گائے کے نام پرظلم وتشدد انسانیت اور آئین کے خلاف :مولانا سید بدر الہدیٰ کاندھلوی

Share Article
badrul-huda
کاندھلہ:جس طریقہ سے گائے کی حفاظت کی آڑ میں ایک ہی فرقہ کے لوگوں کو بھیڑ لات گھونسوں اور لاٹھی ڈنڈوں سے مار رہی ہیں ،موت کی نیند سلارہی ہے اور بے خوف ہوکر اس کی ویڈیو کلپنگ بناکر سوشل میڈیا پر ڈالی جارہی ہیں ،اس سے تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ملک میں قانون نام کی کوئی چیز نہیں رہ گئی ہے اور بس اب بھیڑ نے ہی قانون کے نفاذ کو سنبھال لیا ہے۔پریس کو جاری بیان میں جمعیۃ علماء کے ضلع نائب صدر جامعہ عربیہ قاسم العلوم کے مہتمم اعلیٰ مولاناسید بد ر الہدیٰ قاسمی نے کہا ہندوستان ایک جمہوری ملک ہے ،جہاں قانون کی حکمرانی ہے،آزاد پارلیمنٹ ہے،آزاد عدلیہ ہے ،پولیس ہے ،تھانے ہیں ،با ایں ہمہ بھیڑ اقلیتی فرقہ کے لوگوں کو پکڑ تی ہے اور اس کو ہلاک کردیتی ہے۔حکمراں طبقہ اس حد تک بے حسی کا شکار ہوگیا ہے کہ پارلیمنٹ تک میں یہ کہاجارہا ہے کہ اس نوعیت کے واقعات ملک میں کوئی پہلی مرتبہ ہی نہیں ہورہے ہیں ،اس طرح کے ریمارکس کا کیا مطلب ہے؟انھوں نے کہا سرکار کے بنیادی فرائض میں شامل ہے کہ اپنے ہر شہری کی حفاظت کرے ،شہریوں کی دیکھ بھال کرے اور کہیں کوئی آفت آتی ہے تو جان ومال کے تحفظ کو یقینی بنائے ،کوئی سرکار اس معاملہ میں غفلت برت رہی ہے تو سمجھو کہ وہ اپنے فرض منصبی کی ادائیگی میں کوتاہی کررہی ہے۔

 

انھوں نے کہا ریاست راجستھان میں جو کچھ ہوا ہے ،وہ اس جمہوری ملک کے لیے نیک فال نہیں ہے۔انھوں نے کہا گائے اس ملک کے لیے قابل حفاظت مویشی ہے ،برادران وطن کی بڑی تعداد اس کو مقدس سمجھتی ہے ۔قانون کا احترام کرتے ہوئے ،ہم سب اس کے تحفظ کے پابند ہیں ،لیکن گائے کی آڑ میں کسی شہری کو ہلاک کرنا انسانیت نہیں ہے ۔انھوں نے اس طرح کی آفت مچانے والوں سے گزارش کی کہ یہ ملک امن وشانتی کا حامل ملک ہے،اس ملک کی قدیم تہذیب میں بقائے باہمی اور باہمی یگانگت شامل ہے ،ایسے میں ہماری طرف سے کوئی وحشیانہ حرکت ہوتی ہے تو اس سے ملکی اور عاملی سطح پر ہماری بدنامی ہوتی ہے۔مولانا سید بدرالہدیٰ قاسمی نے حکمراں طبقہ سے کہا اقتدار تو آنی جانی چیز ہے ،غریب کی آہ سے ڈرنا چاہیے ،کیونکہ ایسی ہلاکتوں کے بعد ان کے اہل وعیال کے دلوں سے آہ نکلتی ہے۔ مبادا کہیں ہم عذاب خداوندی کی گرفت میں نہ آجائیں ۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *