مہنگائی پرڈیمانڈ اور سپلائی کی مار

Share Article

راجیو رنجن تیواری
مہنگائی  نے لوگوںکا جینا محال کر دیا ہے۔ اب سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ ایک اہم ماہر معاشیات ڈاکٹر منموہن سنگھ کے ہاتھوں میں ملک کی کمان ہونے کے باوجود اس مسئلہ کا حل کیوں نہیں ہو رہا ہے۔حالات ایسے ہیں کہ ملک کے متوسط اور نچلے طبقے کے لوگوں کی زندگی کاحساب گڑبڑہوگیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ انسان کی بنیادی ضرورتوںکی ڈیمانڈ اور سپلائی کے درمیان کے فاصلہ سے ہی مہنگائی نے خطرناک شکل اختیار کی ہے، جس کی فی الحال ٹھیک ہونے کی امید نظر نہیںآتی۔دنیا بھر کے اعداد و شمار سے معلوم ہوتا ہے کہ چین، ویتنام، سری لنکا اور برازیل جیسے ممالک میں بھی خوردنی اشیاء کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔الجیریا میں تو خوردنی اشیاء کو لے کر فساد تک ہوئے ہیں۔ روس جیسے گیہوں پیداکرنے والے ملک میں موسم کی مار کے سبب اس سال گیہوں کی پیداوار پانچ فیصد کم ہونے کا اندازہ ہے۔حال ہی میں ہندوستان آئے چین کے وزیر اعظم وین جیابائو نے بھی اعتراف کیا تھا کہ ہماراملک بھی مہنگائی سے پریشان ہے۔ اس کے علاوہ امریکہ کی کہانی بھی بگڑ رہی ہے۔
مہنگائی نے دنیا کو اس قدر پریشان کر دیا ہے کہ گزشتہ سال اہم صنعتی ممالک (امریکہ، کناڈا، اٹلی،فرانس،برطانیہ،جرمنی اور جاپان) کے وزرائے خزانہ نے کناڈا میں ایک میٹنگ کی، جس میں سینٹرل بینکوں کے سربراہان نے حصہ لیا۔ میٹنگ میں مہنگائی اور مالی بحران سے نمٹنے کے لئے تمام ایشو زپر سنجیدگی سے بات چیت ہوئی، لیکن نتیجہ کچھ خاص نہیں نکلا۔ میٹنگ کے بعد کناڈا کے وزیر خزانہ جم فلیہرٹی نے کہا کہ عالمی اقتصادی صورتحال میں اصلاح ہو رہی ہے۔ حالانکہ اب تک اصلاح کا عمل مضبوط نہیں ہوا ہے۔ اقتصادی تعاون اور ترقیاتی تنظیم (او ای سی ڈی) ترقی یافتہ ممالک کی تنظیم ہے، جس میں امریکہ اور جاپان جیسے ملک شامل ہیں۔ عالمی پیداوار میں ان ممالک کا 60فیصد سے زیادہ تعاون ہے، لیکن او ای سی ڈی کے حالیہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ان ممالک میں بے روزگاری بلند سطح پر ہے۔ اسپین میں سب سے زیادہ بے روزگاری کی شرح 20.6فیصد رہی۔ اس کے بعد سلوواک ری پبلک میں(14.5فیصد) اور آئرلینڈ (13.9فیصد) کا مقام رہا۔جرمنی میں بے روزگاری کی شرح 6.7 فیصد تک دیکھی گئی۔ کناڈا، فنلینڈ، کوریا اور سوڈان میں گزشتہ ماہ نومبر میں بے روزگاری کی شرح میں ہلکی کمی درج کی گئی ہے جبکہ آسٹریلیا ، چیک جمہوریہ، ڈنمارک ، فرانس، ہنگری اور لکسمبرگ میں اضافہ درج کیا گیا۔
عام طور پر امپورٹ اور ایکسپورٹ کے درمیان بے حد وسیع کھائی کو گھریلو سطح پر امپورٹڈ پروڈکشن کی ڈیمانڈ گھٹا کر پاٹا جاتا ہے۔ اس کے لئے کرنسی کی قیمت مہنگی کی جاتی ہے۔ قرض کی ڈیمانڈ گھٹانے کے لئے بھی صرف یہی راستہ  بچتا ہے۔ فی الحال قرض کی ڈیمانڈ 24فیصد کی شرح سے بڑھ رہی ہے، جسے آر بی آئی 20فیصد تک لانا چاہتا ہے۔عالمی مارکیٹ میں اجناس کی بڑھتی قیمتوں کا چیلنج ابھی بھی برقرار ہے۔ یہ ایک بڑی وجہ ہے ، جس کے سبب آر بی آئی مقامی سطح پر قیمتوں کو تھامنے کے لئے پالیسیاں سخت کرے گا۔وہ بینک شرح میں25بنیادی پوائنٹس کا اضافہ کر سکتا ہے۔ بینکوں کو اس سال پالیسی شرح میں اضافہ کرنا ہوگا، لیکن اہم بات یہ ہے کہ ہمارے یہاں افراط زر کے چیلنج کی وجہ سے مونیٹری وسعت قطعی نہیں ہے ، چونکہ افراط زر پر پڑ ے تمام دبائو ڈیمانڈ کے سبب نہیں ہیں۔اس لئے آربی آئی اس سے نمٹ سکتا ہے، کیونکہ پالیسیاں سخت کرنے سے ترقی پر برعکس اثر پڑے گا۔
گزشتہ دنوں مرکزی حکومت کے وزراء گروپ کی میٹنگ ہوئی، جس میں مہنگائی سے نمٹنے کے طریقوں پر غور وخوض کیا گیا۔ میٹنگ میں کہا گیا کہ حکومت مہنگائی سے لڑنا چاہتی ہے، لیکن ترقی کی قیمت پر نہیں۔ حکومت ا ناج حفاظتی بل پارلیمنٹ میں پیش کرنے کے لئے پابند ہے،  اس سے بڑھتی مہنگائی پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں ایک ارب سے زائد لوگ روزانہ بھوکے رہ جاتے ہیں اور دنیا کی آبادی کا چھٹا حصہ بھوکاسوتا ہے۔ کوئی بھی ملک اس سے محفوظ نہیں ہے۔ خوردنی اشیاء کی دن بدن کمی ہوتی جا رہی ہے۔ اس وقت دنیا میں موجود قابل زراعت زمین بڑھتی آبادی کے لئے اناج پیدا کرنے کے لئے ناکافی ہے۔2050تک اناج کی پیداوار میں کم سے کم 70فیصد کے اضافہ کی ضرورت ہوگی، کیونکہ اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ آئندہ چار دہائیوں میں دنیا کی آبادی بڑھ کر 9ارب ہو جائے گی۔اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ دنیا کی موجودہ قابل زراعت زمین کی پیداوار اگر بڑھائی جاتی ہے تو بھی 2050تک کم سے کم 37کروڑ لوگ فاقہ کشی کے شکار ہوں گے۔
آج ہندوستان عالمی طاقت بن کر ابھرنے کا دعویٰ کر رہا ہے، پھر بھی ملک میں ہر  چوتھا آدمی بھوکا ہے۔ہندوستان میں بھوک اور اناج کی فراہمی پر جاری ایک رپورٹ میں ایسا دعویٰ کیا گیا ہے ۔ رپورٹ کے مطابق، آبادی کے حساب سے دنیا کے دوسرے سب سے بڑے ملک میں تقریباً21کروڑ سے زیادہ لوگوں کو بھر پیٹ کھانا نہیں مل پاتا ہے۔ تعداد کے تناسب سے یہ افریقہ کے سب سے غریب ممالک سے بھی زیادہ ہے۔حقیقت تو یہ ہے کہ ایک عام آدمی کو ہر سال ملنے والی خوردنی اشیاء گزشتہ 10سالوں کے اندر 34کلو کم ہو گئی ہے۔ عالمی اقتصادی امکانات -2011کے عنوان سے شائع اپنی تازہ رپورٹ میں عالمی بینک نے کہا ہے کہ دنیا کی معیشت سال 2011اور 2012میں سست رفتار کے ساتھ، لیکن مضبوطی سے بڑھنے کی سمت میں ہے۔ اندازہ ہے کہ اس دوران عالمی اقتصادی اضافہ میں تقریباًنصف تعاون چین اور ہندوستان کا ہوگا۔ عالمی بینک نے اپنے اندازے میں کہا ہے کہ عالمی جی ڈی پی 2010کے 3.9فیصد کے مقابلہ 2011میں گھٹ کر 3.3فیصد رہے گی۔ 2012میں اس کے پھر سے 3.6فیصد تک پہنچنے کے امکانات ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، 2010میں ترقی پذیر ممالک کی شرح ترقی 7فیصد رہی۔ 2011اور 2012میں اس کے 6فیصد رہنے کے امکانات ہیں۔ادھر ہندوستانی وزارت خزانہ امید کر رہی ہے کہ ملک آئندہ مالی سال سے 9فیصد سے زیادہ شرح ترقی حاصل کر لے گا۔ حالانکہ اس شرح کو حاصل کرنے کی راہ اتنی آسان بھی نہیں ہوگی، کیونکہ مغربی ایشیا میں طاری عدم استحکام ، عالمی معیشت کے واپس پٹری پر لوٹنے کو لے کر ظاہر کی جا رہی غیر یقینی اور کئی دیگر فیکٹر ہندوستان کی امیدوں پر پانی پھیر سکتے ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *