جوائنٹ ایکشن کمیٹی برائے فروغ طب یونانی کی میٹنگ منعقد

Share Article

 

ممبرسی سی آئی ایم دہلی اسٹیٹ کے الیکشن میں ڈاکٹر راحت علی خاں کے نام پر اتفاق

جوائنٹ ایکشن کمیٹی برائے فروغ طب یونانی کی میٹنگ اندرلوک، نئی دہلی میں سابق جوائنٹ ایڈوائزر یونانی، حکومت ہند ڈاکٹر محمد شمعون کی صدارت میں منعقد ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ مسلسل ڈاکٹروں کے مسائل کے لیے سرگرم عمل رہے ہیں اُن کو ہی منتخب کیا جانا چاہیے جب کہ عام طور سے الیکشن کا اعلان ہوتے ہی بہت سے لوگ ووٹ حاصل کرنے کے لیے اچانک میدان میں اتر جاتے ہیں، یہ روش غلط ہے۔ ڈاکٹر شمعون نے کہا کہ ملک میں اس وقت ہمارا مقابلہ آیوروید سے ہے، ہمارے حصے کا حق بھی آیوروید کے کھاتے میں ڈال دیا جاتا ہے اور ہم حق و انصاف کا مطالبہ کرتے رہ جاتے ہیں اس کے باوجود ہمیں حق و انصاف نہیں ملتا۔ گزشتہ پانچ برسوں سے طب یونانی کو مرکزی و صوبائی حکومتوں کی جانب سے نظر انداز کیے جانے کا سلسلہ جاری ہے جبکہ وزیر اعظم ہند نے باضابطہ وزارت آیوش یعنی آیوروید، یوگا و نیچرو پیتھی، یونانی، سدھا اور ہومیوپیتھی تشکیل دے کر تاریخی کارنامہ انجام دیا ہے مگر بیورو کریسی میں شامل متعصب لوگ طب یونانی کو اب بھی نظر انداز کرنے اور ہمارے حقوق کو صلب کرنے سے باز نہیں آرہے ہیں، ان حالات میں ڈاکٹر راحت علی خاں، ڈاکٹر عشرت کفیل جیسے نوجوان طبیبوں کی حوصلہ افزائی کرنا ہمارا اخلاقی فرض ہے۔

 

اس موقع پر ڈاکٹر عشرت کفیل کی تجویز پر اتفاق کرتے ہوئے ڈاکٹر راحت علی خاں کو 22 ستمبر 2019 کو ہونے والے سنٹرل کونسل آف انڈین میڈیسن (CCIM) کے الیکشن میں جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا امیدوار بنایا جانا طے ہوا ہے۔ میٹنگ میں آل انڈیا یونانی طبّی کانگریس (دہلی اسٹیٹ) کے سینئر نائب صدر ڈاکٹر سلیم ملک کے علاوہ آل انڈیا یونانی طبّی کانفرنس، مرکزی یونانی طبّی آرگنائزیشن، حکیم اجمل خان میموریل فائونڈیشن، گلوبل یونانی میڈیسن اینڈ ریسرچ فائونڈیشن، حکیم اجمل خاں یوتھ بریگیڈ، سنٹرل یونانی طبّی بورڈ، ابن سینا ریسرچ سنٹر، نیشنل یونانی میڈیکل سائنسز ڈیولپمنٹ کونسل، انجمن فروغ طب یونانی دہلی وغیرہ تنظیموں کے نمائندگان کے علاوہ کثیر تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *