ پر وہ لے گئے، اس کا کریڈٹ ان سے نہیں چھینا جاسکتاہے۔ اگر آج ہندوستان دنیاکے آزاد خیال ممالک میںسے ایک ہے،جہاں بولنے کی آزادی ہے،پریس کی آزادی ہے، آزاد عدلیہ ہے اور سب کے لیے یکساں موقع فراہم ہے، تو اس کا کریڈٹ نہرو کو جاتا ہے۔ جس نکتہ کی میںنشاندہی کرنا چاہتا ہوں،وہ یہ ہے کہ اگر وزیر اعظم نریندر مودی چاہتے ہیں کہ میڈیا کا ایک طبقہ ان کی حمایت کرے، تو انھیں قدامت پسند خیالات کو ترک کرنا ہوگا۔ میں ایک بار پھرسے یہ کہنا چاہتا ہوںکہ سرکار نے دو سال میں انتظامی سطح پرکوئی ایسا کام نہیںکیا ہے، جس میں کوئی غلطی نکالی جاسکے۔ اگر سرکار اکثریت میں ہوتی ہے،تو اس کی اپنی پالیسیاں ہوتی ہیں۔ پالیسیاں آتی ہیں،چلی جاتی ہیں، لیکن ملک کے بنیادی سیکولر ڈھانچے کو بچائے رکھنا ہر حال میں ضروری ہوتا ہے۔ اگر اسے چند لوگوں کے ذریعہ نقصان پہنچایا جاتا ہے اور رفتہ رفتہ یہ نظام کا حصہ بننے لگتا ہے، تو دس -پندرہ سالوں کے بعد ہم ایک الگ ملک ہوں گے، جو شاید بہتر نہ ہو۔ وزیر اعظم کو ان مدعوں کو سلجھانے کے لیے میڈیا کے مذکورہ حصے کو بلانا چاہیے اور یہ پوچھنا چاہیے کہ آپ کا خوف کیا ہے اور پھر اس خوف کودور کرنا چاہیے۔
آزادی کا مطب ہوتا ہے صحیح چیزیں کرنے کی آزادی اور غلط چیزیںکرنے کی بھی آزادی۔ سماج میںبہت سارے ایسے لوگ ہیں، جو غلط کام کرتے ہیں۔ کوئی چرچ جلاتا ہے، کوئی فرقہ وارانہ فسادات کراتا ہے۔ جب تک پولیس اور انتظامیہ غیر جانبداری سے کام کرتی ہے،تب تک اس میں کوئی بہت زیادہ دقت کی بات نہیںہے۔امریکہ اور انگلینڈ جہاں سمجھدار جمہوریت ہے، وہاں بھی ہر سال تنازع اور فسادات ہوتے رہتے ہیں۔ وہاں ایسے معاملات میںحکومت غیر جانبدار ہے، پولیس بھی کافی سخت ہے۔ لیکن ہندوستان میں یہ تاثر ہے کہ پولیس اور فوج پرو- ہندو (ہندوؤں کی حمایت میں) ہو جاتی ہے۔ یہ تاثر اقلیتوں کے دل میں خوف پیدا کرتا ہے۔ ہندوستان میں عام طور پر اقلیت کامطلب ہے مسلمان۔ ایسا کیوں، جبکہ عیسائی او رسکھ بھی اقلیت ہیں؟
وزیر اعظم کا ایجنڈا کیا ہے؟ وہ چاہتے ہیں کہ ملک کی ترقی ہو۔ وہ چاہتے ہیں کہ کسانوںکی آمدنی چھ سال میں دوگنی ہوجائے۔ وہ او ربھی کئی اچھے کام کرنا چاہتے ہیں،جو اچھی بات ہے۔ اگر آپ ڈائریکٹو پرنسپلز آف اسٹیٹ پالیسی کا مطالعہ کریں گے، تو اس میںہر اچھی بات کو جگہ دی دی گئی ہے کہ یہ کام کرنا چاہیے، وہ کرنا چاہیے۔ لیکن صرف کاغذات پر لکھ دینے سے اسے نافذ نہیںکیا جاسکتاہے۔ ا س کے لیے ہر ایک دن کام کرنا ہوگا۔ ملک میں نوکر شاہی کے پاس لمبے عرصے سے کام کرنے کا وسیع تجربہ ہے۔ انھیں معلوم ہے کہ ہر پانچ سال میںسرکار بدلتی ہے۔ لیکن ان کے پاس ایک بنیادی پالیسی ہوتی ہے، جو بدلتی نہیں ہے، چاہے جو بھی سرکار آئے۔ کچھ لوگ ہیں، جو واقعی ڈرے ہوئے تھے کہ اگر وہ اقتدار میں آئے، تو کیا ہوگا؟ لیکن میرے خیال سے ان کا ڈربے بنیاد ثابت ہوا۔ وزیر اعظم نے بیسک سسٹم میں تبدیلی کرنے والا کوئی کام نہیںکیا ہے۔ دراصل، سنگھ اوراس کی دیگر معاون تنظیمیں (حالانکہ وہ بھی بہت کچھ نہیں کہہ رہے ہیں) ماحول کو خراب کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ وہ ترقی، روزگار، معیار زندگی میںبہتری وغیرہ کے ایجنڈے سے سرکار کو بھٹکانے کی کوشش کررہے ہیں۔ یہ ایسے ایجنڈے ہیں، جنھیںلوگ پورا ہوتے دیکھنا چاہتے ہیں، ا س میں روزگار کا مقام سب سے پہلے آتا ہے۔ آج طلبہ و نوجوان روزگار چاہتے ہیں۔ وزیر اعظم کی ساری اسکیمیں اچھی ہیں، جیسے میک اِن انڈیا،لیکن یہ سب ایک دن میںمکمل نہیںہوسکتی ہیں۔ اگر وزیر اعظم بی جے پی کے پرو رائٹ (دائیںبازو) رخ سے تھوڑا سا الگ ہٹنے کے لیے تیار ہوں، تو انھیں احساس ہوگا کہ ہندوستان میں بہت زیادہ نجی سرمایہ نہیں ہے۔ سرمایہ سرکار کے پاس ہے یاپھر پبلک سیکٹر بینکوں کے پاس۔ اندرا گاندھی نے جب بینکوں کانیشنلائزیشن کیا تھا، تب انھیں اس بات کا احساس تھا۔ انھوںنے چھوٹے لوگوں کو یہ موقع دیا کہ وہ لون لے سکیں اور سیلف امپلائمنٹ کرسکیں۔ آج میک اِن انڈیا کامیاب نہیں ہوسکتا اگر ہم صرف 4 یا 5 بزنس ہاؤسیز کا انتظار کرتے رہیں یا کچھ غیر ملکی کمپنیوںکا انتظار کرتے رہیں۔ سرکار کو سرمایہ کاری کرنی ہوگی۔ دفاعی شعبے میں ہم بہت بڑے خریدار ہیں۔ اگر ہم دفاعی سازو سامان بنانا چاہتے ہیں،تو سرکار کو اس میںبہت پیسہ لگانا ہوگا۔ بڑے کارخانے لگانے ہوں گے،جس سے ہزاروںلوگوںکو روزگار ملے گا اورپورے سیکٹر کو فائدہ ہوگا۔ وقت آگیا ہے کہ سرکار کو فعال ہوکر فیصلے لینے ہوں گے،کام کرنا ہوگا۔ سرکار کام کر بھی رہی ہے،جیسے انفراسٹرکچر کے شعبے میںکچھ کام ہورہا ہے، سڑکیں بن رہی ہیں،ریلوے میںکام ہورہا ہے، بندرگاہ بن رہے ہیں وغیرہ۔ لیکن اگر وزیر اعظم فوری ترقی چاہتے ہیں، روزگار پیداکرنا چاہتے ہیں، تو اس کے لیے پبلک سیکٹر کو آگے آنا ہوگا۔ لیکن یہاںپرائیویٹ سیکٹر کی طرف سے یہ کہا جاتا ہے کہ پبلک سیکٹر بدعنوان ہے۔ اس حوالے سے وزیر اعظم کو محتاط رہناچاہیے۔بدعنوانی ختم کرنا ایک ایسا ہدف ہے، جسے حاصل کرنامشکل ہے۔ وزیر اعظم اور ان کے بڑے وزراء کو بدعنوان نہیںہونا چاہیے،یہ انھیں یقینی بنانا چاہیے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس سے عام لوگوںمیںیہ پیغام جائے گا کہ سب چیزیںٹھیک ٹھاک ہیں۔ اگر آپ نچلی سطح سے بدعنوانی ختم کرنا چاہتے ہیں، جیسا کہ لوک پال کی مانگ کے وقت کہا جارہا تھا،تویہ کام کبھی پورا نہیں ہوگا۔ لوک پال کا لاکھوںملازمین پر کنٹرول ہوگا اور سب پر نگرانی رکھنا، سب کے خلاف کارروائی کرنا، یہ ممکن نہیںہے۔سبھی سرکاری سودوںمیںشفافیت لائی جاسکتی ہے،لیکن آپ اس ذہنیت کو نہیںبدل سکتے، جس میں ہر شخص پیسہ چاہتا ہے۔
ہمارا ٹیکس نظام صحیح نہیںہے۔ اس سرکار کے آنے کے بعد بھی اس میںنہ سدھار ہوا ہے،نہ کوئیتبدیلی آئی ہے اور نہ کوئیتبدیلی آسکتی ہے۔ تبدیلی اسی وقت آئے گی، جب آپ پورے قانون کو بدلیںگے۔ پرانے قانون کے ساتھ پرانا سسٹم ہی چلتا رہے گا۔ لیکن میںنہیںسمجھتا ہوںکہ یہ تشویش کی بات ہے۔ تشویش کا اصل موضوع نظام زر ہے۔ اگر ہم مالیاتی خسارے کو 3.5 فیصد سے نیچے رکھنا چاہتے ہیں، تو ہماری معیشت کے پاس اس کے لیے پیسہ نہیںہے۔ ریزرو بینک کے گورنر اس پر بہت سخت کنٹرول رکھنا چاہتے ہیں۔ بغیر پیسے کے ترقی نہیں ہوسکتی ہے۔ سرکار ایف ڈی آئی کا انتظار کررہی ہے۔ ایف ڈی آئی کی اپنی حد ہے۔ لبرلائزیشن کے بعد گزشتہ 20 سال کی مدت میںایف ڈی آئی کا بہاؤ مستحکم رہا ہے۔ یہ سرکار دعویٰ کررہی ہے کہ اس سال کا ایف ڈی آئی سب سے زیادہ ہے۔ ہر سال ایف ڈی آئی میںدس سے بیس فیصد کا اضافہ ہوتا ہے ، تو اس سال بھی یہ اضافہ ہوا۔ اس میںکوئی خاص بات نہیںہے۔
وزیر اعظم نے پچھلے انتخاب میں 31 فیصد ووٹ حاصل کیے تھے۔ اگر میںان کی جگہ ہوتا،تو میںیہ ضرور کوشش کرتا کہ میرے ووٹ کی بنیاد 31 فیصد سے زیادہ ہوجائے۔ حالانکہ کچھ لوگوں کی امیدیں پوری نہ ہونے سے 31 فیصد گھٹ بھی سکتا ہے۔ اگر آپ اپنا بیس ووٹ سچ مچ بڑھانا چاہتے ہیں، تو آپ کو درمیانی راستہ اپنانا ہوگا۔سڑک کے دائیںطرف (دکشن پنتھ) چلنے سے کوئی فائدہ نہیںہوگا، بیچ میںچلیے۔ اعتدال پسند رہیے،ہر شعبے کو پھلنے پھولنے کا موقع ملے گا۔ چھوٹے، بڑے، درمیانی سبھی سیکٹرس کو فائدہ ہوگا۔ قانون کا راج ہوگا۔اگر کوئی غلط کام کرتا ہے،تو اسے عدالت دیکھے گی۔ اگر آپ ہر کسی کے پیچھے انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ ، سیلس ٹیکس کے افسروں کو لگا دیںگے، تو آپ کاروباریوں کی توانائی کمزور کرنے کا ہی کام کریں گے۔
وزیر اعظم کو یہ ضرور دیکھنااور سمجھنا چاہیے کہ کانگریس نے اتنے لمبے عرصے تک کیسے حکومت کی؟ کانگریس کے راج میں بھی بدعنوانی تھی اور سارے مسائل تھے،لیکن لوگوںنے اسے اس لیے چنا، کیونکہ لوگ یہ سمجھتے تھے کہ وہ محفوظ ہیںاو رکچھ بھی کرنے کی آزادی ان کے پاس ہے۔ اندرا گاندھی نے ایمرجنسی لگانے کی غلطی کی۔ لوگوںنے فوری طور پر باہر کاراستہ دکھایا، کیونکہ لوگوںکو لگا کہ ان کی آزادی چھن گئی ہے۔ جب تک مسئلہ کسی اور کے گھر میں ہوتا ہے ، عام طور پر لوگ ردعمل نہیںدیتے ہیں۔ خوف کا ماحول مت بنائیے،لوگوںکے دل کو خوف سے آزاد کیجئے۔ ہر کسی کوآزادی سے سانس لینے دیجئے۔ جب وہ کہتے ہیں کہ ملک کے لیے واحد کتاب آئین ہے، تو انھیں یہ یقینی بنانا چاہیے کہ آئین پر حرف بحرف عمل ہو۔پسماندہ طبقے کی حوصلہ افزائی کی جائے،درج فہرست ذات کو ریزرویشن دیاجائے،یہ ساری باتیں کانگریس کے دور کی لگیںگی۔ لیکن یہ ساری چیزیں آزادی کی لڑائی کے دوران سوچی گئی تھیں۔ اگر وزیر اعظم واقعی چاہتے ہیں کہ دانشور اور بیدار طبقے کی حمایت انھیںملے، تو انھیںدائیں طرف سے ہٹ کر سڑک کے بیچ میں (متوسط طبقہ) آنا ہوگا۔ اگر وہ بائیں طرف سے مڈل (لیفٹ ٹو سینٹر) میں آتے ہیں، تو یہ بہت ہی شانداربات ہوگی، جیسا کہ کانگریس نے کیا تھا۔ دراصل، کانگریس نے جو کچھ غلطیاںکیں، اسے یہ دور کرسکتے ہیں۔ کانگریس نے کرونی کیپٹلزم کو فروغ دیا۔ اس نے کچھ لوگوںکو سرکار پر اپنا فیصلہ تھوپنے کا موقع دیا۔ مثال کے طور پر کون سی وزارت کسے دی جائے گی۔ وزیر اعظم اتنے طاقتور ہیںکہ وہ ایسی چیزوںسے خود کوبچائے رکھ سکتے ہیں۔ لیکن بنیادی بات یہ ہے کہ انھیںکسی پالیسی کو اس لیے نہیں چھوڑ دینا چاہیے کہ وہ کانگریس کی ہے۔ کوئی بھی پالیسی کسی پارٹی کی نہیں، بلکہ ملک کی ہوتی ہے۔ کانگریس نے اپنی حکومت میںاپنی پالیسی بنائی، وہ ملک کے لیے ہی تو تھی۔ منریگا،جسے وزیر اعظم نے کانگریس کی ناکامی کی یادگاربتایا تھا، اب انھیںسمجھ میںآیا کہ غریبوںکومدد پہنچانے کا واحد راستہ ابھی منریگا ہی ہے، اسی لیے اب وہ اس کی حوصلہ افزائی کررہے ہیں۔ لہٰذا کسی پالیسی کو یہ بول کر کہ یہ کانگریس کی پالیسی ہے،اسے خارج نہیں کیا جائے ۔ مجھے یقین ہے کہ وزیر اعظم کے پاس بہت سارے جانکار لوگ ہیں، جو انھیں صحیح صلاح دے سکتے ہیں، صحیح راستہ دکھا سکتے ہیں۔
دوسرامتبادل یہ ہے کہ ہم اس ملک کو ہندو راشٹر بنادیں،ہم رام مندر بنا لیں،تاکہ مسلمانوں کی ذہنیت کو اورچوٹ پہنچائی جاسکے۔ہم ان لوگوںکو مار دیناچاہتے ہیں،جو بیف کھاتے ہیں۔ سرکار چاہے،تو آر ایس ایس اور ہندو کٹرواد کو ایسا کرکے مطمئن کرسکتی ہے، لیکن اس کے بعد اس ملک پر حکومت کرنا مشکل ہوگا۔ایسا کرکے آپ طاقت کے بل پر حکومت توکرسکتے ہیں، لیکن جمہوری طریقے سے نہیں۔ مجھے خوشی ہے کہ وزیر اعظم نے ان سب پر اپنی تشویش ظاہر کی ہے۔ وزیر اعظم آسانی سے کہہ سکتے تھے کہ اب میںاقتدار میںآگیا ہوںاور جو لوگ مجھے اقتدار میں آتے ہوئے نہیں دیکھناچاہتے تھے، میں ان کی فکر نہیں کرتا ہوں۔ لیکن انھوں نے بالکل صحیح کہا کہ وہ ایسے لوگوںکا دل جیتناچاہتے ہیں۔ ایسے لوگوں کا دل جیتنے کا واحد راستہ یہ ہے کہ آپ اپنی پالیسیوںمیںتبدیلی لائیں۔ آپ کومحنت کرنی ہوگی اوراپنے لوگوں کو سمجھاناہوگا کہ اب ہم اقتدار میںآگئے ہیں، تو ہمیںاپنے رخ میںنرمی لانی ہوگی۔ رام مندر سب کچھ نہیںہوسکتا ہے۔آرٹیکل 370 کاخاتمہ اور یونیفارم سول کوڈ ہمارا آخری ہدف نہیں ہوسکتا ہے۔ یہ ساری چیزیں ٹھیک ہیں۔ رام مندر میںکوئی مسئلہ نہیںہے۔ میںمانتا ہوں کہ رام مندر بننا چاہیے،لیکن ہمارے مسلم بھائیوںکی رضامندی اور تعاون سے۔ آرٹیکل 370 کو ختم کیا جاسکتا ہے،لیکن اُس وقت جب خود کشمیری ایسا چاہیں۔ سوشلسٹ پارٹیاں یونیفارم سول کوڈ میںیقین رکھتی ہیں، لیکن یونیفارم سول کوڈ اس لیے لاگو نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ اس سے مسلم سماج متاثر ہوگا۔یہ مسلم سماج کے بیدار لوگوں کی مانگ پر لاگو ہوناچاہیے۔ اسے رفتہ رفتہ بھی لاگو کیاجاسکتا ہے،اچانک نہیں۔اسے قانون کے ذریعہ زبردستی نافذ نہیںکیا جانا چاہیے۔اسے ایک مثا ل کے ذریعہ سمجھتے ہیں۔دَل- بدل اچھی چیز نہیںہے۔ راجیو گاندھی نے ایک دل-بدل مخالف قانون پاس کرایا تھا۔ ا س کا نتیجہ یہ ہوا کہ قانون بننے کے بعد زیادہ تعدادمیںدل- بدل ہوئے۔ سرکار قانون کے ذریعہ لوگوںکو اخلاقیات کا سبق نہیں پڑھا سکتی ہے۔ میںسمجھتا ہوں کہ نیتی آیوگ ، مالیاتی معاملوں پر غور کرتا ہے۔ اسی طرح کا ایک ایسا ادارہ ہونا چاہیے،جو اوور آل ہندوستان کے بارے میں، مجموعی طور پر ہندوستان کے مدعوں پر غور کرے کہ ہندوستان کو کس سمت میںجانا چاہیے۔ لوگوںکے اعتما د کے ساتھ حکومت کریے۔امید کیجئے کہ سرکار ان سب پرعمل کرے گی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here