فریدہ انجم،پٹنہ
 
’’میں نے تو صرف اتنا ہی کہا تھا کہ مجھے یہ شوق پسند نہیں ہے۔‘‘
 
Image result for painting in wall
کیونکہ میں اسے بلوغت یا باذوق انسان کا مشغلہ نہیں سمجھتا ،اس لئے اب یہ بچپنا چھوڑئے میڈم ۔۔۔۔۔۔ اور میرا کہا مانئے میں یہ نہیں کہتا کہ ایکٹر او ر ایکٹریس کی بے ہنگم تصویریں اپنے پاس مت رکھو بلکہ انہیں گھٹیا انداز میں دیواروں پڑآویزاں کرنا پسند نہیں کرتا،اس لئے مائی ڈئیر۔۔۔۔۔البتہ گھر کی سجاوٹ ایسی ہونی چاہئے کہ انسان دیکھنے میں باذوق اور پڑھا لکھا باشعور اور سلیقہ مند لگتا ہو۔۔۔۔۔۔اوکے۔‘‘تجمل اسے محبت بھری ناراضگی سے سمجھاتا تو آنسو کے چند قطرے اس کی آنکھوں سے چھلکنے لگتے اور آنچل میں جذب ہو جاتے ۔اس طرح اس کو اپنی نادانی کا احساس ہو جایا کرتا تھالیکن آج اس کے چہرے پر افسردگی کے لہریں دیکھ کر تجمل چونک گیا اور اس کے قریب آتے ہوئے نرمی سے بولا۔
 
’’کیا بات ہے یثرب؟تمہارے دل پر کن خیالات کا اثر ہوا ہے۔‘‘
 
وہ اس کی باتوں پر اپنی بے توجہی کا مظاہرہ کرتی ہوئی بے حس و ساکت بیٹھی رہی تو تجمل اسے جاذب نظروں سے دیکھتا رہا ،کیونکہ اس کی ضدی طبیعت اور شوخی سے اب وہ بالکل واقف ہو چکا تھا۔بچپن کی ضد اور شرارتیں رخصت ہونا تو دور کی بات دلربائی کی شوخیاں اس ستم کی پیدا کیں کہ لوگ اس سے پناہ مانگتے تھے ۔آزر صاحب کا یہ عالم تھا کہ وہ بیٹی کے لاڈ و پیار میں کسی بات پر دریغ نہیں کرتے تھے تو پھر کس کی مجال تھی جو اسے مشرقی لڑکی کہ طور طریقوں سے روشناس کرائے۔بس اس کی رگ رگ میں بھری ہوئی شرارت کو دیکھ کر حسنہ بیگم اپنے شوہرآزر صاحب سے جھگڑنے لگتی کہ بیٹی اب جوان ہوئی ۔ اسے پرائے گھر جانا ہے اگر یہی عادت لگی رہی تو کیونکر ایسی بیٹی کا سسرال میں گزر ہوگا۔۔۔۔ حسنہ بیگم کی جلی کٹی یہ تقریر سن کر آزر صاحب بگڑ جاتے اور غصے میں اپنی لاڈلی بیٹی کی طرفداری کرتے ہوئے بولنے لگتے ۔۔۔۔۔ ’’آپ کو بیگم ان باتوں کے سوا کچھ کہنا نہیں ہوتا ہے۔۔۔۔۔ ہمیشہ میری بیٹی کے پیچھے پڑی رہتی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ارے بھئی ابھی تو اس کے ہنسنے کھیلنے کے دن ہیں ، آپ اسے کچھ بھی نہ کہا کریں۔۔۔۔۔ یہ تو میرا بیٹا ہے۔۔۔ میرے دل کا ٹکڑا ۔۔۔۔۔۔۔ میرے اتنے بڑے بزنس کا پاٹنربنے گا۔۔۔۔۔‘‘ غصہ دفعہ ہونے کے بعد آزر صاحب اپنی خوشی کا اظہار کیا تو حسنہ بیگم خاموش ہو گئی۔۔۔۔۔۔ ماں کو اس طرح خاموش دیکھ کریثرب خود بھی مغموم ہو گئی۔اس نے جب عورت کی زبان کو سمجھنے کی کوشش کی تو وہ ماں کے گلے میں اپنی باہیں ڈال کر بولنے لگی۔
 
’’ممی آپ مجھ پر ناراض کیوں ہوتی ہیں ۔۔۔۔۔ آپ کو اپنی بیٹی پر بھروسہ نہیں ہے۔میں کبھی بھی آپ کو شکایت کا موقع نہیں دوں گی مما ۔۔۔۔۔آج میں خود اپنی سالگرہ کے کچھ ڈنر میں اپنے ہاتھوں سے تیارکروں گی۔‘‘بیٹی کی میٹھی میٹھی باتیں سن کر حسنہ بیگم خوشی سے اس کی پیشانی چومتی ہوئی بولیں ۔
 
’’مجھے تم سے یہی امید ہے بیٹا۔‘‘
 
اور وہ نہایت ہی تیز قدمی سے کچن کی طرف جا رہی تھی کہ آتے ہوئے تجمل سے ٹکڑا گئی ۔۔۔۔۔۔اور وہ اس شوخ ،چنچل ہرنی کو میٹھی میتھی نظروں سے دیکھ کر زیر لب بولا۔
 
’’آج میری آرزو پوری ہوئی ۔۔۔۔۔جیسا سنا تھا ویسا ہی پایا ۔‘‘اس کے لب سے یہ جملہ سن کر اس کی برھتی ہوئی شرارت اسے جواب دینے پر اکسا رہی تھی لیکن جب اس تجمل کے مردانہ حسن کا رعت پڑا تو اس کا ننھا سا دل اس کے گداز سینے میں دھڑکنے لگا تو وہ خاموشی سے چلی گئی ۔تجمل کی آمدسے سبھی کے چہرے پر مسرت و انبساط کے آثار ظاہر ہو رہے تھے۔ سبھی مہمان ڈنرکے بعدہنسی مزاج میں مصروف تھے کہ مسز فراز نے اپنے دل کی بات ظاہرکر دی۔انہوں نے دبی زبان سے اپنے بیٹا کے لئے یثرب کو مانگا تو انور صاحب اور حسنہ بیگم تجمل جیسا خوش مزاج باحوصلہ نوجوان اور اس کے علاوہ اپنے کلوز فرینڈفراز صاحب کے اکلوتا چشم و چراغ کے لئے انہوں نے خندہ پیشانی سے پیغام قبول کر لیا تو تجمل کی خوشی کی انتہا نہ رہی۔
 
اس نے ماحول پر اپنی تقابل نظر ڈالتے ہوئے اپنے دوست کے حسن و انتخاب پر فخر کا احساس کرتے ہوئے بھانپ لیا کہ یثرب ستاروں کی جھرمٹ میں چودھویں کا چاند ہے۔وہ بھڑکیلے ریشمی جوڑے میں ملبوس حن و جمال کی تصویر بنی ان خیالوں میں کھوئی ہوئی تھی کہ کیونکہ وہ جانتی تھی کہ قسمت اس کا مزاق اڑا رہی ہے ۔ وہ نہایت خاموشی سے اپنی قسمت کے کھیل کا نظارہ دیکھ رہی تھی ۔ایک مشرقی لڑکی کی طرح اس کے لئے مونس کا تصور کرنا بھی اب گناہ عظیم تھا وہ بوجھل قدموں سے چلتی ہوئی پائیں باغ میں دوشوں پر گھاس کے سبز سبز لانوں پر پھولوں کی کیاری کے پاس بیٹھی مونس کی بے وفائی پر تانے بانے بننے میں منہک تھی کہ مونس کی آواز سن کر اس کے خیالات کا سلسہ ٹوٹ گیا ۔وہ مسکراتا ہوااس کے قریب آکر بیٹھتے ہوئے بولا۔
’’شادی مبارک ہو ۔‘‘
 
’’آپ ہوتے کون ہیںمجھے شادی کی مبارک باد دینے والے ۔‘‘
 
اس کی اس بے رخی کا مونس کے دل پر کوئی اثر نہ ہوا اور وہ اسے چھیڑتے ہوئے شرارت بھرے لہجے میں بولا۔
 
’’اللہ رے یہ سنگ دلی ۔۔۔۔۔یہ بے مروری۔۔۔۔۔شادی کے چاردن ہی ہوئے ہیں اور آپ مجھے بھول گئیں۔‘‘مونس کے شوخ بھرے جملے سن کر اس کے زخمی دل پر جیسے نمک چھڑک رہے تھے ۔ وہ نفرت و حقارت بھری نظروں سے اس کی طرف دیکھتی ہوئی بولی۔
’’فریبی مکار ،دغا باز تم نے مجھ سے شادی کرنے کا وعدہ کیا تھا تم نے مجھ سے اور میرے ممی ،پاپا کے ساتھ بھی وعدہ خلافی کی ہے اتنی جلدی بھول گئے،بچپن کی محبت۔۔۔۔۔یاد کرو مونس وہ دن جب ہم دونوں کھیلتے اور سارا دن ہنسی خوشی چھیڑ چھاڑ میں گزر جایا کرتا تھا۔‘‘
 
مونس حسرت بھری نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے سرد لہجے میں بولا ۔
 
’’میری پیاری یثرب!مجھے وہ دن یاد ہے اور میں اپنے وعدے پر بھی قائم تھا،میں دنیا میں اگر شادی کرتا تو صرف تمہارے ساتھ ہی کرتا ۔۔۔۔۔لیکن ۔‘‘
 
’’لیکن کیا۔۔۔۔۔؟‘‘مونس کے لب سے یہ جملہ سن کر وہ اپنے آپ کو ضبط کرنا چاہتی تھی لیکن طبیعت اسے ضبط کرنے نہ دے رہی تھی اور وہ نہایت تلخ لہجہ میں بولتی ہوئی اسے بے دردی سے جھٹکہ دیتی ہوئی کمرے میں چلی آئی اور مسہری پر گر پڑی ۔آنکھوں سے امنڈتے ہوئے سیلاب کو روکنا اب اس کے ضبط سے باہر ہو چکا تھا۔تجمل اسے اس طرح نڈھال دیکھ کر خود کو سنبھالتے ہوئے اس کے قریب آکر غمگین لہجے میں بولا۔
 
’’یثرب!اس قدر غم نہیں کرو اس وقت مونس کے لئے نہایت ہی صبر آزما لمحہ تھا۔ جب تم میری لائف پار ٹنر ہونے جارہی تھی ایک طرف اس کے دل میں تمہاری محبت کا جوش تھا تو دوسری طرف زندگی اس کے ساتھ بے وفائی کرنے پر تلی ہوئی تھی ۔انکل آنٹی کو جب معلوم ہوا کہ مونس کو کینسر ہو گیا ہے تو وہ بہت پریشان ہو گئے،یہ سوچ کر کے تمہارے ممی پاپا نے اپنی زندگی میں تمہیں کبھی رونے نہیں دیا اور مونس کے کہنے کے مطابق ہی انکل آنٹی نے میرے دوست کی خواہش کا احترم کرتے ہوئے یہ رشتہ قبول کر لیا ۔‘‘
 
تجمل کی زبان سے مونس کی حقیقت سن کر وہ بے حس و ساکت بیٹھی میز پر رکھی مونس کی تصویر کو دیکھ کر گرم گرم آنسو اس کی پلکوں کی حدود کو توڑتے ہوئے باہر آگئے اس وقت اس کے ذہن پر بے پناہ ’’یادوں کے ستم ‘‘ کا قافلہ ٹوٹ پڑا ۔اس کی ایک ایک باتیں اسے یاد آرہی تھیں اور اس کا دل ان سب باتوں کے احساسات شکار ہوتا جا رہا تھا کہ تجمل اسے ان خیالات میں گھر ا دیکھ کر اسے مونس کی باتیں یاد آگئی۔۔۔۔۔تجمل ۔۔۔۔۔میرے دوست ۔۔۔۔۔ یثرب بہت بھولی ہے۔اس کی ضدی طبیعت اور شوخی کو صرف پیار سے ہی دفعہ کیا جا سکتا ہے اور اس کی یہ بات سن کر تجمل مونس کی تصویر دیکھ کر مسکرانے لگا تو یثرب نے ساری بے ہنگم تصویروں کو ہٹا کر مونس کی شکل میں تجمل کو پا کر اس کے چہرے پر تجمل کی تصویر لگا دی ۔اس طرح تجمل نے اسے اپنے پیار و محبت سے اس کی ضدی طبیعت و شرارت کو دفعہ کر دیا اور اسے مشرقی لڑکی کے سانچے میں ڈھال دیا تو حسنہ بیگم کو اپنے بھائی کی اولاد کی شکل میں تجمل کو پاکر ان کے قلب کو سکون مل گیا تھا۔
ؤؤؤ

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here