اراکین پارلیمنٹ اپنی ذمہ داری کو سمجھیں

Share Article

سنتوش بھارتیہ
لوک سبھا کا مانسون اجلاس کن چیلنجوں کا سامنا کرے گا اور کن کا نہیں کہہ نہیں سکتے، لیکن ایسا لگتا ہے کہ لوک سبھا نے چیلنجوں سے بھاگنا شروع کردیا ہے۔ ہر آنے والا اجلاس گزشتہ اجلاس سے زیادہ اہم ہوجاتا ہے، کیوںکہ سوال نئی شکل میں سامنے آجاتے ہیں۔ لوک سبھا میں بیٹھنے والا شخص صرف اپنی جماعت کا نمائندہ یا اس کا بندھوا رکن نہیںہوتا، بلکہ وہ ملک کے مسائل کو حل کرنے والے ادارے کا ذمہ دار رکن ہوتا ہے۔ اس کا رول ہی یہی ہے کہ اس کی نظر پورے ملک کے مسائل پر ہو اور اس کا حل نکالنے میں وہ اپنی تمام تر قوت صرف کردے۔ آج کے اراکین پارلیمنٹ یہ نہیں کر رہے ہیں، انہیں تو یہ بھی پتہ نہیں رہتا کہ کون سے مسائل ہیں اور کن پر انہیں اپنی توجہ مرکوز کرنی ہے۔
پارلیمنٹ کے سامنے مہنگائی کا سوال آئے گا اور اراکین پارلیمنٹ کو اسے ملک کا مسئلہ مان کر اس پر بحث یا بات چیت کرنی چاہیے۔ مہنگائی پر ایک زاویۂ نگاہ یہ ہے کہ اسے لوگ بیماری کی طرح مان رہے ہیں، جو لا علاج ہے۔ تھوڑا بہت شور شرابہ ہوگا اور پھر اسے مقدر مان کر قبول کرلیںگے۔ حکومت اور مخالف جماعتوں کو شاید یہ آسان سوچ لگتی ہے، لیکن وہ یہ بھول رہے ہیں کہ یہی سوچ ماؤنوازوں کے لیے ایک فطری حمایت بھی پیدا کر رہی ہے۔ چھوٹے شہروں کا متوسط طبقہ جس نے ہمیشہ اپنے مسائل کے حل کے لیے کسی لیڈر کا انتظار کیا ہے آج سیاسی قیادت کی کاہلی کی وجہ سے یہ رول ماؤنوازوں کو دینا چاہتا ہے۔ سپورٹ بیس تیار ہو رہے ہیں اور اراکین پارلیمنٹ کو اس کا پتہ ہی نہیں ہے۔
اراکین پارلیمنٹ کے سامنے دوسرا بڑا سوال ملک کے جمہوری اقتدار کے رویے کا ہے۔ کیا اپنے لوگوں کے سوال اٹھانے کو وطن سے غداری مان لیا جائے۔ ہندوستان کی فوج نے مرکزی حکومت سے یہی پوچھا ہے کہ کیا سول انتظامیہ ناکام ہوتی جارہیہے؟ کیا قانون کا نفاذ کرنے والی ایجنسیاں جیسے پولس اور نیم فوجی دستے اپنا اعتبار کھوچکے ہیں اور کیا ترقیاتی کام کرنے والے افسران اور اہل کار صرف بدعنوانی اور لوٹ کھسوٹ کے لیے ہی رہ گئے ہیں۔حکومت نے اس کا جواب نہیں دیا ہے۔ حکومت چاہتی ہے کہ ماؤنواز سے متاثرہ علاقوں میں فوج ہی پولس  کا رول ادا کرے، لیکن فوج اسے نہیں مانتی اور اس نے اپنا سخت احتجاج ظاہر کیا ہے۔
اراکین پارلیمنٹ کو ایک اکائی کے ناطے سمجھنا چاہیے کہ جب فوج حکومت کی خواہش کی مخالفت کرے اور یہ مخالفت جمہوریت کو مضبوطی فراہم کرنے والی ہو تو اس کا خیر مقدم کرنا چاہیے۔ جب فوج مشورہ دے کہ ترقیاتی کام جنگی پیمانے پر ہونے چاہئیں تو اراکین پارلیمنٹ کو اسے ایک چیلنج کے طور پر قبول کرنا چاہیے۔ پورے ملک میں ترقی کا کام غیرمنظم طریقے سے چل رہا ہے۔ بدعنوانی پہلے افسران کی سطح تک تھی جو اب گاؤں تک پھیل گئی ہے۔ کچھ اچھے منصوبوں کو اس طرح نافذ کیا گیا ہے، جس سے پوری گاؤں پنچایت بدعنوانی کی نچلی اکائی بن گئی ہے۔ ترقی کہیں ہو ہی نہیں رہی ہے، لیکن ترقی کا پورا پیسہ گاؤں کے چند لوگ مل کر کھا رہے ہیں۔ اراکین پارلیمنٹ کو ایسے منصوبوں پر توجہ دینی چاہیے اور وقتاً فوقتاً ان کا نفاذ کرنے والے افسران کی جانچ بھی کرتے رہنا چاہیے، کیوںکہ فوج اپنے طور پر اس کا مشاہدہ کر رہی ہے۔ تبھی فوج کے بڑے افسر کہہ رہے ہیں کہ بدعنوانی میں ملوث افسران اور اہلکاروں کو عہد وسطیٰ میں دی جانے والی سزائیں دینی چاہئیں۔ اس رد عمل کا اشارہ اگر آج اراکین پارلیمنٹ نہیں سمجھیںگے تو فوج کل انہیں اس کا مطلب سمجھائے گی۔ اس کی مانگ اٹھنی شروع ہوجائے گی۔ یہ مانگ خطرناک ہوگی۔
اراکین پارلیمنٹ کو کچھ سوالوں کو نظر انداز کرنا مہنگا پڑسکتا ہے۔ ملک کے وہ طبقے جنہیں نہ ترقی کا فائدہ ملتا ہے اور نہ ملک کے چلانے میں حصہ، انہیں نظرانداز نہیں کرناچاہیے۔ رنگناتھ مشرا کمیشن کی رپورٹ پر بحث کرا کر اسے نافذ کرنے کا منصوبہ بنانا چاہیے۔ ملک کے کمزور طبقات کے اندر ایک ایسا غصہ بڑھ رہا ہے، جس کااندازہ اراکین پارلیمنٹ کو نہیں ہے۔ کمزور طبقے سیاسی طور پر اپنی آواز نہیں اٹھا سکتے، لیکن ان تنظیموں کی مدد کرنے میں اپنی طاقت لگادیتے ہیں جو ان کے مسائل کو حل کرنے کا وعدہ کرتے ہیں۔ ملک کے 260اضلاع اس کی مثال بن گئے ہیں۔
افسوس اس بات کا ہے کہ جہاں پارلیمنٹ کو ان سوالوں کی اہمیت سمجھنی چاہیے، جہاں بدعنوانی، بے کاری، صحت اور تعلیم کے ٹوٹتے تانے بانے کو سنبھالنے کی بات کرنی چاہیے وہاںاراکین پارلیمنٹ اپنا وقت برباد کرنے میں اپنی شان سمجھتے ہیں۔ منطقی بحث کی جگہ وہاں پارلیمنٹ نہیں چلنے دینے میں طاقت لگا دی جاتی ہے، شان سے کہا جاتا ہے کہ ہم نے ہاؤس نہیں چلنے دیا۔ ہاؤس نہ چلنے دینے کا کریڈٹ لینے والے عوام کی گاڑھی کمائی کے کروڑوں روپے برباد کردیتے ہیں، جس دن پارلیمنٹ نہ چلے، کم سے کم ا س دن کا محنتانہ اراکین پارلیمنٹ کو نہیں لینا چاہیے۔ اتنا بھی وہ نہیں کرتے۔ اسی لیے پارلیمنٹ سے لوگوں کا بھروسہ اٹھ رہا ہے کہ وہ عوام کے یا ملک کے مسائل کے تئیں نہ ہی تو حساس ہیں اور نہ ہی جواب دہ۔ پارلیمنٹ کو ثابت کرنا ہوگا کہ وہ مجرموں اور دلالوں کا اڈہ نہیں ہے، بلکہ ہندوستان میں رہنے والے غریب عوام، مزدور، اقلیت اور عام آدمی کی عقیدت کا مرکز ہے۔ یہ تبھی ممکن ہوسکتا ہے جب پارلیمنٹ یا اراکین پارلیمنٹ مسائل پر مثبت بات چیت سنجیدگی کے ساتھ شروع کریں۔ پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس اس کسوٹی پر کتنا کھرا اترے گا، یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا۔

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *