ہارون ریشی
p2ایک ایسے وقت میں جب وادی کشمیر میں عسکریت پسندوں کی پُر تشددکارروائیوں کا گراف بڑھتاجارہا ہے،وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کی جانب سے تشدد کی اِن کارروائیوں کو دین اسلام سے جوڑنے کی دانستہ یا غیر دانستہ کوششوں پر وادی کے سیاسی ، سماجی اور مذہبی حلقوں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔
25جون کو سرینگر کے مضافات میں پانپور کے قریب نیشنل ہائے وے پر ملی ٹنٹوںنے سینٹرل ریزرو پولیس فورس( سی آر پی ایف) کی ایک کانوائے پر گھات لگا کر حملہ کیا ، جسکے نتیجے میں فورس کے 8جوان مارے گئے اور کم ازکم22زخمی ہوگئے۔محبوبہ مفتی نے اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا،’’میں ایک مسلمان کی حیثیت سے شرمندہ ہوںکہ رمضان کے مہینے میں اس طرح کی کارروائی کی گئی۔‘‘ اسلام مخالفانہ سوچ رکھنے کے لئے بدنام زمانہ مصنف تسلیمہ نسرین نے محبوبہ کے بیان پر ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا،’’ میڈیم سچ کہنے پر مبارکباد ہو۔ آپ نے کہا کہ دہشت گردی اسلام کا ہی شاخسانہ ہے۔ جس پر مسلمانوں کو شرمندہ ہونا چاہیے۔‘‘
محبوبہ کے متنازعہ بیان اور اس پرتسلیمہ نسرین کے تبصرے کے بعد وادی کے سیاسی ، سماجی اور مذہبی حلقوں کی جانب سے محبوبہ کے بیان پر مخالفانہ ردعمل آنا شروع ہوگیا۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ صرف چند ہفتے پہلے سے محبوبہ مفتی نے اسی طرح کا ایک اور متنازعہ بیان دیتے ہوئے کہا تھا ،’’یہاں کے لڑکوں کی داڑھی لمبی اور انکے پاجامے چھوٹے ہورہے ہیں۔‘‘ در اصل اُن کا کہنا تھا کہ کشمیر میں صوفی اسلام پر اب سعودی اثرات غالب ہورہے ہیں۔ محبوبہ کے اس بیان پر بھی ان کی خوب مخالفت کی گئی ۔ بات صرف یہیں ختم نہیں ہوئی ۔ پانپور حملے کے دو دن بعد ایک سنسنی خیز میڈیا رپورٹ میں انکشاف ہوا کہ محبوبہ مفتی کی قیادت میں قائم پی ڈی پی اور بی جے پی سرکار وادی میں ائمہ مساجد اور مبلغین کی خفیہ جانچ پڑتال ہورہی ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق حکومت کی خفیہ پولیس نے تمام مساجد کے ائمہ اور خطباء کی پروفائلنگ کررہی ہے اور اُن کے علاحدگی پسندانہ خطابات پر کڑی نظر رکھی جارہی ہے۔‘‘
علاحدگی پسند لیڈروں نے حکومت کے اس مبینہ منصوبے پر شدید درعمل کا اظہار کیا ہے۔مذہبی جماعتوں نے اسے مداخلت فی الدین قرار دیا ہے۔مذہبی و سیاسی رہنما میر واعظ عمر فاروق نے اس موضوع پر ’’چوتھی دُنیا‘‘کے ساتھ ایک بات چیت میں کہا،’’محبوبہ مفتی کو چاہیے کہ وہ دینی معاملات میں مداخلت نہ کریں۔ ہمیں پتہ ہے کہ وہ یہ سب نئی دلی کو خوش رکھنے کے لئے کررہی ہیں۔ لیکن ائمہ مساجد اور علما کی تقریروں پر نظر گزر رکھنے کے مبینہ حکومتی منصوبے سراسر مداخلت فی الدین ہے۔ ہم اس کی اجازت ہر گز نہ دیں گے۔
وادی میں اس وقت ایک عام تاثر یہ پایا جارہا ہے کہ محبوبہ مفتی دراصل اس طرح کے متنازعہ بیانات دیکر مرکز میں قائم مودی سرکار اور ریاست میں اپنی اتحادی جماعت بی جے پی کو خوش کرنے کے لئے دے رہی ہیں۔سینئر صحافی سبط محمد حسن کہتے ہیں،’’ محبوبہ مفتی جانتی ہیں کہ وہ پانچ سال کے لئے وزیر اعلیٰ کی مسند پر بیٹھی ہیں۔ اس وقت انہیں عوام سے زیادہ نئی دلی اور اپنی اتحادی جماعت کو خوش رکھنے کی ضرورت ہے۔عوام کو لبھانے اور خوش رکھنے کی ضرورت الیکشن کے وقت ہی ہوتی ہے۔چونکہ محبوبہ مفتی ایک منجھی ہوئی سیاست دان ہیں ، وہ جانتی ہے ، کہ الیکشن کا موسم آتے ہی انہیں کس طرح رنگ بدلنا ہے۔ فی الحال وہ اس بات کا خیال رکھی ہوئی ہیں کہ بی جے پی اُن سے کیسے مطمئن رہ سکتی ہے۔‘‘ ایک اور سینئر صحافی اور سیاسی تجزیہ ناگار گوہر گیلانی کا کہنا ہے کہ در اصل محبوبہ مفتی میں نظریاتی بدلائو آچکا ہے۔ گوہر کا استدلال ہے،’’ سال 2014کے اسمبلی انتخابات کی مہم کے دوران محبوبہ مفتی بی جے پی کی مخالفت کرنے کا کوئی موقعہ ہاتھ نہیں جانے دیتی تھیں،لیکن اب حال ہی میں انہوں نے کھلے لفظوں میں کہا کہ اگر اُنہیں سو بار بھی بی جے پی کے ساتھ اتحاد کرنا پڑے گا تو وہ نہیں ہچکچائیں گی۔ ظاہر ہے کہ محبوبہ کی سوچ میں مکمل بدلائو کا برملا ثبوت ہے۔‘‘
قابل ذکر ہے کہ محبوبہ مفتی کے بارے میںماضی میں یہ ایک عام تاثر تھا کہ وہ علاحدگی پسندوں اور ملی ٹنٹوں کے تئیں نرم گوشہ رکھتی ہیں۔ محبوبہ کی جانب سے مرنے والے ملی ٹینٹوں کے گھروں میں جاکر اُن کے لواحقین سے اظہار تعزیت کرنے سے اس عام تاثر کو ہمیشہ تقویت ملی ہے۔لیکن اب ان کے بیانات سے صاف لگ رہا ہے کہ اُن کی سوچ میں تبدیلی آچکی ہے۔تاہم بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ محبوبہ مفتی دیگر سیاست دانوں کے برعکس عام طور پر دو ٹوک لفظوں میں سچائی بیان کرتی ہیں ۔ اسلئے ان کے بیانات متنازعہ لگتے ہیں۔ سینئر صحافی اورروزنامہ’’چٹان ‘‘ کے ایڈیٹر طاہر محی الدین کہتے ہیں،’’ پانپور حملے کے بعد محبوبہ نے جو بیان دیا اُس کو غلط تناظر میں سمجھا گیا۔ میرے خیال سے وہ صرف یہ کہنا چاہتی تھیں کہ اسلام میں اس طرح کی پر تشدد کارروائیوں کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اور یہ بات دُنیا بھر کے بڑے جید علماء بھی کہتے رہے ہیں۔‘‘ طاہر محی الدین نے ’’چوتھی دُنیا ‘‘ کو بتایا،’’ اپنے والد کے برعکس محبوبہ مفتی دو ٹوک الفاظ میں بات کرتی ہیں۔ اسی لئے ان کے بیانات غیر معمولی نظر آتے ہیں۔‘‘
واضح رہے محبوبہ مفتی کو چند ہفتے پہلے اُس وقت بھی مخالفانہ ردعمل کا سامنا کرنا پڑا تھا ، جب انہوں نے مہاجر کشمیری پنڈتوں کے لئے علاحدہ بستیاں بسانے کے حکومتی منصوبے کا دفاع کرتے ہوئے کہا تھا،’’ کشمیری پنڈت آئیں گے تو کہاں رہیں گے۔ میں کبوتروں کو بلی کے سامنے نہیں رکھ سکتی ۔‘‘ اُن کے اس بیان سے یہ تاثر لیا گیا کہ انہوں نے کشمیری پنڈتوں کو کبوتروں( مظلوموں) اور کشمیری مسلمانوں کو بلی( ظالموں ) سے تشبیہ دی۔
مجموعی طور پر محبوبہ مفتی کے آئے دن کے بیانات متنازعہ ثابت ہورہے ہیں۔ ریاست کے حالات و واقعات پر گہری نظر رکھنے والے مبصرین کا کہنا ہے کہ محبوبہ مفتی در اصل کشمیر بڑھتی ہوئی ملی ٹینسی کی وجہ سے پریشان ہیں ۔ کیونکہ اُن کا ہر متنازعہ بیان بنیادی طور پر ملی ٹنسی کی مخالفت سے ہی منسوب ہوتا ہے۔ ریاستی محکمہ داخلہ کے اعداد و شمار کے مطابق وادی سال 2013سے اب تک وادی میں دو سو ملی ٹینٹ مارے گئے ہیں۔ ان میں سے 103مقامی اور 45غیر ملکی تھے۔ باقیوں کی شناخت نہیں ہوپائی ہے۔ اس سال اب تک تشدد کی مختلف کارروائیوں میں 20ملی ٹینٹ اور 21سیکورٹی اہلکار مارے جاچکے ہیں۔ پولیس کے مطابق اس وقت بھی ریاست میں 145ملی ٹینٹ سرگرم ہیں ، جن میں 91مقامی اور 54غیر ملکی ہیں۔ یہ اعداد و شمار اس بات کا ثبوت ہیں کہ ریاست میں سیکورٹی فورسز کی بھاری تعیناتی کے باوجود ملی ٹنسی قابو میں نہیں ہے۔ظاہر ہے کہ ایسی صورتحال میں ریاست کی وزیر اعلیٰ کا پریشان ہوجانا اور پریشانی کی حالت اوٹ پٹانک بیانات دینا قابل فہم ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here