دھوبری میں مولانا اجمل کو آزاد امیدوار نے دیا چیلنج

Share Article

 

لوک سبھا انتخابات میں مختلف پارٹیوں کے امیدوار اپنی اپنی قسمت آزما رہے ہیں۔ اسی درمیان ایک ایسا بھی امیدوار ہے جو لوک سبھا انتخابات کے لئے اپنے گردے اور خون تک بیچ کر الیکشن لڑنے کی بات کر رہا ہے۔

 

Image result for shakoor ali in dhubri

آسام کی دھوبری لوک سبھا سیٹ سے آزاد امیدوار کے طور پر پیشے سے کشتی ڈرائیورشکور علی انتخابی میدان میں اتر کر موجودہ ممبر پارلیمنٹ اور آل انڈیا یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ (اے آئی یو ڈی ایف ) کے صدر مولانا بدرالدین اجمل کو چیلنج کیا ہے۔
انتخابی مہم کے دوران شکور علی نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ میرے پاس انتخابات لڑنے کے لئے پیسے نہیں ہیں، لیکن پیسے کی ضرورت پڑی تو میں اپنے گردے اور خون بھی فروخت کر دوں گا، لیکن انتخابات ضرور لڑوں گا۔ شکو رعلی دھوبری کے مداتی کھوٹاباگرا رواقع کھیوا گھاٹ پر کشتی چلا کر اپنا اور اپنے اہل خانہ کی گزارا کرتے ہیں۔

 

Image result for shakoor ali in dhubri

لوک سبھا انتخابات لڑنے کا شکو رنے فیصلہ ہی نہیں لیا بلکہ فارم بھی داخل کر دیا ہے۔ آزاد امیدوار شکور نے کہا کہ گزشتہ دس برسوں سے دھوبری لوک سبھا کے ایم پی مولانا بدرالدین اجمل ہیں، لیکن انہوں نے دھوبری کے لئے کچھ بھی نہیں کیا۔پورے اعتماد کے ساتھ شکور نے کہا کہ میرا مقابلہ براہ راست مولانا اجمل سے ہوگا۔

 

 

آزاد امیدوار نے دعویٰ کیا کہ میری جیت کئی لاکھ ووٹوں سے ہوگی۔ اس بار دھبڑی کے ایم پی مولانا بدرالدین اجمل ضرورہاریں گے۔شکور نے کہا کہ اگر اس بار بھی ممبر پارلیمنٹ اجمل الیکشن جیت جاتے ہیں تو دھوبری کے حالات مزید بدتر ہو جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ مولانا اجمل کے پاس عوام کی فکر کرنے کا وقت نہیں ہے۔ وہ صرفجھوتے وعے کرتے ہیں۔ ان کے ایم پی رہتے اس علاقے میں کوئی بھی کام نہیں ہوا ہے۔

 

Image result for shakoor ali independent candidate in dhubri

شکورنے کہا کہ اجمل نے برہمپتر کے ساحل کی کٹان کو روکنے کے لئے ضروری اقدامات کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی، لیکن کچھ بھی نہیں کیا۔آزاد امیدوار نے کہا کہ اگر میری جیت ہوتی ہے تو میرا پہلا کام بوڈولینڈمیں رہنے والے مسلمانوں کا مسئلہ حل کرنا، ندی کنارے ہونے والے کٹاں کے مسئلہ کوحل کرنااور مچھلی کے ٹھیکہ کے کام کو بند کرناہوگا۔شکور پورے اعتماد کے ساتھ اپنی جیت کا دعویٰ کر رہے ہیں۔ حالانکہ اس کا پتہ تیسرے مرحلے کی پولنگ کے بعد 23 مئی کو ووٹوں کی گنتی کے دن ہی چلے گا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *