مولانا کلب جواد نقوی نے فتویٰ کی حمایت کی،کہا!’مسجدکی زمین پر صرف مسجدہی بن سکتی ہے‘

Share Article
kalbe-jawad
ایودھیا میں بابری مسجداوررام مندر معاملے پرشیعہ کے مذہبی رہنما مولانا کلب جواد کا کہنا ہے کہ مسجدکی زمین پرصرف مسجد ہی بن سکتی ہیں۔انہو ں نے حال ہی میں شیعہ کے بڑے عالم دین آیت اللہ سید علی الحسینی السیستانی کے اس فتویٰ کی حمایت کی ہے، جس میں کہاگیاتھاکہ وقف جائیداد کوکسی دوسرے کواپنی عبادت گاہ اورمذہبی جگہ بنانے کیلئے نہیں دیاجاسکتاہے۔
مولانا سیدکلب جواد نقوی نے آج جمعہ کی نماز کے خطبے میں بغیرنام لئے شیعہ وقف بورڈ کے چےئرمین وسیم رضوی کی مذمت کی، جنہوں نے کہاتھاکہ آیت اللہ سیستانی نے فتویٰ کسی کے دباؤ میں دیاہے۔مولانا جواد نے کہاکہ آیت اللہ سستانی نے جوفتویٰ دیاہے، وہی نظریہ شیعاؤں کا بھی ہے۔ مولانا نے کہاکہ ہم پہلے بھی کہہ چکے ہیں مسجدکی زمین پرصرف مسجد ہی بن سکتی ہے۔
میڈیا پورٹوں کے مطابق،شیعہ کے سب سے بڑے عالم دین آیت اللہ سید علی الحسینی السیستانی کے فتوی کو قبول نہیں کرنے کی وجہ سے شیعہ وقف بورڈ کے چیئرمین وسیم رضوی کو اسلام سے خارج کردیا گیا ہے۔جمعہ کو لکھنو میں جمعہ کی نماز کے دوران مولانا کلب جواد نے کہا کہ جو لوگ وسیم رضوی کے مددگار ہیں ، ان کا بھی بائیکاٹ ہونا چاہئے۔ اس دوران ایس پی چھوڑ کر بی جے پی کا دامن تھامنے والے بکل نواب پر بھی طنز کسا گیا۔
جواد نے وزیر محسن رضا پر بھی اشاروں ہی اشاروں میں نشانہ سادھا۔ انہوں نے کہا کہ مندروں میں جاکر سیاسی فائدے کیلئے ایسے لوگ گھنٹہ بجا رہے ہیں اور اسلام کو بدنام کررہے ہیں۔ ان لوگوں کی وجہ سے شیعہ برادری کا مذاق اڑ رہا ہے۔ کلب جواد نے کہا کہ مسجد کی جگہ پر صرف مسجد ہی بن سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وسیم رضوی خود کو گرفتاری سے بچانے کیلئے ایسی بیان بازی کررہے ہیں۔
غورطلب ہے کہ گذشتہ دنوں شیعہ کے سب سے بڑے عالم آیت اللہ سید علی الحسینی السیستانی نے شیعہ وقف بورڈ کے چےئرمین وسیم رضوی کے خلاف فتویٰ جاری کرتے ہوئے کہاہے کہ وہ رام مندرکیلئے وقف کی زمین نہیں دے سکتے۔دراصل، کانپور کے ماہرتعلیم ڈاکٹر مظہرعباس نے ای میل کے ذریعے سیستانی سے فتویٰ مانگا تھا۔اس کے جواب میں سیستانی نے کہاکہ کوئی بھی مسلمان وقف کی جائیداد کو مندریا کسی بھی قسم کے مذہبی مقامات کی تعمیرکیلئے نہیں دے سکتا۔
خیال رہے کہ سیستانی کے فتوی پر وسیم رضوی نے کہا تھا کہ شیعہ وقف بورڈ پر بابری کیس کے مدعی کی حمایت کرنے کیلئے بین الاقوامی سطح سے دباو ڈالا جارہا ہے۔ سیستانی کا فتوی اسی سلسلہ کا ایک حصہ ہے۔ شیعہ وقف بورڈ ہندوستانی قوانین کے تحت ہی کام کرے گا نہ کہ کسی دہشت گردی یا فتوی کے دباو میں ، ہم سیستانی کے ذریعہ جاری فتوی کو قبول نہیں کرسکتے ، کیونکہ یہ انہیں گمراہ کرکے لیا گیا ہے۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *