پی ایم مودی پیدائشی طور پر ہی اعلیٰ ذات سے: مایاوتی

Share Article

مؤ: بی ایس پی سپریمو مایاوتی نے گھوسی لوک سبھا سیٹ پر اتحاد کی جانب سے منعقد ہ انتخابی جلسے میں کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی اصلیت میں پیدائشی طور پر ہی اعلیٰ ذات کے ہیں۔
شہر علاقے کے بھجوٹی میدان واقع انتخابی جلسے میں بدھ کے روز اتحاد امیدوار اتل رائے کے حق میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے ذات تبدیل کر نا شروع کر دیا ہے۔ ہر تیسرے، چوتھے دن اپنی ذات بدلتے رہتے ہیں۔ کبھی اپنی ذات بہت پسماندہ، کبھی غریب، کبھی فقیر بتاتے ہیں جبکہ حقیقت ہے کہ وہ پیدائشی پسماندہ اور انتہائی پسماندہ ذات کے نہیں ہے۔ وہ پیدائشی ہی اعلیٰ ذات کے ہیں۔ سیاسی مفاد کے لئے یہ سب ہتھکنڈے اپنا رہے ہیں۔
جلسہ عام کی بھیڑ کو دیکھ کر مایاوتی نے کہا کہ یہ بھیڑ اتحاد کو مضبوط کرنے والی ہے۔ کانگریس پارٹی پر نشانہ لگاتے ہوئے کہا کہ ملک آزاد ہونے کے بعد زیادہ تر وقت اقتدار کانگریس پارٹی کے ہاتھوں میں رہا۔ اس کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے اس پارٹی کو اقتدار گنوانا پڑا۔ اب بھارتیہ جنتا پارٹی مرکز کی حکومت سے باہر جا رہی ہے۔ غلط پالیسیوں کی وجہ سے اس کی ڈرامہ بازی اور جملہ بازی اب کام آنے والی نہیں ہے۔ وزیر اعظم نے جو اچھے دن دکھانے کا پروگرام دکھایا تھا، اس کا ایک چوتھائی بھی کام مکمل نہیں کیا ہے۔اپنے چہیتے سرمایہ داروں کو مالا مال بنانے کے لئے انہیں لوگوں کی چوکیداری کرنے کے لئے لگایا ہے۔
ریلی میں ایس پی صدر اکھلیش یادو نے کہا کہ جو پہلے سے ہار مان چکے ہیں ان کا کیا نتیجہ ہوگا۔ ایس پی کارکنوں کی بھی ذمہ داری ہے۔ یہ انتخاب مختلف رنگ میں دکھائی دے رہا ہے، اس بار الیکشن کا رنگ تبدیل ہوگیا ہے۔ چاروں طرف نیلا،سرخ اور سبز درنگ کھائی دے رہا ہے۔ پانچ سال کا ان سے حساب لینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بابا وزیر اعلیٰ کا حساب شامل کر دیں تو سات سال ہوتا ہے۔ بی جے پی نے جو وعدہ کیا سب بھول گئے۔ جو خواب دکھائے تھے وہ پورے نہیں ہوئے۔
ایس پی صدر نے کہا کہ اتحاد سے گھبرا کر اب مسئلے بدلے جا رہے ہیں۔ جب چاہے تب مقدمے لگا دیں۔ جس کے ہاتھ میں حکومت اس کا برتاؤ بدل جاتا ہے۔ یہاں کے امیدوار کے خلاف پولیس لگا دی۔ غور طلب ہے کہ بی ایس پی اتحاد کے امیدوار اتل رائے پر وارانسی لنکا میں ایک لڑکی نے آبروریزی کا مقدمہ درج کرایا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *