بابری مسجد ملکیت مقدمہ:بات چیت آستھا کی بنیادپر نہیں ملکیت کی بنیادپر ہونی چاہئے:مولانا ارشدمدنی

Share Article

babri-masjid

نئی دہلی:بابری مسجد ملکیت مقدمہ میں سپریم کورٹ کی پانچ رکنی آئینی بینچ نے 10مئی کوسماعت کے دوران ثالثی کمیٹی کی مدت کارمیں اضافہ کردیا،اب کمیٹی 15اگست تک اپنی حتمی رپورٹ پیش کریگی، ہندوفریقین اس کے خلاف تھے اور چاہتے تھے کہ ثالثی کی مدت کوکم کرکے جون تک کردیا جائے مگر عدالت نے ان کی دلیل کو قابل اعتنانہیں سمجھا،دوسری طرف جمعیۃعلماء ہند کے وکیل ڈاکٹر راجیودھون کا کہنا تھا کہ اگر ثالثی کمیٹی مزیدوقت چاہتی ہے تواسے مزید مہلت دی جانی چاہئے عدالت نے ان کی اس دلیل کو تسلیم کیا اور کمیٹی کی مدت کارمیں 15اگست تک کااضافہ کردیا، واضح ہوکہ آج چیف جسٹس رنجن گگوئی کی سربراہی والی پانچ رکنی آئینی بینچ کے سامنے جب یہ معاملہ پیش ہوا توجمعیۃعلماء ہند کے لیڈ میٹر سول پٹیشن نمبر 10866-10867/2010 (محمد صدیق جنرل سیکریٹری جمعیۃ علماء اتر پردیش)کی طرف سے سینئر ایڈوکیٹ ڈاکٹر راجیودھون سینئرایڈوکیٹ راجورام چندرن، ایڈوکیٹ برنداگروور اور ایڈوکیٹ آن ریکارڈ اعجازمقبول وغیرہ پیروی کے لئے پیش ہوئے، انہوں نے عدالت کومطلع کیاکہ ثالثی پینل کے سامنے ہمارے فریق اپنے بیانات درج کراچکے ہیں اوراگر پینل کے روبرو پیش ہونے کی مزید ضرورت پیش آتی ہے تووہ اس کے لئے بھی تیارہیں۔

 

 

10مئی بروزجمعہ کو سماعت کا جب آغاز ہوا توثالثی کمیٹی کے چیئر مین سابق جسٹس فقیر محمد خلیف اللہ نے آئینی بینچ کے سامنے ایک سیل بند لفافہ میں کمیٹی کی عبوری رپورٹ پیش کی جس میں عدالت سے یہ درخواست بھی کی گئی تھی کہ فریقین کے درمیان مصالحت اور مسئلہ کو سلجھانے کے لئے کمیٹی کی مدت کارمیں 15اگست تک کا اضافہ کردیا جائے ہندوفریقین اس حق میں بالکل نہیں تھے جبکہ جمعیۃعلماء ہند کے وکیل ڈاکٹر راجیودھون نے عدالت سے کہا کہ اگر کمیٹی مصالحتی عمل کے لئے مزیدوقت چاہتی ہے تو اسے دیا جانا چاہئے، ابتدامیں چیف جسٹس نے بھی مزیدوقت دینے سے انکارکردیا تھا لیکن بعد میں دیگر ججوں سے تبادلہ خیال کے بعد انہوں نے کہا کہ ہم مزیدوقت دینے کے لئے تیارہیں، اس موقع پر نرموہی اکھاڑے نے درخواست کی کہ مصالحت کا عمل فیض آبادکے بجائے لکھنویادہلی میں انجام دیا جانا چاہئے اس نے یہ بھی کہا کہ کمیٹی فریقین سے علیحدہ علیحدہ گفتگوکررہی ہے تمام فریقین کو ایک ساتھ بیٹھاکر بات چیت نہیں کی جارہی ہے عدالت نے ان دونوں باتوں کاکوئی نوٹس نہیں لیا، کارروائی کے دوران رام للاکے وکیل سی ایس ویدھ ناتھن نے شکوہ کیا کہ 26فرروری کے آرڈرکے تحت آٹھ ہفتے کے اندرفریقین کو گواہوں کے بیانات کے ترجمہ پر اپنا اعتراض داخل کرناتھا لیکن اب تک کسی نے اعتراض داخل نہیں کرایا اس پر جمعیۃعلماء ہند کے وکیل آن ریکارڈ اعجازمقبول نے جواب دیا کہ 13990صفحات پر مشتمل تراجم پر ہم لوگ کام کررہے ہیں ان میں دستاویزات اور گواہوں کے بیانات کے تراجم شامل ہیں انہوں نے دلیل دی کہ ان تراجم کا مطالعہ کیا جانا بہت ضروری ہے کیونکہ ان میں بہت غلطیاں ہیں اس حوالہ سے انہوں نے حاجی محبوب احمد کی گواہی بطورمثال پیش کی اور کہا کہ انہوں نے اپنی گواہی میں کہا تھا کہ میں بابری مسجد میں جمعہ کی نمازکے علاوہ بھی پانچوں وقت کی نمازیں پڑھتا رہا ہوں مگر اترپردیش سرکارکی طرف سے اس کا جو ترجمہ فائل کیاگیا ہے اس میں لکھا گیا ہے کہ جمعہ کی نمازکے علاوہ یعنی جمعہ کی نماز چھوڑ کر پانچوں وقت کی نماز پڑھتارہاہوں انہوں نے کہا کہ یہ تو ایک مثال ہے ترجمہ میں اوربھی بہت سی خامیاں ہیں اس پر عدالت نے کہا کہ ترجمہ کے جن حصوں پر فریقین کو اعتراض ہے اس پر اپنا اعتراض عدالت کے سامنے پیش کریں توعدالت اس پر غورکرے گی،۔

جمعہ کو عدالتی پیش رفت پر صدرجمعیۃعلماء ہند مولانا سید ارشدمدنی نے اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اگرکوئی تنازعہ بات چیت اور باہمی صلح سے حل ہوجائے تو اس سے بہتر کچھ نہیں ہوسکتا، ثالثی کمیٹی کی مدت کارمیں اضافہ کے پس منظرمیں انہوں نے کہا کہ ہم اس فیصلہ کا خیر مقدم کرتے ہیں کیونکہ اس سے کمیٹی کومصالحت کے لئے مزیدوقت مل جائے گا انہوں نے یہ بھی کہاکہ مصالحتی فارمولہ کے لئے وقت کا بڑھایا جانا ایک خوش آئندبات ہے اوراس فیصلہ سے محسوس ہوتاہے کہ ثالثی کمیٹی نے کوئی پیش رفت ضرورکی ہے ورنہ عدالت مدت کارمیں اضافہ نہ کرتی مولانا مدنی نے مزید کہا کہ عدالت کے فیصلہ کا احترام کرتے ہوئے ہم صلح اور بات چیت کے لئے تیا رہوئے ہیں لیکن یہ بات چیت آستھا کی بنیادپرنہیں ملکیت کی بنیادپر ہونی چاہئے، انہوں نے سپریم کورٹ کے ایک پرانے تبصرے کا حوالہ دیا اورکہاکہ عدالت ابتدامیں ہی واضح کرچکی ہے کہ یہ آستھا کانہیں بلکہ ملکیت کا معاملہ ہے، انہوں نے اپنے وکلاء کی کارکردگی پر اظہاراطمینان کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے وکلاء اور خاص طورپر ایڈوکیٹ آن ریکارڈ اعجاز مقبول نے آئینی بینچ کے سامنے حکومت اترپردیش کی جانب سے گواہوں کے بیانات کے ترجمہ میں موجودخامیوں کی جس طرح نشاندہی کی وہ لائق ستائش ہے۔ واضح ہوکہ بحث کے دوران جمعیۃ علماء کی جانب سے سینئر وکیل ڈاکٹر راجیودھون کی معاونت کے لیئے سینئرایڈوکیٹ راجو رام چندرن، ایڈوکیٹ آن ریکارڈ اعجاز مقبول، ایڈوکیٹ وندراگروور،، ایڈوکیٹ جارج، ایڈوکیٹ تانیا شری، ایڈوکیٹ اکرتی چوبے، ایڈوکیٹ قراۃ العین،ایڈوکیٹ کنورادتیہ سنگھ، ایڈوکیٹ ایشورموہنتی، ایڈوکیٹ ہمسنی شنکر، ایڈوکیٹ محمد عبداللہ،ایڈوکیٹ رتنااپندر، ایڈوکیٹ سوتک بنرجی، ایڈوکیٹ سدھی پاڈیا، و دیگر موجود تھے۔

 

 

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *