میگھالیہ ہائی کورٹ کے جج ملک کو’ہندوراشٹر‘ بنانے کے خواہاں

Justice-Sen
میگھالیہ ہائی کورٹ کے ایک جج نے ایک بیان دیکرسب کوحیران کردیا۔دراصل میگھالیہ ہائی کورٹ کے جج نے وزیراعظم نریندرمودی ، وزیرداخلہ ،وزیرقانون اورپالیمنٹ سے گذارش کی ہے کہ وہ ایسا قانون پاس کریں ، جس سے ہندو، سکھ ، عیسائی، بودھ ، پارسی، کھاسس، جین گوروں کو پاکستان ، بنگلہ دیش اورافغانستان سے ہندوستان آنے میں کسی بھی طرح کی کوئی دقت نہ ہو۔میگھالیہ ہائی کورٹ کے جج سین نے کہاکہ قانون ایسا ہونا چاہئے ، جس میں ان تمام لوگوں کو ہندوستان کی شہریت دینے کیلئے کسی بھی طرح کے دستاویزات کی مانگ نہیں کی جائے۔انہو ں نے یہ بھی کہاکہ تقسیم کے وقت ہندوستان کو’ہندو راشٹر‘قرار دیا جانا چاہئے تھا۔
جسٹس سین نے کہاکہ پاکستان ، بنگلہ دیش اورافغانستان میں رہ رہے لوگوں کو ہندوستان آنے کی آزادی ہونی چاہئے۔دراصل،جسٹس سین نے یہ بات ایک عرضی کی سماعت کے دوران کہی۔قابل ذکرہے کہ میگھالیہ کے مقامی شہری کوجب ریاستی سرکارکی طرف سے رہائش سرٹیفکٹ دینے سے انکارکردیاتھا۔اس کے خلاف کورٹ میں ایک عرضی دائرکی گئی تھی،جس پرسماعت کرتے ہوئے جسٹس سین نے یہ باتیں کہیں۔
جسٹس سین نے کہاکہ کسی کومسلم راشٹربنانے کی کوشش نہیں کرنی چاہئے۔انہو ں نے اپنے فیصلے میں کہاکہ ہندواورسکھ جن کی ولادت بنیادی طورپر ہندوستان میں ہوئی، انہیں ایک بارپھرسے واپس ہندوستان آنے کی آزادی ملنی چاہئے، ساتھ ہی انہیں شہریت بھی ملے۔جسٹس سین نے مزیدکہاکہ ہندوستان ’ہندوراشٹر‘ قراردیاجاناچاہئے تھا۔جسٹس نے اپنے فیصلے میں کہاکہ پاکستان نے خودکواسلامک راشٹرقراردیاتھا چونکہ ہندوستان دھرم کی بنیادپرالگ ہواتھا،اسلئے اسے خودکوہندوراشٹرقراردینا چاہئے۔ویسے آپ کوبتادیں کہ ہندوستان کوہندوراشٹربنائے جانے کی مانگ ہمیشہ ہوتی رہی ہے۔ایسے میں جسٹس سودیپ رنجن سین نے ملک کو’ہندوراشٹر‘ بنانے پربیان دیکر سب کوحیران کردیا ہے۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *