میں ایک زندہ لاش ہوں

Share Article

” میںنے جیل کے اندر اپنی زندگی کے 8150 دن گزارے ہیں۔ میرے لےے زندگی ختم ہوچکی ہے، جسے آپ دیکھ رہے ہیں، وہ ایک زندہ لاش ہے۔“ یہ الفاظ ہیں گلبرگہ (کرناٹک) میں رہنے والے نثارالدین کے، جنھیں23 سال قبل بابری مسجد کی شہادت کی پہلی برسی کے موقع پر ہوئے بم دھماکے کا ملزم بناکر پولیس نے جیل میں ڈال دیا گیا تھا۔ ان بم دھماکوں میںدو مسافروں کی موت واقع ہوئی تھی اور 11 مسافر زخمی ہوئے تھے۔ بہرحال 11 مئی 2016 کو سپریم کورٹ نے انھیں بے قصور قرار دیتے ہوئے باعزت بری کردیا۔نثار کہتے ہیں، ”میں 20 سال کا ہونے والا تھا، جب انھوں نے مجھے جیل میں ڈال دیا۔ اب میں43 سال کا ہوں۔ آخری بار جب میںنے اپنی چھوٹی بہن کو دیکھا تھا، تب وہ 12 سال کی تھی۔ اب اس کی 12 سال کی بیٹی ہے۔ میری بھانجی تب صرف ایک سال کی تھی، اب اس کی شادی ہوچکی ہے۔ میری کزن مجھ سے دو سال چھوٹی تھی، اب وہ دادی بن چکی ہے۔ پوری ایک نسل میری زندگی سے غائب ہوچکی ہے۔“

23 سال بعدنثار پر انصاف مہربان ہوا، وہ بے گناہ ثابت ہوئے اور سپریم کورٹ نے انھیں باعزت بری کردیا۔جے پور جیل سے چھوٹنے کے بعد پہلی رات انھوں نے ایک ہوٹل میں گزاری۔وہ کہتے ہیں، ”میں سو نہیں سکا۔ کمرے میں ایک بستر تھا، جبکہ میں اتنے سالوں سے زمین پر کمبل اوڑھ کر سویا تھا۔ نثار نے بتایا کہ گلبرگہ (کرناٹک) سے جب انھیں گرفتار کیا گیا تھا، تب وہ فارمیسی کے سیکنڈ ایئر میںتھے۔ پندرہ دن بعد امتحان ہونا تھا۔ واقعہوالے دن 15 جنوری 1994کو یاد کرتے ہوئے انھوںنے کہا، ”اس دن میں کالج جارہا تھا۔پولیس کی ایک گاڑی انتظار کررہی تھی۔ایک شخص نے مجھے ریوالور دکھائی اور مجھے جبراً گاڑی میں بٹھالیا۔مجھے حیدر آباد لایا گیا۔ اس وقت تک کرناٹک پولیس کو میری گرفتار ی کی خبر ہی نہیں تھی۔
ریکارڈ کے مطابق نثار کو28 فروری 1994 کو عدالت کے سامنے پیش کیا گیا ۔ اپریل کے مہینے میں نثار الدین کے بڑے بھائی ظہیرالدین ، جو کہ ، ممبئی میں سول انجینئر تھے ، انھیں بھی پولیس نے اٹھاکر جیل میں ڈال دیا۔ نثار کو پولیس نے پہلے حیدرآباد میں 1993 میںایک مسلم انسٹی ٹیوٹ میںہوئے دھماکے کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔ بعد میں دونوںبھائیوںکو بم دھماکوں کے ملزم بنا کران پر ٹاڈا لگادیا۔ اس طرح ایک ہی گھر کے دو جوان بیٹوں کو بم دھماکوں کے مقدمے میں پھنسا کر جیل کی تاریک کوٹھری میں ڈال دیا گیا۔ ان کے والد نورالدین نے اپنے بیٹوں کو بے گناہ ثابت کرنے کے لےے سب کچھ داو¿ںپر لگادیا، لیکن رہائی کا پروانہ نصیب نہ ہوا۔ آخر بیٹوں کی رہائی کی حسرت لےے ہوئے وہ اس دار فانی سے کوچ کر گئے۔ عدالت نے نثار اور ظہیر کو عمر قید کی سزا سنائی تھی۔ پھر اچانک جیل میںظہیر الدین کیطبیعت بہت زیادہ خراب ہوگئی۔ ان کے پھیپھڑوں میںکینسر ہوگیا تھا۔ آخر صحت کی خرابی کی بنیاد پر سپریم کورٹ نے ظہیرالدین کو 9 مئی 2008 کو ضمانت پر رہا کردیا۔
اقبالیہ بیان کی بنیاد پر پولیس نے دعویٰ کیا کہ نثار نے اے پی ایکسپریس میں بم رکھنے کی بات قبول کرلی ہے۔ ابھی کرناٹک اور حیدرآباد پولیس اس معاملے کی جانچ کر ہی رہی تھی کہ یہ معاملہ سی بی آئی کو سونپ دیا گیا۔ 21 مئی 1996 کو حیدرآباد کی عدالت نے ان پر لگائی گئی ٹاڈا کی دفعات کو ہٹاتے ہوئے کہا کہ بغیر کسی سنگین معاملے کے ٹاڈا لگادیا گیا ہے۔حیدرآباد کی ٹرائل کورٹ نے 2007 میں ہی سب کو چھوڑ دیا تھا، لیکن اقبالیہ بیان کی بنیاد پر نثار اور دیگر 15 ملزمان کو اجمیر کی ٹاڈا عدالت نے عمر قید کی سزا سنادی۔نثار نے مجسٹریٹ کے سامنے اقبالیہ بیان کے تعلق سے بار بار فریاد کی،لیکن مجسٹریٹ نے اس کی بات پر کوئی دھیان نہیں دیا۔
نثار الدین 23 سال کی جیل کاٹ کر گھر پہنچے ، تو سب کچھ بدل چکا تھا۔ ماں بیٹے کے غم میں بوڑھی ہوچکی تھی۔ جو بچے اس سے چھوٹے تھے، ان کی ایک نسل آگے بڑھ چکی تھی۔باپ اس کی رہائی کی جدوجہد میںاپنی زندگی ہار کر خدا کو پیارے ہوچکے تھے ۔ وہ رشتہ دار بھی اس کا استقبال کررہے تھے جنھوں نے ان کے دہشت گردی کے مقدمے میں پھنسنے کے بعد اس گھرانے سے دوری قائم کرلی تھی۔دراصل جب کوئی مسلم نوجوان دہشت گردی کے معاملے میں پھنسا دیا جاتا ہے، تو اس کے رشتہ دار، دوست احباب اس گھرانے سے محض اس لےے دوری قائم کرلیتے ہیںکہ کہیںاس کی آنچ ان تک نہ پہنچ جائے اور پولیس کی جانچ ان کے گھروں تک بھی نہ پھیل جائے۔
سپریم کورٹ کے جسٹس ایف محمد کیف اللہ اور جسٹس اودے امیش للت نے اقبالیہ بیان کودیکھااور کہا کہ اس پر بھروسہ نہیںکیا جاسکتا۔ نثار کا کردار نہ تو اقبالیہ بیان سے ظاہر ہوتا ہے اور نہ ہی اس کے خلاف دیگر ثبوت ملے ہیں۔ اس طرح سپریم کورٹ نے 11 مئی 2016کو نثار کو بے گناہ قرار دیتے ہوئے عمر قید کی سزا کو منسوخ کرتے ہوئے فوری طور پر رہا کرنے کا حکم دے دیا۔ نثار نے سپریم کورٹ کا شکریہ اداکرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے میری آزادی مجھے لوٹادی، لیکن میری زندگی مجھے کون لوٹائے گا؟
نثار کے سوال کا جواب بھلا کون دے سکتا ہے۔نثار سے پہلے بھی بہت سے مسلم نوجوان دہشت گردی کے مقدموں میںاپنی زندگی کے دس دس سال او راس سے بھی زیادہ سال جیل میںگزارکر سپریم کورٹ سے باعزت بری ہوچکے ہیں، لیکن اب تک نہ تو ان کی بازآبادکاری ہوسکی ہے، نہ ہی انھیں کوئی معاوضہ ملا ہے اور نہ ہی ان پولیس افسران کوکوئی سزا ملی ہے، جنھوں نے ان بے گناہوں کوفرضی مقدمے میں پھانس کر اپنے اسٹار بڑھائے ہیں۔ اس معاملے میںجمہوریت کاچوتھا ستون مانا جانے والا میڈیا بھی خاموش رہتاہے۔ عام طور پر جس وقت دہشت گردی کے واقعہ کے ملزمان کی گرفتاری ہوتی ہے تو میڈیا ان کے تمام تر تار دہشت گرد تنظیموںسے جوڑنے میں دیر نہیں لگاتا، لیکن جب وہی ملزمان عدالت سے بے گناہ ثابت ہوکر اور رہائی کا پروانہ لے کر جیل سے واپس لوٹتے ہیں، تووہ ان کے بارے میںایک خبر تک دینے سے گریز کرتا ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہسیاسی پارٹیاں بھی ایسے معاملوں پر کوئی بیان دینے سے جھجکتی ہیں۔ نثار کے معاملے میں تو این ڈی ٹی وی اور کچھ اخبارات نے کوریج دی، لیکن اکثر معاملوںمیںمیڈیا کوسانپ سونگھ جاتا ہے۔
نثار الدین کو رہائی مل گئی، لیکن اس نے اپنی زندگی کے23 سال جیل میں گزاردیے ، اس کی جوانی جیل کی تنگ کوٹھری میں کٹ گئی، اس کی تعلیم ختم ہوگئی، گھر برباد ہوگیا، اس کا کون حساب دے گا۔اس کی بازآبادکاری کیسے ہوگی، معاوضہ کون دے گا ، اس کی زندگی کیسے کٹے گی؟ اورکیا ان پولیس افسران کو بھی کوئی سزا ملے گی، جنھوںنے اس کی زندگی کو زندہ لاش بنادیا اور کیا ان مرنے والے مسافروں کے پسماندگان کو بھی انصاف ملے گا، جنھوں نے بم دھماکے میںاپنی جان گنوائی تھی؟ کیا پولیس کے ہاتھ اصل مجرموں تک پہنچ پائیں گے، شاید نہیں۔کیونکہ ہمارے یہاں ایسا کوئی قانون نہیں ہے ، جو بے گناہ لوگوںکو پھنسانے والی پولیس پر تادیبی کارروائی کرسکے۔ اور جب تک ایسا کوئی قانون نہیں بنے گاتب تک پولیس دہشت گردی کے معاملے میںبے گناہوں کو یوں ہی فرضی مقدموں میںپھانس کر جیلیں بھرتی رہے گی اور اصل ملزم تک اس کے ہاتھ پہنچنے سےمحروم رہیںگے۔حال ہی میں وزیر قانون سدانند گوڑا نے ایسے معاملات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس معاملے میںقانونی اصلاحات کی ضرورت ہے او راس سلسلے میں جلدی ہی قدم اٹھائے جائیں گے۔ اس سے پہلے وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے بھی پولیس کو ہدایت جاری کی تھی کہ دہشت گردی کے معاملوںکی تفتیش میںپولیس کو شفاف رویہ اپنانا چاہےے۔ اس سلسلے میں لاءکمیشن بھی حکمت عملی تیار کررہا ہے، جس کے ذریعہ مجرمانہ معاملوں کی تفتیش، ضمانت اور استغاثہ کے رول پر بھی غور کیا جانا ہے۔ دیکھئے اس پر کب عمل درآ مد ہوتا ہے؟

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *