میزورم اسمبلی انتخاب: کانگریس پر بھاری پڑے گا قومی ایشو

p-9bمیزورم میں اسمبلی انتخاب 25 دسمبر کو ہورہا ہے۔انتخاب کی تیار ی میں ریاست میں ہلچل مچنے لگی ہے۔ سبھی پارٹیاں اپنی تیاری میں لگ گئی ہیں۔ ریاست میں 6 لاکھ86 ہزار3 سو5 ووٹرس اسمبلی انتخاب میں اپنی حق رائے دہی کا استعمال کریں گے۔اس وقت ریاست میں کانگریس کی حکومت ہے۔40 سیٹوں والی اس ریاست میں اپوزیشن پارٹی میزو نیشنل فرنٹ ہے۔

ریاست میں اس بار کے انتخاب میں قومی ایشو کی گونج زور پکڑ رہی ہے۔ میزورم کے قومی ایشو کو اور بھی مضبوط کرنے کے لئے ریاست کی تین علاقائی پارٹیوں کا اتحادہواہے۔ تینوں پارٹیاں میزو نیشنل فرنٹ ( ایم این ایف)، میزورم پیپلز کنوینشن ( ایم پی سی) اور مارا ڈیموکریٹک ہیں۔ طویل وقت سے جاری کوششوں کے بعد تینوں پارٹیوںمیں یہ اتحاد ہوا ہے۔ آئندہ اسمبلی انتخاب کے لئے تینوں پارٹیاں مل کر کام کرنے کے لئے متفق ہو گئی ہیں۔ ایم پی سی کے ایگزیکٹیو جنرل سکریٹری نے بتایا کہ ہم کم سے کم 31 سیٹیں ضرور جیتیں گے۔ایم پی سی 8 اسمبلی سیٹوں سے انتخاب لڑے گی، ایم ڈی ایف صرف ایک سیٹ (درج فہرست)پر انتخاب لڑے گی اور ایم این ایف کل 38 اسمبلی حلقوں سے انتخاب لڑے گی۔ تینوں پارٹیاں قوم پرستی اور ریاست میں گڈ گورننس کی بحالی پر زور دیںگی۔ گریٹر میزورم کی تشکیل کی مانگ کو انتخابی ایشو بنا کر لوگوں سے اپیل کی گئی ہے کہ ریاست کے اندر سبھی میزو متحد ہوکر رہ سکیں۔ ایک گورنمنٹ مشینری کے تحت سبھی میزو کو متحد ہونے کی اپیل تینوں پارٹیوں نے کی۔مرکزی حکومت اور لال ڈینگا کے درمیان 30 جون 1986 کو ہوئے سمجھوتے کے مطابق میزو لوگوں کی سماجی، تہذیبی اور مذہبی مفاد کی حفاظت کے لئے پُر عزم ہے۔ اس کے ساتھ ہی میزورم نیشلسٹ پارٹی اور بی جے پی نے بھی اپنی کمر کسنا شروع کردی ہے۔
میزورم اسمبلی کی 40 سیٹوں کے لئے انتخابی میدان میں اترے امیدوار وں میں 16 امیدوار کروڑ پتی ہیں۔ کروڑ پتی امیدواروں میں 9 بر سراقتدار کانگریس کے ہیں، جبکہ اپوزیشن پارٹی میزو نیشنل فرنٹ کے 4 ، زورم نیشنل پارٹی (زیڈ این پی ) کے دو اور میزو پیپلز کانفرنس کا ایک امیدوار کروڑپتی ہے۔ان کروڑ پتی امیدواروںمیں سب سے زیادہ مالدار امیدوار اسمبلی کے سابق چیئر مین اور سیرلوئی اسمبلی حلقے سے انتخابی میدان میں اترے زورم نیشلسٹ پارٹی ( زیڈ این پی ) امیدوار آر لالاویا ہیں۔ جن کی کل جائداد 69 کروڑ روپے کیہے۔لالاویا نے انتخابی دفتر کو پیش کیے گئے اپنے حلف نامہ میں 69 کروڑ روپے کی جائداد کے مالک ہونے کا ذکر کیا ہے۔ ان کے بعد سب سے زیادہ امیر امیدوار سابق وزیر اور ایم این ایف امیدوار مغربی ایزل سیٹ سے قسمت آزمارہے ہیں۔
ان امیدواروںمیں سنگ تھوآما ہیں جن کی کل جائداد 1808 کروڑ روپیکی ہے۔ پارٹی کے اہم عہدیداروں میں وزیر اعلیٰ اور میزورم ریاستی کانگریس صدر لل تھن ہائولا سب سے امیر امیدوار ہیں۔ ان کے پاس 9 کروڑ 15 لاکھ روپے کی جائداد ہے۔ اس کے بعد میزو نیشنل فرنٹ کے امیدوار اور سابق وزیر اعلیٰ زورم تھنگا ہیں جن کے پاس دو کروڑ 16 لاکھ روپے کی جائداد ہے۔ میزوروم پیپلز کانفرنس کے چیف لال بھنگیا سیلو کے پاس 2 کروڑ ایک لاکھ روپے کی جائدادہے۔ وہ انٹرنل ریونیو سروس کے سابق آفیسر ہیں ۔زورم نیشنل پارٹی کے صدر اور سابق پارلیمانی ممبر لالدو ہوما ایک کروڑ 7 لاکھ روپے کی جائداد کے مالک ہیں۔ ریاست کے وزیر برائے کھیل جوڈنتلو آنگا کی جائداد کی قیمت تین کروڑ 8 لاکھ روپے ہے، وہ تھورانگا سیٹ سے انتخاب لڑ رہے ہیں۔ وزیر داخلہ آر لالجرلیانا 6 کروڑ 47 لاکھ روپے سے زیادہ کی جائداد کے مالک ہیں۔وہ تاوی سے انتخاب لڑ رہے ہیں۔ وزیر ٹرانسپورٹ پی سی زورم سنگالیانا کے پاس 2 کروڑ 13 لاکھ روپے کی جائداد ہے۔میزورم اسمبلی کے چیئرمین آر روماویا کے پاس ایک کروڑ 34 لاکھ روپے کی جائداد ہے، جبکہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ منسٹر ایس ہیاتو تین کروڑ 24 لاکھ روپے کے مالک ہیں۔ آبکاری وزیر جے ایچ ریتو آما کے پاس ایک کروڑ دو لاکھ روپے کی جائداد ہے، جبکہ ان کے ڈپٹی منسٹر نہار کانتی چمکا کی جائداد کی قیمت ایک کروڑ سات لاکھ روپے ہے۔ سماجی بہبود کے وزیر پی سی لال تھن لیانا کی جائداد کی قیمت ایک کروڑ دو لاکھ روپے ہے۔ سابق وزیر تان لوئیا اور میزو نیشنل فرنٹ سے جنوبی ایزل تین کے امیدوار کی جائداد کی قیمت تین کروڑ چھ لاکھ روپے ہے۔ سابق وزیر اور ایم این ایف کے ایزل جنوبی دو سے امیدوار آر تنگا منگا تھنگا کی جائداد 6 کروڑ 8 لاکھ روپے کی ہے۔ 25 نومبر کو ہونے والے میزورم اسمبلی انتخاب کے لئے 139 امیدواروں میں بی جے پی کے ایزل شمالی تین سیٹ سے بیک ماویا سب سے کم جائداد والے امیدوار ہی، ان کے پاس صرف 10 ہزار روپے ہیں۔
اس وقت کے وزیر اعلیٰ لل تھن ہائولا 1984 سے ہرنگ ٹرجو اسمبلی حلقے سے پانچ مرتبہ جیت چکے ہیں۔ وہ ایک بار 1998 میں ہارے تھے۔ اس سے پہلے وہ چنفائی اسمبلی حلقے سے 1978 اور 1979 میں جیتے تھے، مگر 1987 کے بعد میزورم نیشنل فرنٹ کے چیف زورم تھنگا کے اسمبلی حلقے کو اپنا اڈہ بنا لیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ اپوزیشن پارٹی میزورم نیشنل فرنٹ ( ایم این ایف) آئندہ اسمبلی انتخاب میں سی للرا مجوا کو اس وقت کے وزیر اعلیٰ لل تھن ہائولا کے خلاف مقابلے میں اتارسکتا ہے۔ 2008 کے اسمبلی انتخاب میں للتھن ہائولا نے للرا مجوا کو 952 ووٹوں سے شکست دی تھی، جو کہ زورم نیشلسٹ پارٹی اور ایم پی سی کے مشترکہ امیدوار تھے، جبکہ میزورم نیشنل فرنٹ کے امیدوار آر للہنونا تیسرے پائیدان پر تھے۔ اگر وزیر اعلیٰ للتھن ہائولا ہرانگ ٹرجو سیٹ سے بھی ریزرو سیٹ سے انتخاب لڑتے ہیں، تب بھی انہیں ایم پی سی کے للتھن سنگا کا سامنا کرنا ہوگا۔ للتھن سنگا نے گزشتہ اسمبلی انتخاب میں اس سیٹپر کانگریسی امیدوار رونالڈ سپا تلو کو 452 ووٹوں کے فرق سے ہرایا تھا۔
الیکشن کمیشن نے سرکاری طور پر یہ کہا ہے کہ میزورم سے نقل مکانی کی شکار برادری ریانگ کو آئندہ انتخاب میں حصہ لینے کی اجازت دی جائے گی۔ شمالی تریپورہ ضلع میں6 امدادی کیمپوں میں رہنے والے ریانگ ووٹروں کو 19 اور 20 نومبر کو شمالی تریپورہ ضلع میں امدادی کیمپوں میں بیلٹ پیپرفراہم کرنے کی سہولت فراہم کی جاسکتی ہے۔ ریانگ برادری نوڈل آفیسر کے ساتھ فارم 12 سی میں بیلٹ پیپر جاری کرنے کے لئے درخواست دے سکتی ہے۔ تقریبا 37 ہزار ریانگ تریپورہ کے شمالی تریپورا ضلع کے کنچھن پور سب ڈویژن میں 6 امدادی کیمپوری میں رہ رہے ہیں۔ وہ 1997-98 میں ہوئے میزو ریانگ فساد کے بعد سے تریپورا میں پناہ لئے ہوئی ہیں۔
ویسے ریاست میں شدت پسند تنظیموں کے بیچ پر امن انتخاب ہو پانا اپنے آپ میں ایک بڑا سوال ہے۔ یہ تنظیمیں ریاست کے مغرب اور شمال مشرقی حصے میں زیادہ متحرک ہیں اور ان کی وجہ سے ہی ہر بار خوف کے سائے میں انتخاب ہوتا ہے۔ اس لئے ریاست میں پولیس کا بندوبست ضروری ہے۔ انتخابی مشن کے خرچ پر الیکشن کمیشن کے ذریعہ لگائی گئی پابندی کے باوجود امیدواروں کے دروازے پر سنگیت پروگرام شمال مشرقی پہاڑی ریاستوں کی خاص شناخت ہے۔ میزومذہبی ادارہ پروسبٹرین چرچ نے آنے والے میزورم اسمبلی انتخاب میں انتخابی تشہیر کے دوران باغی اور مسلح گروپوں کا استعمال نہ کرنے کے لئے سیاسی پارٹیوں سے اپیل کی ہے۔ میزورم پولیس فورم ( ایم پی ایف) کو میزورم کی سب سے بڑی دھرم سبھا کی طرف سے ایک الیکشن واچ ڈاگ جاری کیا گیا ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ انتخابات میں ملک کی بیشتر ریاستوں میں بھلے ہی ماحولیات اور موسمی تبدیلی جیسے ایشو کو اہمیت نہیں دی جاتی ہے، لیکن میزورم اسمبلی انتخاب کے دوران یہ ایشو بہت اہم بن کر ابھرے۔بانس میں آئے پھول، ریاست کی سب سے بڑے معاشی اور ماحولیاتی مسئلے بنے ہوئے تھے، جن سے نمٹنے کے لئے وہاں کی سرکار نے کئی منصوبوں کا اعلان کیا ہے۔ چوہے مارنے والوں کو انعام بھی دیے جارہے تھے۔ ہریالی سے ڈھکے میزوروم کے لوگ ماحولیاتی توازن کو لے کر سنجیدہ رہتے ہیں ، اس لئے سیاسی پارٹیوں نے اسے اہم ایشو بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔ ریاست کے 80 فیصد حصے میں جنگل ہے۔ زیادہ تر پارٹیوں نے گزشتہ الیکشن میں اسے اپنے ایجنڈے میں اہمیت کے ساتھ شامل کیا تھا، مگر اس مرتبہ بد عنوانی اور میزو قوم پرستی کو ایشو بنایا ہے۔
ریاست کے چیف الیکشن کمشنر اشونی کمار نے 1,126 ووٹنگ سینٹروں میں سے 94 کو حساس قرار دیا ہے۔ ریاست میں ضابطۂ اخلاق نافذ ہے۔ ریاست میں امن برقرار رکھنے کے مد نظر سینٹرل پیرا ملٹری فورسیز کی 31 کمپنیوں کے ساتھ ریاست کی 8آرمڈ پولیس بٹالین تعینات کردی گئی ہے۔ یہاں 25 دسمبر کو ووٹنگ اور 8 دسمبر کو گنتی شروع ہوگی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *