مشترکہ ریلی میں مایاوتی -اکھلیش یادو مودی سرکاراورکانگریس پرجم کربرسے

Share Article

mayawati-akhlesh

دیوبند:لوک سبھا الیکشن 2019 کیلئے سہارنپورپارلیمانی حلقہ کے دیوبند میں ایس پی۔ بی ایس پی اور آرایل ڈی اتحاد کی مشترکہ ریلی منعقد کی گئی۔ریلی کو خطاب کرتے ہوئے بی ایس پی سربراہ مایاوتی نے بی جے پی کے ساتھ ساتھ کانگریس کوبھی نہیں بخشا۔انہوں نے مشترکہ ریلی میں بی جے پی اورکانگریس پرجم کرحملہ بولا۔مایاوتی نے کہا کہ اگر بھیڑ کی جانکاری پی ایم مودی کو ملے گی تو وہ پگلا جائیں گے اور اگلی بار شراب کے ساتھ ساتھ اور نہ جانے کیا کیا کہیں گے۔ اس کا نوٹس نہیں لینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ طے ہے کہ اب یوپی سے بی جے پی جا رہی ہے اور مہاگٹھ بندھن آ رہا ہے، بشرطیکہ ووٹنگ مشینوں سے چھیڑ چھاڑ نہ ہو۔ بی ایس پی سپریمو نے کانگریس کو بھی نشانہ بنایا۔انہوں نے کہا کہ کانگریس اپنی غلط پالیسیوں کی وجہ سے ہاری۔یہ حالت بی جے پی کی ہوگی۔ اس بار اقتدار سے باہر ہوں گے۔ اس بار چوکیداری کا ڈرامہ بھی نہیں بچا پائے گا۔ چاہے کتنی بھی طاقت نہ لگا لیں۔

مایاوتی نے کہا کہ لوگوں کو اچھے دن کادھوکہ دیاگیا، ایک چوتھائی وعدے بھی پورے نہیں کئے گئے۔اس بار پھر تمام ہتھکنڈے اپناکر گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انتخابات کا اعلان ہونے کے دن تک افتتاح کیا۔ انہوں نے کہا کی پی ایم مودی کا زیادہ وقت سرمایہ دار دوستوں کو بچانے میں گیا۔ انہی کی چوکیداری کرتے رہے۔انہیں ہی مالامال کرتے رہے۔ ملک کے کسان اس حکومت میں شروع سے ہی دکھی رہے۔یوپی میں بی جے پی کی حکومت نے آوارہ جانوروں کے ذریعے اور بھی برباد کر دیا۔گناکسان بھی پریشان ہیں۔

مایاوتی نے کہا کہ ہمیں موقع ملا تو کسانوں کا کوئی بقایا نہیں رہے گا۔ دلتوں، پچھڑوں اور قبائلیوں کا ریزرویشن کا کوٹہ ادھورا پڑا ہے۔پہلے کانگریس اور اب بی جے پی کی حکومت میں ان طبقوں کو پرائیویٹ نوکری میں ریزرویشن دینے کے بجائے سارے کام دھننا سیٹھو ں کو دیئے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نوٹ بندی اور جی ایس ٹی سے بے روزگاری میں اضافہ ہوا ہے۔ملک کی معیشت پر برا اثر پڑا ہے۔ ساتھ ہی بدعنوانی بھی بڑھی ہے۔کانگریس کی حکومت میں بوفورس اور اب بی جے پی کی حکومت میں رافیل سودا گھوٹالوں کا ثبوت ہے۔ ملک کی حدود بھی محفوظ نہیں ہیں۔مایاوتی نے مودی حکومت پر سی بی آئی، ای ڈی وغیرہ کے غلط استعمال کا بھی الزام لگایا۔

بی ایس پی سربراہ نے کہا کہ میری پارٹی منشور سے زیادہ کام میں یقین رکھتی ہے۔ یہ سب جانتے ہیں۔مایاوتی نے کہا کہ کانگریس نے غریبوں کو آمادہ کرنے کے لئے 6 ہزار روپے ماہانہ دینے کی بات کہی ہے، اس سے غربت دور ہونے والی نہیں ہے۔ اگر ہماری حکومت بنتی ہے تو سرکاری اور غیر سرکاری سیکٹروں میں روزگار دینے کا بندوبست کیا جائے گا۔ کانگریس کے چال میں نہیں آنا ہے۔ اندرا گاندھی نے بھی ’غریبی ہٹاؤ‘ کے نام پر ڈرامہ بازی کی تھی۔ انتخابات کے وقت ہی غریبوں کی یاد کیوں آتی ہے، یہ بھی سوچنے کی بات ہے۔ مایاوتی نے کہا کہ میں مسلم سماج کے لوگوں سے کہنا چاہتی ہوں کہ کانگریس بی جے پی کو ٹکر نہیں دے سکتی ہے، صرف مہاگٹھ بندھن ہی انہیں شکست دے سکتے ہیں۔ اس لئے مہاگٹھ بندھن کو ہی ووٹ دیں۔ میرے پاس رپورٹ ہے کہ کانگریس چاہتی ہے کہ وہ بھلے ہی نہ جیتیں، لیکن مہاگٹھ بندھن کو قطعی جیتنے نہیں دینا ہے۔
مایاوتی نے مزیدکہا کہ میں مسلم سماج کے لوگوں سے کہنا چاہتی ہوں کہ اگربی جے پی کوہرانا ہے توجذبات میں بہہ کرووٹ کو تقسیم نہیں کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سہارنپورمیں بڑی تعداد میں بی ایس پی کا ووٹ بینک ہے اوراب تو جاٹ بھائی بھی ساتھ آگئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مغربی یوپی میں تمام مذاہب کے لوگ رہتے ہیں۔ سہارنپور، میرٹھ، مرادآباد اوربریلی منڈل میں مسلم سماج کی آبادی کافی زیادہ ہے۔ مایاوتی نے کہا کہ میں اس الیکشن میں مسلم سماج کے لوگوں کومحتاط کرنا چاہتی ہوں کہ پوری یوپی میں کانگریس بی جے پی کوٹکردینے کے لائق نہیں ہے۔

دوسری طرف، دیوبند کی ریلی میں ایس پی سپریمو اکھلیش یادو نے بھی مودی حکومت پر جم کر حملہ بولا۔ انہوں نے کہا کہ پہلے چائے والا، اب چوکیدار۔اب نئی حکومت اور نئے وزیر اعظم منتخب کرنے کا وقت آ گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس بار سبھی غریب سبھی کسان ان چوکیداروں کی چوکی چھیننے کا کام کریں گے۔ ہمیں ٹھگ بندھن بولتے ہیں۔ شراب بولنے والے لوگ اقتدار کے نشے میں چور ہیں۔ہم نے دیکھا کہ ٹی وی پر پاؤں دھوئے جا رہے تھے، وہیں پیچھے سے دلت بھائیوں کی روزگار جاتی رہیں جی ایس ٹی سے چھوٹے کاروباریوں کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ اکھلیش یادو نے کہا کہ ہماری حدود محفوظ نہیں ہیں۔ ہمارے جوان شہید ہورہے ہیں بی جے پی کی ذمہ داری ہے۔یہ مہاپریورتن کا الیکشن ہے۔یہ فاصلے کو مٹانے کا الیکشن ہے۔ہمیں نفرت کی دیوار گرانی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو کانگریس ہے وہی بی جے پی ہے جو بی جے پی ہے وہی کانگریس ہے۔ کانگریس تبدیلی نہیں چاہتی وہ اپنی پارٹی بنانا چاہتی ہے۔ آپ دیکھیں گے کہ کون بدلاؤ لیکر آئے گا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *