فیروز بخت احمد
تاریخ ہند میں 14اگست 1947 کی رات اور 15اگست کی صبح کی جو اہمیت ہے، وہ شاید دیگر کسی تقریب کی نہ ہو۔ اس کی دو وجوہات ہیں۔ پہلی تو یہ کہ اس رات ہندوستان آزاد ہوا تھا اور پنڈت نہرو نے اپنی تاریخی تقریر ’’ٹرسٹ وِد ڈِیسٹِنی‘‘(Tryst With Destiny)کی تھی جو آج دنیا کی تاریخ میں اہم ترین تقریر سمجھی جاتی ہے۔ اس تقریر کو پنڈت جی نے نہایت ہی جذباتی انداز سے کیا تھا۔ تمام منسٹر اور بڑے بڑے لوگ سینٹرل ہال میں موجود تھے۔ سبھی لوگ نہایت ہی خوش تھے کہ ہندوستان کو آزادی کا تحفہ ملا ہے۔دوسری بات یہ کہ مولانا آزاد اس تقسیم سے نہایت ہی بد زن اوردکھی تھے۔
جشن آزادی کی اس تقریب میں صرف ایک شخص ہی ایسا تھا جو خوش نہیں تھا اور نہایت ہی افسردہ تھا۔ ہماری مراد امام الہند مولانا ابوالکلام آزادسے اس تاریخی موقع پرروزنامہ ’’پیٹر یاٹ‘‘ اخبار کی ڈائریکٹر اورجدوجہد آزادیِ ہند کی سرگرم خاتون کارکن محترمہ ارونا آصف علی بھی موجود تھیں۔ انہوں نے اپنے دفتر میں 1988میں راقم کو اس ہیجان خیز تقریب کے بارے میں تفصیل سے بتایا تھا۔ان کے الفاظ تھے ، ’’اس وقت تمام لوگ آزادی کے جشن میں مصروف تھے۔ ہر شخص خوش تھا کہ انگریزوں سے چھٹکارا ملا۔ صرف مولانا آزاد ہی ایک ایسے شخص تھے کہ جن کی آنکھیں آبدیدہ تھیں اور جو بار ہا اپنا چیک والا رومال نکال کر اپنی آنکھوں سے بہہ رہے آنسو پونچھتے جا رہے تھے۔‘‘
ارونا آصف علی نے مزید بتایا کہ کسی بھی منسٹر نے ان کی سُدھ بُد ھ نہ لی ۔مسرت کا ایک ٹھاٹھیں مارتا سمندر تھا جس میں سب لوگ خوشی کے ساتھ غوطے مار رہے تھے۔ یا تو کسی کو پتہ ہی نہ ہوگا کہ سینٹرل ہال میں ایک ایسا شخص بھی تھا کہ جو وطن کے دوٹکڑے ہونے پر نالاں تھا اور جسے خود سے بھی شکایت تھی ۔ ہو سکتا ہے کہ کچھ لوگوں کو اس بات کا اندازہ بھی ہومگر شایدانہوں نے اس طرح کے رویے کو غیر مناسب اور سوچا ہوگا کہ یہ تو بد شگونی کی علامت ہے۔
مولانا کو افسردہ دیکھ ارونا آصف علی سے نہ رہا گیااور وہ تقریب کے ختم ہونے کے فوراً بعد مولانا سے اس وقت ملیں کہ جب سب لوگ ایک دوسرے سے بغل گیر ہورہے تھے، مصافحہ کررہے تھے اور ایک دوسرے کو جشن آزادی کی مبارکباد دے رہے تھے۔ سینٹرل ہال کی گیلری کے پیچھے ارونا نے مولانا کو بلایا اور پوچھا کہ آخر وہ اتنے افسردہ کیوں ہیں؟تمام لوگ پنڈت نہرو کے اِرد گِرد اژدھام لگائے ہوئے تھے اور روتے بلکتے مولانا کوپوچھنے والا کوئی نہ تھا۔
جب ارونا نے کئی مرتبہ پوچھا کہ مولانا آپ کی آنکھوں میں آنسو کیوں ہیں تو اس پر مولانا خود پر قابو نہ رکھ پائے۔ آنکھوں سے زاروقطار آنسوئوں کی ندیاں بہہ نکلیں۔ وہ کہتے جاتے، ’’اروناآہ! ہندوستان تقسیم ہو گیا، ہائے ہندوستان تقسیم ہوگیا، میں ناکام ہو گیا، میں فیل ہوگیا!‘‘
مولانا آزاد نے ارونا کو بتایا کہ 15اگست 1947کو بلا شبہ بہت سے لوگوں کے لئے شادیانوں کا موقع ہوگا مگر ان کے لئے تو یہ ان کی سیاسی زندگی کا سیاہ ترین دن ہے ۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے اپنا پورا زور لگا لیا مگر پارٹیشن کو نہ روک پائے ۔ اپنے عزیز ترین دوست پنڈت جواہر لال نہرو سے تقسیم کے معاملہ میں مولانا کے شدید اختلافات ہو گئے تھے ۔ آزاد صاحب ہرگز بھی تقسیم نہیں چاہتے تھے توپنڈت نہرو ایک نئے ملک کے وزیر اعظم بننے کے ازحد خواہاں تھے۔ تقسیم کو روکنے کے لئے مولانا نے ہر ممکن کوشش کی اور ماہ مارچ 1947تک وہ مطمئن تھے کہ تقسیم نہ ہوگی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ مہاتما گاندھی نے انہیں یقین دلا دیا تھا کہ تقسیم ہرگز نہ ہوگی ۔یہاں تک کہ مولانا کوگاندھی جی کا وہ مکالمہ بھی انہیں یاد تھا کہ جس میں فادر آف دا نیشن نے کہا تھا ،’’مولانا اگر تقسیم ہوئی تو میری لاش پر ہوگی!‘‘ مولانا ارونا کے سامنے یہ جملہ بولتے جاتے اور کہتے جاتے کہ آخر ایسا کیوں کر ہوا ؟یہی نہیں ، پنڈت نہرواور سردار پٹیل نے مولانا کو دلاسہ دیا تھا کہ پارٹیشن ہرگز بھی نہ ہوگا۔مولانا کوکیا پتہ تھا کہ محض انہیں دلاسہ دینے کے لئے یہ سب کہا جا رہا ہے۔ در اصل مولانا کو ہندوستان کے بڑے رہنماؤں نے استعمال کر لیا جن میں ان کے قریب ترین دوست پنڈت نہرو پیش پیش تھے ۔ آخر کیا وجہ تھی کہ مولانا آزاد تقسیم کے خلاف تھے،اس کی کئی وجوہات تھیں ۔وہ ایک جہاں دیدہ شخص تھے اور ان کی سوچ بہت دور تک جاتی تھی ۔ آج نہ صرف ہندو پاک بلکہ تمام دنیا میں مولانا کی دور اندیشی کا لوہا مان لیا گیا ہے۔
حالانکہ مولانا آزاد کی 23اکتوبر 1947والی تقریر بڑی پر مغز اور دل پر اثر کرنے والی تھی، مگر جو تقریر مولانا نے جامع مسجد کے سامنے اردو پارک میں 1اگست 1942کی تھی،جس میں’’انگریزوں بھارت چھوڑو‘‘کی داغ بیل ڈالی گئی تھی اور جس کا کوئی سرکاری ریکارڈ نہیں ہے، وہ امام الہند کی جامع مسجد کی سیڑھیوں سے دی گئی تقریر سے کہیں زیادہ مسحور کن اور دل پر اثر کرنے والی تھی ہو سکتا ہے کہ سرکار میں جان بوجھ کر اس کا ریکارڈ نہیں رکھا گیا ہو یا اسے خفیہ رکھا گیا ہو۔اس کی وجہ یہ تھی کہ مولانا نے اس تقریر میں ببانگ دہل بغیر کسی لاگ لپیٹ کے نہ صرف جدوجہد آزادی ہند کی حقیقت پر کھل کر بولا تھا بلکہ تقسیم ہند اور ہندو مسلم تعلقات کے بارے میں کھل کر انہوں نے بات کی تھی۔ ان کی اس تقریر سے یہ سمجھ میں آجائے گا کہ وہ مذہب کے نام پر تقسیم کیوں نہیں چاہتےتھے۔
مولانا نے کہا کہ اگر تقسیم ہو گئی توہندؤوں اور مسلمانوں کے دل بھی تقسیم ہوں گے اور کدورتوں کابھی اضافہ ہوگا۔انہوں نے مسلمانانِ ہندکو یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ اگر تقسیم کا سانحہ پیش آگیا تو 1100سال سے جب ہندو اور مسلم ایک ساتھ رہتے چلے آئے ہیںاور جن کا تقریباً تقریباً سماجی ڈھانچہ اور کلچر یکساں ہے تو اس میں تبدیلی آئے گی اور یہ دونوں فرقے نہ صرف ایک دوسرے کے خلاف اور مشکوک رہیں گے بلکہ ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہو جائیں گے۔ مولانا نے یہ بھی کہا کہ اگر ہندوستان سے 8یا 10کروڑ مسلمان سرحد کے اس پار چلے گئے تو اس سے دونوں ممالک کے مسلم طبقات کمزور پڑ جائیں گے ۔ بیشک پاکستان میں مسلمان اپنی سرکار کا تعین کر لیں گے مگر ان میں وہ پختگی نہیں آئے گی کہ جو ان کے ہندوستان میں رہتے ہوئے دیکھی جاتی تھی۔ چونکہ ہندو اور مسلمان سینکڑوں برسوں سے ایک دوسرے کے ساتھ شیر و شکر بن کر رہتے چلے آئے ہیں۔
مولانا آزاد نے اپنی اسی اردو پارک والی تقریرمیں کہہ دیا تھا کہ تقسیم ہونے کے بعد ہر حالت میں خون خرابہ ضرور ہوگا۔ مولانا کی یہ پیشین گوئی بھی سچ ثابت ہوئی ۔ انہوں نے مسلمانان ہند کو یہ سمجھانے کی پرزور کوشش کی کہ جو لوگ تقسیم کے بعد ہندوستان میں رہ جائیں گے، ان کی حالت غلاموں سے بد تر ہو جائے گی۔چاہے وہ کتوں کی طرح دم ہلاتے رہیںیا غرّاتے رہیں،ان کا پرسان حال کوئی نہیں ہوگا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ برادران وطن ان کے اوپر ہندوستان کے تقسیم کا الزام سیدھا مسلمانوں پر لگائیں گے جو کہ بالکل سچ ثابت ہوا۔ یہی نہیں اب تو اردو کو بھی نہیں بخشا جا رہا ہے اور بھگوا پریوار کے لوگ تو اردو کو بھی تقسیم کی زبان مانتے ہیں جب کہ آزادی سے پہلے جتنے مسلمان اردو زبان کے جاننے والے تھے، اس سے کہیں زیادہ غیر مسلم حضرات اردو کے دلدادہ تھے۔کرشن چندر،فراق گورکھپوری، مہندرسنگھ بیدی، گوپی چند نارنگ، کرتار سنگھ دگل، برج موہن دتّہ تریہ کیفی، برج نرائن چکبست، تلوک چند محروم،جگن ناتھ آزادوغیرہ اردو کے کچھ ایسے محقق و شعراء ہیں کہ جنہوں نے اردو کو مذہب کے جال سے بچا کر اپنے دل سے لگایا ہے ۔ خود وزیر اعظم جناب منموہن سنگھ اور ان کے دوست وزیر جناب کپل سبل اردو کے چاہنے والوں میں سے ہیں مگر افسوس کہ اردو کو فرقہ واریت سے جوڑ کر دیکھا جا رہا ہے ۔ بسا اوقات میڈیا پر ایسی خبریں دی جاتی ہیں کہ فلاں دہشت گرد کو مار گرایا گیا اور اس کی جیب میں سے اردو میں لکھے پیغامات موصول ہوئے۔ بقول مولانا، اس قسم کی تمام چیزوں کا خمیازہ ان مسلمانوں کو بھگتنا پڑ رہا ہے کہ جو ہندوستان میں رہ گئے ہیں ۔
آج مسلمانوں کو اہم ترین عہدوں جیسے وزیراعظم، فوج،کے اہم عہدے ،فائنانس وغیرہ پر رکھنے سے ہندوستانی منتظمہ گھبراتی ہے ،کیونکہ ان پر بھروسہ نہیں کیا جاتا۔ حالانکہ جب جب وطن پر نچھاور اور مر مٹنے کا موقع آیا ہے تو بلا شبہ مسلمان اس میں آگے رہا ہے چاہے وہ حولدار عبد الحمید ہو ں جنہوں نے پانچ پاکستانی ٹینک اپنے اوپر بارود لگاکر تباہ کر دئے تھے، بریگیڈیئر محمد عثمان ہوں ، جنہوں نے سیالکوٹ کی جنگ میں نام کمایا ہو یا کیپٹن جاویدہوں جنہوں نے کرگل میں پاکستانی فیوجیوں کے دانت کھٹے کئے ہوں۔ ادھرمسلم لیگ نے بھی مولانا آزاد کو اپنی ترشیوں ، طربتوں اورطنز کا نشانہ بنایا۔یہ مولانا آزاد ہی تھے کہ جنہوں نے پنڈت نہرو سے ایک مرتبہ پارلیمنٹ میں کہا تھا کہ پنڈت جی کو ان ہندوستانی مسلمانوں کا شکر گزار ہونا چاہئے کہ جنہوں نے اپنے وطن عزیز میں رہنا پسند کیا۔ حالانکہ ہندوستان میں رہ رہے مسلمانوں کو ایک اسلامی جمہوریہ میں جانے کا سنہرا موقع دیا جارہا تھا مگر انہوں نے ہندوستان کو ہی اپنا وطن جانا اور اسی کے ہو رہے۔ ان کا شعر تھا، ’’جو چلا گیا اسے بھول جا؍ ہند کواپنی جنت بنا‘‘ ہندوستانی مسلمانوں کا پنڈت نہروکو احسان ماننا چاہئے کہ انہوں نے پاکستان کے بجائے ہند میں رہنے کی ترجیح دی۔اس کے بدلے میں مسلمانوں کو یہ سننے کو ملتا ہے کہ وہ باہر سے آئی قوم ہے ۔
مولانا اکثر کہا کرتے تھے کہ تقسیم کے بعد ہندوستان میں مسلمانوں کی مساجد ، مدارس و خانقاہوں کو بچانے والا کوئی نہ ہوگا۔ ان کی یہ پیشین گوئی بھی بالکل سچ ثابت ہوئی ۔ آج ہم دیکھتے ہیں کہ سینکڑوں مسجدیں ان کے ہاتھ سے نکل چکی ہیں اور جو بچی ہوئی ہیں ، ان کی بھی خیریت نہیں کیونکہ بابری مسجد سانحے کے بعد آر۔ایس۔ایس۔ کے پاس سینکڑوں مساجد کی فہرست موجود ہے جن کو منہد م کر وہ ان پر قابض ہونا چاہتی ہے۔
بقول مولانا ،اگر تقسیم نہ ہوتی تو آج بر صغیر دنیا کا طاقتور ترین ملک ہوتا اور مسلمان اس خطہ میں ایک معزز ترین قوم ہوتے۔ یہ ٹھیک ہے کہ آج مسلمان قائم و دائم ہیں جس کے لئے انہیں مولانا آزاد کا شکر گزار ہونا ہی چاہئے مگر ساتھ میں ان برادران وطن کا بھی کہ جو سیکولر ذہنیت کے قائل ہیں اور چاہتے ہیں کہ مسلم قوم بھی ترقی کرے ۔ اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ ہندوستان کے زیادہ ترہندو سیکولر ہیں ورنہ یہاں پر مسلمانوں کا ناطقہ بند ہوجاتا۔جس طرح سے مغلوں کی پانچ سو سالہ سرکار سیکولر تھی ، اسی طرح کی سرکار کی داغ بیل مولانا نے ہندوستان میں بھی ڈالی بھلے ہی آج ان کو پورے ملک نے بھلا دیا ہو۔(راقم مولانا آزاد کے پوتے ہیں)    g

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here