مزدوروں کی موت کے لئے انتظامیہ ذمہ دار ہے

Share Article

چوتھی دنیا بیورو
اس حادثے کی جانچ کے لیے سماجی کارکنوں نے ایک ٹیم تشکیل دی تھی، جس میں سندیپ پانڈے، روما، شانتا بھٹا چاریہ، وجے ونیت، رما شنکر اور جے شنکر پانڈے وغیرہ شامل تھے۔ اس جانچ ٹیم نے اتر پردیش کے سون بھدر کے بلی مار کنڈی میں 27 فروری 2012 کو غیر قانونی ڈھنگ سے چل رہی کانکنی میں بھیانک حادثے کی جانچ کی۔ اس کی رپورٹ کہتی ہے کہ حادثے والے دن شام کے پانچ بجے کے آس پاس کان میں نصف درجن ٹریکٹر اورتقریبا ً40 مزدور وں کو لگا کر کچھ لوگ کھدائی کر رہے تھے۔ کھدائی سے پہلے اس کان میں درجن بھر سے زیادہ سوراخ کرکے دھماکہ خیز مادے کے ذریعہ ایک بڑے پہاڑی حصے کو اڑایا گیا تھا۔ دھماکہ کے کچھ ہی منٹ بعد کان میں مزدوروں کو اتار دیا گیا۔ کان ہزاروں فٹ گہری تھی، جس میں اترنے کے بعد کوئی جلدی باہر نکلنا چاہے تو بھی نہیں نکل سکتا تھا۔ مزدوروں کے اس میں جانے کے کچھ ہی دیر بعد دھماکہ سے ہل رہی پہاڑی کا ایک بہت بڑا حصہ بھر بھرا کر گرنا شروع ہو گیا۔ پہاڑی کے گرنے سے درجن بھر سے زیادہ مزدور ملبے کے نیچے دب گئے اور چیخ پکار مچ گئی۔ 9 مزدوروں کی موت ہوگئی ۔ سبھی مزدور چھتیس گڑھ کے تھے۔ تین دنوں تک انتظامیہ ملبہ ہٹاتا رہا۔ آخر میںملبہ ہٹانے کا کام چوتھے دن بند کر دیا گیا۔ اس معاملے میں ضلع انتظامیہ نے آناً فاناً میں کان محکمے کے ایک سروے کرنے والے کو معطل کر دیا۔ پولس سپرنٹنڈنٹ نے اوبرا تھانہ انچارج سمیت دو سپاہیوں کو معطل کیا۔ اس کے بعد کسی بھی سرکاری ملازم نیز آفیسر پر کوئی کارروائی سرکاریا انتظامیہ کی طرف سے نہیں ہوئی۔ ایک مقامی مرنے والے کے بھائی ارجن پسر سومارو کی تحریر پر 16 غیر قانونی کان کنوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرلی گئی۔ اس میں سے ایک لکھنؤ میں صحافت کرنے والے آشوتوش سنگھ کے والد بھی ہیں۔ اس کے بعد معاملے کی پوری لیپا پوتی شروع کر دی گئی۔ ایف آئی آر کے بعد صرف تین لوگوں کو ہی گرفتار کیا گیا۔ باقی لوگ کھلے عام گھوم رہے ہیں اور حادثے کے 15 دن بعد راجا رام، راج بہادر، پپو پانی، شیو شرن، دھیرج، یوگیندر سنگھ ہائی کورٹ سے اسٹے آرڈر لانے میں کامیاب رہے۔ چھتیس گڑھ کے مزدوروں کو کوئی معاوضہ نہیں دیاگیا۔ حادثہ کے تقریباً ڈیڑھ ماہ بعد 17 اپریل کو جب جانچ ٹیم حادثے کی جگہ پر پہنچی تو وہاں کا نظارہ دیکھ کر حیران رہ گئی۔ ملبے کے نیچے لال رنگ کا ایک ٹریکٹر پڑا ہوا تھا۔ حادثے والی کان سے تقریباً 200 میٹر کی دوری پر ہی گرام پردھان راجا رام یادو کا مکان تھا۔ کان سے ٹھیک پچاس گز کی دوری پر جانوروں کے باڑے کی طرح چھوٹی چھوٹی ڈھائی درجن اینٹ کی چار فٹ اونچی دیوار پر شیڈ رکھ کر کمرے بنے پائے گئے۔ سبھی میں مٹی کے چولہے بنے ہوئے تھے۔ ان میں لوگ رہتے بھی ہیں۔ پوچھنے پر بتایا گیا کہ جو مزدور اس کان حادثے میں مارے گئے ہیں، وہ سبھی انہیں کمروں میں رہتے تھے۔ فی الحال اس وقت کان کے پورے علاقے میں کام بند تھا، اس لیے ایک بھی مزدور موقع پر نہیں ملا۔ جس کان میںحادثہ ہوا، اس کا رقبہ نمبر 4452 بتایا گیا، جو ریکارڈ میں اندرجیت ملہوترا اور ہنس راج کی پائی گئی۔ اس پر کوئی کان پٹہ جاری نہیں ہوا تھا۔ اسی طرح 4471 نمبر کی زمین 12.89 ہیکٹیئر کی تھی جو مختلف کاشتکاروں کے نام 1.783 ہیکٹیئر درج ہے۔ مزید پہاڑ اور 8 ہیکٹیئر زمین محفوظ جنگلاتی علاقہ ہے۔ یہ بھی حادثے والی کان میں ہی شامل ہے۔ اس میں دو ہیکٹیئر کو چھوڑ کر لگ بھگ سارے علاقے پر کھدائی پائی گئی۔ 449 نمبر کی زمین پہاڑ کے نام درج ہے۔ اس پر بھی کھدائی کی گئی تھی۔ اس کے علاوہ بھی زمین کے کئی ایسے اندراج تھے جو غلط تھے۔ غیر قانونی کانکنی کی جگہ کو دیکھنے پر پتہ چلا کہ یہاں پچھلے کئی سالوں سے یہ کھیل جاری ہے، جس میں کئی لوگ شامل ہیں۔ کان محکمہ اور محکمہ جنگلات کا رول شک کے دائرے میں ہے، کیونکہ جس زمین پر کانکنی ہوئی وہ محفوظ علاقے ہیں اور بغیر محکمہ جنگلات کی منظوری کے غیر قانونی کھدائی وہاں چل ہی نہیں سکتی۔ اس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ 9 مزدوروں کی موت کا ذمہ دار سرکاری محکمہ ہے۔ موت کے بعد کچھ اخباروں میں خبریں شائع ہوئیں، جس سے ظاہر ہوا کہ اس غیر قانونی کھدائی کے کاروبار میں مقامی سطح پر جرنلسٹ بھی شامل ہیں جو با قاعدہ ان غیر قانونی کان کنوں سے اپنا حصہ لیا کرتے تھے۔ حادثہ کے بعد تمام سیاسی پارٹیوں کے لوگوں نے شورو غل مچانا شروع کر دیا، تاکہ انتظامیہ پر دبائو بنا کر معاملے کو رفع دفع کیا جا سکے، کیونکہ سیاسی پارٹیوں کے لوگوں کی کان وہاں پائی گئی، جیسے بی جے پی لیڈر راجناتھ سنگھ کے بھتیجے جے پرکاش سنگھ پسر سوریہ ناتھ سنگھ کی کان بلی مارکنڈی میں 6229 نمبر میں چل رہی ہے۔ بی جے پی کے ضلع صدر اشوک کمار مشرا کی کان 7407 نمبر میں ہے۔ اسی طرح کئی دیگر بی جے پی لیڈروں کی کانیں وہاں موجود ہیں۔ کانگریس کے سابق وزیر آنجہانی بچہ پاٹھک کے بھتیجے کپندر ناتھ پاٹھک کی کان بھی ڈیڑھ ایکڑ میں ہے۔ اس کے علاوہ کانگریس کے پی سی سی ممبر راہل شریواستو اور کانگریسی گیانندر پتی ترپاٹھی کی بھی کان ہے۔ بی ایس پی ایم ایل اے اور چھاتر شکتی کنسٹرکشن کمپنی کے ڈائریکٹر اوما شنکر سنگھ کے نام بھی کان ہے۔اسی طرح ایس پی لیڈر رمیش ویشیہ، دھرم ویر سنگھ یادو سمیت کئی لوگ اپنی کان چلا رہے ہیں۔ راشٹریہ کرانتی پارٹی کے صوبائی صدر برش بھان اگروال کی بھی یہاں کان ہے۔ ضلع میں صحافت کے میدان میں جانے جانے والے بشیر بیگ، منوج تیواری، روی جالان، راہل شریواستو، امتیاز احمد سمیت کئی لوگ جو اپنی گاڑیوںپر پریس لکھ کر چلتے ہیں، کی بھی یہاں کانیں ہیں۔ اس لیے سب اس معاملے کو دبانے میں لگے ہیں ۔ اس پورے کھیل میں سون بھدر کا فاریسٹ ڈپارٹمنٹ،رِوینیو ڈپارٹمنٹ اور محکمۂ کان شامل ہے اور سب کی حصہ داری غیر قانونی کانکنی کے ذریعہ ہونے والی آمدنی میں بندھی ہوئی ہے۔
9 مزدوروں کی موت کے معاملے میں 16 عام لوگوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنا حیران کن ہے۔ اس ایشو کو لے کر جانچ ٹیم کے ممبر وجے ونیت گزشتہ 16 مارچ کو بھوک ہڑتال پر بیٹھے تھے۔ انہوں نے محکمہ جنگلات، رِوینیو ڈپارٹمنٹ اور محکمہ کان کے لوگوںپر ایف آئی آر درج کرنے کی مانگ کی تھی۔ مرنے والوں کے خاندان کو معاوضہ اور سی بی آئی جانچ کی مانگ کی تھی جس پر کوئی کارروائی نہیں ہوسکی ہے۔ صرف کچھ لوگوں کو معطل کیا گیا۔ جانچ ٹیم کے ذریعہ آر ٹی آئی کی بنیاد پر انفارمیشن میں جہاں حادثہ ہوا اس زمین کو نہ رِوینیو ڈپارٹمنٹ ، نہ محکمہ جنگلات اور نہ ہی محکمہ کان اپنی زمین مان رہے ہیں، جس سے واضح ہوگیا کہ یہ سارا کام غیر قانونی چل رہا تھا۔ لمبے عرصے سے کانکنی کا کام جاری رہنے کی وجہ سے وہاں پر ہزاروں فٹ گڈھا ہوگیا ہے، جہاں پراب پانی بھی نکل چکا ہے۔ جانچ ٹیم کی مانگ ہے کہ اس غیر قانونی کانکنی میں ڈویژنل فاریسٹ آفیسر ڈی ایف او اوبرا او پی چورسیا، کانکنی کے آفیسر پر فوری ایف آئی آر درج کی جانی چاہیے، ساتھ ہی اس کان کو شروع کرنے میں پہلے کے سبھی ضلع سطح کے افسروں کے رول کے بارے میں جانچ کی جانی چاہیے اور قصوروار آفیسر کے خلاف ایف آئی آر درج کرکے ان کے خلاف کارروائی کی جانی چاہیے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *