جسے بڑھناہے اسے پڑھناہوگا:مولانامحمودمدنی 

Share Article
mahmood-madani
جودھپور:یہ ہمارے رب کی مہربانی ہے کہ اس نے ہمیں ایسے سماج میں پیدانہیں کیاجہاں سوفیصد لوگ یاتو مسلمان ہوتے ہیں یاہندو۔اس رب نے ہمیں ایسے بھارت نامی ملک میں پیداکیا جہاں تمام قوموں کے لوگ بستے ہیں ۔یہ کہناہے مشہور اسلامی اسکالر وجمعیت علماء ہندکے جنرل سکریٹری مولانامحمود مدنی کا۔دراصل،گنگانہ مارگ بجھاوڑ گاؤ ں ،میں واقع مولاناآزاد یونیورسٹی میں منعقد ’’تعلیم سے ترقی ‘‘کے موضوع پر اپنااظہار خیال کرر ہے تھے ۔سابق راجیہ سبھاایم پی رہ چکے مولانامحمود مدنی نے طلبہ کومخاطب کرتے ہوئے کہاکہ یہ ہماراملک ایک ایساباغیچہ ہے جس میں تمام ذاتیوں کے پھول ہیں ۔ اس پیارے ملک میں کوئی غیر نہیں سب اپنے ہیں ۔ہم لوگ شرافت وایمانداری اور محنت سے اس ملک میں کامیابی حاصل کرسکتے ہیں ۔ آپ جب فیصلہ نہیں کریں گے تو کچھ نہیں کرسکتے ہیں ۔ آپ کو فیصلہ کرنے والابنناہیں آپ جوفیصلہ کرلینگے ملک اس طرف جائے گا۔ ہمارے ملک کی پہچان ہے کہ یہاں کے لوگ بہت محنتی ہوتے ہیں
انہوں نے کہاکہ تمام تعلیمی اداروں میں اسمارٹ فون کاغلط استعمال روکنے کے لئے اسے باضابطہ بند کرناچاہئے ۔ اسمارٹ فون نہ توطلبہ کے پاس ہونا چاہئے اورنہ ہی اساتذہ کے پاس ۔ساتھ ہی کملانہرونگرواقع مولاناآزاد کیمپس میں(پریس وارتا)میڈیاسے مخاطب ہوتے ہوئے انہوں نے کہاکہ کوئی مسلمان اگر سچامسلمان ہے اوروہ صرف مسلمان کے لئے کام کرتاہے تو وہ کبھی سچامسلمان ہوہی نہیں سکتا۔ مسلمان تووہ ہے جواپنے بارے میں اپنے گھربار کے بارے میں اور سب انسانوں کے بارے میں سوچے ۔ اس اللہ کی مہربانی ہے کہ اس مارواڑمسلم ایجوکیشنل اینڈ ویلفئر سوسائٹی کوتمام لوگوں کی خدمت کرنے کاموقع دیا۔ اس میں تمام قوموں کے بچے آتے ہیں ۔ یہی میرابھارت ہے ،اسکول ،کالج اوریونیورسٹی اس کی مثال ہے ۔ لوگوں کے من میں ہرسرکار سے شکایت ہے جوصحیح ہے لیکن میں مسلمانوں سے درخواست کرتاہوں کہ دوسرے لوگوں سے امیدکرناچھوڑ دیں ۔ بھروسہ کیجئے اپنی قابلیت ، محنت اور قابل بنے پر ، ان باتوں پر مسلمانوں کے ساتھ سبھی قوموں کومحنت کرنی چاہئے ، کیونکہ جسے بڑھنااسے پڑھناہوگا۔ اور پڑھنے کے لئے محنت کرنی ہوگی اورمحنت بھی گزارے والی نہیں بلکہ اسپیس لائزیشن والی ہونی چاہئے آپ کسی فن میں خاص ہو ں گے تولوگوں کی ضرورت بن جائینگے ۔
تحفظات پربات کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ یاتوسرکارکوسوفیصد ریزرویشن کردیناچایئے، تمام لوگوں کوقابلیت کی بنیاد پر آرکشن مل سکے یاآرکشن بالکل ختم کردیناچاہئے ۔ یاآرکشن کی پالیسی اصلاحات پر نظر ثانی کرناضروری ہے ۔ کسی بھی طرح کے حقداروں کی لڑائی غصے سے نہیں بلکہ شانتی سے ہونی چاہئے ،انہوں نے غیر ذمہ داری سے دیئے گئے بیانوں کوبد قسمتی بتاتے ہوئے کہاکہ یہ ملک سب سے اچھا ملک ہے۔ ہماری کسی بھی بات سے ہمارے ملک کوآنچ نہیں آنی چاہئے ،اورجولوگ ایساکرتے ہیں چاہے وہ میراکتناہی قریبی کیوں نہ ہواسے ہمیں قبول نہیں کرناچاہئے ۔ برصغیرمیں بہت سارے ملک ہیں جہاں ننانوے فیصد مسلمانوں کی آبادیاں ہیں لیکن بھارت کامسلمان آج بھی ان ممالک کے مقابلے میں بہترزندگی گزاررہے ہیں ۔
سوسائٹی کے خازن محمدعتیق نے یونیورسٹی اور سوسائٹی کی جان کاری دیتے ہوئے بتایاکہ اس ادارہ میں تمام کمیونٹیز کے13ہزار سے زیادہ طلبہ یاطالبات تعلیم حاصل کر رہے ہیں ۔ اورآٹھ سو سے زیادہ لوگ یہاں کام کرتے ہیں ۔ مستقبل میں طلبہ کے لئے کئی نئے کورسیز اور فلاح وبہبود کے منصوبے چل رہے ہیں ۔ یونیورسٹی میں ہوئے خطاب میں سوسائٹی کے صدر حاجی عبداللہ قریشی ، رکن حنیف لوہانی ، فروزاحمد قاضی ، محمد صابر عبدالرؤف ، اکرام الدین عباسی ، یونیورسٹی کے رجسٹرار ڈاکٹر عمران خان پٹھان ، تمام پروفیسر طلبہ ،باڑمیر جسلمیر علاقے کے اسلامی اسکالرو علماء کرام اور مصلحین بڑے پیمانے پر موجود تھے ۔ پروگرام کاآغاز مولاناشاہد حسین ندوی کی تلاوت قرآن پاک سے ہوا۔ سوسائٹی کے جنرل سکریٹری محمد نثار نے حاضرین کاشکریہ اداکیا۔ اورنظامت ڈائریکٹر محمد امین نے انجام کی۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *