مڈ ڈے میل صرف پیسہ بنانے کی اسکیم ہے

Share Article

وسیم راشد 
آہ و بکا کی آوازیں ، معصوم بچوں کی چیخین، روٹی پیٹتی مائیں، خون کے آنسو روتے باپ اور سفید کفن میں لپٹی پانچ سے 10سال کے بچوں کی لاشیں ، یہ منظر بہار کے چھپرا ضلع کا ہے، جہاں زہریلا کھانا کھا کر تقریباً دو درجن بچوں کی موت ہو گئی ۔ مڈڈے میل غریببچوں کو دیا جانے والا وہ کھانا ، جو حکومت کی طرف سے دیا جاتا ہے ، یہ وہ کھانا ہے جس کی آس میں پیٹ بھرنے کی امید میں والدین بچوں کو اسکول بھیج دیتے ہیں۔ کیسا عجیب تماشا ہے کہ حکومت جو کھانا غریب معصوم بچوں کے لئے مڈڈے میل کی شکل میں دیتی ہے وہ ہی کھانا ان کی موت کا سبب بن جاتا ہے۔ حکومت نے یہ اسکیم اس لئے شروع کی تھی تاکہ کم سے کم ایک وقت کھانا ملنے کے شوق اور ضرورت کے تحت غریب بچے اسکول جائیں اور حکومت کی سب کے لئے تعلیمی پالیسی کامیاب ہو سکے ، لیکن کھانے میں اتنے خطرناک زہر کا پایا جانا یقینا سوالیہ نشان ہے۔ زہر بھی کون سا، جس کا نام آرگنو فاسفورس بتایا جا رہا ہے اور جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ ذرا سی مقدار میں بھی اگر انسان کے منھ میں چلا جائے تو موت واقع ہو جاتی ہے ۔ اس کی ذرا سی مقدار بھی فوراً اثر کرتی ہے اور پیٹ میں جاتے ہی سانس لینے کا سسٹم فیل کر دیتی ہے۔ سانس کی نلی سکڑ جاتی ہے ۔ سوچئے جن بچوں کے پیٹ میں یہ زہر گیا ہوگا ان معصوموں کا کیا حال ہوا ہوگا۔ کیسے یہ زہر کھانے میں آیا؟ کس نے ملایا؟ اس کی تفصیل بعد میں ہی پتہ چل پائے گی۔ ابھی پرنسپل فرار ہے اور اس کے شوہر کی دکان سے راشن آیا ، اس لئے اس کی بھی جانچ ہوگی۔
مگر یہاں سوال ہے معصوموں کی موت پر ہونے والی سیاست کا ۔ دراصل بہار حکومت آج کل چاروں طرف سے مصیبت میں گھری ہوئی ہے ۔ حال میں ہی مہا بودھی مندر کا بم دھماکہ ہوا اور بی جے پی کو موقع مل گیا چونکہ بی جے پی بہار کی حکومت سے بے دخل ہوئی ہے۔اس لئے وہ کوئی وار نہیں خالی نہیں جانے دے رہی ہے مگر سوچنا یہ ہے کہ یہ وقت سیاست کرنے کا ہے ۔یا اس وقت صرف یہ دیکھنا ہے کہ سرکار کی مڈڈے میل پالیسی کو ناکام کرنے پر ریاستیں کیوں تلی ہوئی ہیں کیونکہ بار بار مڈڈے میل سے وابستہ شکایات موصول ہو رہی ہیں۔ ماضی میں بھی کئی حادثے مڈڈے میل کے تعلق سے سامنے آتے رہے ہیں۔ کبھی چھپکلی ، کبھی چاول، دال میں کیڑے ، کبھی کاکروچ یہ تو مڈڈے میل کے تعلق سے عام بات ہے ۔ مگر ایک خاص طرح کے زہر کی آمیزش بے حد تشویشناک ہے۔ سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ جب بچوں نے سبزی کے ذائقہ کی شکایت کی تھی تبھی اس کو کیوں چیک نہیں کیا گیا۔ خود جن ڈاکٹروں نے علاج کیا انھوں نے بھی بتایا کہ بچوں کے جسم سے بدبو آ رہی تھی۔ آخر ایسا خطرناک زہر دینے والا سفاک انسان کس کے کہنے پر ایسا کر رہا ہے۔ کوئی نہ کوئی سیاست اس کے پیچھے ضرور کارفرما ہے۔کیا یہ سمجھ لیا جائے کہ نتیش حکومت میں مجرموں کے دل سے خوف ختم ہو گیا ہے ۔ اندھیر نگری ہے، بہار جہاں سے راج چوپٹ ہے۔ پرنسپل کے شوہر جہاں راشن لایا گیا وہ آر جے ڈی سے وابستہ ہیں۔ اور آر جے ڈی اور نتیش سرکار کا 36کا آنکڑا ہے۔
خود لالو کا کہنا ہے کہ سرکار نام کی چیز نہیں ہے ، کس سے استعفیٰ کی مانگ کی جائے۔ رام ولاس پاسوان نے بھی سیاسی روٹیاں سینکنی شروع کر دی ہیں اور نتیش کے استعفیٰ کی مانگ کی ہے۔ شاہنواز حسین نے بھی نتیش سرکار کو لعنت ملامت کی ہے اور یہی کہا ہے کہ صحیح وقت پر دھیان دینا چاہئے تھا۔
منیش تیواری کا کہنا ہے کہ مرکزی سرکاری کی اسکیموں کو ریاستی حکومتیں صحیح طرح سے لاگو نہیں کرتیں۔ کارروائی سخت ہونی چاہئے۔
یہاں پر منیش تیواری سے یہ سوال کرنا چاہئے کہ مرکزی حکومت نے مرکز میں ہی اس اسکیم کو کون سا صحیح طریقہ سے لاگو کیا ہے۔ دلی میں مڈڈے میل کا حال بھی اتنا ہی خراب ہے ۔ خود دلی کے کئی اسکولوں سے لگاتار سڑا ہوا کھانا دئے جانے کی شکایتیں موصول ہوئی ہیں۔ کچھ اسکولوں میں تو پرنسپل اور اساتذہ اس کھانے کو پیک کراکے اپنے گھر لے جاتی ہیں۔ مرکز کیا ریاست کا سب کا حال خراب ہے۔ بدعنوانی نے ہر سسٹم کو فیل کر دیا ہے۔ 11ہزار کروڑ کی لاگت والی یوجنا کا یہ حال ہے کہ سڑا ہوا اناج، سڑی ہوئی سبزیاں اور پاپڑ بنی روٹیاں مڈڈے میل میں دی جا رہی ہیں۔ حالانکہ مڈڈے میل کا مینو پورے ہفتے کا بنا ہوا ہے مگر کب کیا ، کہاں کیسے پک رہا ہے کسی کو نہیں معلوم۔ کچھ ریاستوں میں گندے نالوں کا پانی آ رہا ہے۔ راجستھان میں زیادہ تر گوداموں میں چوہے بوریوں میں گھسے ہوئے ہیں۔ چاول میں کیڑے بھرے ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ سرکاری اسکولوں میں جہاں کوڑا کرکٹ پڑا ہوا ہوتا ہے۔ وہیں بٹھا کر ان غریب معصوموں کو کھانا کھلایا جاتا ہے ، یہاں سوال کیا جانا چاہئے ہمارے وزیر اعظم سے کہ ملک کو آپ 21ویں صدی میں لے جانے کی باتیں کرتے ہیں ، تو کیسے لے کر جائیں گے۔ جس ملک میں تقریباً 61ملین بچے Malnutritionکا شکار ہوں، جس ملک میں83فیصد مڈڈے میل کے سیمپل فیل ہو جائیں، جس ملک کی میں موت پر سیاست کی جاتی رہی، جہاں گندے نالوں سے کھانا پکایا جا رہا ہو، وہاں آپ کس طرح ملک کو ترقی یافتہ بنا پائیں گے۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ اس حادثے کے بعد بھی لگاتار مڈڈے میل میں کیڑے ملنے اور بچوں کے بیمار ہونے کی خبر ہے۔ تامل ناڈو کے اسکول میں بھی مڈڈے میل سے 100طالبات بیمار ہو گئیں ہیں۔ اسکول کی ساتویں اور آٹھویں کلاس کی 105طالبات کھانے میں دئے گئے انڈے کھانے سے بیمار ہو گئیں اور تو اور دلی جیسے شہر میں آئرن کی گولیاں کھانے سے تقریباً 25طلبہ و طالبات بیمار ہو گئیں۔ حکومت کی جانب سے چاچا نہرو اسکیم کے تحت جو طالبات اینمک تھیں ۔ انہیں جو آئرن کی گولیاں دی گئیں، ان سے بھی اچانک اتنی ساری طالبات کا بیمار ہو جانا ایک سوال کھڑا کرتا ہے کہ مڈڈے میل میں نہیں حکومت کی جانب سے جو بھی اسکیم چلائی جاتی ہے،سب میںدھاندلے بازی ہے۔ ہاسپیٹل وغیرہ میں تو یہ عام بات تھی کہ وارڈ بوائے دوائیاں چوری کر کے بیچ دیا کرتے تھے ۔ جبکہ خود ڈاکٹر بھی اس میں ملوث تھے۔ اسکولوں میں بھی لگتا ہے یا تو Expiredآئرن کی گولیاں کھلائی گئیں یا پھر وہ آئرن کی گولیاں ہی نہیں ہوں کچھ اور ہوں۔ ایسے بدعنوان سسٹم سے کیسے نمٹا جائے گا ۔ کیا ہوگا اس ملک کا۔ جب کوئی بڑا حادثہ ہوتا ہے تبھی حکومت جاگتی ہے۔ اب حکومت نے مڈڈے میل پر ملک گیر نگرانی کے لئے کمیٹی بنائی ہے، جس کے تحت فروغ انسانی وسائل کے وزیر پلم راجو نے کہا ہے کہ بہار حکومت کو پہلے ہی آگاہ کیا جا چکا تھا کہ وہاں 12ضلعوں میں مڈڈے میل اسکیم کے تحت ملنے والے کھانے کا معیار اچھا نہیں ہے اور اس میں سارن ضلع کے اسکولوں میں کھانے کا معیار سب سے خراب ہے۔
افسوس ہے کہ ہم اس سائنس و ٹیکنالوجی کے دور میں یہ تک پتہ لگالئے ہیں کہ ماں کے پیٹ میں پلنے والا بچہ لڑکا ہے یا لڑکی؟ اور اس سے بھی زیادہ بڑے بڑے ہونے والے حادثوں کا بھی علم ہو جاتا ہے۔ قدرتی آفات کا بھی پتہ لگ جاتا ہے مگر گائوں،قصبوں ، دیہاتوں کی اصل صورتحال ہمیں پتہ نہیں لگ پاتی اور جب پتہ لگ جائے تو ہم کوئی بڑا حادثہ ہونے کا انتظار کرتے رہتے ہیں۔
خیر، جو ہونا تھا ہو چکا، جو ابھی نہیں ہوا ہے اس سے کیسے بچا جائے، اس کی سوچنا ہے۔کچھ لوگوں کی رائے کہ مڈڈے میل کو بند کر دینا چاہئے۔مگر مرض کو ختم کرنے کے لئے مریض کو ختم کرنا عقل مندی نہیں ہے اور اس کا علاج کرنا چاہئے۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ پھر سے مڈڈے میل اسکیم پر نظر ثانی کرے اور مرکزی اور ریاستی سطحوں پر اسکولوں پر کڑی نظر رکھی جائے۔ اس کے تحت اسکول کے پرنسپل ، ہیڈ ماسٹرس، بلاک تعلیمی افسر ، مڈڈے میل انچارج اور ضلع ایجوکیشن آفیسر کو سبھی ضروری ہدایات دی جائیں اور سختی سے ان پر نظر رکھی جائے۔ ویسے ایک بڑا ہی آئیڈیل طریقہ یہ ہے کہ اسکول میں پڑ ھنے والے بچوں کے والدین سے ہی کھانا پکوایا جائے تو 2کام ہوں گے ، اک تو کھانا صاف ستھرا اور خوش ذائقہ ہوگا ، دوسرے تھوڑا بہت پیسہ بھی ان کو مل جائے گا ، جس سے کہ ان کی مالی حالت سدھر جائے گی ۔ کیونکہ کھانا پکانے کے لئے اسکولوں میں باورچی وغیرہ رکھے جاتے ہیں اور یہ سب لاپرواہی ان ہی باورچیوں کی ہے۔ ظاہر ہے کھانا تیار ہونے کے بعد اگر کوئی اسکول کا استاد اس کو چیک کر کے بچوں کو دے تو زیادہ بہتر ہوگا لیکن افسوس یہی ہے کہ ہم جب کوئی حادثہ ہوتا ہے اس وقت ہوشیار ہوتے ہیں اور پھر سو جاتے ہیں۔ بہار حادثے پر زیادہ تر بیانات بی جے پی کے ہیں اور بی جے پی کا کھیل تو بہار کو لے کر سب کی سمجھ میں آ ہی رہا ہے مگر باقی لیڈران کا بیان نہ آنا اس بات کی علامت ہے کہ بچے ان کا ووٹ بینک نہیں ہے ، اس لئے وہ اس کو سنجیدگی سے نہیں لے رہے ۔ دوسرے ممالک میں اگر ایسا ہوتا وہاں کے صدر اور وزیر اعظم خود ذاتی طور پر دلچسپی لیتے۔ ہمیں یاد ہے کہ امریکہ کے اسکول میں جب اندھا دھند فائرنگ کا معاملہ ہوا تھا تو خود اوباما اسکول گئے تھے ، لیکن ہمارے وزیر اعظم کی خاموشی تو جانے کیوں ٹوٹتی ہی نہیں ہے۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *