…….مرے گلاس کا کچھ رنگ

Share Article

شاعری کی دنیا میں پدم شری جناب بیکل اتساہی کا نام محتاج تعارف نہیں ہے۔ موصوف یو پی کے ضلع بلرام پور کے رہنے والے ہیں اور گزشتہ نصف صدی سے بھی زائد عرصے سے شاعری کررہے ہیں۔سینئر شاعروں میں ان کا نام سر فہرست ہے۔یہ بتانا دلچسپی سے خالی نہ ہوگا  کہ موصوف نے آزادی کی صبح طلوع ہوتے ہوئے بھی دیکھی ہے۔ انہوں نے طویل عرصے پر محیط سماجی، سیاسی اور اقتصادی نشیب وفراز دیکھے ہیں۔حال ہی میں ’’چوتھی دنیااردو‘‘ کی ایڈیٹر وسیم راشد نے اس جہاں دیدہ، کارآزمودہ ، ہمہ گیر شخصیت اور عظیم شاعر سے گفتگو کی۔ گفتگو کے اہم اقتباسات پیش خدمت ہیں۔
سوال: بیکل صاحب! یوں تو آپ کی شاعری میں زندگی کے تمام پہلو جلوہ گر ہیں تاہم آپ نے دیہی زندگی کو خصوصیت کے ساتھ اپنی شاعری میں جگہ دی ہے۔ اس کے پیچھے کیا کوئی خاص وجہ ہے۔
جواب: جیساکہ آپ جانتی ہیں ہم گاؤں کے رہنے والے ہیں، وہیں پلے بڑھے اور وہیں سے مقبولیت کی بلندی تک پہنچے ہیں۔ آج دنیا چاہے جتنی ترقی کرگئی ہو ، جتنی ایجادات ہوگئی ہوں اور شہروں میں وسائل اور ذرائع کی جتنی بھی فراوانی ہوگئی ہو، لیکن آج بھی گاؤں کی سنجیدگی اور سادگی کی بات ہی الگ ہے۔شہروں میں چاہے جتنی بھی ترقی ہوگئی ہو، لیکن ہمیں آج بھی دیہات کا ماحول ہی زیادہ بھاتا ہے۔
سوال: سردار جعفری کا تعلق بلرام پور سے تھا اور آپ کا بھی تعلق بلرام پور سے ہی ہے۔ آخر کیا وجہ ہے کہ اتنے بڑے بڑے آفرز ملنے کے باوجود آپ نے بلرام پور نہیں چھوڑا؟
جواب:  بلرام پور اب ضلع بن گیا ہے، پہلے یہ گونڈہ ضلع میں ہوا کرتا تھا۔ گونڈہ تعلیم میں چاہے جتنا بھی پسماندہ رہا ہو، لیکن یہ فکرو فن میں ہمیشہ سر فہرست رہا ہے۔ اس سرزمین نے بڑے بڑے فنکار پیدا کئے ہیں۔ وہیں پر اصغر صاحب کے آستانے پر جگر صاحب رہتے تھے۔سردار جعفری ، جن کا فلمی دنیا میں بڑا نام ہے، وہ بھی بلرام پور کے ہی رہنے والے تھے یہ اور بات ہے کہ وہ ممبئی چلے گئے اور بلرام پور میں ان کا زیادہ قیام نہیں رہا، بہر حال وہ میرے بڑے بھائی تھے، ان کی دعائیں ہمارے ساتھ تھیں۔ اس کے علاوہ وہاں بڑے بڑے رشی منی پیدا ہوئے جیسے چرن رشی جن کے نام پر آج ہم چیون پراش کھاتے ہیں۔ ان کے علاوہ اور بھی بڑی بڑی شخصیات پیدا ہوئیں۔حاصل کلام یہ کہ گونڈہ ضلع تعلیم میں جتناپچھڑا ہوا تھا فکروفن میں اتنا ہی آگے تھا۔جہاں تک آفرس کی بات ہے، تو بات دراصل یہ ہے کہ گاؤں کی مٹی سے ہمیں خاص قلبی لگاؤ ہے، وہاں کی بو، آب و ہوا، ماحول اور سنجیدگی اور سادگی مجھے بے انتہاپسند ہے۔
سوال:  شاعری کی دنیا میں آپ کا ایک طویل عرصہ گزرا ہے۔ کتنے شاعر آپ کے سامنے آئے اور گئے۔ اتنے طویل عرصے میں ظاہر ہے شاعری میں بھی بہت سے نشیب فراز آئے ہوں گے۔ آپ پہلے کی شاعری اورموجودہ شاعری میں کیا فرق محسوس کرتے ہیں؟
جواب:اس سوال کے جواب کے لئے کافی وقت درکار ہے ۔بہر حال پہلے کی شاعری اور بعد کی شاعری میں کافی فرق آگیا ہے۔ پہلے استاد وشاگرد ہوتے تھے لیکن اب نہیں ہوتے ہیں۔ساری روایتیں ختم ہوگئیں۔مشاعرے کی نشست و برخاست اب وہ نہیں ہے جو پہلے ہواکرتی تھی۔سامعین بھی مؤدب اور مہذب ہوکر بیٹھتے تھے اور شعرا بھی اپنا کلام سنجیدگی کے ساتھ سناتے تھے۔  اب سبھی لوگ آزاد ہوگئے ہیں، یہاں اب نہ کوئی استاد ہے اور نہ کوئی شاگرد۔ اب ہر کوئی عظیم ہوگیا ہے۔ بڑے اور چھوٹے کی تمیز ہی ختم ہوگئی ہے۔
سوال: گاؤں اور گاؤں کے کھیتوں سے نکل کر شاعری کی طرف کب چل نکلے؟
جواب: قلم جب ہاتھ میں آتا ہے تو آدمی کچھ نہ کچھ لکھتا ضرور ہے۔ بچے کے ہاتھ میں قلم آتا ہے تو ہوم ورک کرتا ہے، استاد جو بتاتا ہے، اسے لکھتا ہے ۔شاعری فطرت کی دین ہوتی ہے۔ شاعری فن ضرور ہے، لیکن یہ کسی کے سکھانے سے نہیں آتی بلکہ یہ قدرت جسے چاہتی ہے ،عطا کرتی  ہے۔ہمارے آباؤاجداد شاعر نہیں تھے لیکن پھر بھی میں شاعری کرنے لگااور شاعر بن گیا۔ بس قدرت کی یہی مرضی تھی ۔ مجھ کو یہ فن سکھایا گاؤں کے ماحول نے، وہاں کی غربت اور وہاں کی فطرت نے۔جب میں وہاں کی سادگی اور سنجیدگی سے متاثر ہوا تو شعر کہنے شروع کردیے۔
سوال:  آپ نے کتنی عمر میں شعر کہنے شروع کیے؟
جواب: میں نے 1943سے شعر کہنے شروع کیے۔ اس وقت میں ساتویں یا آٹھویں کلاس میں تھا۔
سوال:  آپ نے تو ملک تقسیم ہوتے ہوئے بھی دیکھا ہوگا، اس واقعہ سے آپ کے دل ودماغ پر کیا اثرات مرتب ہوئے؟ آپ نے کیسا محسوس کیا؟
جواب:  ہاں! میں نے ملک تقسیم ہوتے بھی دیکھا اور گاندھی جی کو شہید ہوتے بھی۔ ملک آزاد ہونے کی خوشی تو ہوئی لیکن تقسیم ملک کا بے حد دکھ ہوا۔میں آپ کو یہ بات بتاتا چلوں کہ تقسیم ہند کے وقت جہاں ایک طرف ملک بھر سے لوگ پاکستان ہجرت کررہے تھے، ہمارے علاقے یعنی گونڈہ سے سوائے چند لوگوں کے کوئی بھی پاکستان نہیں گیا۔ ہمارے خاندان کا تو ایک بھی فرد ایسا نہیں ہے جو پاکستان گیا ہو۔ہمارے گاؤں میں آج بھی بھائی چارہ قائم ہے، وہی کلچر اور وہی ثقافت ہے ۔ہم گاؤں کی بیٹی کو اپنی بیٹی سمجھتے ہیں، جن کو چاچا یا کاکا کہتے تھے ان کو آج بھی یہی کہتے ہیں۔
سوال: آپ کو شہر کے مقابلے میں آج بھی گاؤں ہی پسند ہے۔ چند اشعار جو آپ نے گاؤں کے حوالے سے کہے ہوں۔
جواب:  جی ہاں ایسے کئی اشعار ہیں، سماعت فرمایئے۔
پھٹی قمیص، اونچی آستین ،کچھ تو ہے
غریب ایسی دشا میں ،حسین کچھ تو ہے
لباس قیمتی رکھ کر بھی شہر ننگا ہے
ہمارے گاؤں میں موٹا مہین کچھ تو ہے
سوال:  بیکل صاحب! اب میں چاہوں گی کہ آپ اپنی وہ شاہکار نظم سنائیں، جس نے آپ کو پوری دنیا میں مشہور کردیااورجو تاج محل کے نام سے مشہور ہے۔
جواب:  اس نظم کا نام تاج محل نہیں بلکہ ’’ پیشکش‘‘ ہے، چونکہ اس کے آخر میں تاج محل کا ذکر آیا ہے اس لئے وہ تاج محل کے نام سے مشہور ہوگئی ہے۔اب میں آپ کو اس کے چند اشعار سناتا ہوں۔
نشہ وکیف غزل، حسن غزل ، جان غزل
آ تجھے گیت کا انداز ترنم دے دوں
ترے سہمے ہوئے ہونٹوں کو تبسم کی لکیر
تری اونگھی ہوئی آنکھوں کوحیا کی چلمن
ترے سوئے ہوئے ماتھے کو شفق کی تنویر
تری الجھی ہوئی زلفوں کوبہار گلشن
ترے دہکے ہوئے عارض کولہکتے سے کنول
آ تجھے گیت کا انداز ترنم دے دوں
نشہ وکیف غزل، حسن غزل ، جان غزل
حسن محشر کا لٹاتا ہوا انداز خرام
ترے چرنوں کو دھلاتے ہوئے مدمست پون
رقص کرتیگل آنچل کو ترے دودھ کی شام
تری انگڑائی کو بل کھاتاہوا نیل گگن
تری پرچھائی سے تعمیر کروں تاج محل
آ تجھے گیت کا انداز ترنم دے دوں
نشہ وکیف غزل، حسن غزل ، جان غزل
سوال:  آپ نے شاعری کے اس طویل ترین دور میں بہت سے مشہور و معروف شعرا کو دیکھا اور سنا ہوگا۔ وہ کون سے مشہور ومعروف شعرا ہیں جن کو آپ نے دیکھا اور ان کی شاعری کو سنا؟
جواب:  ایسے شاعروں کی ایک طویل فہرست ہے، جن کے ساتھ مجھے شعر گوئی کا موقع ملا۔کس کس کا نام بتاؤں، بہر حال جن شاعروں کے ساتھ مجھے پڑھنے کا موقع ملا ان میں جوش ملیح آبادی، جگر مرادآبادی، شکیل بدایونی، سردارجعفری، ساحر لدھیانوی اور مجروح سلطان پوری شامل ہیں۔
سوال:  کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ لوگوں کی اب اردو زبان وادب سے دلچسپی ختم ہورہی ہے، اس سلسلہ میں آپ کا کیا خیال ہے؟
جواب:  یہ کہنا غلط ہے کہ اب اردو سے دلچسپی ختم ہورہی ہے۔آج بھی ایسے معتبر ادباء اور شعرا موجود ہیں، جو اردو زبان و ادب کی خدمت کررہے ہیں اور لوگوں کی آج بھی اردو میں دلچسپی برقرار ہے۔
سوال:  آپ کی ایک مشہور ومعروف نظم ہے ،جس میں آپ نے بتایا ہے کہ شاعری میں کون کون سے عناصر ہوں تو، وہ  غزل ہوتی ہے۔ آپ کی وہ نظم بہت ہی پیاری اور مقبول ہے، از راہ کرم اس کے چند اشعار مرحمت فرمائیں۔
جواب:  لوگوں کا اپنا اپنا خیال ہے، کہتے ہیں کہ جب ہجر ہو یا پریشانی ہو یا محبوب کی جدائی ہو توغزل بنتی ہے۔ سیدھی سی بات ہے کہ جب دل پر چوٹ لگتی ہے تو خود بخود غزل نکلنے لگتی ہے۔ میں نے بھی اپنے طور کچھ کہنے کی کوشش کی ہے، ملاحظہ فرمایئے۔
جب لگیں دل پہ نینوں کے بان غزل تب ہوتی ہے
جب حسیں ہو کوئی مہربان غزل تب ہوتی ہے
پیاسا پپیہا ہو ، ہوائیں ہو ں، دہکے ہوں نغموں کی شان
میخانہ لہکا ہو، کالی گھٹائیں ہوں،بے سدھ ہوں، چھلکتے ہوں جام
کوئی ساقی ہو پھر بدگمان، غزل تب ہوتی ہے
جب لگیں دل پہ نینوں کے بان غزل تب ہوتی ہے
صحن گلستاں میںشعلوں کی بو ہو، کلیوں کے سر پر ہو آگ
پھولوں کے عارض پہ دل کا لہو ہو، شاخ نشیمن ہو ناگ
زندگی جب بنے امتحان، غزل تب ہوتی ہے
جب لگیں دل پہ نینوں کے بان غزل تب ہوتی ہے
سوال:  بیکل صاحب، آپ ایک طویل عرصے سے مشاعروں میں شرکت کررہے ہیں، پہلے کے مشاعروں اور موجودہ دور کے مشاعروں میں آپ کیا فرق محسوس کرتے ہیں؟ خصوصاً شاعرات کے تعلق سے آپ کا کیا خیال ہے؟
جواب:  آج کے مشاعروں میں بہت سی کمیاں ہیں ۔ موجودہ دور کے مشاعروں کا اگلے دور کے مشاعروں سے کوئی مقابلہ ہی نہیں ہے، کیونکہ آج سے چالیس پچاس سال پہلے کے مشاعروں میں جو تہذیب، ڈسپلن، ہیئت اور اہتمام تھا، وہ بہت ہی معیاری،منفرد اور امتیازی تھا۔ یہ چیزیں آہستہ آہستہ ختم ہوتی چلی گئیں، اب یہ خوبیاں آج کے مشاعروں میں کہیں دیکھنے کو نہیں ملتیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اگلے دور میں مشاعرے بزنس اور تجارت نہیں تھے،شعراء مانگتے نہیں تھے۔ جب سے ہم نے اس کو تجارت بنا لیا ہے، کوانٹیٹی تو بڑھ گئی لیکن کوالیٹی گھٹ گئی۔پہلے شاعری کی دنیا میں اتنی لڑکیاں نہیں تھیں، آج کل کے مشاعروں میں تو شاعروں سے زیادہ خاتون اور نوجوان لڑکیاں زیادہ نظر آتی ہیں۔ اسی وجہ سے اب سامعین کا یہ نظریہ بن گیاہے کہ جب تک وہ مشاعرے میں کسی خاتون یا نوجوان لڑکی کی صورت  نہیں دیکھ لیتے ، ان کی مترنم آواز نہیں سن لیتے ان کی تسلی نہیں ہوتی، وہ سننا ہی نہیں چاہتے، ہوٹ کرتے ہیں۔ اب یہ مزاج بن گیا ہے۔ یہ چیز زبان کے لئے تو ٹھیک ہے کہ زبان مقبول ہورہی ہے، دور دور تک پہنچ رہی ہے، مشاعرے کی جو تہذیب تھی، مشاعرے کا جو رویہ تھا، ہماری جو گنگا جمنی تہذیب تھی ، وہ دھیرے دھیرے دور ہوتی جارہی ہے۔
سوال:  بعض سنجیدہ شاعرات جب اسٹیج پر آتی ہیں توان کی شاعری کتنی ہی اچھی اور معیاری کیوں نہ ہو ، ان کو پسند نہیں کیا جاتا۔ اس بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟
جواب:  یہ بات بالکل غلط ہے کہ اچھی اور معیاری شاعرات کو پسند نہیں کیا جاتا۔ آج بھی اسٹیج پر ان شاعرات کو کافی سراہا جاتا ہے جو اچھی اور معیاری شاعری کرتی ہیں، ایسے کئی نام ہیں جیسے کلکتہ کی شہنازنبی، لکھنؤ کی دارا ب بانو وفا ۔ ایک دفعہ طرحی مشاعرہ ہوا۔ اس میںمیں، دارا ب بانو وفا، کمال صاحب ،ساحر ہشیارپوری صاحب ،سردار جعفری اور ان کے علاوہ بھی دیگر بہت سے شعرا حضرات تھے۔طرحی مصرعہ دیا گیا تھا ’ہنستے جو دیکھتے ہیں کسی سے کسی کو ہم‘ اس پر داراب بانووفا نے جو شعر کہاوہ بہت ہی زبردست تھا۔ یہ کوئی 35سال پہلے کی بات ہے۔
کاغذ کی کشتیوں کو سمندر میں ڈال کر
بچوں کی طرح کھیل رہے ہیں خوشی سے ہم
نسیم نکہت بھی بہت اچھی شاعری کرتی ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ اچھی شاعرہ کو پسند نہیں کیا جاتا ، اتنا ضرور ہے کہ جوشاعرات خود شعر کہتی ہیں، وہ کم مقبول ہوتی ہیں اور جو دوسروں سے لکھواکر لاتی ہیں ان کو زیادہ پسند کیا جاتا ہے۔بس یہ خدا کی قدرت ہے ، اس کو کیا کہا جاسکتا ہے ۔
سوال:  آپ رکن پارلیمنٹ رہ چکے ہیں، آپ نے پارلیمنٹ میں وقت گزارا ہے، ایک شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ آپ نے سیاست کو بھی دیکھاہے، پرکھا ہے ،سمجھا ہے۔ شاعری اور سیاست کے تعلق سے آپ کا کیا خیال ہے؟ آیا یہ دونوں ایک دوسرے کے موافق ہیں یا مخالف؟ دونوں میں کیا فرق ہے؟
جواب:  یہ بات درست ہے کہ سیاست اور شاعری کے درمیان تضاد ہے، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ جب بھی سیاست لڑکھڑاتی ہے تو شاعری ہی اس کو سنبھالتی ہے۔سیاست کے لئے نعرے ہم بناتے ہیں۔لفظیات ہمارے ہیں۔کرکٹر پر کروڑوں روپے خرچ کرتے ہیں لیکن کمنٹ ہم کرتے ہیں،زبان ہماری ہوتی ہے۔ فلموں پر آپ کروڑوں ،اربوں روپے خرچ کرتے ہیں، ڈائلاگ، لفظیات وغیرہ ہمارے ہوتے ہیں۔ لیکن ہماری کیا قدر ہوتی ہے۔ میوزک ڈائریکٹر کو آپ لاکھوں روپے دیتے ہیں، لیکن جو سب کچھ کررہا ہے، اس کو کیا دیتے ہیں۔ کسی بھی مشاعرے میں آپ دیکھ لیجئے، سرکاری طور پر زیادہ سے زیادہ دس ہزار روپے ملتے ہیں ، یہ بھی کوئی بات ہوئی۔ یاتو آپ شعرا کو معقول رقم  دیجئے یا پھر کچھ مت دیجئے، ان کی قدر کیجئے، انہیںعزت دیجئے۔  مجھے اس بات کا بہت دکھ ہے۔شاعروں کی ناقدری  کی وجہ یہ ہے کہ شاعروں میں یونین نہیں ہے، اگر ہم نہیں جائیںگے تو آپ چلے جائیں گے۔
سوال:  آپ نے تمام اصناف شاعری میں اشعار کہے ہیں۔ آپ نے ہمیں غزل اور نظم کے اشعار سنائے، اب میں چاہتی ہوں کہ آپ چند دوہے اور قطعات بھی سنادیں۔
جواب:  جی ہاں، میں نے دوہے بھی لکھے ہیں، وہ میں ابھی سناتا ہوں، میں آپ کو ایک اور بات بتاتا چلوں کہ میں نے ایک اور صنف لکھی ہے، اس کا نام ہے’’ کرب معاشی ہجرت کا‘‘۔ یہ ان لوگوں پر لکھی گئی ہے جنہیں کسب معاش کے لئے ماں ، باپ، بھائی ،بہن ، بال بچے اور دیگر رشتہ داروں کو چھوڑ کر پردیس جانا پڑتا ہے۔
بوڑھی ماں کے علاج کی اسکیم گاؤں والے بنارہے ہوں گے
ماں کے آنسو یہ سوچتے ہوں گے، میرے بیٹے کمارہے ہوں گے
لوٹ آنے دے اس کو دبئی سے
وہ عرب میں ہے تین برسوں سے
آکے پکا مکاں بنائے گا،
بہری ہوجائیں گی یہ دیواریں
ساتھ وہ ریڈیو بھی لائے گا
لوٹ آئے گا جب وہ دبئی سے
ٹوٹی کٹیا محل بنادے گا
پیار کے لفظ رکھ کرنوٹوں پر
مرثیے کوغزل بنادے گا
اب دوہا ملاحظہ کیجئے
گوری پنگھٹ سے چلی، بھرے گگریا نیر
غزل بھجن سب تیاگ دیں غالبؔ اور  کبیرؔ
گوری تھرکے لان میںدکھے نہ کوئی گھاس
پنکھڑیوں پر سوگئے کیچھ اور کالی داسؔ
نتھیا چومے، گال کو چومے،ہونٹ بلاق
مد مستی میں کھوگئے بچن اور فراقؔ

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *