مدارس میں پہلے سے ہی عصری علوم کامعقول انتظام ہے :علماء کرام

Share Article
madaris
مدارس کو ماڈرن بنانے کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے بیان پر علماء دیوبند نے سخت رد عمل کااظہار کیا ہے ، علماء نے واضح طو رپر کہا کہ حکومت مدرسہ بورڈ سے منسلک مدارس میں دخل اندازی کرسکتی ہے اور ان کو ماڈرن بنانے کے لئے اقدامات کیا جانا ایک اچھا قدم ہے لیکن ہمارے دینی مدارس میں کسی قسم کی تبدیلی منظور نہیں ہے ،مدارس میں پہلے سے ہی انگریزی اور کمپیوٹر کی تعلیم کامعقول انتظام ہے۔
اس سلسلہ میں تنظیم علماء ہند کے صوبائی صدر مولانا ندیم الواجدی نے کہا کہ صوبہ کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے ذریعہ مدرسہ بورڈ کے تحت آنے والے مدارس کو ماڈرن بنانے کی بات صحیح ہے اور وہ ان ہی مدارس کو ماڈرن بناسکتے ہیں جو مدرسہ بورڈ سے ملحق ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ مدرسہ دو طرح سے چلائے جارہے ہیں ، ایک سرکاری مدد سے اور دوسرے عام آدمی کے چندہ سے اس لئے جو مدارس حکومت سے چندہ لے رہے ہیں ان میں دخل اندازی کی پوری آزادی حکومت کو ہے، جب کہ چندہ سے چلائے جارہے مدارس میں دخل اندازی کسی بھی قیمت پر قبول نہیں کی جائے گی۔ مولانا واجدی نے کہا کہ حکومت مدرسہ بورڈ کے تحت چلائے جارہے مدرسوں میں کچھ بھی کرنے کا حق رکھتی ہے لیکن جو مدارس دارالعلوم دیوبند کی طرز پر دینی تعلیم کا فروغ کررہے ہیں حکومت ان مدارس میں اپنی من مانی نہیں کرسکتی کیوں کہ دینی مدارس علم دین کے فروغ اللہ اور اس کے رسول کی تعلیم کو عام کرنے میں لگے ہوئے ہیں ۔
اس سلسلہ میں فتویٰ آن لائن سروس کے چیئرمین مولانا مفتی ارشد فاروقی نے کہا کہ دینی تعلیم دینے والے بہت سے مدرسوں میں حالات حاضرہ کی ضرورت کے پیش نظر کمپیوٹر اورانگلش کی تعلیم کا بھی معقول انتظام ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت مسلمانوں کو ترقی دینے کی بات کررہی ہے اسے چاہئے کہ اعلیٰ تعلیم کے مراکز کھولے جائیں جن میں مسلم بچوں کو اعلیٰ تعلیم مل سکے نہ کہ مدارس میں دخل اندازی کی جائے۔ مفتی ارشد فاروقی نے کہا کہ دینی مدارس میں تعلیم حاصل کرنے والے مسلم بچوں کی تعداد پر اگر نظر ڈالی جائے تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ مسلم آبادی کے صرف 4فیصد بچے ہی مدارس میں تعلیم حاصل کرتے ہیں ۔ حکومت کو چاہئے کہ 96فیصد مسلم بچوں کی فکر کرے اور ان کی تعلیم کے لئے اعلیٰ تعلیم کے مراکزکا قیام کرے اور مسلم بچوں کے لئے خصوصی اسکیمیں چلائے جس سے 96فیصد مسلم بچے فیض حاصل کریں اور تعلیم کے میدان میں آگے آسکیں ۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *