مہنگائی سے جھکتی جا رہی ہے غریبوں کی کمر

Share Article

وسیم احمد
حکومت کے دو بڑے فیصلے۔ڈیزل پر 5 روپے کا اضافہ، رسوئی گیس کی سبسڈی میں کٹوتی اور ملٹی برانڈ ایف ڈی آئی کی منظوری ۔ یہ تمام ہی فیصلے غریب عوام کی کمر توڑنے والے فیصلے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ ان فیصلوں کو صرف مہنگائی میں اضافہ نہیں ، بلکہ عوام پر ظلم کہا جائے تو زیادہ بہتر ہے۔حکومت کا یہ فیصلہ غریب عوام پر جیسے بجلی بن کر گرا ہے۔عوام جو پہلے ہی غریبی ، بھکمری اور بے روزگاری کے بوجھ سے دبے ہوئے ہیں انہیں بار بار مارا جاتا ہے۔بار بار ان پر مہنگائی کا ایسا بوجھ ڈال دیا جاتاہے کہ اس بھنور سے کوئی نکل ہی نہیں پاتا ہے۔ تنخواہیں نہیں بڑھتی ہیں،بونس نہیں بڑھتا ہے سالانہ انکریمنٹ نہیں بڑھتا ،لیکن ہر دو چار مہینے میں ڈیزل ، پٹرول اور گیس سلنڈر کی قیمت ضرور بڑھ جاتی ہے۔ کتنی چالاکی سے حکومت یہ کھیل کھیل جاتی ہے ۔ ساری پارٹیاں تماشا دیکھتی رہتی ہیں اور جب دام بڑھ جاتے ہیں تو پھر ایسے احتجاج کرتی ہیں جیسے سب کچھ ان کی غیر موجودگی میں ہوا ہو۔ ایسا لگتا ہے جیسے حکومت اور تمام پارٹیوں میںیہ آپسی فیصلہ ہوجاتاہے کہ ہم دام بڑھائیںگے ،تم بعد میں احتجاج کرنا۔ ظاہر ہے ڈیزل بڑھنے کا مطلب ہوتا ہے ہر چیز پر پیسہ بڑھ جانا، ضروریات زندگی کی کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو مہنگی نہ ہوگی۔ کہا یہ جا رہا ہے کہ اس فیصلے سے تیل مصنوعات کمپنیوں کو ہونے والے 20 ہزار 300 کروڑ روپے کے نقصان سے راحت ملے گی۔ لیکن اس فیصلے سے عوام کو کیا راحت ملے گی؟ اس کے بارے میں کوئی کچھ نہیں بولتا۔عوام تو پہلے ہی اس بوجھ میں اس طرح دبی ہوئے ہیں کہ ان کی کمر جھک چکی ہے اور حکومت کی کمر روز بروز مضبوط سے مضبوط تر ہوتی جارہی ہے۔نہ جانے سیاسی پارٹیوں کے پاس کون سی جادو کی چھڑی ہے جس کو گھماتے ہی ان کے سرمائے میں تو بے تحاشہ اضافہ ہونے لگتا ہے مگر عوام روز بروز غریب سے غریب تر ہوتے جارہے ہیں۔چنانچہ دو این جی او ( ایسوسی ایشن فار ڈیموکریٹک ریفارمس اور نیشنل الیکشن واچ ) نے ایک رپورٹ پیش کی۔ جس میں دعویٰ کیا ہے کہ 2004 کے بعد سے کانگریس نے 2 ہزار 8 کروڑ روپے کی کمائی کی ہے جبکہ اہم اپوزیشن پارٹی بی جے پی نے 994 کروڑ روپے کی کمائی کی۔این جی او کی رپورٹ کے مطابق ممتا بنرجی نے بھلے ہی سی پی آئی (ایم) سے بنگال کا اقتدار چھین لیاہو لیکن آمدنی کے معاملے میں یہ پارٹی ترنمول کانگریس سے اب بھی آگے ہی ہے۔

ابھی ملک کا عام آدمی مہنگائی کی الجھن کو سلجھانے کے بارے میں سوچ بھی نہیں پایا تھا کہ ایف ڈی آئی کی خبر اس کے اوپر بجلی بن کر گری ۔ایف ڈی آئی پر مرکزی سرکار اس طرح بضد ہے جیسے کہ اس نے غیر ملکی کمپنیوں کو فائدہ پہنچانے کا عہد کرلیا ہو، چاہے اس کے لئے ملک کے عوام کو بھوک ، بے روزگاری اور بے چین زندگی کا نذرانہ ہی کیوں نہ پیش کرناپڑے۔ سرکار نے ملٹی برانڈ کو 51 فیصد ایف ڈی آئی کی منظوری دی ہے۔سرکار کے اس فیصلے سے نہ صرف روز مرہ میں پیش آنے والی اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا بلکہ ملک کے تقریبا ً ساڑھے چار کروڑ چھوٹے تاجروں کو سخت نقصان ہونے کا امکان پیدا ہوگیا ہے۔یہ چیزیں ہماری معیشت کے لئے بے حد نقصان دہ ہیں۔ حکومت ایف ڈی آئی منظور کیے جانے کے بعد جس فائدے کا دعویٰ کرتی ہے وہ بھی عجیب و غریب دلائل پر مبنی ہے۔

گزشتہ 6 برس میں سی پی آئی ( ایم) کو 377.38 کروڑ روپے کی آمدنی ہوئی ہے ۔ اس معاملے میں وہ چوتھے نمبر پر ہے ۔ این سی پی نے گزشتہ چھ مالی برسوں میں 148.73 کروڑ روپے کی آمدنی درج کی ہے۔ ان اعدادو شمار سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ حکومت کے سرمائے میں تو روز بروز اضافہ ہورہا ہے مگر غریبوں کی پریشانیوں میں اتنا ہی اضافہ ہورہا ہے۔ ملک میں کروڑوں اربوں کا گھوٹالہ تو حکومت کر رہی ہے ،بڑے بڑے سیاسی لیڈر ملائی کھارہے ہیں،گھوٹالے کے پیسوں سے عیش کررہے ہیں اور عوام ہیں کہ بھوک سے تڑپ رہے ہیں اور اب تو انہیں مزید بھوک کا سامنا کرنا پڑے گا کیونکہ راجدھانی دہلی کی شیلا سرکار نے رسوئی گیس کی قیمت میں جس طرح اضافہ کیا ہے اس کو دیکھ کر ایسا لگتا ہی نہیں ہے کہ حکومت کو غریبوں کی پریشانیوں کے بارے میں کچھ بھی خبر ہے۔ حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ ایک فیملی کو سال میں صرف 6 سلنڈر سبسڈی کے ساتھ دیے جائیں گے مگر جیسے ہی ساتواں سلنڈر ایشو ہوگا ،اس پر سے سبسڈی ختم کر دی جائے گی یعنی اس سلنڈر کے لئے 750 روپے ادا کرنے ہوںگے۔سمجھ میں نہیں آتا ہے کہ حکومت نے کیسے یہ اندازہ کرلیا کہ ایک فیملی سال میں صرف 6 سلنڈر ہی استعمال کرتی ہے۔ چھوٹی سے چھوٹی فیملی میں ایک سلنڈر 20 سے 25 دن چلتا ہے۔اس کے بعد دوسرے سلنڈر کی ضرورت پڑتی ہے۔اگر بہت احتیاط اور کفایت سے خرچ کیا جائے تو بھی مہینہ میں ایک سلنڈر خرچ ہوجانا لازمی ہے۔ ایسے میں حکومت اگر اپنے عوام کے لئے مخلص ہوتی تو کم سے کم ان کے لئے سال میں 12 سلنڈر پر سبسڈی دینے کا فیصلہ ضرور کرتی ۔حیرت کی بات تو یہ ہے کہ بی جے پی پارلیمنٹ سے لے کر اسمبلی تک کہیں بھی اپنے اپوزیشن ہونے کا صحیح حق ادا نہیں کرپا رہی ہے۔ کبھی کبھی تو ایسا محسوس ہونے لگتا ہے کہ ملک میں اپوزیشن کا کوئی رول ہے ہی نہیں۔دیگر سیاسی پارٹیوں میں ممتا بنرجی کبھی آواز اٹھاتی ہیں مگر کانگریس ان کی ہر آواز کو صدا بصحرا بنا دیتی ہے۔جہاں تک ملائم سنگھ کی بات ہے تو انہیں ابھی ابھی یوپی کی سرکار ملی ہے اور وہ 2014 کے الیکشن کی تیاری میں لگے ہوئے ہیں ،انہیں فکر ہی نہیں کہ ملک کے عوام کن پریشانیوں سے گزر رہے ہیں۔ وہ تو بس سیاسی بیان بازی میں اپنا زیادہ وقت لگاتے ہیں۔
ابھی ملک کا عام آدمی مہنگائی کی الجھن کو سلجھانے کے بارے میں سوچ بھی نہیں پایا تھا کہ ایف ڈی آئی کی خبر اس کے اوپر بجلی بن کر گری ۔ایف ڈی آئی پر مرکزی سرکار اس طرح بضد ہے جیسے کہ اس نے غیر ملکی کمپنیوں کو فائدہ پہنچانے کا عہد کرلیا ہو، چاہے اس کے لئے ملک کے عوام کو بھوک ، بے روزگاری اور بے چین زندگی کا نذرانہ ہی کیوں نہ پیش کرناپڑے۔ سرکار نے ملٹی برانڈ کو 51 فیصد ایف ڈی آئی کی منظوری دی ہے۔سرکار کے اس فیصلے سے نہ صرف روز مرہ میں پیش آنے والی اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا بلکہ ملک کے تقریبا ً ساڑھے چار کروڑ چھوٹے تاجروں کو سخت نقصان ہونے کا امکان پیدا ہوگیا ہے۔یہ چیزیں ہماری معیشت کے لئے بے حد نقصان دہ ہیں۔ حکومت ایف ڈی آئی منظور کیے جانے کے بعد جس فائدے کا دعویٰ کرتی ہے وہ بھی عجیب و غریب دلائل پر مبنی ہے۔ حکومت کہتی ہے کہ ایف ڈی آئی سے بیرونی سرمایہ کاری بڑھے گی تو آنے والے کچھ برسوں میں روزگار کے مواقع پیدا ہوںگے مگر اس دعوے میں کتنی مضبوطی ہے یہ ایک عام فہم آدمی بھی سمجھسکتاہے کہ کسی بھی شعبے میں سرمایہ کاری بڑھنے سے روزگار کے مواقع فوری طور پر تو بڑھیں گے لیکن دوسری طرف گھریلو کارو بار بند ہوجائیں گے جس کا انجام یہ ہوگا کہ لوگ بے روزگار ہوںگے ۔ پرچون کاروبار میں جب بیرونی سرمایہ کاری بڑھے گی تو گھریلو کاروبار اور ریٹیل تاجروں کا کیا حال ہوگا؟ بیرونی سرمایہ کار تو سبھی قومی ریٹیلر کو نگل جائیں گے بلکہ کچھ سیکٹر تو پوری طرح غیر ملکی سرمایہ کاروں کے قبضے میں جاسکتے ہیں۔ اسکی مثال کولڈ ڈرنک سے دی جاسکتی ہے۔
ایسے وقت میں جب ملک میں عوام مہنگائی کی مار جھیل رہے ہیں ۔ایف ڈی آئی کے فیصلے کو کیسے درست کہا جاسکتاہے۔ ہاں سرکار کو وقتی طور پر کچھ فائدے تو نظر آئیںگے اور آمدنی کی راہیں بھی کھل جائیںگی مگر آنے والے دنوں میں اس کے منفی اثرات پڑیں گے جس کا خمیازہ ملک اور عوام کو بھگتنا پڑے گا۔ مگر حکومت ان نقصانات سے آنکھ بند کیے عوام کو تباہی کی طرف دھکیلنے میں لگی ہوئی ہے۔ مرکز میں بر سر اقتدار پارٹی بہت پہلے سے ہی ایف ڈی آئی پر زور دے رہی ہے مگر سیاسی مخالفت کی وجہ سے وہ اس میں اب تک کامیاب نہیں ہو پائی تھی۔جس کی وجہ سے غیرملکی سرمایہ کاری ( ایف ڈی آئی ) کی اجازت نہیں مل پائی۔ یہ چیزیں امریکہ کی ریٹیل کمپنیوں کے لئے بے چینی کا باعث تھیں۔ امریکی ریٹیل کمپنیاں عرصہ سے ہندوستان میں ایف ڈی آئی کی اجازت دیے جانے کے لئیکوشش میں لگی تھیں۔اب جاکر ان کی کوششیں کامیاب ہوتی ہوئی نظر آرہی ہیں۔ اب وہ ہندوستان میں آزادی کے ساتھ سرمایہ کاری کرسکیں گے۔ عوام چاہے جتنی مخالفت کریں مگر اب ان کے لئے تمام رکاوٹیں دور ہوچکی ہیں۔ عوام کو مطمئن کرنے کے لئے سرکار یہ کہہ رہی ہے کہ اس نے مالی سدھار لانے کے لئے ایسا کیا ہے اور سیاسی پارٹیاں چاہے جتنی مخالفت کریں مگر وہ اس منصوبے کو عملی جامہ پہنا کر رہے گی۔بلکہ سرکار تو یہاں تک کہہ رہی ہے کہ چاہے اسے ایف ڈی آئی کو لے کر الیکشن کی طرف جانا پڑے تو وہ اس ایشو کو لے کر لڑتے ہوئے جائیگی۔یعنی چاہے عوام یا سیاسی پارٹیاں جتنی مخالفت کرلیں مگر حکومت غیر ملکی سرمایہ کاروں کے مفاد سے کسی بھی حال میں دستبردار نہیں ہوگی۔نہ جانے سرکار کو ایف ڈی آئی میں ایسی کون سی خوبی نظر آرہی ہے جس کی وجہ سے اس پر بضد ہے جبکہ ملک کے عوام ابھی نہ تو اس پوزیشن میں ہیں کہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کا مقابلہ کرسکیں اور نہ ہی وہ ایف ڈی آئی چاہتے ہیں۔ سرکار کو عوام کے جذبوں کا خیال رکھنا چاہئے اور ان پر اپنی مرضی زبردستی نہیں تھوپنی چاہئے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *