سعودی عرب: اہلیہ کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کیلئے موبائل ایپ متعارف

Share Article

absher

ریاض:سعودی عرب میں اہلیہ اور ملازمین کی نقل و حرکت کی نگرانی کے لیے موبائل ایپلیکیشن متعارف کرادی گئی جبکہ انسانی حقوق کے رضاکاروں نے مذکورہ اقدام کو بنیادی حقوق کے منافی قرار دے دیا۔دی اینڈی پنڈنٹ میں شائع رپورٹ کے مطابق سعودی وزارت داخلہ کے زیر انتظام متعارف کرائی جانے والی موبائل ایپ ’Absher‘ یعنی ’جی سر‘ کو تقریباً 10 لاکھ مرتبہ ڈاؤن لوڈ کیا جا چکا ہے۔رپورٹ کے مطابق مذکورہ موبائل ایپلیکیشن کے ذریعے شوہروں کو اپنی اہلیہ کی جانب سے پاسپورٹ استعمال کرنے پر بذریعہ ایس ایم ایس اطلاع مل جائے گی۔انسانی حقوق کی تنظیموں نے سعودی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ ایپلیکیشن کے ذریعے مرد کی بالادستی پر مشتمل نظام کو ختم کرے۔
خواتین کے حقوق کی محقق روتھنا بیگم نے کہا کہ ’سعودی حکام نے موبائل ایپلیکیشن کے ذریعے مردوں کو خواتین اور مالکان کو ملازمین کی نقل و حرکت کو انتہائی محدود کرنے کا موقع فراہم کر دیا‘۔ان کا کہنا تھا کہ ’ایسی پابندیاں لوگوں کی ذاتی زندگی میں مداخلت کے مترادف ہے جس کے نتیجے میں گھریلو تنازعات جنم لیں گے اور ملازمین کے حقوق متاثر ہوں گے‘۔خیال رہے کہ مذکورہ ایپلیکیشن کی مدد سے خواتین کے بیرون ملک دوروں سے متعلق تمام معلومات بھی واضح ہو جائیں گی۔

 

قبل ازیں 6 جنوری کو 18 سالہ رہف محمد مطلق القنون اپنے اہل خانہ کے ہمراہ کویت کی سیاحت پر تھی جہاں سے وہ بنکاک کے راستے آسٹریلیا جانے کی کوشش کے دوران گرفتار ہوئی تھیں۔اپنے اہل خانہ کی جانب سے قتل کیے جانے کے خطرے سے دوچار رہف نے کہا تھا کہ ’میں نے مذہب سے متعلق کچھ باتیں کیں اور مجھے خوف ہے کہ سعودی عرب واپس بھیجنے کی صورت میں مجھے قتل کر دیا جائے گا‘۔بعدازاں سعودی لڑکی کینیڈا میں حفاظتی پناہ کی اجازت ملنے کے بعد براستہ جنوبی کوریا ٹورنٹو پہنچ گئی تھیں۔رہف محمد القنون نے کہا تھا کہ ان کی کہانی سعودی عرب میں دیگر آزاد خیال خواتین کو بھی ملک سے فرار ہونے کے لیے متاثر کرے گی۔
بعدازاں 26 مارچ کو خبر منظر عام پر آئی کہ ہانگ کانگ میں گزشتہ کئی ماہ سے پھنسی ہوئی دو سعودی بہنوں کو انسانی بنیادوں پر ویزا ملنے کے بعد ایک تیسرے ملک پہنچا دیا گیا جس کا نام تاحال نہیں بتایا گیا۔سعودی عرب سے تعلق رکھنے والی لڑکیوں ریم اور راوان کے قانونی مشیر کا کہنا تھا کہ ان کی مہینوں سے جاری آزمائش ختم ہوچکی ہے اور اب وہ انسانی بنیادوں پر حاصل ویزے پر تیسرے ملک پہنچ چکی ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *