مرکزی حکومت نے پرسنل لا امینڈمنٹ بل کے ذریعہ عورتوں کاحق چھینا ہے:مولاناولی رحمانی

Share Article
wali-rahmani
مولانا محمد ولی رحمانی (جنرل سکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ)نے ایک پریس نو ٹ میں کہا ہے کہ گذشتہ کل مؤرخہ 07جنوری لوک سبھا میں پرسنل لا امینڈمنٹ بل 2018پاس کیا گیا ہے،جس میں عورت کے طلاق لینے کے حق کے بارے میں یہ بات لکھی ہوئی ہے کہ اپنے شوہر کے برص یا جذام جیسی بیماری میں مبتلا ہونے کی وجہ سے کوئی بیوی طلاق کا مطالبہ نہیں کر سکتی ہے۔ واضح رہے کہ پہلے یہ قانون تھا کہ برص اور جذام جیسی بیماریوں میں شوہر کے مبتلا ہونے کی وجہ سے بیوی طلاق کامطالبہ کر سکتی تھی، لیکن اب اس دلیل کے ساتھ کہ’’ یہ بیماریاں لا علاج نہیں ہیں‘‘بیوی کے اس حق کوختم کر دیا گیا ہے ۔ یہ بڑی عجیب بات ہے کہ ایک طرف مرکزی حکومت عورتوں کو حق و انصاف دلانے کی با ت کرتی ہے اوردوسری طر ف عورت کو ملے ہوئے ایک حق کوچھین رہی ہے، پرسنل لا امینڈمنٹ بل کا لوک سبھا سے پاس ہونا یہ بتانے کے لئے بہت کافی ہے کہ مرکزی گورنمنٹ عورتوں کی کتنی اور کیسی ہمدرد ہے۔
مولانا رحمانی نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا کہ یہ بل کسی خاص کمیونیٹی سے متعلق نہیں ہے بلکہ یہ تمام کمیونٹیزاور سبھی مذاہب کے ماننے والوں کے لیے ہے ،لیکن ہم یہ بات واضح کر دیناضروری سمجھتے ہیں کہ شریعت اسلامی میں برص اورجذام جیسی بیماریوں کی وجہ سے بیوی طلاق کامطالبہ کر سکتی ہے،اور فقہ کے دو بڑے امام ،امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ اور امام محمد رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک فسخ نکاح کے اسباب میں سے ایک سبب یہ بیماری ہوسکتی ہے،اسلام میں بیوی کو مجبور نہیں بنایا گیا ہے کہ ا سے ہر قیمت پر شوہر کے ساتھ رہنا ہی ہوگا چاہے وہ شوہر اسے نا پسند ہی کیوں نہ ہو،شریعت اسلامی کا یہ حسن ہے کہ اس میں عورت کی پسند او ر نا پسند کا بھی پورا خیال رکھا گیا ہے، اور اس کی ایک دلیل یہ معاملہ بھی ہے جسے آج مرکزی گورنمنٹ نے لوک سبھا میں پیش کیا ہے۔ آ ل انڈیا مسلم پرسنل لابورڈ لوک سبھا میں آج پاس کیے گئے بل کو خواتین کی حق تلفی اور ان کے اختیارات میں مداخلت سمجھتا ہے، اور گورنمنٹ کو متوجہ کرتاہے کہ وہ ایسے معاملات میں خواتین کی پسند اور نا پسند کا پورا خیال رکھے۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *