آسام شہریت معاملہ :عدالت کا فیصلہ خوش آئند کسی کو گھبرانے کی ضرورت نہیں : ارشدمدنی 

Share Article
Arshad-Madani
نئی دہلی:31جولائی کو سپریم کورٹ میں این آرسی کی مانیٹرنگ کرنے والی جسٹس رنجن گگوئی اور جسٹس ہمنٹن نریمن کی بینچ کے سامنے آسام میں شہریت سے متعلق الگ الگ داخل کئے گئے پانچ معاملہ پر سماعت ہوئی ، جس میں جمعیۃعلماء ہند کی طرف سے ایڈوکیٹ آن رکارڈ فضیل ایوبی ، سینئر ایڈوکیٹ سلمان خورشید ، سینئر ایڈوکیٹ کپل سبل اور اندراجے سنگھ پیش ہوئے ، عدالت میں این آرسی کے اسٹیٹ کوآڈینیٹر پرتیک ہزیلاموجودتھے انہوں نے عدالت کو بتایا کہ این آرسی کی فائنل لسٹ میں تقریبا چالیس لاکھ لوگ شامل نہیں ہوسکے ہیں ، انہوں نے یہ بھی کہا کہ دعوے اور اعتراضات (کلیم اور آبجکشن ) سے متعلق طریقہ کار طے کرنے کے لئے سرکارکو کچھ وقت چاہئے ، اس پر عدالت نے کہا کہ قانون کے مطابق طریقہ کار سرکار طے کرے اور جو بھی طریقہ کار وضع کیا جائے اسے لاگوکرنے سے قبل عدالت میں پیش کیا جائے اور عدالت کی منظوری کے بعدہی اسے لاگوکیا جائے ، اٹارنی جنرل وینوگوپال نے بھی آج عدالت میں اعتراف کیا کہ حالات بہت خراب ہے لوگوں میں اس کو لیکر زبردست خوف وہراس ہے انہوں نے درخواست کی کہ فاضل عدالت خودطریقہ کار وضع کرے جس پر عدالت نے کہا کہ یہ کام مرکز اور یاست کا ہے ، اٹارنی جنرل نے یہ بھی کہا کہ سب کو اپنی شہریت ثابت کرنے کا برابر موقع ملے گا، جس پر جمعیۃعلماہند کے وکلانے کہا کہ جب طریقہ کار عدالت میں پیش ہوگا تو اس کے مطالعہ کے بعد ہی ہم اپنی درخواستوں پر بحث کریں گے ، دونوں فریقین کی باتیں سن نے کے بعد عدالت نے کہا کہ کسی کو گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے سب کو شہریت ثابت کرنے کا موقع ملے گا ، عدالت نے یہ بھی کہا کہ این آرسی کا یہ ڈرافٹ فائنل نہیں ہے اور یہ کہ جن لوگوں کا نام شامل نہیں ہے ان لوگوں کے خلاف کسی طرح کی قانونی کارروائی ابھی نہیں ہوگی عدالت نے اپنے فیصلہ میں مزید کہا کہ جب سرکارکی طرف سے کلیم اور آبجکشن کا طریقہ کار عدالت میں پیش ہوگا اس کے بعد ہی آگے کی کارروائی کی جائے گی ، اس پر جمعیۃعلماء ہند کے وکلاء نے کہا کہ جو ہمارا مطالبہ تھا اٹارنی جنرل نے اسے دہرادیا ہے اور عدالت نے قبول بھی کرلیا ہے اب اس معاملہ کی سماعت آئندہ 16اگست کو ہوگی ،۔
قانونی پیش رفت پر جمعیۃعلماء ہند کے صدرمولانا سید ارشدمدنی نے اطمینان کااظہارکرتے ہوئے کہا کہ یہ معاملہ انتہائی حساس ہے اور یہ چالیس لاکھ لوگوں کی زندگی اور موت سے جڑا ہوا ہے انہوں نے کہا کہ آج فاضل عدالت نے اپنے حکم میں جو کچھ کہا اس سے اس بات کا صاف اظہارہورہا ہے کہ معاملہ کی حساسیت کا احساس عدالت کو بھی ہے اسی لئے اس نے یہ بات کہیں ہے کہ آگے کی کارروائی کے لئے جو طریقہ کار طے ہو اس کی منظوری پہلے عدالت سے لی جائے ، مولانا مدنی نے کہا کہ عدالت کا یہ فیصلہ انتہائی خوش آئند ہے اور ہم اس کا خیر مقدم کرتے ہیں ، عدالت نے یہ بھی وضاحت کردی ہے کہ این آرسی کی یہ لسٹ محض ایک ڈرافٹ ہے حتمی نہیں ہے اور سب کو اپنی شہریت ثابت کرنے کا موقع ملے گا انہوں نے کہا کہ کسی کو گھبرانے اور پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے ہم عدلیہ کا احترام کرتے ہیں اور اس پر ہمیں مکمل اعتماد ہے اس لئے ہمیں امید ہے کہ اس معاملہ میں متاثرین کو عدالت سے انصاف ملے گا انہوں نے یہ بھی کہا کہ جب کلیم اور آبجکشن کا عمل شروع ہوگا تو ہمارے جمعیۃعلماء صوبہ آسام کے صدرمولانا مشتاق عنفر اپنے تمام معاونین اوررضاکاروں کے ساتھ ہر طرح کی مددکے لئے تمام مراکز پر موجودرہیں گے ۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *