عظیم اختر
کچھ ماہ و سال پہلے تک ہم بھی آپ میں سے اکثر حضرات کی طرح مشاعروں اور شعری نشستوں سے دور اپنی دنیا میں مگن رہتے تھے… دفتر سے گھر واپس آکر بیشتر وقت ٹیلی ویژن کے سامنے گزارتے یا پھر کسی سنیما ہال میں فلم دیکھتے لیکن ہوا یوں کہ جب ہم ایک مقابلہ جاتی امتحان پاس کر کے بلدیہ کے چھوٹے بابو سے ایک سرکاری دفتر میں بڑے بابو یعنی افسر ہوگئے تو سب سے پہلے اپنے پڑوسیوں اور محلے والوں کی معلومات عامہ میں اضافہ کرنے کے لیے ہم نے اردو اور انگریزی میں نیم پلیٹ تیار کراکر گھر کے باہر لگوائی۔ عہدۂ جلیلہ کو جلی حروف میں لکھوایا تاکہ دیکھنے اور پڑھنے والوں پر اثر پڑے… لیکن اس تمام اہتمام اور شوشہ کے بعد بھی جب ایک دوسرے کی ٹوہ میں رہنے والے اڑوسیوں، پڑوسیوں اور ڈھکی چھپی باتوں کا بہی کھاتہ رکھنے والے محلے والوں نے کوئی نوٹس نہیں لیا اور کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگی تو ہمیں حیرت ہوئی۔ ہم سے زیادہ حیرت تو ہماری نصف بہتر کو تھی جس سے کسی بھی پڑوسن نے ہمارے نئے دفتر یا نئے عہدے کے بارے میں کچھ پوچھا تک نہیں۔ نصف بہتر نے خود ہی کئی بار پڑوسنوں کو ہماری ترقی اور نئے عہدے کے بارے میں بتایا تاکہ محلے میں بات پھیلے لیکن اے بسا آرزو کہ خاک شد۔
کچھ ماہ اسی طرح گزر گئے لیکن جب نیلی بتی والی سرکاری گاڑی ہمیں دفتر لانے اور لے جانے کے لیے صبح و شام محلے میں آنے لگی تو پڑوسیوں اور محلے والوں کی آنکھیں کھلیں۔ شروع میں کانا پھونسی ہوئی، ڈرائیور سے معلومات حاصل کی گئیں اور پھر ایک شام جب ہم دفتر سے واپس گھر آکر چائے پی رہے تھے کہ کچھ ہم محلہ اور پڑوسی آوارد ہوئے۔ ہم نے گھڑی کی چوتھائی میں حق میزبانی ادا کیا۔ لذت طعام و دہن کے بعد ایک صاحب اہل محلہ کی نمائندگی کرتے ہوئے یوں لب کشا ہوئے۔ ’’عظیم صاحب، ہم لوگ اپنوں کی ترقی سے خوش ہونے والے ہیں۔ کتنے افسوس کی بات ہے کہ آپ افسر ہوگئے اور محلے میں کسی کو بتایا تک نہیں۔ ارے بھائی مٹھائی نہیں کھلاتے، کم از کم بتا تو دیتے۔ ہم لوگ تو یہی سمجھ رہے تھے کہ آپ صبح کے وقت اپنے صاحب کے گھر جاتے ہیں اور شام کو فائیلوں کا بستہ اس کے گھر چھوڑ کر آتے ہیں۔ اللہ بخشے ہمارے ابا بھی یہی کیا کرتے تھے، انہوں نے ملازمت کے دوران اسی طرح اپنے افسروں کے دل جیتے اور عزت سے نوکری کی…‘‘ ایک اور صاحب جو بہت دیر سے منھ کھولنے کے لیے بے چین تھے ان کے چپ ہوتے ہی بولے ’’میاں بھائی عظیم، آپ کا ڈرائیور بھی بہت تیز ہے۔ گونگے کا گڑکھا کر گاڑی میں بیٹھا رہتا تھا۔ کل چچا غفورے نے اس کو چائے پلائی تو پتہ چلا کہ اب آپ افسر ہوگئے ہیں، یقین مانو بہت دیر تک کسی کو یقین ہی نہیں آیا، لیکن ڈرائیور کی بات پر یقین کرنا ہی پڑا۔ اللہ آپ کو جلدی سے پٹواری بھی بنائے…‘‘ ہم ان کے دعائیہ کلمات سن کر چونکے اور ان کی غلط فہمی دور کرنے کے لیے فوراً بولے ’’آپ کی اس محبت کا شکریہ۔ لیکن یہ پٹواری بننے کی دعا نہ دیں۔ اس عہدے کے کئی لوگ ہمارے ماتحت ہیں…‘‘ یہ سن کر ان سب کے چہرے کھل اٹھے لیکن ایک صاحب اپنی خوشی ضبط نہ کرسکے اور چہک کر بولے ’’اخاہ! تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ فوٹو اور فارموں پر تمہارے دستخط بھی چلیںگے۔ ہم لوگوں کو فوٹواور فارم وغیرہ اٹیچ کرانے کے لیے بڑے دھکے کھانے پڑتے ہیں۔ تھانے والے ایک فارم اٹیچ کرنے کے پچاس روپے لیتے ہیں اور طرح طرح کے سوال الگ کرتے ہیں…‘‘ اس سے پہلے کہ وہ اپنی بات جاری رکھتے یا کوئی اور صاحب لب کشائی کرتے ہم نے ان کی بات کاٹ کر کہا ’’اب ہم فوٹو وغیرہ بھی اٹیسٹ کرسکتے ہیں۔ ہمیں محلے والوں کی اس پریشانی کا پورا پورا احساس ہے اس لیے ایک مہر بنوا کر گھر میں بھی رکھ دی ہے تاکہ آپ حضرات کو اٹیسٹیشن کے لیے ادھر دھر چکر کاٹنے اور پیسے ضائع نہ کرنے پڑیں، جب بھی کوئی فارم وغیرہ اٹیسٹ کرانا ہو تو بلا جھجھک تشریف لائیے، ہمیں آپ کی خدمت کر کے بڑی خوشی ہوگی۔ محلے والوں کا ہم پر پورا پورا حق ہے۔‘‘ یہ سن کر ایک بزرگ نے زندہ باد کا نعرہ لگایا اور سب کو مخاطب کر کے بولے ’’دیکھو یہ ہے قوم کی خدمت کا جذبہ… اللہ تعالیٰ ان کو اجر دے اور یہ زندگی میں پھیلیں پھولیں… میاں چھبے آج ہی مسجد سے اعلان کر ادو کہ کوئی بھی کاغذ پتر اٹیچ کرانا ہوتو محلے والے بھائی عظیم سے رابطہ قائم کریں اب وہ افسر ہوگئے ہیں…‘‘ ہم نے ہم محلہ بزرگ کے جذبات کا شکریہ ادا کرتے ہوئے درخواست کی کہ مسجد سے اس قسم کا اعلان نہ کرائیں، محلے والوں کو آپ حضرات کے توسط سے پتہ چل ہی جائے گا، لیکن وہ بزرگ ہی کیا جو چھوٹوں کی بات یا مشورہ مان لیں، چنانچہ پہلی فرصت میں مسجد کے لاؤڈاسپیکر سے اعلان کراہی ڈالا۔
اس اعلان کا ہونا تھا کہ محلے والوں کو ہمارے افسر ہونے کا علم ہوگیا اور حاجت مند صبح و شام دروازہ کھٹکھٹانے لگے، جو بھی آتا یہی کہتا ’’یہ اٹیچ کردیجئے۔‘‘ ہم زیر لب مسکراتے ہوئے خاموشی سے اٹیسٹ کردیتے لیکن اکثر یہی خیال آتا کہ جس قوم کو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھنے اور سیکھنے کا حکم دیا ہو اور علم حاصل کرنے کے لیے چین جیسے دور دراز ملک تک جانے کی تلقین کی ہو وہ آخر جہالت کے دائرے سے کب باہر نکلے گی۔
بہرحال اٹیسٹیشن (Attestation) کا یہ سلسلہ جب دراز اور قرب و جوار کے محلوں کے بھائی برادر بھی ہمارے پاس اٹیچ کرانے کے لیے ہمارے پاس آنے لگے اور اس ملی خدمت کے چرچے دور دور تک پہنچ گئے تو ہم پر سماجی، مذہبی اور ادبی تقریبات میں پذیرائی کے دروازے خود بخود کھلنے لگے اور ہم کو بزرگان دین کے مزارات پر ہونے والے اجتماعات، شعری نشستوں اور مقامی مشاعروں میں خصوصیت کے ساتھ مدعو کیا جانے لگا۔ دعوت کو قبول نہ کرنا کفران نعمت سے کم نہیں، اس لیے ہم دعوت کو عجز و انکسار کے ساتھ قبول کرتے اور پھر وقت مقررہ پر شیروانی اور چوڑی دار پاجامہ زیب تن کر کے پہنچ جاتے۔ محلوں کی شعری نشستوں کی صدارت تو اکثر ہمارے حصے میں ہی آتی، لیکن مشاعروں اور ادبی جلسوں میں مہمان اعزازی کے طور پر ہی بلایا جاتا۔ مہمان اعزازی کے طور پر مشاعروں اور ادبی جلسوں میں مسلسل شرکت کرتے ہوئے ہم پر یہ عقدہ کھلا کہ اردو کے نیم سرکاری اداروں اور شہر کے ہر چھوٹے بڑے محلے اور کوچے میں خیمہ زن ادبی و شعری تنظیموں نے اردو کو فروغ دیا ہو یا نہ دیا ہو، لیکن سیمناروں، مشاعروں اور اسی قسم کی اور دوسری ادبی تقریبات میں صدر اور مہمان خصوصی کے علاوہ مہمان ذی وقار، مہمان مکرم، مہمان محترم، مہمان ذی شان، مہمان عالی قدر اور مہمان اعزازی کے نام پر ایک تیر سے کئی شکار کے مصداق چھوٹے بڑے سیاستدانوں، ادبی ٹھیکیداروں اور سرکار کے اعلیٰ افسروں کو خوش کرنے اور ان کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے ایک ایسی روایت کو جنم دیا ہے جو جنگل کی آگ کی طرح اردو دنیا میں پھیل گئی ہے اور اب ہر چھوٹے بڑے مشاعرے میں شاعروں، سیمناروں میں پروفیسر نقادوں کے ساتھ ایسے مہمانوں کا دستہ بھی اسٹیج پر سامعین سے تالیوں اور منتظمین سے گلدستوں اور پھول مالاؤں کی شکل میں جزیہ وصول کرنے کے لیے بیٹھا ہوا نظر آتا ہے۔ پیشہ ور قسم کے منتظمین مشاعرہ کی نجی مجبوریوں اور ذاتی ضرورتوں کے طفیل اب علاقائی پولس والے اور نودولتے کرخندار بھی مشاعروں کے اسٹیج پر مہمان ذی وقار، مہمان مکرم اور مہمان عالی قدر وغیرہ بن کر اردو والوں سے خراج وصول کرتے ہیں۔
جب ہم نے مہمان اعزازی کے طور پر کئی درجن مشاعرے اٹینڈ کرلیے اور اس اعزاز سے طبیعت قدرے بھر گئی تو ایک بار ہم نے ایک منتظم مشاعرہ سے دبے لفظوں میں اس کا اظہار کیا تو وہ چونک کر بولے ’’نہیں عظیم صاحب، ابھی آپ کو مہمان خصوصی یا مہمان ذی وقار کے طور پر مشاعرے میں مدعو نہیں کیاجاسکتا۔ یہ بڑا نازک اور حساس معاملہ ہے۔ آپ کو اندازہ نہیں ہم منتظمین مشاعرہ کو معزز لوگوں کی پذیرائی اور ان کو اس طرح مہمان بنا کر مدعو کرنے کے معاملے میں اور بہت سی باتوں کے ساتھ سینئرٹی(Seniority) کا خاص خیال رکھنا پڑتا ہے۔ آپ سرکاری ملازم ہیں، بہتر طریقے سے سمجھ سکتے ہیں کہ جس طرح سرکاری دفتروں میں سکریٹری، ڈپٹی سکریٹری، انڈر سکریٹری، سپرنٹنڈنٹ، یوڈی سی اور ایل ڈی سی ہوتے ہیں ، اسی طرح مشاعروں میں مہمان خصوصی، مہمان ذی وقار، مہمان عالی قدر، مہمان مکرم، مہمان محترم اور مہمان اعزازی ہوتے ہیں اور جونیئر حضرات ہی کو مہمان اعزازی بنایا جاتا ہے، مختصراً یوں سمجھئے کہ مشاعروں اور ادبی تقریبات کا مہمان اعزازی سرکاری دفتر کے ایل ڈی سی کی طرح ہی ہوتا ہے۔ آپ مشاعروں اور ادبی تقریبات کے میدان میں ابھی جونیئر ہیں، اس لیے بس مہمان اعزازی کے طور پر ہی شرکت کرتے رہیں۔ ایک دوسال کے بعد انشاء اللہ آپ بھی مہمان ذی وقار، مہمان عالی قدر اور مہمان مکرم کے مرتبے پر پہنچ جائیںگے۔
منتظم مشاعرہ کی بات میں وزن تھا۔ ا س لیے ہم چپ ہوگئے، لیکن ہم جانتے ہیں کہ سرکاری دفتروں میں ایل ڈی سی عمر گزارنے کے بعد بھی مشکل سے ترقی پاتے ہیں اور یہ تو دنیا ہی دوسری ہے، اس لیے صاحبو کبھی کبھی سوچتے ہیں کہ کیا ہم بھی مہمان اعزازی کے طور پر یونہی مشاعروں کے ایل ڈی سی بنے رہیںگے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here