عابد انور
دنیا میںہر چیز کی قیمت چکانی پڑتی ہے خواہ وہ قیمت چھوٹی ہو یا بڑی لیکن کسی بھی حال میں اس سے رستگاری نہیں لیکن اتنی مہنگی قیمت کوئی بھی ملک نہیں چکاتا جتنی قیمت پاکستان نے امریکہ کو چکائی ہے، اس کے باوجود اس کی نظر میں پاکستانی قیمت مشکوک ہے کیوں کہ قیمت وصول کرنے والے کی مثال اس جہنم کی ہے جس کا پیٹ کبھی نہیں بھرتا اور ہمیشہ ہل من مزید کا نعرہ بلند کرتا ہے۔اب تک امریکہ چند ارب ڈالر کے بدلے لاکھوں عراقیوں، افغانستانیوں اور پاکستانیوں کی جان لے چکا ہے لیکن تسلی نہیں ہورہی ہے۔ درحقیقت اپنی نااہلی، کاہلی، غیر ملکی امداد پر حد سے زیادہ انحصار، بدعنوان سیاست داں اور دوسروں کے ٹکڑوں کے انتظار نے پاکستان کو کسی قابل نہیں چھوڑا۔ جس ملک کا وجودرمضان کے مہینے کی 27 ویں تاریخ جیسے مبارک دن یعنی شب قدر کے روز ہوا ہو اور اس ملک کو اس وقت کے مسلمانوں کے بہترین دماغ کی خدمات حاصل رہی ہوں اس مملکت خداداد کا یہ حال دیکھ کر ہر اس مسلمان کے دل کو ٹھیس پہنچتی ہے جس کا مقصد مسلمانوں کو باوقار اور بامثال زندگی عطا کرنا ہے لیکن اس وقت وہ پوری دنیا کے مسلمانوں کے لیے شرم کا باعث بن رہا ہے۔پوری دنیا اسے شک کی نظر سے دیکھ رہی ہے اور بہت سے ممالک اسے ناکام ریاست قرار دینے میں رات دن ایک کیے ہوئے ہیں۔ پاکستان مسلم دنیا کا معلنہ واحد ایٹمی ملک ہے جس کے رہنمائوںنے اپنی غیرت و حمیت کی حفاظت کے لیے گھاس پھوس تک کھانے کا وعد ہ کیا تھا لیکن کسی کے سامنے سربسجود ہونے سے انکار کردیا تھا مگر آج اس کے رہنما ہر در پر سجدہ ریز ہوتے نظر آرہے ہیں۔ پاکستان کوامریکی امداد نے اندر سے اتنا کھوکھلا کردیا ہے کہ اس کے لیڈر ملک کے بارے میں بھلا و برا سوچنے کے قابل ہی نہیں رہے۔ امریکی امداد نے پاکستان کی غیرت و حمیت کو دیمک کی طرح چاٹ لیا ہے۔آپریشن جیرو نیمو اس کی تازہ مثال ہے جس میں امریکہ نے اپنے کمانڈوز کے ذریعہ مبینہ طور پر اسامہ بن لادن کو نہ صرف قتل کیا بلکہ اس کی لاش کو بھی لے گئے اور سمندر میں غرق کردیا اور پاکستان کو خبر تک نہ ہوئی اور یہ اطلاع پاکستانی حکام کو امریکی آقا نے ہی دی تھی ورنہ انہیں پتہ بھی نہ چل پاتا کہ ہوا کیا ہے۔ ایک ایٹمی ملک کے ساتھ دنیا میںپہلا ایسا واقعہ ہوا ہے جس میں اس کے ملک کی خود مختاری کو چیلنج کیا گیا ہے اور اس کی آزادی کا کھلم کھلا مذاق اڑایا گیا ہے لیکن قوت و طاقت کے اعتبار سے دنیا کی ساتویں آٹھویں پوزیشن کی حامل پاکستانی افواج اپنے ملک کی غیرت و حمیت اور خودمختاری کی حفاظت کرنے میں بری طرح ناکام رہی۔ غیرت و حمیت اور شجاعت امداد سے نہیں خریدی جاسکتی۔
آپریشن اسامہ کے بعد پاکستان کے حالات اتنے مخدوش ہوگئے ہیں کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ملک ٹوٹنے بکھرنے کے دہانے پر ہے۔ جہاں امریکہ پاکستان کی خود مختاری کی دھجیاں اڑاتے ہوئے ڈرون حملہ جاری رکھے ہوئے ہے وہیں پاکستان میں انتقامی کارروائی کا دورجاری ہے اور آئے دن پاکستانی شہر دھماکوں سے دہل رہے ہیں۔کب اور کس وقت دھماکہ ہوجائے گا یہ کسی کو بھی نہیں معلوم ہوتا۔ جاسوسی کے لیے پوری دنیا میں اپنا نام کمانے والی خفیہ ایجنسی انٹرسروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) بھی دھماکوں کا پتہ لگانے میں ناکام رہی ہے یہاں تک کہ اس کے دفاتر بھی دھماکوں سے محفوظ نہیں ہیں وہ پاکستان کی حفاظت کیا کرے گی۔ پاکستان میں جنگجوئوں کے حوصلے کتنے بلند ہیں اس کا اندازہ اس واقعہ سے لگایا جاسکتا ہے کہ انہوں نے براہ راست بحری، بری اور زمینی افواج کے ایربیس کو نشانہ بنایا اور صرف نشانہ ہی نہیں بنایا بلکہ جانی و مالی نقصان سمیت 16 گھنٹے تک ایر بیس کو قبضے میں رکھا۔ یہ کوئی معمولی واقعہ نہیں ہے۔ جہاں اسے زبردست لاپروائی اور غفلت کہا جاسکتا ہے وہیں پاکستانی افواج اور سیکورٹی ایجنسیوں کی اہلیت، قابلیت اور دعوے پر سوالیہ نشان قائم کرتا ہے۔ کراچی کے مہران ایر بیس پردہشت گردوں کا یہ حملہ سری لنکا میں لبریشن ٹائیگرس آف تمل ایلم (ایل ٹی ٹی ای) کی یاد دلاتا ہے۔ جب پہلی بار ایل ٹی ٹی ای نے 24 جولائی 2001کو بھنڈارانائیکے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر حملہ کرکے سری لنکا ایر لائنز کے چارجہازوں کو تباہ کردیا تھا۔ اس حملے میں 14 ایل ٹی ٹی ای ممبروں نے حصہ لیا تھا۔ اسی طرح 18 اکتوبر 2006 کو ایل ٹی ٹی ای نے سری لنکا کے بحریہ کے اڈے پر حملہ کیا جس میں تین جوانوں کی موت ہوگئی تھی۔ اسی طرح کے ایک اور حملے میں ایل ٹی ٹی ای نے سری لنکا کے فضائیہ پر حملہ کرکے 30 سے زائد فوجیوں کو مار ڈالاتھا اور آٹھ فضائیہ کے جہازوں کو تباہ کردیا تھا۔ مجموعی طور پر ایل ٹی ٹی ای نے مختلف موقعوں پر ہوائی اڈوں پر حملہ کرکے 26 سے زائد جہازوں کو تباہ کیا تھا۔ کراچی ایر بیس پر بھی جنگجوئوں نے حملہ کرکے نگرانی کرنے والے دو جہازوں کو تباہ کیا ہے۔ یہ کوئی معمولی واقعہ نہیں ہے کیوں کہ پاکستان سری لنکا نہیں ہے اور نہ ہی یہاں کے جنگجو ایل ٹی ٹی ای کی طرح منظم ہیں۔
مہران ایربیس پر حملہ نے جہاں پاکستانی فوجیوں کی بہت سی کمیوں کو اجاگر کیا ہے وہیں یہ پیغام بھی دینے کی کوشش کی ہے کہ پاکستان میں اب کچھ بھی محفوظ نہیں ۔ وہاں کچھ بھی ہوسکتا ہے اور کسی بھی ٹھکانے پر حملہ کیا جاسکتا ہے۔ اس حملہ کے دوران تین نیول کمانڈوز، یاسر نامی ایک نیوی لیفٹیننٹ، دو رینجرز، آگ بجھانے کے عملے کے تین ارکان اور ایک ملاح سمیت 16 افراد ہلاک ہوئے ۔ جس وقت حملہ ہوا اس وقت اس ایر بیس پر سترہ غیر ملکی افرادموجود تھے جن میں سے گیارہ چینی اور چھ امریکی تھے جنہیں حملے کے فوراً بعد بحفاظت دوسرے محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا۔نیوی اہلکاروں کے مطابق حملہ آوروں نے میری ٹائم نگرانی کرنے والے دو طیاروں پی تھری اورین کو تباہ کردیا۔نیوی ذرائع کے مطابق حملہ آوروں کی تعداد چار سے چھ کے درمیان تھی جو حفاظتی باڑ کاٹ کر سیڑھیوں کی مدد سے ایر بیس میں داخل ہوئے تھے اور سب سے پہلا کام یہی کیا کہ نگرانی کرنے والے جہاز وں کو نشانہ بنایا ۔زخمی ہونے والے پاکستانی اہلکارنے نام خفیہ رکھنے کی شرط پرجو چونکانے والا بیان دیا ہے کہ حملہ آور کسی طرح بھی طالبان یا مقامی نہیں لگ رہے تھے، وہ انتہائی تربیت یافتہ تھے اور ان کی تربیت فوجی درجے کی ہوئی تھی۔ کراچی میں پاکستان بحریہ کے بیس پر جنگجوئوں کا یہ حملہ 2009 میں راولپنڈی میں پاکستانی فوج کے ہیڈکوارٹر پر کیے جانے والے حملے کے بعد کسی فوجی مرکز پر پہلا حملہ ہے۔ راولپنڈی کے فوجی ہیڈکوارٹر پر حملہ بائیس گھنٹے تک جاری رہا تھا اور بائیس لوگ ہلاک ہوئے تھے۔شدت پسندوں کا حملہ مسلسل جاری ہے جب اور جہاں موقع ملتا ہے وہ حملہ کرنے اور سرکاری تنصیبات کو نشانہ بنانے سے نہیں چوکتے۔ گزشتہ دنوں کراچی میں پاکستانی بحریہ کی دو بسوں کو تخریب کاروں نے نشانہ بنایا تھا اور اس کے علاوہ گزشتہ ہفتہ پولیس ٹریننگ کیمپ پر بھی خودکش حملہ کیا تھا۔ جب سے امریکہ کے ڈرون حملے میں شدت آئی ہے پاکستان پر شدت پسندوں کے حملوں میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔اب انتہا پسند مسجد اور درگاہوں کو بھی نشانہ بنانے سے گریز نہیں کرتے۔ اسی طرح چار سدہ میں ایک دوہرے خود کْش حملے میں 80 سے زیادہ افراد مارے گئے تھے امریکی سفارتی مشن کو بھی نشانہ بنایا گیا تھا۔
مہران ایر بیس پر حملہ پاکستان کے لیے کئی تشویشوں کا باعث ہے ۔ کیا کوئی بیرونی طاقت طالبان کے نام پر حملہ کر رہی ہے، یاطالبان کی شکل میں ایٹمی ہتھیار تک پہنچنا چاہتی ہے۔ پاکستان کی جوہری اسلحہ کے بارے میں دنیا کو تشویش ہے بالخصوص چند ممالک اس سلسلے میں کافی فکر مند ہیں۔ تو کیا مہران ایر بیس پر حملہ ایٹمی اسلحہ خانہ پر حملے کا ریہرسل تونہیں تھا۔ یہ حملہ بہت سارے سوالات پیدا کرتا ہے اورکئی تشویشوں کی طرف اشارہ کرتا ہے۔پہلی تشویش یہ ہے کہ پاکستان کی زیادہ تر جوہری تنصیبات شدت پسندوں کے زیرِ اثر علاقوں کے قریب ہی واقع ہیں۔ جب یہ تنصیبات تعمیر کی گئی تھیں تو پہلی ترجیح یہ تھی کہ انہیں ہندوستان کی سرحد سے دور رکھا جائے۔دوم یہ کہ مبصرین کے خیال میں پاکستان کے جوہری پروگرام سے متعلقہ چند تنصیبات پر پہلے ہی حملے ہو چکے ہیں۔ ان میں سرگردھا میں واقع جوہری مواد ذخیرہ کرنے کے لیے بنائی جانے والی ایک عمارت جس کو نومبر 2007میں نشانہ بنایا گیا تھا اور واہ کینٹ جہاں اگست 2008 میں حملہ کیا گیا۔سوم یہ کہ ملازمین کی چھان بین کرنے کے سلسلے میں بہترین کوششوں کے باوجود یہ خدشہ موجود ہے کہ شدت پسند خیالات رکھنے والے کچھ عناصر سکیورٹی فورسز اور محافظوں میں شامل ہو سکتے ہیں۔
پاکستان کے قبائلی علاقے میں 2004سے شروع ہونے والے ڈرون حملوں کی تعداد لگاتار بڑھتی جارہی ہے۔ اس حملے میں اب تک کئی ہزار افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ 2001میں جہاں ڈرون حملوں کی تعداد صرف ایک تھی وہیں 2010میں یہ تعداد 118 تک پہنچ گئی اور 2011  میںاب تک 29 ڈرون حملے ہوچکے ہیں جس میں بے گناہ افراد بھی مارے جاتے ہیں۔ امریکہ کا کہنا ہے وہ شدت پسندوں کو نشانہ بناتے ہیں جب کہ حقیقت میں ایسا نہیں ہوتا، ان حملے میں بے گناہ افراد بھی مارے جاتے ہیں۔ یہ سارے حملے وزیرستان کے قبائلی علاقے میں کیے جاتے ہیں جہاں بقول امریکہ شدت پسندوں کا گڑھ ہے۔ اسامہ بن لادن کے قتل کے بعد بھی ڈرون حملے جاری ہیں۔ امریکہ بتائے کہ اب ڈرون حملے کا کیا جواز ہے جب کہ بقول ان کے اس کا موسٹ وانٹیڈ (اسامہ بن لادن) مارا جاچکا ہے۔تو پھر ڈرون حملہ کیوں؟ حقیقت یہ ہے کہ جب سے امریکہ نے پاکستان میں ڈرون حملے شروع کیے ہیں تب سے پاکستان میں خود کش حملوں کا تانتا لگ گیا۔ قبائلی خواہ پاکستان کے ہوں یا افغانستان کے انتہائی غیرت و حمیت والے ہوتے ہیں اور کسی کی بھی غلامی برداشت نہیں کرتے۔ یہی وجہ ہے کہ افغانستان اور پاکستان کے یہ قبائلی علاقے کبھی بھی کسی کے مکمل کنٹرول میں نہیں رہے یہاں تک کہ پاکستان کا بھی ان علاقوں پر مکمل کنٹرول کبھی بھی نہیں رہا۔ حکومت پاکستان کی سب سے بڑی غلطی یہی ہے کہ اس نے امریکہ کے اشارے پر اپنے لوگوں کے خلاف آپریشن شروع کیا۔ اپنے ہی لوگوں کے خلاف جنگ کا اعلان کیا۔پاکستانی فوج جس کی تربیت دشمن کو تباہ کرنے کے لیے کی گئی تھی وہ اپنے ہی عوام پر گولیاں برسانے اور ہوائی حملے کرنے پر مجبور ہوئی۔ زمینی اور فضائی آپریشن امریکی اشارے پر کیے جاتے رہے جس کا خمیازہ اب وہاں کے عام لوگوں کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ پاکستان کا کوئی خطہ اب مامون نہیں رہا۔ ہر شخص کو یہ ڈر کھائے جاتا ہے کہ کب اور کس وقت وہ گولی یا بم کی زد میں آجائے اور اس کی زندگی تمام ہوجائے۔ امریکی پالیسی اور پاکستانی سیاست دانوں کی نااہلی نے پاکستان کو مکمل حالت جنگ میں لا کھڑا کیا ہے۔ وہ اپنے عوام اور اپنے شہریوں کے ساتھ جنگ میں مصروف ہے۔ امریکہ کی خوبی یہ ہے کہ وہ کبھی اپنے ارد گرد جنگ نہیں لڑتا جس سے اس کے شہریوں کو نقصان پہنچے۔ ہمیشہ وہ ہزاروں کلو میٹر دور جنگ لڑتا ہے تاکہ اس کی تپش اس کے ملک تک نہ پہنچ سکے۔
ماہرین اور تجزیہ کاروں کا ایقان ہے کہ امریکہ کی دوستی اور امریکی امداد صرف تباہی لاتی ہے۔ دنیا میں کوئی ایک ایساملک نہیں ہے سوائے اسرائیل کے جو امریکی امداد حاصل کرکے باغ باغ ہے اور وہاںظلم و استحصال کا سہارا لے کر امن و امان قائم کردیا گیا ہے اور اسرائیل کوامریکہ اور یوروپی ممالک کی مکمل تائید و حمایت حاصل ہے لیکن اس وقت اسرائیل سے زیادہ خوف زدہ بھی کوئی ملک نہیں ہے۔ امریکہ جس سے بھی دوستی کرتا ہے اور مالی امداد دیتا ہے اس کا منطقی انجام تباہی و بربادی کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ عراق اور افغانستان اس کی بین مثالیں ہیں۔ پاکستان کو گرچہ امریکہ نے 2001 کے بعد بیس ارب ڈالر سے زائد کی امداد دی ہے لیکن اس کے بدلے 35 ہزار سے زائد افراد کی بالواسطہ یا بلاواسطہ جان لے چکا ہے اور پاکستان کو اب تک 86 ارب ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔یہ اعداد و شمار خود واضح کرتے ہیںکہ امریکی امداد کا خمیازہ کس طرح سنگین طور پر بھگتنا پڑتا ہے۔ پاکستان جو اس وقت دہشت گردی سے بری طرح متاثر ہے اس کا ذمہ دار بھی امریکہ ہی ہے کیوں کہ امریکہ نے ہی 1980 کی دہائی میں سعودی عرب اور پاکستان کے تعاون سے ا ن لوگو�ں کو سوویت یونین کو افغانستان میں شکست دینے کے لیے کھڑا کیا تھا اور ہر طرح کی مالی، اقتصادی، ہتھیار اور تربیت فراہم کی تھی۔  لیکن ایسا بھی نہیں ہے پاکستان ٹوٹ جائے گا اور ریزہ ریزہ ہوکر بکھر جائے گا کیوں کہ پاکستان میں جو جگہ کل تک امریکہ کو حاصل تھی وہی جگہ اب چین کے پاس ہے اور چین پاکستان کا کٹر دوست ہے اور پاکستان  اور پاکستان کے توسط سے چین کے اپنے مفادات ہیں جس کی تکمیل وہ ہر حال میں کرنا چاہے گا ۔ اس کے علاوہ چین اس وقت دنیا کی دوسری سب سے بڑی معیشت ہے اور جلد ہی وہ امریکہ کو نیچے دھکیل کر پہلا مقام حاصل کرلے گا۔چین کے بارے میں سب سے تشویش کی بات یہ ہے کہ اپنی طاقت کو ہمیشہ کمتر کرکے دنیا کے سامنے ظاہرکرتا ہے اور بہت سی چیزوں کو چھپاتا ہے جب کہ دنیا کے دیگر ممالک اپنی طاقتوں کو بڑھا چڑھاکر پیش کرتے ہیں۔اس لیے جب تک پاکستان کو چین کا ساتھ ہے کوئی اس کا بہت کچھ نہیںبگاڑ سکے گا۔ حالیہ دنوں میں چین کا یہ بیان بہت معنی خیز ہے کہ کوئی اسے اکیلا نہ سمجھے اور پاکستان کی خود مختاری پر حملہ چین کی خودمختاری پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ یہ بیان اپنے آپ میں بہت کچھ کہتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ اس بیان کے بعد امریکہ کا پاکستان کے تئیں رویہ بدل گیا ہے اور امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن کے دورۂ پاکستان کو اسی آئینہ میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ اب امریکہ یہ کہنے لگا ہے پاکستان کو اسامہ کے بارے میں معلو م نہیں تھا۔
پاکستان اگر غیر ملکی امداد کی دلدل سے نکلنا چاہتا ہے تو اسے غیر ملکی امداد پر انحصار ختم کرنا ہوگا اور پاکستانی وسائل کو بروئے کار لاکر اپنے یہاں صنعت و حرفت کو ترقی دینی ہوگی۔ پاکستانی صنعت کاروں کو مثبت رویہ کا اظہار کرتے ہوئے اپنے ملک میں کارخانے قائم کرنے ہوں گے اور ایران کو رول ماڈل بنانا ہوگا جو آج اپنی ضرورت کی تمام چیزیں تیار کر رہا ہے۔ غیر ملکی امداد پاکستان کے زوال کا سب سے بڑا سبب ہے ۔اس نے پاکستانی قوم سے غیرت و حمیت چھین لی ہے اور ہاتھ میں کشکول تھما دیا ہے۔پاکستان کو اگر ایک زندہ قوم کی حیثیت سے زندہ رہنا ہے تو اسے یہ سب ترک کرنا ہوگا اور ایسے رہنمائوں کا انتخاب کرنا ہوگا جو صاف ستھری امیج کے حامل ہوں، جو اپنے ملک و قوم کے اشارے پر چلیں نہ کہ غیر ملکی اشاروں پر رقص کریں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here