ملئے! جمہوریت کے بادشاہوں سے

Share Article

ششی شیکھر
سیاست پیشہ ہے یا سماجی خدمت کا ذریعہ۔ اس کا جواب اس سال پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کو دیکھ کر مل جاتا ہے۔ اجلاس کے دوران ممبران پارلیمنٹ نے جس طریقے سے اپنی تنخواہ اور الاؤنس بڑھانے کا مطالبہ کیا اس سے یہ صاف ہوگیا کہ ان ممبران کے لیے سیاست، سماجی خدمت کا ذریعہ تو قطعی نہیں ہوسکتی۔ ان کے لیے سیاست، پیشہ سے بھی ایک قدم آگے کی چیز ہے یعنی بھرپور راحت و سہولت حاصل کرنے کا ایک ذریعہ۔ خواہ اس کے لیے عوام کو کوئی بھی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے، لیکن یہ حال صرف ممبران پارلیمنٹ کا ہی نہیں ہے۔ ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ بھی عوام کی جیب ڈھیلی کر کے سہولیات حاصل کرنے میں پیچھے نہیں ہیں۔ وہ بھی تب جب دہلی جیسے شہر میں 80ہزار سے زیادہ لوگوں کے سر پر چھت نہیں ہے۔ ودربھ میں اب تک 2لاکھ سے زیادہ کسان موت کو گلے لگاچکے ہیں۔ اترپردیش میں ہر سال سیکڑوں بچے انسیفلائٹس کی وجہ سے دم توڑ دیتے ہیں، لیکن ان ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ کی طرز زندگی پر نظر ڈالیں تو ایک الگ ہی تصویر دکھائی دیتی ہے۔ چمک دمک سے بھر پور تصویر، بالکل انڈیا شائننگ کی طرح۔ جس ملک کی ایک بڑی آبادی کو پینے کا صاف پانی میسر نہیں، وہیں ان ریاستوں میں سے ایک وزیر اعلیٰ کی رہائش گاہ کے پانی کا بل 62لاکھ روپے آئے تو اسے آپ کیا کہیںگے؟ اترپردیش یا مہاراشٹر کے کتنے گاؤں تک بجلی پہنچی ہے اور اگر پہنچی بھی ہے تو کتنے گھنٹوں کے لیے بجلی آتی ہے۔ یہ تحقیق کا موضوع ہوسکتا ہے، لیکن ان دونوں ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ اپنی رہائش گاہ کو روشن کرنے کے لیے مہینے میں 20؍لاکھ سے زیادہ کی بجلی خرچ کردیتے ہوں تو اسے آپ کیا کہیںگے؟ ’چوتھی دنیا‘ نے اترپردیش، مہاراشٹر اور دہلی کے وزرائے اعلیٰ کی رہائش گاہوں پر ہونے والے اخراجات کے اعداد وشمار آر ٹی آئی کے ذریعہ حاصل کیے ہیں۔ موصولہ اطلاعات کی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ کیسے عام آدمی کی گاڑھی کمائی کو ان ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ کی رہائش گاہ پر بے حساب خرچ کیا جارہا ہے۔ وزیراعظم بھلے ہی اپنے وزراء کو غیرملکی دورے نہ کرنے اور سرکاری خرچ میں کمی کی صلاح دیتے رہتے ہیں، لیکن مہاراشٹر میں انہی کی پارٹی کے وزیراعلیٰ اپنی رہائش گاہ کی رنگائی پتائی پر پانچ سالوں میں 86لاکھ روپے پانی کی طرح بہا دیتے ہیں۔ اترپردیش میں مایاوتی کے شاہی خرچ کی عادت کے مطابق ہی ان کی رہائش گاہ کی دیکھ بھال پر خرچ کیا جارہا ہے اور یہ سب کچھ ہو رہا ہے ایک ایسے ملک میں جہاں کا ہر ایک تیسرا ہندوستانی غریب ہے۔ 70فیصد آبادی کی روز انہ کی آمدنی 20روپے سے بھی کم ہے۔ گلوبل ہنگر انڈکس 2009کے اعداد و شمار کے مطابق ہندوستان میں بھوکے، پرورش سے محروم لوگوں کی تعداد پاکستان، نیپال، سوڈان، پیرو، مالاوی اور منگولیا جیسے ملکوں سے بھی زیادہ ہے۔ پانچ برس سے کم عمر کے انڈر ویٹ (عمر کے حساب سے کم وزن) بچوں کی فہرست میں ہندوستان کی حالت بنگلہ دیش، مشرقی تیمور اور یمن جیسی ہے۔ ہندوستان میں نائیجیریا کے مقابلے زیادہ بھوکے اور پرورش سے محروم لوگ ہیں۔ دارالحکومت دہلی کے پبلک ڈسٹری بیوشن سسٹم کے تحت زیادہ تر غریب خاندانوں کے پاس راشن کارڈ نہیں ہیں۔

اے پی ایل کوٹے والے کے پاس بی پی ایل کارڈ ہے۔ یوپی، مہاراشٹر میں کسان مر رہے ہیں، لیکن ان سب سے بے پرواہ ہمارے وزرائے اعلیٰ اسی زمین پر جنت کا مزہ لے رہے ہیں۔
وزرائے اعلیٰ کی رہائش گاہوں پر ہونے والے اخراجات
مالی سال06- 2005سے2009-10کے دوران

اترپردیش
اترپردیش ہندی پٹی کی ریاستوں میں سے ایک ہے۔ 2005سے اب تک یہاں کے وزیراعلیٰ ملائم سنگھ یادو اور مایاوتی رہے ہیں۔ ایک خود کو سماجوادی کہتے ہیں تو ایک خود کو دلتوں کی مسیحا۔ ان سماجوادی او ردلتوں کے مسیحا کی نجی زندگی میں کتنا سماجواد ہے، دلتوں کے لیے کتنی فکر ہے، اس کا انکشاف ان کی رہائش (وزیراعلیٰ کی رہائش گاہ) پر ہونے والے اخراجات کو دیکھ کر ہوجاتا ہے۔ ان پانچ سالوں میں وزیراعلیٰ کی رہائش گاہ کا بجلی کا بل تقریباً 92لاکھ روپے آیا یعنی ہر ایک سال تقریباً 20لاکھ روپے۔ مہینے کے حساب سے تقریباً ڈیڑھ لاکھ روپے۔ وزیراعلیٰ کی رہائش گاہ کو جگ  مگ بنانے کے لیے بلب، سی ایف ایل بدلنے اور بجلی کی مرمت وغیرہ پر بھی 13لاکھ روپے خرچ کیے گئے۔ ساتھ ہی وزیر اعلیٰ کی رہائش گاہ میں اے سی اور الیکٹرانک آلات وغیرہ لگانے پر بھی 33لاکھ روپے خرچ کیے گئے۔ ٹیلی فون بل بھی 19لاکھ کاآیا۔ دروازے اور کھڑکیوں کے پردے بدلنے کی مد میں بھی 35لاکھ گئے۔ بدصورت اترپردیش کی تصویر خوبصورت دکھانے کے لیے وزیر اعلیٰ کی رہائش گاہ کی رنگائی پتائی بھی جم کر کی گئی۔
مہاراشٹر
مہاراشٹر کی ایک اور پہچان ہے وہ ہے ودربھ۔ جہاں کے ہر ایک گاؤں میں بڑی تعداد میں ایسی بیوائیں ملتی ہیں جن کے شوہر کسان تھے اور فصل اچھی نہ ہونے کی وجہ سے خود کشی کر لی تھی،لیکن اس ریاست کے وزیر اعلیٰ خواہ وہ ولاس راؤ دیشمکھ رہے ہوں یا موجودہ وزیراعلیٰ اشوک چوان ہوں، کسی کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ کم سے کم ان کی نجی زندگی اور اس پر آنے والے اخراجات، جو عوام کی جیب سے ادا کیے جاتے ہیں، کو دیکھ کر تو یہی لگتا ہے۔ مہاراشٹر میں سب سے زیادہ بجلی کی پیداوار ودربھ کے علاقہ میں ہی ہوتی ہے، لیکن ساری بجلی ممبئی، ناگپور اور پنے جیسے شہروں کے لیے محفوظ کر لی جاتی ہے۔ ودربھ اندھیرے میں ڈوبا رہتا ہے، لیکن ممبئی میں وزیر اعلیٰ کی رہائش گاہ دن رات گلزار بنی رہتی ہے اور گزشتہ 5سالوں میں اس کی قیمت بھی عوام نے 92.26لاکھ روپے دے کر چکائی ہے ۔ ودربھ کے کسانوں کی فصل بھلے ہی خشک سالی سے برباد ہوجاتی ہے، لیکن وزیر اعلیٰ کی رہائش گاہ میں پانی کے بل( منرل واٹر) میں 61.74لاکھ روپے خرچ ہوجاتے ہیں۔ ودربھ کا بدصورت چہرہ وزیر اعلیٰ کو پریشان نہ کرے، اس خاطر وزیراعلیٰ کی رہائش گاہ کے رنگ وروغن پر گزشتہ 5سالوں میں86لاکھ روپے خرچ کردئے گئے۔

دہلی

وزیراعلیٰ کی رہائش گاہ پر خرچ کے معاملے میں دہلی، اترپردیش اور مہاراشٹر سے کافی پیچھے ہے۔ خرچ بھی کافی کم ہے۔ ویسے یہاں بھی 47 ہزار روپے کا منرل واٹر2006-09کے دوران پیا گیا۔ بجلی اور پانی کا بل بھی تقریباً10لاکھ روپے آیا اور ٹیلی فون بل قریب6لاکھ روپے کا۔

مایاکی “مایا”

اتر پردیش کی وزیراعلیٰ اصل مسائل پر توجہ دینے کی بجائے پانچ ستارہ ہوٹلوں میں عشائیہ(ڈنر) کا اہتمام کرتی ہیں اور وہ بھی عوام کے پیسوں سے ۔ دلتوں کی ترقی کی بات کرنے والی مایاوتی کے یوم پیدائش کی پارٹیاں ہمیشہ سے سرخیوں میں رہی ہیں۔ وجہ ہے ایسے مواقع پر ہونے والے شاہی اخراجات، سرکاری مشینری کا استعمال، کارکنان سے مہنگے تحفے لینے جیسے الزامات۔ خیر یہ تو الزامات مخالف جماعتوں کی طرف سے لگائے جاتے رہے ہیں، لیکن آر ٹی آئی کے تحت جو معلومات ہمیں ملی ہے، اس سے خود کو دلتوں کی مسیحا ماننے میں فخر محسوس کرنے والی مایاوتی کی شخصیت کے ایک الگ ہی پہلو کا پتہ چلتا ہے۔ مئی 2007کے اسمبلی انتخابات میں زبردست اکثریت سے جیت درج کر کے مایاوتی حکومت بناتی ہیں۔ 13مئی 2007کو مایاوتی حلف لیتی ہیں اور 25مئی 2007کو مایاوتی دہلی کے پانچ ستارہ ہوٹل اوبرائے میں ایک شاندار پارٹی(عشائیہ) کا اہتمام کرتی ہیں۔ دستیاب دستاویز کے مطابق اس عشائیہ میں خاص لوگوں کو مدعو کیا گیا، حالانکہ اس دستاویز میں ان مخصوص لوگوں کے نام کا ذکر نہیں ہے۔ ظاہر ہے کہ پانچ ستارہ ہوٹل میں مخصوص لوگوں کو دی گئی پارٹی کا خرچ بھی مخصوص ہی آنا تھا۔ اس لیے اس ایک رات کی پارٹی کا خرچ آیا 17لاکھ 16ہزار 825روپے اور اس رقم کی ادائیگی مقامی کمشنر، اترپردیش انتظامیہ، نئی دہلی کے توسط سے سکریٹریٹ کی جانب سے کی گئی۔ یہ اطلاع ریاست کے ملکیتی محکمہ، اترپردیش کی حکومت کی طرف سے فراہم کرائی گئی ہے۔ ہوسکتا ہے کہ لوگوں کو یہ رقم معمولی لگے، لیکن سوال رقم کا نہیں ہے۔ سوال پانچ ستارہ ہوٹل میں پارٹی دینے کا بھی نہیں ہے۔ مایاوتی اپنے یوم پیدائش کے موقع پر جتنا خرچ کرتی ہیں، اس کے مقابلے 17لاکھ کی رقم کوئی بہت بڑی رقم نہیں مانی جاسکتی، لیکن سوال اس نظام کا ہے جہاں ہمارے نمائندوں کو یہ سوچنے کی فرصت نہیں ہے کہ جو ایک پیسہ بھی وہ اپنے اوپر خرچ کرتے ہیں، وہ غریب عوام کے حصے کا ہوتا ہے۔ وہ غریب عوام جس کی اولین ترجیح آج بھی روٹی، کپڑا اور مکان ہے۔ سوال ہمارے لیڈران کی اس ذہنیت کا بھی ہے، جو انہیں پانچ ستارہ ہوٹلوں میں پارٹی کا اہتمام کرنے کی ترغیب دیتے ہیں اور اس کی ایک بہترین مثال خود مایاوتی ہی ہیں۔ وہ اپنے یوم پیدائش کی تقریب کا جشن منانے کے لیے امبیڈکر پارک کا ہی انتخاب کرتی تھیں، لیکن 2007کے اسمبلی انتخابات تک پہنچتے پہنچتے جیسے بی ایس پی کا’ نعرہ‘ بہوجن سے بدل کر’ سرو جن‘ ہوگیا، ۔کچھ اسی طرز پر اقتدار ملنے کے بعد مایاوتی کی طرف سے دی جانے والی پارٹیاں بھی پارک سے نکل کر پانچ ستارہ ہوٹلوں تک پہنچ گئیں۔

سابق وزرائے اعلٰی کو بھی پوری سہولیات

حالیہ عرصے تک جھارکھنڈ کے سابق وزرائے اعلیٰ کو دی جانے والی سہولتوں پر بھی سالانہ کروڑوں کا خرچ تھا۔ حالانکہ اب گورنرنے اس سہولت کو ختم کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ جھارکھنڈ کے چار سابق وزرائے اعلیٰ، شیبو سورین، بابولال مرانڈی، مدھوکوڑا اور ارجن منڈا کی رہائش، سیکورٹی، ٹیلی فون بل پر کروڑوں روپے خرچ ہوتے تھے۔ شیبو سورین وزیراعلیٰ رہتے ہوئے جتنے بڑے بنگلے میں نہیں رہتے تھے، اس سے بڑا بنگلہ انہیں سابق وزیراعلیٰ بن جانے پر ملا ہوا تھا۔ ان سابق وزرائے اعلیٰ کی رہائش کی دیکھ بھال اور آرائش وزیبائش پر گزشتہ 6سالوں میں13کروڑ روپے خرچ ہوئے تھے۔ حفاظتی عملے کی تنخواہ ہی صرف گزشتہ مالی سال کے دوران تقریباً17لاکھ روپے آئی ۔ غور فرمایئے، سابق وزرائے اعلیٰ کے یہ شاہی اخراجات جھارکھنڈ جیسی ریاست میں برداشت کئے جارہے تھے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *