عاپ کے دور میں بھی اقلیتیں بدحال

Share Article
AAP Government

ابھی حال میں دہلی اقلیتی کمیشن کی 152 صفحات پر مشتمل سالانہ رپورٹ برائے 2017-18 نے یہ انکشاف کرکے سبھی کو چونکا دیا ہے کہ دہلی میں 2015 سے عام آدمی پارٹی (عاپ )کے دور حکومت میں بھی سرکاری نوکریوں میں اقلیتوں کی نمائندگی5 فیصد سے بھی کم رہی۔ عیاں رہے کہ دہلی میں آئینی طور پر تسلیم شدہ 6 مذہبی اقلیتوں مسلمان، عیسائی، سکھ، بدھسٹ ،جین اور پارسی تقریباً 20 فیصد ہیں۔
جہاں تک مسلم کمیونٹی کا معاملہ ہے، سب سے بڑی مذہبی کمیونٹی یعنی 12.86فیصد ہونے کے باوجود اس کی حالت سب سے زیادہ خراب ہے اور ان کی تمام سرکاری نوکریوں میں نمائندگی تمام مذہبی اقلیتوں میں سب سے کم ہے۔ اس کا صاف مطلب یہ ہوا کہ اس سب سے بڑی اقلیت کی سرکاری نوکریوں میں بدحالی کو دہلی میں اقتدار میں 15 برس تک رہی نہ کانگریس اور نہ ہی گزشتہ 4 برس سے برسراقتدار عاپ سرکار دور کرسکی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وزیر اعظم کے 15نکاتی اقلیتی پروگرام پر یہاں کوئی قابل ذکر عمل نہیں ہوا۔ نیز سچر رپورٹ کی سفارشات پر بھی توجہ خاطر خواہ نہیں دی گئی۔ قابل ذکر ہے کہ مسلمانوں کی مجموعی صورت حال کا جائزہ لیتے ہوئے سچر رپورٹ میں ریاست وار سرکاری نوکریوں میں اقلیتوں کی کم نمائندگی کو بتایا گیا تھا اور اسے ٹھیک کرنے کے لئے ایکوئل اپارچونیٹی کمیشن تک تشکیل کرنے کو کہا گیا تھا۔

 

آخر مہنگائی کا حل ہے کیا؟

 

دہلی پولیس ہویا دہلی میٹرو، دہلی ڈیولپ منٹ اتھارٹی ( ڈی ڈی اے ) ہو یا دہلی فائر یا دہلی ٹورزم اینڈ ٹرانسپورٹیشن، ہر ایک سرکاری محکمہ اقلیتوں کی کم نمائندگی کی کہانی کہہ رہا ہے۔ دہلی میں سرکاری نوکریوں کے سب سے بڑے امپلائر دہلی پولیس میں ان دنوں 2017-18 میں 75 ہزار 681 میں سے صرف 2 ہزار 885 (3.81فیصد) اقلیتیں ہیں۔ 2015-16 میں اس کے کل ملازمین 77 ہزار 397 میں سے صرف اقلیتیں 2 ہزار 397 اور 2016-17 میں 77 ہزار 427 ملازمین میں سے صرف 3 ہزار 35 اقلیتیں تھیں۔
دہلی پولیس کے بعد دوسرا سب سے بڑا امپلائر گروپ دہلی میٹرو ہے۔ 2017-18 میں اس کے کل ملازمین 12 ہزار 118 میں اقلیتیں صرف 475(3.92 فیصد ) تھیں جبکہ 2015-16 میں 8 ہزار 524 ملازمین میں اقلیتیں محض 282 اور 2016-17 میں 8ہزار 524 میں صرف 283 اقلیتیں تھیں۔2017-18میں ڈی ڈی اے کے بھی کل ملازمین 4 ہزار 28 میں سے صرف 223 (5.83فیصد)اقلیتیں تھیں۔ اسی طرح 2015-16 میں یہاں 6 ہزار 31 میں صرف 295 اقلیتیں تھیں۔
2017-18 میں دہلی فائر میں کل ملازمین 2 ہزار 11 میں محض 26 (1.29فیصد) اقلیتیں تھیں جبکہ 2015-16 میں ایک ہزار 843 میں صرف 21 اور 2016-17 میں دو ہزار 80 میں محض 26 اقلیتیں موجود تھیں۔ دہلی ٹورزم اور ٹرانسپورٹیشن میں 2017-18 میں 649 میں صرف 28 جبکہ 2015-16 میں کل 741 میں 32 اور2016-17 میں 716 میں 43 اقلیتوں کی نمائندگی تھی۔

 

بیمار پاکستانی طبی خدمات کو درست کرنے کی ضرورت

 

 

مخصوص مسلم نمائندگی سب سے زیادہ کم
2011 کی مردم شماری کی روشنی میں دہلی میں مذہبی اقلیتیں 18.23 فیصد ہیں جن میں مسلمان سب سے بڑی تعداد 12.86 فیصد ہیں۔ دہلی میں کل ہندو 81.68 ، مسلمان 12.86 ، عیسائی 0.87فیصد، سکھ 3.4 فیصد ، بدھسٹ 0.11 ، جینی 0.99فیصد، دیگر .01 فیصد ہیں۔دہلی اقلیتی کمیشن کی مذکورہ رپورٹ کے مطابق، کل 15سرکاری محکمات میں کچھ میں تو مسلمان بدترین حالت میں ہیں۔2017-18 میں دہلی پولیس میں 75 ہزار 681 میں مسلمان صرف 1269 (1.69) ہیں۔ جوکہ گزشتہ برس کی تعداد سے بھی کم ہو۔ یہ دراصل دہلی پولیس میں کم ہوتی ہوئی مسلم تعداد کو دکھاتا ہے۔

 

 

31دسمبرکے بعدبندہوجائے گا ان اسمارٹ فون پرواٹس ایپ

 

اب آئیے، ذرا جائزہ لیں صرف مسلم نمائندگی کا دہلی کے دیگر سرکاری محکمات میں۔
دہلی میٹرو میں 2017-18 میں کل 12 ہزار 118 ملازمین میں مسلمان صرف 351 یعنی 2.89 فیصد تھے جبکہ 2016-17 میں کل 8ہزار 524 ملازمین میں مسلمان صرف 184 تھے۔ اسی طرح ڈی ڈی اے میں 2017-18 میں کل ملازمین 4 ہزار 28 میں مسلمان صرف 113 یعنی 2.8فیصد تھے۔ دہلی فائر میں 2017-18 میں کل دو ہزار 11 میں مسلمان محض 9 یعنی .44 فیصد تھے ۔ جبکہ 2016-17 میں یہ کل ملازمین دو ہزار 80 میںصرف 9 تھے۔ جہاں تک محکمہ ٹورزم اور ٹرانسپورٹیشن کا معاملہ ہے، 2017-18 میں کل ملازمین 649 میں مسلمان 9 یعنی 1.38 فیصد اور 2016-17 میں کل 716 ملازمین میں صرف 11 تھے۔
اسی طرح فی الوقت نئی دہلی میونسپل کارپوریشن میں کل 399 ملازمین میں مسلمان 9 یعنی 2.25 فیصد ہیں۔ ویلفیئر محکمہ میں 61 ملازمین میں ایک مسلمان یعنی 1.12 فیصد ہیں۔ فائنانس محکمہ میں 695 ملازمین میں مسلمانوں کی تعداد صرف 4 ہے جبکہ یہاں عیسائی 14 اور سکھ 9 ہیں۔ پبلک گریوانس کمیشن میں تو کوئی مسلم اسٹاف ہے ہی نہیں۔ یہاں فی ا لوقت 23 ملازمین میں صرف ایک سکھ ہے۔ ڈائریکٹوریٹ آف ٹریننگ میں تین مسلمان یعنی 7.69 فیصد ہیں۔
مسلم نمائندگی میں سب سے مضحکہ خیز صورت حال تو دہلی اقلیتی کمیشن جس کی یہ سالانہ رپورٹ ہے ،کی ہے۔ اس رپورٹ کی روشنی میں یہاں 11 ملازمین میں صرف ایک مسلمان ہیں۔ دہلی اقلیتی کمیشن کو ڈائریکٹوریٹ آف آڈیٹ، ڈپارٹمنٹ آف فوڈ اینڈ سیفٹی، ریونیو ڈپارٹمنٹ ، سائوتھ دہلی میونسپل کارپوریشن، ایسٹ دہلی میونسپل کارپوریشن، نئی دہلی میونسپل کارپوریشن اور دہلی ویمن کمیشن اور کمیشن فار او بی سی میں مسلم نمائندگی کی صورت حال نہیں معلوم ہوسکی۔ اس لئے اس کا مذکورہ رپورٹ میں کوئی تذکرہ نہیں ہے ۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *