میرٹھ فساد: عدالت کا فیصلہ آخر کب تک

Share Article

اگر انصاف میں تاخیر کا مطلب انصاف سے محروم ہونا ہے تو یہ کہہ سکتے ہیں کہ میرٹھ کے مسلمانوں کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے۔ مئی 1987 میں میرٹھ میں ہونے والے فساد کو اب 25 سال پورے ہو چکے ہیں۔ اس فساد کی سب سے دردناک داستان ملیانہ گاؤں اور ہاشم پورہ میں لکھی گئی۔ خاکی وردی والوں کا جرم ہٹلر کی نازی فوج کی یاد دلاتا ہے۔ ملیانہ اور ہاشم پورہ کی سچائی سن کر روح کانپ جاتی ہے۔ ملک کے نظامِ قانون پر یہ ایک ایسا سیاہ دھبّہ ہے جس پر یقین نہیں ہوتا۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ نہتے اور معصوموں پر گولی چلانے والے گنہگار آزاد گھوم رہے ہیں، اور جنھوں نے اپنے کلیجے کے ٹکڑوں کو کھو دیا وہ در در کی ٹھوکریں کھارہے ہیں۔  میرٹھ کے ملیانہ گاؤں جائیے یا پھر ہاشم پورہ جاکر دیکھئے۔ ان دونوں گاؤں میں شاید ہی ایسا کوئی خاندان ہے جن پر 1987 کے فسادات کا زخم نہیں ہے۔ دکان پر بیٹھا شخص کہے گا کہ میرے ابو کو فسادیوں نے مار دیا۔ چائے والا اپنے بھائی کی موت کا درد بتائے گا۔ کوئی اپنا زخم دکھانے لگ جائے گا۔ راہ سے گزرتے کسی سے بھی ملئے، سب کے دلوں میں فساد کی یاد تازہ ہے۔ اپنے کھوئے ہوئے اہل خانہ کا چہرہ یاد ہے۔ بیوہ ہوچکی عورتیں، جوان سے بوڑھی ہوگئیں۔ آنکھوں سے بہتے آنسو اور تھرتھراتے ہونٹوں سے جب الفاظ نکلتے ہیں تو کلیجہ پھٹ جاتا ہے۔

 گزشتہ 30 اپریل کو دہلی کے تیس ہزاری کورٹ میں اس معاملہ کی سماعت ہونی تھی۔ فساد کے متاثرین امید لگائے بیٹھے تھے کہ عدالت کی طرف سے ایسا کوئی نہ کوئی فیصلہ ضرور آئے گا جو اس زخم پر کچھ مرہم لگانے کا کام کرے گا، جسے وہ پچھلے پچیس سالوں سے سہتے آئے ہیں۔ لیکن اس بار بھی انہیں مایوسی ہی ہاتھ لگی، کیوں کہ عدالت نے اس فساد کے آخری گواہ میجر پٹھانیا کے عدالت میں حاضر نہ ہونے کی وجہ سے ایک بار پھر اگلی تاریخ، 4 جون2012 دے دی۔ پتہ نہیں تاریخ پر تاریخ کا یہ سلسلہ کب جا کر رکے گا اور ہاشم پورہ اور ملیانہ فساد کے متاثرین کو انصاف کب ملے گا۔

1987 کا میرٹھ فساد خاکی وردی کی بربریت کا سب سے سیاہ باب ہے۔ ہاشم پورہ اور ملیانہ کے ملزم پروونشیل آرمڈ کانسٹیبولری یعنی پی اے سی کے جوان ہیں۔ پی اے سی پر ہاشم پورہ کے چالیس سے زائد نہتے مسلم نوجوانوں کو گولی مار کر ہلاک کرنے کا الزام ہے۔ یہ ملیانہ میں تلاشی کے بہانے گاؤں میں گھس کر لوگوں پر گولی چلانے کی ملزم ہے۔ کسی بھی مہذب سماج کے لیے یہ شرم ناک بات ہے کہ 22-23 مئی 1987 کے واقعہ پر عدالت کا اب تک کوئی فیصلہ نہیں آیا ہے۔ گنہگاروں کو سزا نہیں ملی ہے۔ یہ صرف انصاف میں دیر ہونے والی بات نہیں ہے بلکہ یہ عدالتی شرارت کی ایسی مثال ہے جو یہ بتاتی ہے کہ ہمارے ملک کا سرکاری نظام خاکی وردی والوں کی بربریت کو لے کر کتنا سنجیدہ ہے۔ گزشتہ 30 اپریل کو دہلی کے تیس ہزاری کورٹ میں اس معاملہ کی سماعت ہونی تھی۔ فساد کے متاثرین امید لگائے بیٹھے تھے کہ عدالت کی طرف سے ایسا کوئی نہ کوئی فیصلہ ضرور آئے گا جو اس زخم پر کچھ مرہم لگانے کا کام کرے گا، جسے وہ پچھلے پچیس سالوں سے سہتے آئے ہیں۔ لیکن اس بار بھی انہیں مایوسی ہی ہاتھ لگی، کیوں کہ عدالت نے اس فساد کے آخری گواہ میجر پٹھانیا کے عدالت میں حاضر نہ ہونے کی وجہ سے ایک بار پھر اگلی تاریخ، 4 جون2012 دے دی۔ پتہ نہیں تاریخ پر تاریخ کا یہ سلسلہ کب جا کر رکے گا اور ہاشم پورہ اور ملیانہ فساد کے متاثرین کو انصاف کب ملے گا۔
جب یہ فساد ہوا تب اتر پردیش میں کانگریس کی حکومت تھی اور مرکز میں راجیو گاندھی وزیر اعظم تھے۔ جسٹس راجندر سچر کی قیادت میں ایک تحقیقی کمیٹی نے اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ ویر بہادر سنگھ اور راجیو گاندھی کو تفتیشی رپورٹ کے ساتھ خط بھی لکھا۔ لیکن دونوں نے ان کے مکتوب کو نظر انداز کر دیا۔ راجیو گاندھی کے بعد کئی وزیر اعظم آئے۔ ایسے بھی وزیر اعظم جنہوں نے میرٹھ کا دورہ کیا، ملیانہ گئے، ہاشم پورہ گئے لیکن یہاں کے لوگوں کو انصاف نہیں مل سکا۔ سرکار کی یہ لاپروائی قابل جرم ہے۔ یہ واقعہ کے تئیں سول سوسائٹی اورہیومن رائٹ گروپس کی عدم دلچسپی کو بھی ظاہر کرتی ہے۔ کیا سرکار کی یہ ذمہ داری نہیں ہے کہ متاثرین کو انصاف دلائے اور گنہگاروں کو سزا دے۔ پچیس سال کا وقت کم نہیں ہوتا۔ انتظار کی بھی حد ہوتی ہے۔ کون کتنا انتظار کرے، اور کیوں کرے۔ اب تو یہی کہنا پڑے گا کہ اس فساد کے گنہگاروں کی فہرست میں سرکار بھی شامل ہوگئی ہے۔
یہ سچ مچ انوکھی بات ہے۔ پی اے سی کے جوانوں نے ملیانہ اور ہاشم پورہ میں موت کا جو رقص کیا، کیوں کیا، کس کے کہنے پر کیا، کس افسر یا لیڈر نے اس کی منظوری دی تھی، کانگریس کی ریاستی حکومت کیا کررہی تھی، وزیراعلیٰ سے استعفیٰ کیوں نہیں لیا گیا، افسران کو جیل کیوں نہیں بھیجا گیا، مرکز میں راجیوگاندھی کے وزیراعظم رہتے ہوئے یہ سب کیسے ہوگیا، کیا یہ ممکن ہے کہ کسی ریاست میں اتنی بڑا واقعہ ہو جائے اور حکومت کو پتہ نہ رہے۔ جب کہ ملیانہ اور ہاشم پورہ کا واقعہ اور چشم دید گواہوں کے بیانات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ سب کچھ منصوبہ بند تھا۔ کافی دنوں پہلے پلاننگ ہو چکی تھی۔ نازیوں سے بھی خطرناک واقعہ کو انجام دینے والی پی اے سی اور پولس کے کسی بھی افسر کو سزا نہیں ملی، بلکہ کچھ کو تو باقاعدہ پروموشن ملا اور وہ آج بھی نوکری کر رہے ہیں۔ کیا یہی ہے سیکولر ملک کی سرکاری مشینری اور انصاف؟ کسی بھی فساد کا 25 سال بعد تجزیہ کرنا بڑا مشکل کام ہے اور یہ کام اور بھی مشکل تب ہوجاتا ہے جب فساد کے گنہگار آزاد گھوم رہے ہوں۔ فسادات کی مار سب سے زیادہ پیٹ پر پڑتی ہے۔ فسادات کے بعد ملیانہ اور ہاشم پورہ میں روزی روٹی کا سلسلہ بگڑ گیا۔ فسادات کے دوران آگ زنی اور لوٹ پاٹ کے نقصان کا اندازہ لگانا تو ویسے بھی بے حد مشکل کام ہے۔ جلی اور لوٹی ہوئی اشیاء کی قیمت تو شمار کی جاسکتی ہے، لیکن 25 سال سے بہتے ہوئے آنسوؤں کی قیمت لگانے کی ہمت کس کی ہے؟ عید اور رمضان میں خوشیوں کی جگہ گھر کے چراغ کے گم ہونے کے درد کی قیمت کون لگائے گا؟ حکومت نے تو حد ہی کر دی۔ 40 ہزار میں سب کچھ برابر کردیا اور اسے ہی انصاف سمجھ لیا۔
ملیانہ فساد کی درد بھری کہانی
1983 کے میرٹھ فساد کے دوران ملیانہ پرامن رہا۔ یہاں ہندو مسلمان ہمیشہ سے ساتھ ساتھ رہے ہیں۔ لیکن 1987 میں ملیانہ کو کسی کی نظر لگ گئی۔ اُس دن عجیب سا ماحول تھا۔ افواہ کا بازار گرم تھا۔ لوگ کہہ رہے تھے کہ یہاں گرفتاریاں ہوں گی۔ شک سچ ثابت ہوگیا جب پولس نے گیارہ بجے کے قریب پورے گاؤں کو گھیر لیا۔ تلاشی کے نام پر لوگوں کو گھر سے باہر نکالنا شروع کیا۔ پی اے سی کے لوگ گولیاں چلانے لگے۔ سر پر گولی، گلے میں گولی، سینے پر گولی۔ جسے بھی گولی لگی وہاں لگی جہاں لگنے سے بچنا ناممکن ہے۔ تین گھنٹے تک گولیاں چلتی رہیں۔ سب سے پہلے ستار ولد محمد علی کے گھر کو لوٹا گیا۔  اس کنبہ کے تقریباً 11لوگ مارے گئے۔ ان لاشوں کو کنویں میں ڈال کر اس پر نمک ڈال دیا گیا۔ اس کے بعد فساد کی آگ پورے گائوں میں پھیل گئی۔ یہاں پولس نے گائوں میں دہشت پھیلانے کے لیے ایک گھر کو جلایا۔ مکان کے ساتھ ساتھ اس کنبہ کے چھ لوگ جل کر راکھ ہو گئے۔ اس گھر میں چار بچے تھے۔ جب لاشیں نکالی گئیں تو سب سے چھوٹا بچہ ماں کی گود میں ملا۔ دیکھتے ہی دیکھتے ملیانہ گائوں کے تقریباً 125 مکانوں میں آگ لگا دی گئی جس میں تقریباً73لوگوں کی موت ہوئی جبکہ سرکاری اعداد و شمار انہیں کم ہی بتاتے ہیں۔ فسادیوں میں آس پاس کے لوگوں کے علاوہ باہر کے بھی کئی لوگ تھے۔
واقعہ کے فوراً بعد جب محمد یعقوب نے تھانہ میں یہ سوچ کر ایف آئی آر درج کرائی کہ کم سے کم فسادیوں کو قانون سے سزا مل جائے اور جن پولس والوں نے بے گناہوں کی جانیں لی ہیں انہیں سزا مل جائے، لیکن اسے معلوم نہیں تھا کہ اس فساد سے زیادہ گہرا زخم انصاف دلانے والی جدوجہد سے ملنے والا ہے۔ محمد یعقوب نے بتایا کہ ہم نے 93لوگوں کے خلاف ایف آئی آر کی تھی، 75 گواہ ہیں۔ بیس سال گزر گئے۔ بیس سال تک یہ پتہ ہی نہیں چلا کہ کیس کا کیا ہوااور ہماری ایف آئی آر کہاں گئی۔ ان پی اے سی کے جوانوں پر کیا کارروائی ہوئی۔ اتنے لوگ مارے گئے لیکن کسی نے یہ بھی نہیں سوچا کہ ان متاثرہ کنبوں کو انصاف دلایا جائے یا نہیں۔ بیس سال کے بعد ہمیں کورٹ سے سمن آیا کہ آپ کے کیس کی سماعت ہونے والی ہے۔ ہم پھر عدالت پہنچے، اپنا وکیل کیا، جو کچھ کر سکے، وہ کیا۔ پہلے ہی دن استغاثہ کے وکیل نے کہا کہ اس میں ایف آئی آر نہیں ہے۔ جب تک ایف آئی آر کی مصدقہ کاپی نہیں ہوگی تب تک مقدمہ نہیں چلے گا، تو اس کے بعد جج نے پوچھ گچھ کی اور معلوم کرنے کی کوشش کی کہ ایف آئی آر کس نے غائب کی، کہاں سے کھو گئی ۔ پھر ہم تھانے گئے اور پوچھا کہ 23مئی 1987کو ہم نے ایک ایف آئی آردرج کرائی تھی اس کی کاپی چاہیے۔ تھانیدار نے کہا کہ ہمارے پاس نہیں ہے۔ ہم صرف پانچ سال کا ہی ریکارڈ رکھتے ہیں۔ ہم تمام کاغذات عدالت میں جمع کرا کے سائن کروا لیتے ہیں۔اب تو ہمارے پاس نہ ریکارڈ ہے اور نہ ہی ہم کچھ بتا سکتے ہیں۔ ہم نے ہر جگہ خط لکھا لیکن اب تک ایف آئی آر کا پتہ نہیں چل سکا ہے۔اس کے بعد جج نے کہا کہ جو گواہ ہیں انہیں پیش کرو، تو ہم نے وکیل صاحب کو پیش کیا۔ ان کی گواہی چلی۔ وہ فاسٹ ٹریک کورٹ تھا۔ ہر ہفتہ تاریخیں لگتی تھیں، تو ایک سال تک ایک ہی آدمی کی گواہی ہوئی۔ پھر ایک سال بعد دوسری گواہی پیش کی۔ ایسے تو 75سال لگ جائیں گے۔ پچیس سال ویسے بھی ہو گئے ہیں۔ آنے والے 75سالوں میں نہ تو کوئی مجرم رہے گا اور نہ کوئی گواہ بچے گا۔
ہاشم پورہ اجتماعی قتل عام کا چشم دید
22 مئی 1987 کا منحوس دن۔ بے حد گرمی تھی۔ بہت سالوں بعد میرٹھ میں ایسی گرمی پڑی تھی۔ شہر میں فساد ہورہا تھا اور کرفیو بھی لگا تھا۔ لوگ اپنے گھروں میں ہی تھے۔ کسی کو شاید اس بات کی بھنک نہیں تھی کہ اگلے کچھ گھنٹوں میں ہاشم پورہ تاریخ کے سب سے سیاہ باب کا حصہ بننے جارہا ہے۔ تقریباً دو بجے ملٹری اور پی اے سی تلاشی کے بہانے محلے میں داخل ہوئی۔ لوگ الوداع کی نماز پڑھ رہے تھے۔ ہر گھر میں پی اے سی پہنچی اور جتنے بھی مرد تھے انہیں گھر سے باہر آنے کو کہا گیا۔
’’چوتھی دنیا‘‘ کو اس واقعہ کے چشم دید عثمان نے بتایا کہ گھر سے باہر نکالنے کے بعد بَلّی گلی میں لا کر بٹھایا۔ وہاں کافی لوگ  بیٹھے ہوئے تھے اور پولس والے نے سب کو کہا کہ چلو، ہاتھ اوپر کرو، تو ہاتھ کو اٹھا کر ہمیں سڑک پر لا کر بٹھا دیا۔ جب ہم سڑک پر آئے تو پتہ چلا کہ پورے محلے کو ہی گرفتار کرلیا ہے۔ بوڑھے اور بچے الگ بیٹھے ہوئے تھے اور جوانوں کی ٹولیاں الگ بنا رکھی تھیں۔ ملٹری، پی اے سی اور پولس سب لوگ موجود تھے۔ میں بچوں میں پہنچ گیا۔ انہوں نے کہا کہ بوڑھے اور بچے کو چھوڑ دیںگے۔ جب جوانوں کو بھر کر بھیج دیا تو بوڑھے اور بچوں کا نمبر آیا تو مجھے اس میں سے الگ کرلیا گیا۔ مطلب جو تگڑا نظر آیا اسے ایک طرف نکال لیا۔ جب ہم کھڑے ہوئے تو وہاں سیکڑوں لوگ کھڑے تھے۔ میرے آگے جو چار پانچ کھڑے تھے ان کو میں جانتا تھا۔ وہ محلے کے ہی تھے۔ ایک حاجی مستقیم، ایک آر ٹی دفتر کے یاسین، ایک سلیم اور قدیر چائے والا۔ یہ میرے آگے کھڑے ہوئے تھے۔ تقریباً آٹھ ساڑھے آٹھ بجے رات کا وقت ہوگیا تھا۔ ہمیں الگ کر کے ایک طرف کھڑا کیا اور پی اے سی کا ٹرک منگوایا اور ہم سے کہا کہ اس میں چڑھو۔ تالا کھولا اور اس میں ہمیں بھیڑ بکریوں کی طرح بھر لیا۔ بھرنے کے بعد ہم اس میں پچاس پچپن سے کم نہیں تھے، پورا ٹرک بھرا ہوا تھا۔ پی اے سی والے رائفل لے کر پیچھے کھڑے ہوگئے اور ہمیں نیچے بٹھا دیا۔ ہم پر ڈنڈا بجایا کہ مڑ کر مت دیکھو، آگے دیکھو۔ ٹرک چلتا رہا، کافی دیر تک چلتا رہا۔ ہمیں پتہ نہیں کہ ٹرک کدھر کو چل رہا ہے۔ یہ بھی پتہ نہیں کہ کہاں جا رہا ہے۔ کافی دیر بعد ٹرک رک گیا۔ ٹرک مرادنگر کے گنگ نہر پر جا کر رکا۔ وہاں بڑا سا پیڑ دکھائی دیا، وہ آم کا پیڑ تھا۔ پاس میں کھجور کے پیڑ تھے۔ پی اے سی والے اتر گئے۔ کسی نے کہا کہ ٹرک کی لائٹ بند کر دو۔ پھر ایک آدمی کو اتار ا اور گولی مار دی۔ ہم سب کی سمجھ میں آ گیا کہ اب سب کو ماریںگے، کسی کو نہیں چھوڑیں گے۔ تب پھر انہوں نے ایک اور کو نیچے اتارا۔ اسے بھی گولی مار دی۔ مرنا تو اب بھی تھا اور مرنا تو جب بھی تھا۔ لوگوں کو یہ سوجھا کہ مر تو رہے ہی ہیں ٹرک سے باہر کود جائیں، جیسے ہی کھڑے ہوئے تو انہوں نے ٹرک کے اندر گولی چلا دی۔ رائفل کی گولی۔ دڑادڑ۔۔۔دڑادڑ۔ گولیوں کی بارش ہوگئی۔ اس میں، میں بچ گیا۔ میرے دونوں طرف کھڑے لوگوں کو گولی لگ گئی تھی۔ تب ایک پی اے سی کا جوان چڑھا اور اس نے ہاتھ پکڑ کے کھینچا اور نیچے اتارا۔ میں نے بھاگنے کی کوشش کی تو دولوگ آکے کھڑے ہوئے، مجھے پکڑ لیا۔ میں نے کہا کہ مجھے مت مارو، میرے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں۔ وہ نہیں باز آئے۔ وہ آ ہی رہا تھا مارنے کے لیے کہ میں نے ایک ہاتھ چھڑا کر رائفل کا منہ پکڑ لیا۔ اس طرف سے پکڑ رکھا تھا، جہاں سے گولی نکلتی ہے۔ انہوں نے میرا ہاتھ موڑ کر پیچھے کو دبا دیا اور گولی چلا دی۔ گولی میرے پیٹ کو پار کر گئی۔ میں یہ کہہ کر گر پڑا ہائے اللہ میں مر گیا۔ میں نیچے گر پڑا تو اس نے کہا اسے پانی میں پھینک دو۔ دو آدمیوں نے میرے ہاتھ پکڑے اور ایک نے ٹانگ۔ ہنڈولو سے کر کے مجھے پانی میں پھینک ہی رہے تھے کہ دوسری گولی میری ٹانگ میں لگ گئی۔ پانی میں گرنے سے پہلے ہی پانی نے مجھے اٹھا دیا۔ میں نے تیرنے کی کوشش کی لیکن مجھ سے تیرا نہیں گیا۔ میں پانی میں آگے کی جانب بڑھنے لگا اور کنارے لگ گیا۔ گھاس پکڑ کے لٹکا رہا۔ پی اے سی والے پانی میں گولیاں مار رہے تھے۔ آوازیں آ رہی تھیں۔ گرنے کی بھی اور گولیوں کی بھی۔ پھر جب میں نے دیکھا کہ اتنی دیر ہو گئی اب کسی چیز کی آواز نہیں  ہے، نہ گولی کی نہ پانی میں گرنے کی تو وہ چلے گئے تھے۔ میں نے پانی سے نکلنے کی کوشش کی۔ دو ہاتھ اور ایک ٹانگ کام کر رہے تھے۔ میں نکلنے میں کامیاب ہو گیا۔ نکل کر اوپر آگیا تو وہاں میں نے دیکھا کہ دو لڑکے اور پڑے ہوئے ہیںگولی لگے ہوئے، وہ کراہ رہے تھے۔ تھوڑی دیر بعد دو لڑکے اور آئے، اسی ٹرک کے تھے۔ ایک ذوالفقار ناصر اور ایک نعیم تھا۔ ہمارے ہی محلے کے تھے۔ ان میں سے ایک کے پیٹ سے گولی نکلی تھی اور ایک صاف بچا ہوا تھا۔ ہم سے چلا نہیں جارہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ایسا ہے کہ تینوں کو تو ہم ایک ساتھ نہیں لے جاسکتے۔ گاؤں سے لوگوں کو لے کر آتے ہیں پھر اٹھا کر لے جائیںگے۔ وہ گاؤں پہنچے یا نہیں پہنچے پتہ نہیں۔ دو گھنٹے گزر گئے، وہ نہیں آئے۔ کافی دیر ہوگئی۔ الوداع کا دن تھا، نقارہ ہوتا ہے کوئی دو ڈھائی بجے کے وقت۔ نقارے کی آواز آئی تو میں نے سوچا کہ آس پاس میں یہاں کوئی مسلم گاؤں ہے، کوئی آئے گا صبح کو تو اٹھا کے لے جائے گا،اپنے من میں سوچا۔ اس کے تھوڑی دیر بعد سامنے سے روشنی چمکی۔ مجھے پتہ نہیں چلا کہ کیا چیز ہے۔ ٹرک ہے، کار ہے، بولیٹ ہے یا اسکوٹر ہے۔ میرے برابر میں آئی تو میں نے ہاتھ دے کر روک لیا۔ جیسے ہی انہیں روکا تو وہ داروغہ تھا۔ اس کے پیچھے دو بیٹھے تھے۔ داروغہ نے کہا کیا ہے بے۔ میں نے کہا کہ مجھے پی اے سی والوں نے گولی مار دی، نہر میں پھینک دیا، نکل کر اوپر آیا ہوں تو انہوں نے آس پاس دیکھا اور کہا کہ بیٹا گھبراؤ مت، میں تجھے اٹھا کے ابھی لے جاؤںگا۔ ایک کو بولیٹ سے بھیج دیا۔ یہ کہا کہ تھانے میں کھڑی جیپ لے آؤ، پھر جیپ آئی۔ ہم سب کو جیپ میں ڈال دیا۔ باقی لوگ بے ہوش تھے میں ہوش میں تھا۔ پولس والوں نے کہا کہ بیٹا مجھے امید ہے کہ تو بچ جائے گا۔ تم پی اے سی والوں کا نام مت لینا۔ میں نے کہا اور کیا کہوں جی۔ انہوں نے کہا کہ تم یہ کہنا کہ میں اپنے بھیا کو دیکھنے گیا تھا گیٹ کے پاس۔ وہاں فساد ہوا، مجھے گولی لگ گئی۔ تب کسی چیز میں مجھے ڈالا اور لے جا کے پانی میں پھینک دیا۔ پانی میں مجھے ہوش آیا۔ میں نکل کر باہر آگیا تو پتہ چلا کہ یہ مراد نگر کی گنگ نہر ہے۔ وہاں سے پولس مجھے اٹھا کر لائی۔ ایسے ایسے بیان دیتے رہے تو تیری جان بچ جائے گی۔ ہم تجھے اسپتال لے جارہے ہیں۔ وہ مجھے اسپتال لائے، میرا علاج کرایا۔ پھر دہلی کے ایمس بھیج دیا۔ وہاں ایک مہینہ علاج چلا۔ ایک مہینے بعد میں واپس آگیا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *