ماڈل نکاح نامہ کا ڈرافٹ تیار!مسلم پرسنل لاء بورڈ کی میٹنگ میں تمام مسلکوں کے علماء کے سامنے رکھا جائے گا

Share Article
aimplb
عدالت عظمیٰ کے فیصلے میں تین طلاق کو غیر آئینی بتانے اور مرکزی حکومت کے ذریعہ تین طلاق کے خلاف قانون بنائے جانے کی کوششوں کے درمیان علماء نے بھی ایک ساتھ تین طلاق پر پابندی کے لئے اقدامات تلاش کرنا شروع کر دیئے ہیں ،جس کے نتیجے میں ماڈل نکاح نامہ تیار کئے جانے کی بات سامنے آ رہی ہے، ماڈل نکاح نامہ کا مسودہ اب تک بہت خفیہ رکھا گیا ہے، بتایا جا رہا ہے کہ ماڈل نکاح نامے میں تقریباً ڈیڑھ درجن ایسے پوائنٹ شامل کئے جارہے ہیں جن پر دونوں فریق کا متفق ہونا نکاح کے لئے ضروری ہے، اس کے باوجود بھی اگر کوئی طلاق دے دیتا ہے تو اسے سزا کے طور پر کئی گنا زیادہ مہر کی رقم ادا کرنا ہوگی۔
ممتاز تعلیمی ادارہ دارالعلوم دیوبند اور مسلم پرسنل لاء بورڈ سے منسلک علماء کے ذریعہ تیار کئے گئے ماڈل نکاح نامے کے مسود کو جمعہ کو حیدرآباد میں منعقد ہونے والی مسلم پرسنل لاء بورڈ کی میٹنگ میں تمام مسلکوں کے علماء کے سامنے رکھا جائے گا۔ اگر بحث و مباحثہ کے بعد تمام علماء اس ماڈل نکاح نامہ پر متفق ہوتے ہیں تو پھر عملی طور پراس کو نافد کیا جائے گااور اس کانفاذ ایک بڑا مرحلہ ہوسکتاہے کیونکہ سماجی اور دیہی لوگوں تک اس کو عملی طورپر لانا مشکل ترین عمل ضرورثابت ہوگا۔ ذرائع کی مانیں تو ماڈل نکاح نامہ اس طرح تیار کیا گیا ہے کہ اگر اس پر پوری طرح عمل کیا جائے تو ازدواجی زندگی خوشگوار رہے گی اور ایک ساتھ تین طلاق روکنے میں بھی کافی حد تک کامیابی حاصل ہو گی، تاہم اس ماڈل کا معاملہ اب تک بہت ہی خفیہ رکھا گیا ہے، لیکن ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ ماڈل 18 نکات پر مبنی ہے،جن میں ترمیم کرکے پیش کیا جائے گا۔ اس کے نفاذ کے لئے تمام مسالک کے علماء اور رہنماؤں کا متفق ہونا بھی ضرور ی ہے۔
یہ ہیں ماڈل نکاح نامہ کے اہم نکات!
ماڈل نکاح نامے میں کن کن نکات کو شامل کیا گیا ہے اس کا رسمی اعلان تو نہیں ہوا ہے لیکن ذرائع کی مانیں تو ماڈل نکاح نامے کے یہ اہم نکات ہوسکتے ہیں!ماڈل نکاح نامہ میں سب سے پہلا نقطہ یہی ہے کہ اس میں شوہر کو اس تحریر پر دستخط کرنے ہونگے وہ ایک ساتھ تین طلاق نہیں دیگا۔*جوڑا شریعت کے مطابق زندگی گزارے*جوڑے ایک دوسرے کے حقوق ادا کرے*میاں بیوی کے تعلقات بہتر رہیں*مشکل حالات میں طلاق کے بجائے دارالقضاء،شرعی پنچایت یا علماء سے رابطہ کریں*دارالقضاء،علماء اور شرعی پنچایتوں کا فیصلہ دونوں کو ماننا ہوگا*اگر کسی کی دوسری شادی تو قاضی کو اس کی پہلے سے معلومات دینی ہوگی*قاضی کو یہ بھی معلومات جمع کرنی ہوگی کہ شوہر نے پہلی بیوی کے تمام حقوق ادا کئے ہیں یا نہیں * دوسری شادی کرنے والا شخص کیا دونوں بیویوں کو برابر حقوق ادا کرسکتا ہے ؟*ان سب کے باوجود بھی اگر کوئی اپنی بیوی کو طلاق دیتاہے تو اس کو مہر کی رقم سے کئی گنا زیادہ رقم ادا کرنی ہوگی۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *