ارکان پارلیمنٹ کے تئیں یہ دوہرا معیار کیوں

Share Article

ان دنوں ارکان پارلیمنٹ کی تنخواہ اور الاو¿نس بڑھانے کی تجویز پر پورے میڈیا میں شور مچ رہا ہے۔ میڈیا کاکہنا ہے کہ یہ شور عوامی جذبات کی وجہ سے مچا ہوا ہے، عوامی جذبات اس کے خلاف ہیں۔ ان کی دلیل ہے کہ ملک میں اتنی پریشانی ہو، اتنی غریبی ہو او ردوسری طرف ارکان پارلیمنٹ ، پارلیمنٹ میں کام نہ کررہے ہوں، تو انھیں اپنی تنخواہ او ر الاو¿نس بڑھانے کے بارے میں دور دور تک نہیں سوچنا چاہےے اور عوامی جذبات کا احترام کرنا چاہےے۔
عوامی جذبات کا احترام کرنے کی دلیل میڈیا اس لےے دے رہا ہے ، کیونکہ عوامی جذبات کی وجہ سے فیصلے ہوتے نہیں ہیں۔بہت سی مثالیں ہیں، جن میں فیصلے عوامی جذبات یا موبوکریسی کی بنیاد پر ہوئے ہیں۔ لوگوں کے جذبات ابھارناآسان ہے۔ دہلی میںجب فساد ہوئے، تو بڑی تعداد میںسکھوں کا قتل عام ہوا۔ کیا اسے عوامی جذبات مانیں؟ گجرات میںجب فساد ہوئے، تو بڑی تعداد میںاقلیت کا قتل عام ہوا۔ کیا اسے عوامی جذبات مانیں؟ گجرات میںجب فساد ات ہوئے، تو اکثریت نے اقلیت کا قتل عام کیا، جس کی ساری دنیا میں تھو تھو ہوئی۔ کیا اسے عوامی جذبات مانیں؟ بہت ساری کہانیاں ہمیں اکثر ہر مہینے دیکھنے اور سننے کو مل جاتی ہیں کہ کسی گاو¿ں میں کسی بوڑھی عورت کو ڈائن ہونے کے شک میں پیٹ پیٹ کر مار دیا گیا۔ کیا اسے عوامی جذبات مانیں؟ کھاپ پنچایتیںجس طرح کام کررہی ہیں اور فیصلہ دے دیتی ہیں کہ یہ آدمی گاو¿ں سے نکال دیا جائے یا اس لڑکی کے ساتھ پورے گاو¿ں والے عصمت دری کریں یا ا س کا قتل کردیا جائے یا بھری پنچایت میں اس کا سر قلم کردیا جائے۔ کیا اسے عوامی جذبات مانیں؟ اب تو دوسرے سماج کے لوگوں میں بھی عوامی جذبہ کے نام پر پنچایت بیٹھتی ہے اور لڑکیوں یا لڑکوں ، جنھوں نے پیار محبت کی شادی کی ہے، کے قتل کا حکم دیتی ہے۔ کیا اسے عوامی جذبات مانا جائے؟
عوامی جذبات ہمیشہ صحیح ہوتے ہیں، یہ سچ نہیں ہے۔ ہمارے ملک میں جمہوریت ہے اور ہم نے جمہوری طریقہ کار اپنایا ہے۔ اس جمہوری طریقہ کار میںجمہوری ادارے ہیں، آئینی ادارے ہیں۔ ان ہی میں عدالت ہے، عاملہ ہے اور مقننہ بھی آتی ہے، جس میں پارلیمنٹ اور اسمبلیاں شامل ہیں۔ ان تینوں کے متوازن ہمارا سسٹم چلتا ہے۔ ایک چوتھائی حصہ ہے میڈیا، جس کا تحریری طور پر کوئی وجود نہیں ہے، لیکن روایتی طریقے سے اسے جمہوریت کا چوتھا ستون یا چوتھی دیوار مان لیا گیا ہے۔
اب جبکہ ارکان پارلیمنٹ نے اپنی تنخواہ اور الاو¿نس بڑھائے، تو اس کے پیچھے بھی ان کی ایک دلیل ہے۔ دلیل یہ ہے کہ ملک میں تنخواہ اور الاو¿نس میںاضافہ کا ایک پیمانہ ہونا چاہےے، ابھی ایک مہینے قبل ساتویںپے کمیشن کی رپورٹ آئی، جس کی سفارشوں کے عمل پر سرکاری افسروں اور ملازمین کی تنخواہ اور الاو¿نس کے طور پر ایک لاکھ کروڑ روپے سالانہ کا بوجھ ملک کے اوپر پڑنا طے ہے۔ اور اس ملک میں، جہاں مانا جاتا ہے کہ سرکاری افسران اور ملازمین پورے وقت کام نہیں کرتے، ٹالتے ہیں ، رشوت لیتے ہیں اور بدعنوانی کرتے ہیں۔ ہمارے ملک میں بھلا کسے نہیں معلوم کہ اب کام کرانے کے لےے ہر جگہ بھینٹ پوجا چڑھانی پڑتی ہے اور افسران و ملازمین پورے ٹائم بیٹھتے بھی نہیں ۔ اور پھر ایک جھٹکے میں ایک لاکھ کروڑ روپے سالانہ کا بوجھ ملک کے اوپر آگیا۔ کسی نے اُف تک نہیں کی، نہ کسی ٹی وی چینل نے اور نہ کسی اخبار نے۔ نہ ملک میںکہیں اس کے خلاف مظاہرے ہوئے۔ اور یہ اُس ملک میںہوا، جہاں کسان خودکشی کررہے ہیں، جہاں آبپاشی کے وسائل نہیں ہیں، جہاں پینے کا پانی نہیں ہے، جہاں ترقی کے لےے پیسہ نہیں ہے۔
وہیں دوسری طرف ارکان پارلیمنٹ کی اپنی پریشانی ہے، جسے بتانے میں وہ جھجک محسوس کرتے ہیں۔ ان کی پریشانی یہ ہے کہ انھیں اپنے انتخابی حلقہ میں چوکنا رہنا چاہےے،وہ نہیں ہوپاتے۔ وجہ یہ ہے کہ ہر رکن پارلیمنٹ امیر نہیں ہے، دلال نہیں ہے۔ اس کے باوجود ارکا ن پارلیمنٹ کے بارے میںمیڈیا نے یہ تصور قائم کررکھا ہے کہ وہ دلالی کرتے ہیں۔ ملک میں ارکان پارلیمنٹ کی مجرمانہ شبیہ کسی اور نے نہیں، بلکہ میڈیا نے بنائی ہے، کیونکہ سیاسی طور پرا رکان پارلیمنٹ اورا رکان اسمبلی اپنے بارے میں مناسب صفائی نہیں پیش کرپاتے۔ آج کی تاریخ میں سب سے آسان الفاظ سے پیٹنے کے بارے میں اگر کسی ایک طبقہ کی نشاندہی کی جاسکتی ہے، تو وہ سیاست سے جڑے لوگ ہیں اور اس کی جڑ میںوہ خود ہیں۔ انھوں نے گزشتہ 65 سالوں سے پارلیمنٹ اور اسمبلیوں کو کسی بھی مسئلے کے حل نہ ہونے کا مرکز بنا رکھا ہے۔ پارلیمنٹ اوراسمبلیوں کی بحثیں اب لوگوں کی حوصلہ افزائی نہیں کرتیں، کیونکہ ان کے اندر شور شرابہ ہوتا ہے۔ ان کے اندر جو فیصلے ہوتے ہیں، انھیں ارکان پارلیمنٹ اور ارکان اسمبلی بھی نہیں سمجھ پاتے۔ اس لےے اپنے حلقے کے ووٹروں کو بھی نہیں سمجھا پاتے۔ ان کی یہ شبیہ پورے ملک میں بن گئی ہے اور میڈیا اس شبیہ کو مضبوط کرنے میں اپنی پوری طاقت لگا دیتا ہے۔ اسی لےے آج ارکان پارلیمنٹ اور ارکان اسمبلی کی مخالفت ہورہی ہے کہ وہ خود کیسے اپنی تنخواہ اور بھتے بڑھا سکتے ہیں؟
یہ بات بھی کسی حدتک صحیح ہے کہ آپ خود اپنی تنخواہ او ربھتے کیسے بڑھا سکتے ہیں؟ لیکن اس سے جڑی ایک اہم حقیقت یہ ہے کہ ارکان پارلیمنٹ کی اس مانگ پرکسی سرکار نے کبھی دھیان نہیں دیا، جو اکثر ان کے بیچ اٹھتی رہی ہے۔ ارکان پارلیمنٹ یہ کہتے رہے ہیں کہ ان کی تنخواہ اور بھتوں کو ہرپانچ یا چھ سال میں ریویو کرنے کی بات کیوں کی جاتی ہے؟ آپ اسے ایک فارمولے سے جوڑ دیجئے۔ آخر سرکاری افسروں اور ملازمین کے لےے ایک فارمولہ ہے۔ ملک میں جو فہرست بنی ہے، اس میں سب سے پہلے صدر جمہوریہ ہیں اور نوکر شاہوں میںکیبنٹ سکریٹری سب سے اوپر ہیں ۔ کسی بھی رکن پارلیمنٹ کا درجہ کیبنٹ سکریٹری سے اوپر ہے۔ یہ ہمارے ملک کی پرایورٹی لسٹ ہے۔ یہ فارمولہ کیوں نہیں طے کردیا جاتا ہے کہ جیسے جیسے کیبنٹ سکریٹری کی تنخواہ بڑ ھے گی یا گھٹے گی، اس سے کم سے کم ایک روپےہ زیادہ رکن پارلیمنٹ کی تنخواہ ہوگی۔ اسی طرح جتنی پینشن کیبنٹ سکریٹری کو ملتی ہے، رکن پارلیمنٹ کی پینشن اس سے ایک روپیہ زیادہ ہوگی۔ آخر اس میںکیا دقت ہے؟ ایک لاکھ کروڑ روپے ہم نے ایک سیکنڈ میںسرکاری افسروں اور ملازمین کو دے دےے، لیکن 800 لوگوں کی تنخواہ اور بھتے پر سوالیہ نشان لگانے پر آمادہ ہیں ۔ اگر ہم ان کے بارے میںنہیں سوچ سکتے اور عوامی جذبات اور احساسات کوٹھیس پہنچانے کا الزام لگاکر اسے بحث کا موضوع بناتے ہیں، تو یہ جمہوریت کے تئیںمیڈیا کی بے حسی مانی جائے گی۔
ایک رکن پارلیمنٹ کے خرچ کا حساب اگر آپ لکھنا چاہیں، تو کاغذ پر لکھ سکتے ہیں۔ ایک رکن پارلیمنٹ کو روزانہ کم سے کم 200 لوگوں کو چائے پلانی پڑتی ہے۔ ایک چائے کی قیمت اپنے گھر میں آپ تین سے چار یا پانچ روپے لگاتے ہیں، تو ایک دن میں 200 چائے کا خرچ ایک ہزار روپے آتا ہے۔اس کے بعد اسے روزانہ کم سے کم 50 لوگوں کو کھانا کھلانا پڑتا ہے۔ایک آدمی کا کھانا50سے 100 روپے کے بیچ آتا ہے۔ اگر روزانہ 50 لوگوں کو 50 روپے فی شخص کے حساب سے کھانا کھلایا جائے، تو آخر کتنا خرچ آئے گا؟ انتخابی حلقہ سے روزانہ کئی لوگ رکن پارلیمنٹ سے ملنے آتے ہیں اور ان میں سے کئی ایسے ہوتے ہیں، جن کی واپسی کا کرایہ بھی رکن پارلیمنٹ کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔ رکن پارلیمنٹ کو اپنے انتخابی حلقہ کے 10 لاکھ لوگوں سے خط وکتابت کے ذریعہ رابطہ رکھنا پڑتا ہے۔ مان لیجئے، ایک دن میں اسے ایک ہزار لوگوں کو خط لکھنا ہو، تو ڈاک ٹکٹ اور لفافے کا خرچ کتنا آئے گا،کیونکہ وہ خط بھی پارلیمنٹ کے لیٹر ہیڈ پر لکھا جاتا ہے؟ ایسے میں رکن پارلیمنٹ کا ایک مہینے کا خط وکتابت کا خرچ جوڑ لیجئے۔ رکن پارلیمنٹ کو اپنے انتخابی حلقہ کا دورہ کرنا پڑتا ہے، جس کے لےے اسے اپنی گاڑی کے علاوہ تین گاڑیاںرکھنی پڑتی ہیں، کیونکہ دورے کے وقت اس کے حامی اس کے ساتھ چلتے ہیں ۔ ان کے کھانے پینے اور گاڑی کا ڈیژل خرچ بھی رکن پارلیمنٹ کے کھاتے میںجاتا ہے۔
ایک رکن پارلیمنٹ کا انتخابی حلقہ کم سے کم 50 کلو میٹر ریڈیس کا ہوتا ہے، جس میں 10 سے 15 لاکھ لوگ ہوتے ہیں۔ یہ وہ خر چ ہے، جو رکن پارلیمنٹ کے اپنے خاندان پر نہیں ہوتا۔ اس کے اپنے بچے پڑھتے ہیں، اسے اپنی رشتہ داری میںبھی جانا پڑتا ہے۔ اب رکن پارلیمنٹ کاایک اور کام بڑھ گیا ہے کہ اس کے حلقے میں جتنی شادیاں ہوتی ہیں، وہاں اسے کچھ نہ کچھ دینا پڑتا ہے۔اگر وہ شگن نہیں دے گا، تو لوگ اسے بے حس مان لیں گے۔ اور یہ خرچ دو لاکھ روپے کے آس پاس بیٹھتا ہے۔ اسی رکن پارلیمنٹ کو اگر تنخواہ کے لحاظ سے دیکھیں، تو کیا ہم اسے بدعنوان نہیںبنار ہے ہیں؟ یہ جتنے خرچے میںنے گنائے ہیں، ہررکن پارلیمنٹ کو کرنے پڑتے ہیں، وہ چاہے امیر ہو یا غریب۔ جو امیر ہیں، ان کی تعداد صرف 10 یا 15 فیصد ہے، باقی 85 فیصد کو ہم جبراً بدعنوان بناتے ہیں۔ اس سے بہتر ہے کہ ہم ان کی تنخواہ بڑھائیں، اسے ایک فارمولے سے جوڑیں۔ جیسے جیسے پے کمیشن اپنی رپورٹ دیتا ہے اور سرکاری افسروں اور ملازمین کی تنخواہ بڑھتی ہے، اس میں کیبنٹ سکریٹری کو معیار مان کرا رکان پارلیمنٹ کی تنخواہ اور پینشن میں اضافہ ہونا چاہےے۔یہ ساری باتیں ٹی وی چینل نہیںبتاتے، اخبار نہیں بتاتے۔ دوسری طرف ارکان پارلیمنٹ کی ویلن کی شبیہ میڈیا نے بنا رکھی ہے۔ میںجب دوستوں کو یہ حساب بتاتا ہوں ، تو انھیںلگتا ہے کہ ارکان پارلیمنٹ کی تنخواہ یا بھتہ بڑھنا جائز ہے۔ لیکن یہ حساب خود ہمارے میڈیا کے دوست عوام کے سامنے نہیں رکھتے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *