مئی میں ہوں گے وسط مدتی انتخاب

Share Article

سنتوش بھارتیہ

آخر کار کانگریس پارٹی اور سرکار نے فیصلہ کر لیا کہ انہیں بجٹ اجلاس کے دوران یا بجٹ اجلاس ختم ہوتے ہی الیکشن میں چلے جانا ہے۔ اقتصادی صورتِ حال تیزی سے بگڑ رہی ہے، اس لیے یہ فیصلہ لیا گیا۔ یہ بھی فیصلہ لیا گیا کہ سخت بجٹ لایا جائے اور عام لوگوں کو پریشانی میں ڈالنے کے جتنے بھی طریقے ہو سکتے ہیں، ان طریقوں کو نافذ کر دیا جائے۔ آنے والا بجٹ ہندوستان کے آئین میں دی گئی ساری یقین دہانیوں اور اعتمادوں کے خلاف ہونے والا ہے۔ ہمارا آئین عوامی فلاح و بہبود والی ریاست کا تصور کرتا ہے اور ہندوستان میں رہنے والے ہر شہری کو روٹی، پانی، جان، مال، آبرو اِن سب کی حفاظت کا وعدہ کرتا ہے۔ قدرتی آفات ہوں یا انسانی آفات ہوں، عوام کے لیے سرکار کھڑی ہوگی، ایسا آئین کہتا ہے۔ آئین یہ بھی کہتا ہے کہ عام حالت ہو یا ناگہانی حالت ہو، عوام کا مفاد سب سے اوپر ہے۔ لیکن آنے والا بجٹ 1991 سے شروع ہوئی بازار کی جانب مائل پالیسیوں کے عروج پر پہنچنے والا ہے۔ 91 کے بعد ہندوستان کے آئین کو بنا بدلے ہوئے آئین کی روح کے ساتھ ساری سرکاروں نے کھلواڑ کیا اور ہندوستان کو عوامی فلاح و بہبود والی ریاست کی جگہ بازار کی جانب مائل سرکار ملتی چلی گئی۔ اس بجٹ میں زیادہ تر سبسڈی ختم ہو جائے گی، ٹیکس بڑھ جائیں گے، بازار کنٹرول اصول اپنائے جائیں گے۔ اس کے بعد، کانگریس اگر ہار گئی تو آنے والی سرکار اس کا خمیازہ اٹھائے گی، ایسا موجودہ پالیسی سازوں کا ماننا ہے۔

راہل گاندھی نے خود پرینکا گاندھی سے کہا ہے کہ وہ آگے آئیں اور کانگریس پارٹی کی کمان ہاتھ میں لیں۔ سونیا گاندھی کا ماننا ہے کہ پرینکا گاندھی میں وہ قوت ہے کہ وہ اپنے بل بوتے سب کچھ چلا لیں گی۔ لیکن پھر بھی وہ یہ چاہتی ہیں کہ پرینکا گاندھی سے پہلے راہل گاندھی وزیر اعظم بنیں۔

حالانکہ 2009 میں کانگریس پارٹی نے وہ انتخاب جیتنے کے لیے نہیں لڑا تھا۔ کانگریس پارٹی نے بد دلی سے انتخاب لڑا تھا اور یہ مان کے انتخاب لڑا تھا کہ اقتصادی صورتِ حال بہت خراب ہوگی اور آنے والی سرکار اس کا خمیازہ بھگتے گی۔ لیکن بھارتیہ جنتا پارٹی کی عظیم ہوشیاری کی وجہ سے وہ انتخاب بھی کانگریس آسانی کے ساتھ جیت گئی، جس کے بعد یو پی اے – 2 کا دورِ اقتدار شروع ہوا، جس نے گھوٹالوں کے سلسلوں کا ریکارڈ بنا دیا۔ اب پھر یہی فیصلہ ہوا ہے کہ ہمیں جلد از جلد الیکشن میں جانا چاہیے اور جو سرکار آئے، اس سرکار کو ساری آفتوں کا سامنا کرنے کے لیے چھوڑ دیا جائے۔ کانگریس پارٹی کی حکمت عملی تیار کرنے والوں کا ایک اندازہ یہ بھی ہے کہ غیر کانگریسی پارٹیوں کی قیادت میں سرکار بنے گی اور اس سرکار کو سال بھر تک چلایا جائے اور اس کے بعد پھر الیکشن کرا لیا جائے، جس میں کانگریس پارٹی کو دوبارہ اکثریت مل جائے۔ اس حکمت عملی کے اوپر آخری فیصلہ لیا جا چکا ہے۔
لیکن آنے والا الیکشن، جو 2014 میں طے ہے، اب 2013 کے اپریل سے لے کر جون تک میں ہونے کا امکان بڑھ گیا ہے۔ آنے والا الیکشن صرف الیکشن نہیں ہوگا، بہت ساری سیاسی پارٹیوں کے سکڑنے اور بہت ساری شخصیتوں کی شکست کا بھی الیکشن ہوگا۔ کانگریس اس الیکشن میں پرینکا گاندھی کے سہارے اترے گی اور وہ اس الیکشن میں پرینکا گاندھی کی قیادت مضبوط کرنا چاہے گی، چاہے اسے الیکشن ہارنا ہی کیو ںنہ پڑے۔ مستقبل کی لیڈر کے طور پر پرینکا گاندھی کو وزیر اعظم کے عہدہ کے امیدوار کے طور پر پیش کرنا کانگریس کی آئندہ حکمت عملی کا بنیادی نکتہ ہے۔ شریمتی سونیا گاندھی ابھی بھی راہل گاندھی کو وزیر اعظم بنانا چاہتی ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ منموہن سنگھ بہت بوڑھے ہو چکے ہیں، اس لیے 2014 کا الیکشن جیت کر راہل گاندھی کو اگلے وزیر اعظم کے روپ میں پیش کیا جائے، لیکن راہل گاندھی خود وزیر اعظم نہیں بننا چاہتے۔ ہماری کھوج بین کے مطابق، راہل گاندھی اپنا زیادہ تر وقت اپنی ماں کے ساتھ ہندوستان اور بیرونِ ملک گزارنا چاہتے ہیں۔ شریمتی سونیا گاندھی کی طبیعت خراب ہے، لیکن وہ اتنی بھی خراب نہیں ہے کہ کسی فوری ناگہانی حادثہ کے رونما ہونے کا ڈر پیدا کر دے۔ لیکن سونیا گاندھی کی زندگی کے بچے ہوئے دس، پندرہ، بیس سال ایسے ہوں جن میں راہل اپنی ماں کے ساتھ رہ سکیں، ایسی خواہش 10 جن پتھ کی کھڑکیوں سے چھن کر باہر آئی ہے۔ راہل گاندھی نے خود پرینکا گاندھی سے کہا ہے کہ وہ آگے آئیں اور کانگریس پارٹی کی کمان ہاتھ میں لیں۔ سونیا گاندھی کا ماننا ہے کہ پرینکا گاندھی میں وہ قوت ہے کہ وہ اپنے بل بوتے سب کچھ چلا لیں گی۔ لیکن پھر بھی وہ یہ چاہتی ہیں کہ پرینکا گاندھی سے پہلے راہل گاندھی وزیر اعظم بنیں۔
ایک سب سے بڑا سوال یہ کھڑا ہو رہا ہے کہ مرکزی حکومت، جس کے لیڈر وزیر اعظم منموہن سنگھ ہیں، جو گھوٹالوں کے درمیان مرکزی نقطہ بن گئے ہیں، فیصلہ نہ لینے والے وزیر اعظم کے روپ میں انہیں دیکھا جانے لگا ہے۔ غیر ملکی میڈیا، جو اب تک منموہن سنگھ کو ہندوستان کی تقدیر بنانے والے کے روپ میں یا نجات دلانے والے کے روپ میں پیش کرتا رہا ہے، اچانک ان کے خلاف ہو گیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی میں اتنی طاقت نہیں بچی ہے کہ وہ منمو ہن سنگھ کو ہٹانے کی کوشش بھی کر سکے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کا المیہ اس سے بھی بڑا ہے۔ وہ ہر قدم کانگریس کی صلاح کے بنا نہیں اٹھاتی اور ایسے ہی قدم اٹھاتی ہے، جس سے کانگریس پارٹی کو مدد ملے۔ راہل گاندھی کے لیے وزیر اعظم بننا اس وقت سب سے آسان ہے، کیوں کہ بنیادی اپوزیشن پارٹی منموہن سنگھ جی کی جگہ راہل گاندھی کو وزیر اعظم بنتے دیکھنا چاہتی ہے اور کوئی رکاوٹ پیدا بھی نہیں کرنا چاہتی ہے۔ تب کیوں راہل گاندھی وزیر اعظم نہیں بن پا رہے ہیں؟ اس کی جڑ میں منموہن سنگھ کا طاقتور ہونا بتایا جا رہا ہے۔ کہنے کے لیے سونیا گاندھی کانگریس کی صدر ہیں اور سونیا گاندھی ہی فیصلے لیتی ہیں، لیکن سچائی اس کے بالکل برعکس ہے۔ سونیا گاندھی منموہن سنگھ سے مل کر اپنی بات نہیں کہہ پاتیں۔ خطوط لکھتی ہیں، ان خطوط پر منموہن سنگھ عمل نہیں کرتے اور سرکار کو اپنے دماغ سے ایک طے شدہ منصوبے کے تحت چلاتے جا رہے ہیں۔ منموہن سنگھ کے سارے منصوبے ہندوستان کو پوری طرح امریکہ کے وفادار سپاہی کے روپ میں بنا دینے کے ہیں اور منموہن سنگھ ایک ایک قدم بڑھتے چلے جا رہے ہیں۔ یہ وسط مدتی انتخاب کانگریس کے منصوبے کے کامیاب ہونے میں کتنے مددگار ہوں گے، کہہ نہیں سکتے، لیکن ابھی تو کانگریس نے ملائم سنگھ کو خود سے دور کر لیا ہے اور کانگریس کا کوئی منصوبہ ایسا نہیں ہے کہ اگر آنے والے بجٹ اجلاس میں کٹوتی کی کوئی تجویز آتی ہے یا عدم اعتماد کی کوئی تجویز آتی ہے یا کوئی ایسی صورتِ حال بنتی ہے، جس میں فائننس بل کے اوپر ہار کی نوبت آ جائے تو کانگریس خود کو بچانے کی کوشش نہیں کرے گی۔ اس حالت میں ملائم سنگھ یادو اور ممتا بنرجی مل کر کافی ہوں گے اس سرکار کو اقتدار سے ہٹانے کے لیے۔ لیکن لوک سبھا میں ہار کے بعد یا وزیر اعظم کے اپنی مرضی سے استعفیٰ دینے کے بعد بھی کیئر ٹیکر وزیر اعظم کانگریس کا ہی رہے گا اور وہ منموہن سنگھ ہوں گے۔ منموہن سنگھ بھی یہ چاہتے ہیں کہ اب ملک انتخاب کی طرف بڑھے، اسی لیے بنا لوگوں کی پرواہ کیے ہوئے انہوں نے ڈیزل کی قیمتوں میں اچانک پانچ روپے کا اضافہ کر دیا۔ سرکار کا یہ منصوبہ ہے کہ بجٹ اجلاس سے ٹھیک پہلے ڈیزل کی قیمتوں میں اور اضافہ کیا جائے ، تاکہ حلیف پارٹیاں سرکار سے اور دور چلی جائیں اور سرکار کو گرانے میں مدد کریں۔ کانگریس آئندہ لوک سبھا کا الیکشن اکیلے ہی لڑے گی۔ یو پی اے کا اتحاد صرف سرکار چلانے تک کے لیے ہے، الیکشن کے لیے نہیں ہے، یہ کانگریس کے من میں صاف ہے، لیکن یو پی اے کی حلیف پارٹیوں کے من میں یا سرکار کی باہر سے حمایت کرنے والی پارٹیوں کے من میں تھوڑا سا بھرم ہے۔ وہ چاہتی ہیں کہ کانگریس کے ساتھ تھوڑا سا تال میل کرکے الیکشن لڑیں، جب کہ کانگریس اس کے لیے قطعی تیار نہیں ہے۔ کانگریس جانتی ہے کہ اس وقت بھارتیہ جنتا پارٹی میں کوئی بھی ایک مقبولِ عام لیڈر نہیں ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی خود کو الیکشن کے لیے کتنا اہل مانتی ہے یا سامنا کرنے میں کتنی مضبوطی دکھائے گی، یہ ابھی نہیں کہا جاسکتا ہے۔ جب تک الیکشن کا اعلان نہیں ہوگا، تب تک نریندر مودی وزیر اعظم کے عہدہ کے دعویدار کے روپ میں اپنی شبیہ چمکاتے رہیں گے۔ لیکن شاید بھارتیہ جنتا پارٹی لوک سبھا کے لیے کسی اور کو لیڈر کے عہدہ کے لائق مانے۔ اس حالت میں بھارتیہ جنتا پارٹی میں کئی گروپ کام کر رہے ہیں۔ جسونت سنگھ، یشونت سنہا، شتروگھن سنہا جیسوں کا ایک گروپ ہے۔ نتن گڈکری کا دوسرا گروپ ہے۔ اڈوانی جی کا تیسرا گروپ ہے اور نریندر مودی کا چوتھا گروپ ہے۔ جنوب کے لیڈر انہی گروپوں میں کبھی ایک کے ساتھ ہوتے ہیں تو کبھی دوسرے کے ساتھ ہوتے ہیں۔ بی جے پی اڈوانی جی کو سنکی نیتا مانتی ہے

اڈوانی جی کے یہاں لوگ جاتے ہیں، ان سے بات چیت کرتے ہیں، لیکن ان کی صلاح یا رائے نہیں مانگتے۔ حالانکہ ابھی بھی ملک میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی ساکھ سے زیادہ بڑی ساکھ شری لال کرشن اڈوانی کی ہے۔ لیکن نہ صرف سنگھ، بلکہ بی جے پی کے دوسرے نمبر اور تیسرے نمبر کے لیڈر اب اڈوانی جی کی ساکھ کے ساتھ نہیں کھڑے ہیں۔ وسط مدتی انتخاب سے پہلے، ہماری معلومات کے حساب سے، بی جے پی میں ایک بڑی ٹوٹ ہوگی۔ اس ٹوٹ کا محرک کون ہوگا اور اس ٹوٹ کا نیتا کون ہوگا، اس سوال کا جواب اگلے تین مہینوں میں ملے گا۔ لیکن یہ فیصلہ لیا جا چکا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کو بھی اصول کی بنیاد پر توڑا جائے گا۔
ایسی حالت میں وسط مدتی انتخاب میں کسے فائدہ ہوگا اور کسے نقصان، اس کے قیاس لگنے لگے ہیں۔ نتیش کمار میں یہ ہمت نہیں ہے کہ وہ پورے ملک میں گھومیں اور بھارتیہ جنتا پارٹی سے الگ ہو کر ملک کی قیادت کریں۔ حالانکہ نتیش کمار ان چند غیر بی جے پی، غیر کانگریسی لیڈروں میں ہیں جنہیں لوگ وزیر اعظم کے عہدہ کے لائق مانتے ہیں، پر نتیش کے لیے سارا ہندوستان نالندہ اور بہار ہے، اس کے آگے وہ سوچنا ہی نہیں چاہتے۔ اگر حالات انہیں وزیر اعظم بنا دیں تو ان کے لیے پہلی ترجیح بہار ہوگی، دوسری ترجیح بہار ہوگی، تیسری ترجیح بہار ہوگی۔ پچھلے اسمبلی الیکشن میں ملائم سنگھ یادو اتر پردیش میں سب سے بڑی طاقت کے روپ میں ابھرے۔ ملائم سنگھ یادو نے خود کو دلّی کے لیے اس لیے خالی رکھا، کیوں کہ انہیں لگا کہ اب وقت آگیا ہے کہ وزیر اعظم کے عہدہ کے لیے اپنی دعویداری وہ پیش کریں اور انہوں نے اپنی دعویداری پیش بھی کی۔ ان کی دعویداری پیش کرنے کے کچھ دنوں کے اندر ہی خبریں باہر آئیں کہ ان کے صاحبزادے اور اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو نے کہا ہے کہ اگر آپ ابھی دعویداری پیش کریں گے تو مرکزی حکومت انہیں اتر پردیش کے لیے پیکیج نہیں دے گی اور وہ ناکام ہو جائیں گے، اس لیے ملائم سنگھ نے گول مول لفظوں میں اپنی دعویداری واپس بھی لے لی۔ پر غیر کانگریسی اور غیر بھاجپائی پارٹیوں میں ملائم سنگھ یادو وزیر اعظم کے عہدہ کے ایک طاقتور امیدوار ہیں۔ اتر پردیش سے ہی دوسری بڑی سیاسی طاقت کے روپ میں مایاوتی ابھری ہیں۔ وہ اتر پردیش میں اسمبلی کا انتخاب تو ہار گئیں، لیکن انہیں بھروسہ ہے کہ جس طرح سے سرکار کی ساکھ کے اوپر سوالیہ نشان کھڑے ہوئے ہیں، اس کا فائدہ انہیں لوک سبھا انتخابات میں ضرور ملے گا۔ مایاوتی کسی کے ساتھ کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گی اور اکیلے اتر پردیش میں انتخاب لڑیں گی اور ان کا ماننا ہے کہ 30-35 سیٹیں جیتیں گی۔ اتنی ہی سیٹیں جیتنے کا اندازہ ملائم سنگھ یادو کا بھی ہے، لیکن آخر میں وزیر اعظم کے عہدہ کے لیے کون فاتح ہوگا اور کس کا چہرہ دیکھ کر لوگ ووٹ ڈالیں گے، اس سوال کا جواب ابھی کسی کے پاس نہیں ہے۔
ان سیاسی پارٹیوں کے علاوہ جنرل وی کے سنگھ، انا ہزارے اور بابا رام دیو کی اندیکھی نہیں کی جاسکتی۔ جنرل وی کے سنگھ ملک میں کئی جگہ گھومے ہیں اور انہیں عام لوگوں کا بھرپور تعاون ملا ہے۔ ایک اندازہ کے مطابق، جنرل وی کے سنگھ، انا ہزارے اور بابا رام دیو، تینوں ایک ساتھ انتخابی جلسے کرتے ہیں تو ملک میں ایک انوکھی عوامی بیداری اور ایک نیا متبادل پیدا ہونے کا امکان دکھائی دے سکتا ہے۔ انا ہزارے کی ساکھ ملک میں ابھی بھی بہت زیادہ ہے، لیکن انا ہزارے سیاسی پارٹی نہیں بنانا چاہتے اور انہی کے دباؤ میں سیاسی پارٹی بنانے کے عمل کو لے کر اروند کجریوال اور پرشانت بھوشن نے ایک خاموش حکمت عملی اختیار کر لی ہے۔ حالانکہ خبر یہ ہے کہ یہ لوگ پارٹی بنانے کی کارروائی شروع کر چکے ہیں۔ بابا رام دیو کی تنظیم ملک کے تقریباً 400 ضلعوں میں پھیل چکی ہے۔ جنرل وی کے سنگھ ایک ایسے چہرے کے روپ میں سامنے آئے ہیں، جو بے داغ ہے اور جس کی سمجھ معتدل راستے پر چلنے والے لیفٹسٹ لیڈر کی بن رہی ہے۔ ان تینوں کی ملی ہوئی طاقت کسی بھی سیاسی توازن کو بگاڑ دینے کے لیے کافی ہے، اور اگر یہ تینوں ایک ساتھ ملک میں گھوم گئے اور لوگوں کی حمایت انہیں ملی تو ایک نئی طرح کی جنتا دل یا ایک نئی طرح کے قومی محاذ کی ابتدا بھی ہوسکتی ہے۔
اسی لیے ہندوستان کا اگلا الیکشن دیکھنے لائق ہوگا، جس میں مکیش امبانی، انل امبانی، رتن ٹاٹا، کمار منگلم بڑلا اور چھوٹے چھوٹے سرمایہ دار جیسے سنچیتی گروپ، انشومان مشرا گروپ، ٹو جی اور کوئلہ گھوٹالے سے پریشانی میں آئے گروپ اپنا رول نبھانا چاہیں گے۔ سی آئی اے ہندوستان میں ایک الگ طرح کا سیاسی اتحاد چاہتی ہے۔ موریہ ہوٹل میں سی آئی اے کے لیے کام کرنے والے لوگوں کے پرماننٹ سوئٹ بک ہیں اور دہلی کا موریہ ہوٹل ہندوستان میں ہتھیار کمپنیوں کے نام پر کام کرنے والے ان لوگوں کا سب سے بڑا اڈّہ ہے، جو ملک میں سی آئی اے کے لیے لابنگ کر رہے ہیں۔ وہاں پر مرکزی وزراء کو کھلے عام آتے جاتے، سوئٹ میں بیٹھ کر بہت سارے کام کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے، بہت سارے لوگ دیکھے گئے ہیں۔ اپوزیشن کے لیڈر بھی اس میں شامل ہیں اور میرا اندازہ ہے کہ سی آئی اے کے پاس ان کے فوٹو گرافس ہیں، سی ڈی ہیں، جس کی وجہ سے وہ سی آئی اے کے شکنجے سے نکل بھی نہیں سکتے ہیں۔
آنے والے وسط مدتی انتخاب، اگر ہم اسے وسط مدتی کہیں تو، یا وقت سے سال بھر پہلے ہونے والے الیکشن کا تجزیہ کرنے سے تو یہی لگتا ہے کہ سرکار بنانے کی قوتِ ارادی نہ بی جے پی کی ہے نہ کانگریس کی ہے۔ ان سب پارٹیوں کی ہے جو غیر کانگریسی اور غیر بھاجپائی پارٹیاں ہیں۔ وہ سرکار بنانا چاہتی ہیں، لیکن ان کے سامنے ملک کے لوگوں کو بھروسہ دلانے کا ایک بڑا بحران پیدا ہو گیا ہے۔ جتنی بار بھی غیر کانگریسی اور بھاجپائی آپس میں ملے ہیں، ان میں ٹوٹ زیادہ ہوئی ہے، اتحاد کم ہوا ہے۔ لیکن جب جب وہ اٹل جی کی قیادت میں یا نرسمہا راؤ یا منموہن سنگھ کی قیادت میں ساتھ گئے ہیں، انہوں نے بہت رہنما غلامی کی زندگی بسر کی ہے۔ ان سب کے درمیان، ہندوستان کی اقتصادیات، ہندوستان کی مہنگائی، ہندوستان کی بدعنوانی، ہندوستان کی تعلیم اور صحت کی بدحالی لوگوں کے من میں غصہ پیدا کر رہی ہے اور لوگوں کو ایسا لگنے لگا ہے کہ یہ سسٹم فیل ہو رہا ہے اور اِس صورتِ حال کا فائدہ سیدھے طور پر ملک میں اگر کسی کو ملا ہے تو نکسل وادیوں کو ملا ہے۔ آئندہ وسط مدتی انتخاب میں نکسل وادیوں کی مجموعی طاقت کو بھی اندیکھا نہیں کیا جاسکتا، لیکن یہ صاف ہے کہ آنے والے مارچ سے جون کے درمیان میں وسط مدتی انتخاب ہونے والے ہیں، جس کا فیصلہ لیا جا چکا ہے۔

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *