کوہستان میں خواتین کے لیے موبائل فون موت کی علامت

Share Article

خیبر پختونخواہ کے شمالی ضلع کوہستان میں خواتین کو موبائل فون رکھنے کی اجازت نہیں ہے۔علاقائی روایات کے مطابق اس ضلع میں خواتین کے لیے موبائل فون کا استعمال ممنوع ہے جبکہ اس کی سزا موت بتائی جاتی ہے جسے غیرت کے نام پر قتل قرار دیا جاتا ہے۔ اب تک اس علاقے میں ایسے کئی واقعات سامنے آئے ہیں لیکن براہ راست موت کی سزا دیئے جانے کی اطلاع اب تک موصول نہیں ہوئی ہے لیکن اتنا طے ہے کہ خواتین کا موبائل فون رکھنا ایک سنگین جرم تصور کیا جاتا ہے اور اس جرم کی سزا کو غیرت کے نام پر قتل مشہور کردیا جاتا ہے۔
دراصل اس خطہ میں خواتین کا کسی اجنبی مرد سے بات چیت کرنا، ملنا جلنا خاندانی وقار کی توہین سمجھا جاتا ہے اور جب یہ اپنی عورتوں کو کسی اجنبی کے ساتھ بات کرتے ہوئے پکڑ لیتے ہیں تو نہ صرف عورت کا قتل غیرت کے نام پر کردیا جاتا ہے بلکہ اس مرد سے بھی انتقام لینے کی سازش رچی جانے لگتی ہے جس سے بات کرتے ہوئے پکڑی گئی اور اس طرح سے یہ سلسلہ دہائیوں تک دو خاندانوں کے بیچ جاری رہتا ہے۔
پٹن کے علاقے پالس سے تعلق رکھنے والے فیاض کا کہناہے کہ چند سال قبل ان کے چچا زاد بھائی قاری الیاس اور ایک لڑکی کو موبائل فون پر بات کرنے کے الزام میں گولیاں مار کر ہلاک کیا گیا۔ جس کے بعد اب یہ ایک بڑا تنازع بن گیا ہے جس میں اب تک فریقین کے 7 افراد قتل ہو چکے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ملزمان جیل سے باہر ہیں جبکہ کیس تا حال عدالت میں زیر سماعت ہے جس میں عنقریب راضی نامہ ہونے کا امکان ہے۔لیکن راضی نامہ کے بعد بھی یہ معاملہ رک پائے گا یا نہیں یقین سے کچھ نہیں کہا جاسکتا ۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

کوہستان لوئر کے ایک پولیس اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایک اخبار کو بتایا کہ اس علاقے میں ایسے کئی واقعات پیش آئے ہیں۔ تاہم علاقائی روایات کو جواز بنا کر کوئی بھی مقدمے کے اندراج کے لیے تھانے میں نہیں آتا اور نہ پولیس کے ساتھ تعاون کرتا ہے۔پولیس اہلکار کا مزید کہنا تھا کہ پولیس اس روایت کو ختم کرنے کے لیے اسی صورت میں اقدامات کر سکتی ہے جب کوئی متاثرہ خاندان یا خاتون پولیس کو رپورٹ کریں۔ چونکہ اس علاقے میں خواتین کا بغیر مردوں کے گھروں سے نکلنا بھی ممنوع ہے اس لیے آج تک کسی نے پولیس کے پاس شکایت درج نہیں کی۔
محمد حفیظ کا تعلق کوہستان کے علاقے داسو سے ہے۔ انھوں نے مذکورہ اخبار کو بتایا کہ کوہستان میں خواتین کے خلاف جرائم کی شرح دیگر اضلاع کی نسبت اسی وجہ سے کم ہے کہ یہاں خواتین کو موبائل فون رکھنے کی اجازت نہیں ہے۔ لیکن یہاں کی خواتین اپنے شوہر کے موبائل سے اپنے والدین سے بات تو کر سکتی ہیں لیکن اِس کے علاوہ وہ موبائل فون استعمال نہیں کر سکتیں۔ محمد حفیظ کا کہنا تھا کہ اگر کسی خاتون کے پاس موبائل فون مل جاتا ہے اور تحقیق سے پتہ چل جاتا ہے کہ یہ باہر سے آیا ہے تو پھر معاملہ سنگین صورت حال اختیار کر لیتا ہے۔
کوہستان پولیس کے ڈپٹی سپرینٹینڈنٹ الطاف مشوانی کا کہنا ہے کہ غیرت کے نام پر قتل کے متعدد معاملات پولیس کے پاس آئے ہیں لیکن یہاں زیادہ تر کیس مقامی طور پر بنے ہوئے جرگے ہی حل کرلیا جاتا ہے اور اس میں راضی نامے ہو جاتے ہیں۔ اس سوال پر کہ اب تک غیرت کے نام پر قتل میں ملوث کسی ملزم کو گرفتار کیا گیا اور سزا ہوئی ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ پولیس کوشش تو کرتی ہے کہ گرفتاریاں ہوں لیکن علاقے دور دراز اور پہاڑی ہیں جہاں پہنچنے کے لیے دس دس گھنٹے لگتے ہیں تو واقعے کے بعد ملزم فرار ہو جاتے ہیں۔
دوبیر سے تعلق رکھنے والے جاوید کہتے ہیں کہ اب بدلتے وقت کے ساتھ رویوں میں بھی تھوڑی تبدیلی آ رہی ہے اور اب بعض دیہات میں کچھ لوگ گھروں میں موبائل رکھنے لگے ہیں لیکن زیادہ تر گھر کی بڑی عمر کی عورتیں ہی استعمال کرتی ہیں۔نوعمر لڑکیوں کو اب بھی موبائل فون رکھنے کی اجازت نہیں دی جاتی ہے۔اگر کسی خاندان میں نوجوان خاتون کو موبائل رکھنے کی اجازت دینے کا رجحان پایا بھی جاتا ہے تو سماج کے خوف سے وہ ایسا نہیں کرپاتے ہیں کیونکہ سماج میں اسے عمومی طورپر معیوب سمجھا جاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ بہت سے لوگ چاہتے ہوئے بھی اپنی عورتوںکو موبائل فون دینے سے گریز کرتے ہیں۔
پٹن میںخاص طور پر موبائل فون رکھنے پربڑی سختی ہے۔حالانکہ یہ بتایا جاتاہے کہ پہلے یہاں اتنی سختی نہیں تھی لیکن چند واقعات اور خصوصا ًایک ویڈیو سکینڈل کے منظر عام پر آنے کے بعد صورتحال یکسر تبدیل ہوگئی ہے۔خیال رہے کہ 2012 میں صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع کوہستان کے ایک گاؤں میں ایک ویڈیو سامنے آئی تھی جس میں کچھ لڑکے رقص کر رہے تھے اور پانچ لڑکیاں تالیاں بجا رہی تھیں جنھیں مبینہ طور پر مقامی جرگے کے فیصلے کی روشنی میں قتل کر دیا گیا تھا۔اس کے بعد سے لڑکیوں کو موبائل فون رکھنے پر ممانعت میں شدت آگئی ہے۔بہر کیف زمانہ بہت آگے نکل چکا ہے مگر کوہستان کے لوگ اب بھی پتھر کے دور میں جی رہے ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *