عوام سے دوری مایاوتی کو مہنگی پڑ سکتی ہے

Share Article

اجے کمار
دو ہزار سات میں چوتھی بار وزیراعلیٰ کی کرسی پر بیٹھنے والی مایاوتی کا آغاز جتنا اچھا تھا، انجام اتنا ہی خراب لگ رہا ہے۔ ان کی سرکار کے چار سال پورے ہوگئے ہیں اور اگلے سال انتخابات ہونے ہیں، لیکن مایاوتی کے پاس ایسی کوئی حصولیابی نہیں ہے جس کے دم پر وہ عوام سے ووٹ کی اپیل کریںگی۔ ان چار سالوں میں مایاوتی عرش سے فرش پر آگئی ہیں، لیکن اندازے ہمیشہ صحیح نہیں ہوتے۔ ہوسکتا ہے کہ عوام کی نظروں میں مایاوتی سرکار کی اہمیت اس سے بہتر ہو، صرف ایک سال اورہے، اس کے بعد عوام خود تیار کریںگے مایاوتی سرکار کا رپورٹ کارڈ۔ عوام کی نظروں میں مایاوتی کی شبیہ ٹھیک ویسی ہی ہے، جیسی مخالف جماعتیں پروپیگنڈہ کر رہی ہیں یا پھر ان کے کام کاج سے ریاست کے عوام مطمئن ہیں۔ اس بات کا فیصلہ 2012 میں ہوجائے گا۔ بی ایس پی نے پانچ سالوں میں کیا کھویا کیا پایا، اس کا فیصلہ تو ہوگا ہی، اقتدار کے لیے گھات لگائے بیٹھی سماجوادی پارٹی، کانگریس اور بی جے پی سمیت مختلف جماعتوں کے دعوؤں کی قلعی بھی صوبے کے عوام کھول کر رکھ دیںگے۔ عوام حساب لینا جانتے ہیں۔ یہ بات سبھی جماعتوں کے لیڈر سمجھتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ وہ خود کو سپردکھانے کے چکر میں ایک دوسرے کی پول کھولنے میں پوری طاقت صرف کر رہے ہیں۔ پول کھولو مہم سے اپوزیشن میں بیٹھی جماعتوں کو تو کوئی نقصان نہیں ہورہا ہے، لیکن بی ایس پی کے مسائل بڑھ گئے ہیں۔ بی ایس پی سرکار اور مایاوتی کا زیادہ تر وقت بدعنوانی اور خراب لاء اینڈ آرڈر اور تانا شاہی کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے گزرجاتا ہے۔ کبھی پتھر پریمی تو کبھی دولت کی بیٹی جیسی تشبیہات سے نوازی جانے والی مایاوتی پر الزام لگتے رہے ہیں کہ اپنی خود غرضی کے سبب انہوں نے ریاست کی ترقی پر کوئی توجہ نہیں دی۔ کانگریس سے سیاسی برتری کی کوشش میں مرکزی سرکار کے ساتھ ان کے تعلقات کبھی اچھے نہیں رہ پائے، جس کا خمیازہ ریاستی عوام کو بھگتنا پڑا۔ منریگا میں بدعنوانی اور اناج گھوٹالے کے سبب بھی ان کی سرکار مشکلوں میں گھری رہی۔ پارٹی لیڈران کے کارناموں سے بھی انہیں شرمسار ہونا پڑا۔
دو قدآور وزیروں نسیم الدین صدیقی اور بابو سنگھ کشواہا کے درمیان جاری مقابلے بازی نے بھی حکومت کی شبیہ کو نقصان پہنچایا۔ بابو سنگھ کو اپنی لال بتی تک گنوانی پڑی۔ زمین کی لڑائی میں نندگوپال نندی پر ہوئے جان لیوا حملے نے ریاست کے نظم و نسق کا خوب مذاق اڑایا۔ آخری سال میں بریلی اور میرٹھ سمیت کچھ دیگر جگہوں پر فرقہ وارانہ فسادات نے بھی حکومت کی شبیہ کو ٹھیس پہنچائی۔ نوکرشاہوں کو اپنے حساب سے چلانے کی ناکام کوشش اقتدار کے آخری سال بھی مایاوتی کو ستاتی رہی۔ اس دوران کئی بار عدالت کا حکم نہ ماننے کے سبب حکومت کو کورٹ کی پھٹکار بھی سننی پڑی۔ چار سال پورے ہونے سے قبل الٰہ آباد ہائی کورٹ نے بی ایس پی حکومت کے ذریعہ بلدیاتی انتخاب ایکٹ میں کی گئی ترمیم کو غیرقانونی قرار دیتے ہوئے انتخاب پرانی روایت کے مطابق پارٹی سمبل پرہی کرائے جانے کا حکم جاری کر کے ایک اور جھٹکا دے دیا۔ بلدیاتی انتخاب کسی بھی صورت میں پارٹی سمبل پر نہ ہونے دینے کی کوشش میں لگی مایاوتی حکومت ہائی کورٹ کے حکم کے خلاف سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹانے جارہی ہے۔ ریاست میں بی ایس پی کے علاوہ کوئی بھی پارٹی نہیں چاہتی کہ بلدیاتی انتخاب پارٹی سمبل پر نہ ہوں۔ کسانوں کی حالت میں بھی کوئی سدھار نہیں ہوا۔ ان کی زمینیں امیروں کو لبھاتی رہیں اور حکومت بھی ہمیشہ امیروں کے ساتھ کھڑی نظر آئی۔ شراب کے کھیل میں بھی حکومت نے خوب سبقت حاصل کی۔ انتخابی آہٹ ہوتے ہی مایاوتی نے اپنے کارکنوں کو چوکنا کردیا ہے۔ مختلف اسمبلی حلقوں سے امیدواروں کا اعلان کر کے انہیں وہاں کا کوآرڈینیٹر بنا کر میدان میں اتار دیا گیا ہے۔
13 مئی 2007 کا دن مایاوتی کے لیے کافی اہم تھا۔ اسی دن چوتھی بار(پہلی بار مکمل اکثریت کے ساتھ) وہ برسر اقتدار آئی تھیں۔ ہاتھی نے سب کو روند دیا تھا۔ چاروں خانے چت اپوزیشن ہاؤس میں بونا بن کر لوٹی تھی۔ خیر گزشتہ 13 مئی کو مایاوتی حکومت نے اپنے چار سال پورے کرلیے۔ اس دوران مایاوتی کا سفر بہت اچھا نہیں رہا۔ وہ عوام سے کیے گئے وعدے پورے نہیں کر پائیں، ترقی کے معاملے میں ریاست پچھڑتی گئی اور گھوٹالوں اور بدعنوانیوں کی خبروں سے عوام کی نیند اڑی رہی۔ اقتدار سنبھالتے ہی مایاوتی نے سب سے پہلے اپنے ان رہنماؤں کو ترجیح دی، جن کے بل بوتے وہ وزیراعلیٰ جیسی کرسی پر براجمان ہوسکیں۔ ان کے نام تھے کانشی رام اور بھیم راؤ امبیڈکر۔ مایاوتی نے دلت لیڈروں کے مجسمے نصب کر کے دلت عوام کا دل جیت لیا۔ کانشی اسمارک استھل بنوانے کے لیے انہیں تاریخی جیل اور عالیشان کالونی گرانے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہوئی۔ مایاوتی نے ہر وہ جگہ چمکائی، جہاں کانشی رام اور امبیڈکر کا نام آیا۔ پارٹی فنڈ کے لیے ان کے کچھ بھروسے مند لیڈر صنعت کاروں اور تاجروں سے میل جول بڑھاتے دکھائی دیے۔ اس دوران راجیہ سبھا، اسمبلی اور قانون ساز کونسل کے ضمنی انتخابات کا بھی پارٹی کو سامنا کرنا پڑا۔ پنچایتی انتخابات میں بھی بی ایس پی کے حامی امیدواروں کا ڈنکا بجا۔ جب تقریباً ساڑھے تین سال گزر گئے تو مایاوتی نے پارٹی کو سبھی ضمنی انتخابات سے دور کرلیا۔شاید وہ پوری توجہ حکومت پر لگانا چاہتی تھیں۔ موقع پڑنے پر تیز طرار افسران کو بھی حاشیہ پر لانے میں دیر نہیں لگائی۔ اس کی مثال آئی اے ایس وجے شنکر پانڈے ہیں۔ ان پر جیسے ہی حسن علی کے حوالے سے الزامات لگے، وزیراعلیٰ نے انہیں سبھی اہم عہدوں سے ہٹا دیا۔ ’سرو جن ہتائے‘ کی بات کرنے والی مایاوتی کا پورا دھیان دلتوں کے مفاد سادھنے میں رہا۔ ان کے ذریعہ بیک لاگ کی بھرتیوں پر بار بار پوچھ گچھ جاری رہی۔
سام، دام، دنڈ، بھید کی سیاست اور چالاک مشیروں کے سبب مایاوتی میں اس بار ایک فرق ضرور آیا کہ ان کے بے لوث تبصرے سننے کو نہیں ملے۔ چار سالوں میں کوئی ایسا موقع نہیں رہا، جب انہوں نے لکھا ہوا خطاب نہ کیا ہو۔ 13 مئی 2007 کو مایاوتی نے جب چوتھی دفعہ تاج پہنا تھا، تب سے لے کر اب تک تیزوتند ہواؤں میں بھی ان کے حوصلوں کی پرواز جاری رہی۔ اپنی مضبوط قوت ارادی سے مایاوتی نے اپنے مخالفین کو حدمیں رکھا، اپنی طاقت بڑھانے کے لیے انہوں نے کئی ایسے فیصلے کیے، جو ہٹ اور فٹ رہے۔ ان کے اقتدار کا سیاہ باب یہ رہا کہ نہ چاہتے ہوئے بھی وہ اپنے دشمنوں کی تعداد مسلسل بڑھاتی گئیں۔ ملائم سنگھ سے ان کی دوری جگ ظاہر تھی۔ اقتدار سنبھالتے ہی کانگریس اور مرکزی حکومت سے بھی ان کی دوریاں بڑھتی گئیں۔ مرکز سے ٹکراؤ کا خمیازہ ریاست کے عوام کو بھگتنا پڑا، لیکن مایاوتی حکومت کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑا۔ ایک طرف کانگریس اور راہل گاندھی کو کوسنا اور دوسری طرف کانگریس کے زیرقیادت چلنے والی مرکزی حکومت کو باہری حمایت دینے کا عجوبہ مایاوتی جیسی لیڈر ہی کرسکتی ہے۔ لوک سبھا انتخاب میں من پسند نتائج نہ آنے سے مایاوتی کافی مغموم نظر آئیں۔ وہیں آمدنی سے زیادہ جائیداد کا معاملہ اور ان کا مورتی پریم کئی پریشانیاں لے کر آیا۔ مرکزی حکومت بھی انہیں سی بی آئی کے ذریعہ آنکھیں دکھاتی رہی۔
مایاوتی کے زیادہ تر فیصلے ووٹ بینک کو دھیان میں رکھ کر لیے گئے۔ لوک سبھا انتخابات کے دوران بی جے پی کے ورون گاندھی پر قومی سلامتی ایکٹ لگانے کا فیصلہ مسلمانوں کو خوش کرنے کے لیے لیا گیا، وہیں جب ریاستی کانگریس صدر ریتا بہوگنا جوشی نے مایاوتی پر انگلی اٹھائی تو نہ صرف ان پر مقدموں کی جھڑی لگا دی گئی، بلکہ ان کا گھر تک جلا دیا گیا۔ ایک طرف ورون گاندھی اور ریتا بہوگنا کو مایاوتی کے خلاف زہر اگلنے کے سبب عدالت کے چکر لگانے پڑ رہے ہیں، وہیں مایاوتی کو راہل گاندھی کا اترپردیش میں اٹھنا-بیٹھنا راس نہیں آتا۔ راہل کہیں بی ایس پی کے ووٹ بینک میں نقب نہ لگا دیں، اس لیے وہ اکثر مایاوتی اور ان کی پارٹی کے لیڈروں کے نشانے پر رہتے ہیں۔ مایاوتی مرکز سے اپنے رشتوں کو کیش کرانے کے لیے مضطرب رہیں۔ جب ضرورت ہوئی تو وہ کانگریس کے ساتھ کھڑی ہو گئیں اور جب لگا کہ کانگریس مصیبت بن سکتی ہے تو اسے کوسنے میں بھی انہوں نے دیر نہیں لگائی۔ خواتین ریزرویشن ایشو پر جب انہیں لگا کہ نقصان ہو سکتا ہے تو وہ کوٹے کے اندر کوٹے کی بات کرنے لگیں۔ پرموشن میں ریزرویشن کے معاملے میں جب الٰہ آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ ان کے خلاف آیا تو وہ سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹانے کے لیے بے قرار نظر آئیں۔ مہنگائی کے ایشو پر بی ایس پی مسلسل کانگریس سے دو دو ہاتھ کرتی رہی، لیکن جب بی جے پی پارلیمنٹ میں کٹ موشن لائی تو مایاوتی یوپی اے حکومت کے حق میں کھڑی ہوگئیں۔ ایسا ہی ان کے ممبران نے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی میٹنگ میں کیا۔ کمیٹی کی رپورٹ پر جب وزیراعظم اور پی ایم او گھرتے ہوئے نظر آئے تو بی ایس پی نے کانگریس کا ہاتھ مضبوط کرنا بہتر سمجھا۔ مایاوتی کو لگا کہ آمدنی سے زیادہ جائیداد سمیت کئی معاملوں میں مرکز ان کی مدد کرسکتا ہے اور ہوا بھی یہی، منموہن حکومت کے حق میں ووٹ کرتے ہی سی بی آئی نے لگام ڈھیلی چھوڑنے میں ذرا بھی دیر نہیں کی اور جب مایاوتی کو لگا کہ ان کی شبیہ کانگریس حامی بن رہی ہے تو انہوں نے کہا کہ اترپردیش کے ساتھ کانگریس سوتیلا رویہ اپنا رہی ہے۔ گزشتہ سال بی ایس پی کی 25 ویں سالگرہ کے موقع پر مایاوتی نے ہزار روپے کے نوٹوں کی تقریباً سات میٹر لمبی اور دو فٹ موٹی مالا پہنی، جس کی قیمت کروڑوں روپے بتائی گئی۔ اس کے حوالے سے  تنازعہ بھی ہوا، لیکن مایاوتی پر کوئی اثر نہیں پڑا۔
عوام نے جب مایاوتی کو ریاست کی باگ ڈور سونپی تھی، تب وہ اس وقت ملائم سنگھ یادو کی حکومت سے اوب چکے تھے۔ ہر طرف لوٹ کھسوٹ کا راج تھا۔ عوام کی کہیں بھی سنوائی نہیں ہورہی تھی۔ خواتین کی آبرو محفوظ نہیں تھی، اغوا ایک انڈسٹری بن گیا تھا۔ ایسے میں مایاوتی کا یہ کہنا کہ اگر ان کی حکومت بنی تو وہ ملائم سنگھ کو جیل بھیج دیںگی، عوام کو راس آگیا۔ عوام پہلے بھی مایاوتی کی کارکردگی دیکھ چکے تھے۔ اس لیے اس نے انتخاب میں مایاوتی پر بھروسہ کیا اور بی ایس پی کو اکثریت حاصل ہوگئی۔ تقریباً بیس سال بعد ریاست میں مکمل اکثریت والی حکومت آئی، لیکن عوام کے اسی فیصلے نے مایاوتی کو مغرور بنادیا۔ اکثریت کے سبب حکومت بے لگام ہوگئی اور نوکرشاہ بھی بے لگام ہوگئے۔ جنہیں جیل میں ہونا چاہیے تھا، ان کے لیے بی ایس پی کے دروازے کھل گئے۔ مایاوتی مجرمین کو غریبوں کا مسیحا بتانے لگیں۔ جن مجرمین کو وہ جیل بھیجنے کی بات کرتی تھیں، وہ ان کے بغل گیر ہوگئے۔ کئی کو لال بتی مل گئی۔ مختار انصاری، آنند سین، شیکھر تیواری، گڈو پنڈت، ارون کمار شکلا عرف انا جیسے مجرم بی ایس پی کی زینت بڑھانے لگے۔ عوام پناہ مانگنے لگے، لیکن مایاوتی پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑا۔ الٹے وہ اپوزیشن کو سبق سکھانے میں لگ گئیں۔ سماجوادی پارٹی کے قریبی آزاد ممبراسمبلی رگھوراج پرتاپ سنگھ، جو مایاوتی کی آنکھوں کی ہمیشہ کرکری بنے رہے، انہیں اس بار بھی جیل بھیجنے کا موقع مایاوتی نے نہیں گنوایا۔ ان پر قومی سلامتی ایکٹ لگا کر مہینوں جیل میں رہنے پر مجبور کر دیا گیا۔ ادھر عدالت نے اوریا کے ممبراسمبلی شیکھر تیواری سمیت دس لوگوں کو انجینئر منوج گپتا کے قتل کے جرم میں عمرقید کی سزا سنا کر بی ایس پی کو آئینہ دکھا دیا۔ بی ایس پی ممبراسمبلی آنند سین کو بھی عدالت نے عمرقید کی سزا سنا دی ہے۔ ان پر ساکیت ڈگری کالج اجودھیا کی قانون کی طالبہ ششی کے قتل کی سازش میں شامل ہونے کا الزام تھا۔ باندہ کے بی ایس پی ممبراسمبلی پروشوتم پر بھی ایک لڑکی کو اغوا کر کے اس کی عصمت دری کرنے کا معاملہ عدالت میں چل رہا ہے۔
مایاوتی ایک ساتھ دو کشتیوں پر پیر رکھ کر چلنا چاہتی تھیں۔ مجرمین کے لیے بی ایس پی پناہ گاہ بنی ہوئی تھی، لیکن مایاوتی یہ بھی نہیں چاہتی تھیں کہ ان پر کوئی داغ لگے۔ اسی لیے وہ چنندہ مجرمین کے خلاف مہم چلا کر اپنا دامن داغ دار ہونے سے بچاتی رہیں۔ مایاوتی کی یہ دو رنگی سیاست عوام بھلے ہی نہیں سمجھ پا رہے تھے، لیکن ایسے لوگوں کی کمی بھی نہیں تھی، جو اس کھیل کا پردہ فاش  کرنے میں لگے تھے۔ دھیرے دھیرے مایاوتی کی اصلیت ظاہر ہونے لگی، لیکن تب تک وہ اقتدار کی کافی ملائی مار چکی تھیں اور عوام کے درمیان جانے کا وقت نزدیک آنے لگا۔ تبھی ایک حادثہ ہوا۔ گونڈہ میں ایک جلسہ عام کے دوران منچ پر ایک مجرم اور مبینہ بی ایس پی لیڈر کو گولی مار کر قتل کردیا گیا اور بی ایس پی پر اپوزیشن کیچڑ اچھالنے لگی۔ بعد میں بی ایس پی نے مقتول  لیڈر کو اپنی پارٹی کا نہ بتا کر معاملے سے دامن  جھاڑ لیا۔ موقع کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے مایاوتی نے مافیا ممبراسمبلی مختار انصاری اور ان کے بھائی افضال انصاری کو باہر کا راستہ دکھا دیا۔ مایاوتی کا اب پہلے والا اثر نہیں رہا تھا، اسی لیے نہ مجرم ان سے ڈر رہے تھے اور نہ ہی نوکرشاہ۔ نوکرشاہوں نے مایاوتی کی نبض پکڑ لی تھی۔ عوام سے مایاوتی کی دوریاں بڑھ گئی تھیں۔ جب ممبران پارلیمنٹ اور ممبران اسمبلی وزیر اعلیٰ سے نہیں مل پاتے تو عام آدمی کا حال آسانی سے سمجھا جاسکتا ہے۔ پہلے مایاوتی اپنے ممبران پارلیمنٹ اور ممبران اسمبلی سے ملنے میں کافی دلچسپی لیتی تھیں۔ اس سے انہیں حکومت کی اسکیموں کی زمینی سچائی معلوم ہوجاتی تھی اور نوکرشاہ سہمے رہتے تھے۔ ممبران پارلیمنٹ اور ممبران اسمبلی کا اثر و رسوخ بھی قائم رہتا تھا، لیکن اب حالات بدل چکے ہیں۔ نوکرشاہوں نے سوچی سمجھی حکمت عملی کے تحت وزیراعلیٰ کو عوامی نمائندوں اور عوام سے دور کردیا ہے۔ نوکرشاہ حکومت کا کام کاج اپنی مرضی سے چلا رہے ہیں۔
مہاتماگاندھی قومی دیہی روزگار گارنٹی اسکیم(منریگا) بدعنوانی اور لوٹ کھسوٹ کی بھینٹ چڑھ گئی ہے۔ منریگا میں سب سے زیادہ بدعنوانی اترپردیش میں چل رہی ہے۔ جاب کارڈ اور ماسٹر رول میں گڑبڑ،غیرمستحقین کا انتخاب، مقررہ شرح سے کم ادائیگی، گرام پردھان اور افسران کی من مانی جیسی شکایتیں عام ہیں۔ 2009-2010 میں مرکز نے اس اسکیم کے لیے 750 کروڑ روپے الاٹ کیے۔ یہ پیسے تمام اضلاع کو بھیجے گئے، لیکن کوئی ایسا ضلع نہیں ہے، جہاں اس کی لوٹ نہ مچی ہو۔ ریاستی حکومت نے جو سالانہ رپورٹ مرکز کو بھیجی، اس کے مطابق صرف 18 کروڑ ورکنگ ڈے ہوئے یعنی 57 کروڑ ورکنگ ڈے کا پیسہ افسران نے ہضم کرلیا۔ اس سے قبل 2008-09 میں مرکز نے 5500 کروڑ روپے اور اس سے بھی پہلے 4800 کروڑ روپے دیے تھے۔ 2009-10 میں 1600 کروڑ روپے خرچ کر کے ایک ماہ کے اندر بندیل کھنڈ میں 10 کروڑدرخت  لگا دیے گئے، لیکن جب مرکزی روزگار گارنٹی کونسل کے ممبر سنجے دیکشت نے ٹیم کے ساتھ جانچ کی تو وہاں ایک بھی درخت نہیں ملا۔ ریاست کے چیف سکریٹری نے بھی موقع کا معائنہ کیا، لیکن وہ بھی کچھ نہیں کرسکے۔ گزشتہ 30 اپریل کو وزیراعظم منموہن سنگھ بندیل کھنڈ دورے پر آئے اور انہوں نے دو سو کروڑ روپے دینے کا اعلان کیا، لیکن اس سے پہلے دیے گئے پیسوں کا حساب بھی انہوں نے بی ایس پی حکومت سے مانگا۔ گزشتہ 27 اپریل کو امیٹھی سے لوٹتے وقت راہل گاندھی نے لکھنؤ میں قومی دیہی صحت مشن کی ریاستی اکائی میں اچانک پہنچ کر ’جننی سرکشا یوجنا‘ اور دیہی صحت مشن کی مدوں اور اخراجات کی تفصیل حق اطلاعات قانون کے تحت مانگی تو لوگوں کو سمجھتے ہوئے دیر نہیں لگی کہ ان کا نشانہ کہاں پر ہے۔
مایاوتی اپنے خلاف اٹھنے والی کسی بھی آواز کو دبانے کے لیے احتجاج و مظاہرے تک پر روک لگانے کی کوشش میں ہیں۔ ریاستی حکومت نے ایک حکم جاری کر کے کہا ہے کہ کوئی بھی پارٹی یا تنظیم اس وقت تک احتجاج ومظاہرہ نہیں کرسکتی جب تک انتظامیہ سے اس کی اجازت نہیں مل جاتی۔ اس فرمان سے اپوزیشن پارٹیاں بوکھلا گئیں۔ 27 اپریل کو جاری نئی ہدایات میں عوامی یا نجی جائیداد کے نقصان کی بھرپائی آرگنائزروں سے کرائے جانے کو اپوزیشن پارٹیوں نے غیر اعلان شدہ ایمرجنسی کا نام دیا۔ معاملہ چاہے افسرشاہوں کی اپنی ٹیم کا ہو یا پھر کسی اہم عہدہ پر تعینات کا، مایاوتی نے اپنے چہیتوں کو ریوڑیوں کی طرح عہدے بانٹے۔ قابلیت کی جگہ ذات برادی اچھے عہدے کا پیمانہ بن گئی۔ بی ایس پی نے مختلف کمیشنوں میں اپنے خاص سپہ سالاروں کو چیئرمین بنا کر بالواسطہ طور پر ان پر قبضہ کرلیا ہے۔ یہی حال پنچم تل پر مامور ان کی ٹیم کا ہے۔ جس افسر نے ان کی ہاں میں ہاں ملانے سے منع کیا، اسے فوراً وہاں سے ہٹا کر کسی غیراہم عہدہ پر بھیج دیا گیا۔ پچھلے دور اقتدار کے دوران جو افسر حکومت کے بہت خاص الخاص ہوا کرتے تھے، انہیں اس بار نہ تو اہم محکمے ملے اور نہ پنچم تل پر جگہ۔ جھنجھلا کر کئی باصلاحیت افسر دلی چلے گئے۔ مایاوتی کے غصہ کی شکار ایک مخصوص برادری (برہمن) کے ہی بیوروکریٹ بن رہے ہیں۔ وزیراعلیٰ سکریٹریٹ سے لے کر اضلاع تک اہم عہدوں پر مامور برہمن نوکرشاہوں کو چھانٹ چھانٹ کر کنارے کیے جانے سے بی ایس پی سے تعلق رکھنے والے برہمن لیڈروں کے بھی کان کھڑے ہوگئے ہیں۔
سارے ترقیاتی کام امبیڈکر گاؤوں تک ہی محدود رہے۔ حکومت پوری ریاست میں چار ہزار امبیڈکر کمیونٹی سینٹروں کی تعمیر کرا رہی ہے۔ اس کے لیے اس نے 327.80 کروڑ روپے بھی جاری کر دیے ہیں۔ دلتوں کے لیے کانشی رام یوجنا کے تحت مکانوں کی تعمیر کرائی جارہی ہے۔ کچھ غریبوں کو تو مکان مفت میں دیے جارہے ہیں۔ چار سال بعد مایاوتی کی تیسری آنکھ بھی دھیرے دھیرے کھلنے لگی ہے۔ شاید اس کی وجہ آئندہ اسمبلی انتخابات ہیں۔ مایاوتی نہیں چاہتیں کہ داغدار لیڈروں کے سبب انہیں عوام کو جواب دینے میں مشکلات کا سامنا کرنے پڑے اور اپوزیشن کو موقع مل جائے، اس لیے وہ اپنا دامن صاف کرنے میں لگی ہوئی ہیں، لیکن ایسا کرتے وقت وہ اپنے پیروں پر کلہاڑی بھی نہیں مار نا چاہتیں۔ یہی وجہ ہے کہ اب تک مختار انصاری کے علاوہ  بی ایس پی سے ایسے کسی بھی شخص کو باہر نہیں نکالا گیا ہے، جو مجرم ہونے کے ساتھ ساتھ عوامی نمائندہ بھی ہو۔ دلتوں(جنہوں نے بی ایس پی کو ایک بڑی طاقت کی شکل میں کھڑا کیا ہے) کا بھی لگاؤ مایاوتی سے ختم ہوتا نظر آرہا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کہیں بھی ان کی کوئی سنوائی نہیں ہو رہی ہے۔ ان پر مظالم بڑھتے جارہے ہیں، لیکن حکومت کے کانوں پر جوں نہیں رینگ رہی ہے۔
سماجوادی پارٹی کے سپریمو ملائم سنگھ یادو نے کہا کہ چار سال سے ریاست میں جنگل راج قائم ہے۔ عدالت کے حکم پر بی ایس پی ممبران اسمبلی کے خلاف مقدمے درج ہو رہے ہیں۔ خاتون وزیراعلیٰ کے دورحکومت میں خواتین کے ساتھ ہی سب سے زیادہ زیادتی ہو رہی ہے۔ جس نے بھی زبان کھولی، اسے لاٹھی ملی۔ بی جے پی کے ریاستی صدر سوریہ پرتاپ شاہی نے مایاوتی کو غریبوں کی دشمن اور سرمایہ داروں کی حامی بتاتے ہوئے کہا کہ بی ایس پی حکومت نے چار سال میں ریاست کو چالیس سال پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ بی جے پی کے سابق قومی صدر اور ریاست کے سابق وزیراعلیٰ راج ناتھ سنگھ نے بی ایس پی حکومت کو اب تک کی سب سے بدعنوان حکومت بتاتے ہوئے کہا کہ مرکزی حکومت مایاوتی کے کارناموں کو چھپا رہی ہے۔ بی جے پی کے سینئر لیڈر اور ممبرپارلیمنٹ لال جی ٹنڈن کہتے ہیں کہ مایاوتی نے لکھنؤ کو پتھر اور مورتیوں کا شہر بنا ڈالا۔ بی جے پی کے نوجوان لیڈر ورون گاندھی مایاوتی حکومت کو اکثریتی طبقہ کی مخالف اور فرقہ پرست قرار دیتے ہیں۔ اترپردیش کی کانگریس صدر ریتا بہوگنا جوشی کو اس بات کی تکلیف ہے کہ مایا راج میں خواتین کو اپنی عصمت کے تحفظ کے لیے گھروں میں قید ہو کر رہنا پڑ رہا ہے۔ ریاستی کانگریس کے خصوصی ترجمان سبودھ شریواستو کا کہنا ہے کہ بی ایس پی کے عوامی نمائندے ہی عوام پر ظلم کر رہے ہیں۔ راشٹریہ لوک دل کے چودھری اجیت سنگھ کہتے ہیں کہ سب سے زیادہ ظلم اور استحصال کا سامنا کسانوں کو کرنا پڑ رہا ہے۔ انہیں نہ تو وقت سے کھاد مل رہی ہے اور نہ بیج۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *