مایاوتی اتفاق رائے سے دوبارہ بی ایس پی کی صدر منتخب

Share Article
Mayawati unanimously re-elected BSP president

بہوجن سماج پارٹی(بی ایس پی) کی ریاستی دفتر میں مرکزی مجلس عاملہ، آل انڈیا اسٹیٹ پارٹی یونٹ کے ذمہ داروں و پارٹی نمائندوں کی منعقد خصوصی میٹنگ میں بی ایس پی کی قومی صدر و سابق وزیر اعلی مایاوتی کو اتفاق رائے سے دوبارہ پارٹی کا قومی صدر منتخب کیا گیا۔اتفاق رائے سے بی ایس پی کا دوبارہ صدر منتخب کیے جانے کے بعد مایاوتی نے پارٹی کارکنوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ بی ایس پی مومنٹ کے لئے ہر قسم کی قربانی دینے کو تیا رہیں۔ اس ضمن میں نہ تو وہ کبھی رکنے والی ہیں اور نہ ہی جھکنے والی ہیں۔ وہ دلت۔پسماندہ طبقات کی آواز اٹھاتی اور بی ایس پی نظریات کو عوام الناس تک پہنچانے کے اقدام کرتی رہیں گی۔

کشمیر سے آرٹیکل 370 ہٹائے جانے کے فیصلے کی پارٹی کی جانب سے تائید کیے جانے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ باباصاحب بھیم راؤ امبیڈکر جموں و کشمیر میں دفعہ 370 کے کبھی حامی نہیں تھے اسی خاص وجہ سے بی ایس پی نے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں مرکز کے ذریعہ آرٹیکل 370 ختم کیے جانے کی حمایت کی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے کشمیر کے موجودہ حالات پر بھی تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ حالات کے معمول ہونے میں تھوڑا سا وقت لگے گا جس کا ہمیں انتظار کرنا چاہیے۔

Image result for Mayawati unanimously re-elected BSP president
اس ضمن میں انہوں نے ایک بار پھر کانگریس سمیت اپوزیشن لیڈروں کے بلا اجازت کشمیر جانے کی کوشش کی تنقید کرتے ہوئے سوال کیا کہ اگر ان کی اس حرکت سے کشمیر کے حالات بگڑ جاتے تو اس کا ذمہ دار کون ہوتا۔ انہوں نے اپوزیشن کی اس کوشش کو مرکز اور گورنر ستیہ پال ملک کو کشمیر پر غیر ضروری سیاست کرنے والا عمل قرار دیا۔

Image result for Mayawati unanimously re-elected BSP president
جموں۔کشمیر سے لداخ کو الگ کر کے اسے علیحدہ مرکز کے زیر انتظام ریاست بنانے کے مرکزی کے فیصلے کو لیہہ۔لداخ کے بدھ سماج کے لوگوں کی سالوں پرانے مطالبے کی تکمیل گردانتے ہوئے مایاوتی نے کہا کہ بی ایس پی مطالبہ کرتی ہے کہ مرکزی حکومت ان کی خصوصی شناخت ان کی ثقافت کے تحفظ اور علاقے کی ترقی کے اقدام کرے۔بی ایس پی کو دلتوں اور دیگر پسماندہ طبقات کا حقیقی خیرخواہ بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان طبقات کے مفادات کے تحفظ اور ان کی فلاح کے لئے بی ایس پی نے یو پی میں بنی اپنی چار بار کی سرکار میں کافی فلاحی اسکیمیں چلائیں جو ا?ج بھی ایک بہترین مثال ہیں۔ اس موقع پر انہوں نے بی ایس پی حکومت کی حصولیابیوں کا خصوصی ذکر کیا۔حال ہی میں ہریانہ، مہاراشٹر، جھارکھنڈ و دہلی میں ہونے والے اسمبلی انتخابات میں کانگریس اور بی جے پی کو اپنا خصوصی حریف بتاتے ہوئے پارٹی کارکنوں کو انتخابات کے لئے سخت محنت کرنے اور زمینی سطح پر پہنچ کر ووٹروں سے بی ایس پی کے نظریات سے ا?گاہ کر نے کی صلاح دی۔ انہوں نے اترپردیش میں 13 سیٹوں پر ہونے والے ضمنی انتخابات کے لئے بھی ضروری ہدایات دیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *