کولکاتہ کے این آر ایس اسپتال میں جونیئر ڈاکٹروں پر گذشتہ 10 جون کی رات کو حملے کے بعد سے جاری تعطل پیر کی رات آخر کارختم ہو گیا ۔ اس کے بعد منگل کے روزایک بار پھر ریاست میں طبی خدمات پٹری پر لوٹ آئی ہیں۔
 
مظاہرین ڈاکٹروںکا دھرنا ختم ہو جانے کے بعد منگل کی صبح ہی این آر ایس اسپتال، ایس ایس کے ایم، آرجیکر، کولکاتہ نیشنل میڈیکل کالج اسپتال سمیت دیگر سرکاری اسپتالوں میں خدمات بحال ہو گئی ہیں۔ اسپتالوں کے آئوٹ ڈور پیشنٹ ڈیپارٹمنٹپہلے کی طرح کھول دکئے گئے ہیں۔ ایمرجنسی میں بھی سینئر ڈاکٹر بیٹھے ہیں۔ ڈاکٹروں کی تحریک چلنے کے دوران جن لوگوں نے اجتماعی استعفیٰ دیا تھا اس کو مسترد کر دیا گیا تھا ۔ اس کے بعد پیر کی شام ہی وہ تمام لوگ واپس کام پر لوٹ گئے تھے۔ منگل کے روز بھی بڑی تعداد میں سینئر ڈاکٹر اور ساتھی نرس وغیرہ بھی کام پر واپس آ چکے ہیں۔ اگرچہ ایک ہفتے بعد سرکاری اسپتالوں میں علاج شروع ہونے کی وجہ سے ریاست بھر کے مختلف حصوں سے پہنچے مریضوں کا مجمع لگا ہے۔
 
احتیاط برتتے ہوئے ہر بڑے سرکاری اسپتال اور میڈیکل کالج کے گیٹ پر اضافی تعداد میں پولیس اہلکاروں کی تعیناتی کی گئی ہے۔ انہیں خاص طور پر یہ ہدایت دی گئی ہے کہ مریض کے ساتھ محض دو لوگوں کو اندر جانے دیا جائے۔ کولکاتہ کے علاوہ ہاوڑہ ہگلی شمالی اور جنوبی 24 پرگنہ سمیت ریاست بھر کے تمام اضلاع کے سرکاری اسپتالوں میں بھی سروس عام ہوگئی ہے۔ ہر جگہ ایمرجنسی کے ساتھ ساتھ اوپی ڈی بھی شروع کر دی گئی ہے۔ گزشتہ کئی دنوں سے مختلف اسپتالوں میں پیتھا لوجیکل، ایکس رے، گائینکو لوجی،ہیمیٹولوجی جیسے انتہائی ضروری محکمہ بھی بند رکھے گئے تھے۔ اب انہیں بھی دوبارہ کھول دیاگیا ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here