مولوی اور ڈاکٹر کے بھیس میں گھومتا تھا جے ایم بی کا دہشت گرد اعجاز

Share Article

 

ایس ٹی ایف کے ذریعہ پوچھ گچھ میں جماعت المجاہدین بنگلہ دیش کے دہشت گرد کا کئی سنسنی خیز انکشافات

کولکاتہ پولیس کی اسپیشل ٹاسک فورس (ایس ٹی ایف) کے ہاتھوں گیا ضلع کے اویناش پور سے گرفتار کیا گیا دہشت گرد تنظیم جماعت المجاہدین بنگلہ دیش (جے ایم بی) کا بھارتی سرغنہ اعجاز احمد سے پوچھ گچھ کے بعدکئی چونکانے والے حقائق سامنے آئے ہیں۔
پیر کو ہوئی گرفتاری کے بعد ساری رات پوچھ گچھ میں پتہ چلا ہے کہ 2014 کے بردوان دھماکے کے بعد سے وہ قومی جانچ ایجنسی (این آئی اے) اور دیگر سیکورٹی ایجنسیوں کو چکما دینے کے لئے نام اور بھیس بدل کر رہ رہا تھا۔ گیا ضلع اور آس پاس کے علاقوں میں کبھی جیتو کبھی ڈاکٹر بابو تو کسی اور جگہ پر اعجاز مولوی کے طور پر رہ رہا تھا۔ مغربی بنگال کے بیربھوم کا رہنے والا اعجاز میٹرک فیل ہے۔ اسے آئی ای ڈی اور ٹائم بم بنانے میں مہارت حاصل ہے۔ اس کے لئے وہ کئی بار بنگلہ دیش اور دیگر علاقوں میں جاکر تربیت لے چکا ہے۔

تفتیش میں اس نے یہ بھی بتایا ہے کہ 2008 میں وہ جے ایم بی سے منسلک تھا جس کے بعد سے اب تک تقریباً 50 سے زیادہ لوگوں کو دہشت گرد تنظیم کا سرگرم رکن بنا چکا ہے۔ دہشت گرد تنظیم کے لئے لوگوں کی تقرری کے علاوہ دہشت گردی فنڈنگ کے لئے فنڈز جمع کرنے کا کام بھی اسی کا تھا۔ نئے دہشت گردوں کو تربیت دینا، انہیں بم بنانا سکھانے اور دہشت گردی کی سازشیں رچنے کاطریقہ بھی وہ سکھاتاتھا۔

ایس ٹی ایف کی ٹیم اس سے پوچھ گچھ کر کے یہ پتہ لگانے میں مصروف ہے کہ دہشت گردی کو فنڈنگ کرنے کے کاروبار میں کون کون سے لوگ شامل تھے۔ یہ بھی پتہ چلا ہے کہ اعجاز سے پہلے جے ایم بی بھارتی سرغنہ محمدکوثر تھا جو 2014 کے بردوان دھماکے کا ماسٹر مائنڈ تھا اور بودھ گیا میں ہوئے آئی ای ڈی دھماکے کا مرکزی سازشی بھی تھا۔ ایک ماہ پہلے ہی جانچ ایجنسیوں نے اسے گرفتار کیا تھا جس کے بعد اعجاز کو ہندوستانی سرغنہ بنایا گیا تھا۔ یہ بھی پتہ چلا ہے کہ خاص موبائل ایپلی کیشنز کے ذریعے کوڈ میں جے ایم بی کے سرغنہ صلاح الدین صالح اورکوثر سے بات کرتا تھا، ایس ٹی ایف کی آئی ٹی ٹیم اس موبائل ایپلی کیشنز کی جانچ میں مصروف ہو گئی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *